انسانی زندگی مختلف ادوار کو متضمن ہے، ان میں سب سے خوبصورت دور بچپن ہے، حیات کی کشمکش سے آزاد، زمانے کی چیرہ دستیوں و تیرہ بختیوں سے بے خبر ، حالات کی سختی و سنگینی، زندگی کے اتار چڑھاؤ کا علم بھی نہیں ، زندگی کا دائرہ ماں کی محبت اور باپ کی شفقت تک محدود ہے، دنیا کو دیکھ رہا ہے، عجیب وغریب شئے گردان رہا ہے، ہر چیز متحیر کررہی ہے، ابھی اس نے اس عالم فانی میں آنکھیں کھولی ہیں، اس کی حقائق سے آشنا نہیں ہوا، اس کا دل کورے کاغذ کی مانند ہے، جو ضیافت تحریر کے لئے بے چین ہے، جو مشاہدہ کرتا ہے، اسی سے متعلق سے سوالات کرتا ہے، اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے معصوم چہرے پر بے چینی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں، اس کے ذہنی معیار پر کھرے اترنے والے جوابات اس کے دل پر نقش ہوجاتے ہیں ، اب یہ نقوش ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوچکے ہیں ، اس میں تغیر وتبدل کرنا انتہائی مشکل امر ہے، اس کے علاوہ بچوں کو تلخی آمیز لہجہ میں نصیحت کرنا، ان میں بغاوت کے عنصر کو جنم دیتا ہے، وہ ہمیشہ پیار و محبت چاہتے ہیں، ماں کی لوری سن کر انہیں نیند آتی ہے، محبت بھری اور انوکھی باتیں سن کر انہیں قرار آتا ہے، جدت سے لبریز گفتگو انہیں پسند آتی ہے۔ قصہ، کہانیاں، لطیفے، تمثیلات ان کے دل کو بھاتی ہیں، جب دادی کوئی قصہ سناتی ہیں تو اس کی گود سے چمٹ جاتے ہیں، سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں، شام ڈھلتے ہی قصہ کہانی سننے کی کوشش کرتے ہیں، آج اگر چہ دادی کی جگہ ٹیلی ویژن نے لے لی لیکن بچوں کی نفسیات، ان کا مزاج بھی وہی ہے، کہانی کے پیرائے میں بچوں کو کی گئی نصیحت اثر انداز ہوتی ہے، اسی لئے وہ کہانی کے ہیرو کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہیں، وہی طرز انہیں عمدہ لگتا ہے، کہانی کے طرز پر کہی گئی نظمیں بچوں کو مطالعہ پر ابھارتی ہیں، کتابوں کا عاشق و دلدادہ بناتی ہیں، یہی عشق ان کی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے، زندگی کی سخت و خاردار راہوں سے گذرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے، کامیابی و ترقی کی بھوک پیدا کرتا ہے، بچوں کی نفسیات کے پیش نظر ہی بچوں کا ادب تخلیق پایا، بچوں کے معیار پر کھری اترنے والی اور ان کی نفسیات سے ہم آہنگ نظمیں اور کہانیاں تخلیق کرنا آسان کام نہیں ہے، نصیحت کا خیال کیا جائے تو تخلیقات اتنی بوجھل ہوجاتی ہیں کہ بچہ کا ذہن ان کا متحمل نہیں ہوتا، اوبنے لگنے لگتا ہے اور بچے کی نفسیات کا خیال کیا جائے تو پھوہڑپن کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے، حالانکہ بچوں کے ادب کو ادب تختی گردانا گیا اور سہل سمجھا گیا، اسی لئے آج تک اردو زبان و ادب میں بچوں کا ادب اپنے دامن میں بہت مسائل و مشکلات رکھتا ہے ، اور اس میدان میں معیاری افراد کی آمد کم ہوتی جارہی ہے، چونکہ یہ پل صراط کی مانند ہے جس پر ہلکی سی کوتاہی بھی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، آپ کے ذہنوں میں ایک سوال ابھر رہا ہوگا جس کی عبارت آپ کے چہروں پر عیاں ہے ، آخر کس صفت کا حامل شخص بچوں کا معیاری ادب تخلیق کرسکتا ہے؟ ان کی نفسیات کے تقاضوں پر کھرا اتر سکتا ہے، اس سوال کا جواب نہایت آسان ہے، جو شخص ان تقاضوں سے واقف ہو، بچوں کے مزاج و معیار پر بھرپور دسترس رکھتا ہو، اسے بچوں کی نفسیات علم ہو، ان کی قلبی و ذہنی کیفیت پر مطلع ہو، تو ایسا شخص بآسانی بچوں کا معیاری ادب تخلیق کرنے پر قادر ہوگا، امیر خسرو سے بدیع الزماں اعظمی تک بچوں کے تمام ادبائ کی زندگی کا جائزہ لے لیجیے آپ کو علم ہوجائے گا، ایسا ادیب کون ہے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ بچوں کے درمیان گذرا ہے، جس نے بچوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ہے، شب و روز ان کے درمیان گذارا، ان کی حرکات و سکنات کو قریب سے دیکھا، اور بچوں کی نفسیات کا امام بن گیا جو اس کے کلام سے ٹپکتی ہے، پورے ادبی منظر نامے پر صرف اسمعیل میرٹھی کی شخصیت نظر آئے گی، 1860 ئ میں کلرک بن کر اسکول میں داخل ہوئے چند دنوں بعد مدرس ہوئے، اور 1899 ئ میں زندگی کی قیمتی لمحات طلبہ کے درمیان گذار کر ریٹائر ہوئے، اور پوری زندگی قلم کی خدمت میں مصروف رہے، قوم کی پژمردگی دور کرنے کے لیے قوم کے نونہالوں کو تیار کرتے رہے، اسمعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے نظمیں لکھیں، کہانیاں لکھیں اور درسی کتب ترتیب دیں، جو تمام کے تمام بچوں کی نفسیات پر کھری اترتی ہیں، ان کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ اسمعیل میرٹھی کے تعلق سے کوثر مظہری کہتے ہیں ’’ان کا تعلق چونکہ درس و تدریس سے تھا اس لئے انہیں بچوں کی افتاد طبع اور نفسیات کو سمجھنے کا قریب سے موقع ملا۔‘‘ اسمعیل میرٹھی کی نظموں میں اخلاقیات کا عنصر غالب ہے، وہ صالح معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، سماج کے اقدار کو بلند کرنا چاہتے ہیں، ماحول کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اس کے لئے انہوں نے اس طبقہ کا انتخاب کیا ہے، جس پر معاشرہ کی بنیادیں ٹکی ہیں، جس کی تعمیر و ترقی معاشرے کی ترقی ہے، وہ بچوں کا طبقہ ہے، انہوں نے بچوں سے تمام اوصاف قبیحہ دور کرنے کے لئے نظم کے خوبصورت پیرائے کا سہارا لیا، سستی کاہلی، حرص و طمع، لالچ، نقالی تکبر، چغل خوری جیسے برے اوصاف کو انہوں نے اپنی نظموں میں اس خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ بچہ احساس بھی نہیں کرتا کہ اسے نصیحت کی جارہی ہے لیکن نظم ختم ہوتے ہوتے اس کے قلب پر ایک تاثر طاری ہوتا ہے، اور بچہ کو یہ احساس کرادیتا ہے کہ واقعتاً اس فعل میں قباحت ہے، برائی ہے، اس پر عمل کرنا نقصان کا باعث ہے، چونکہ اسمعیل میرٹھی نے اپنی نظموں میں برائی پر لمبی لمبی تقریریں نہیں کی ہیں، جو بچوں کے لئے تکلیف کا باعث ہوں یا سپاٹ سخت گفتگو نہیں کی ہے، بلکہ تمثیلی انداز میں برائی کی قباحت کو بیان کیا ہے، یا مشاہداتی انداز میں بہت خوبصورتی سے نصیحت کو پیش کردیا ہے، جس کا بچہ مشاہدہ کرتا ہے اور حقیقت اس کے قلب میں راسخ ہوجاتی ہے، ’’ایک جگنو اور بچہ‘‘،’’پن چکی‘‘، ’’ایک مور اور کلنگ‘‘،’’ایک نیک دل لڑکا‘‘، ’’ایک وقت میں ایک کام‘‘،’’ہوا چلی‘‘یہ وہ نظمیں ہیں جن کا مطالعہ میرے دعوے کو ثابت کردے گا، اس قبیل کی اور بھی بہت نظمیں انہوں نے کہی ہیں، ان کی یہ نظمیں ایک شریف اور منظم انسان کی تمہید ہیں، ’’ایک جگنو اور بچے‘‘ میں انہوں نے خدا کی کاریگری کا نمونہ دکھا کر انسان کو زندگی کی اہمیت و وقعت سے روشناس کرایا اور ضائع وقت سے بچنے کی تلقین کی۔ ’’پن چکی‘‘ میں انہوں نے محنت و مشقت ظاہر کئے، اور پورے مشاہدے کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی جس سے بچہ بھی بے خبر نہیں ہے، مشاہدہ ہی بچے کے لئے علم کا سب سے پختہ ذریعہ ہے، ’’پن چکی‘‘ سے دو شعر ملاحظہ کیجیے:
دیکھ لو چل رہی ہے پن چکی
دھن کی پوری ہے کام کی پکی
کھیلنے کودنے کا مت لو نام کام جب تک نہ ہوجائے تمام
اس پیغام کے لئے پوری نظم تخلیق کی گئی ہے، اگر صرف یہ شعر کہا گیا ہوتا تو شاید اتنا اثر انداز نہ ہوتا، لیکن ’’پن چکی‘‘ کے مشاہدہ نے اس پیغام کو پختہ کردیا ہے اور پیغام عمل بنادیا ہے، اسی طرح ’’ایک مور اور کلنگ‘‘ کی نظم میں انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ انسان طاقت اور صلاحیت کے بل پر ہی ترقی کرسکتا ہے، محض دکھاوا، ریاکاری انسان کی ترقی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا، اس پیغام کی ادائیگی کے لئے انہوں نے ’’مور اور کلنگ‘‘ کے درمیاں مکالمہ قائم کیا، اور تمثیلی انداز میں بچوں کے ذہن پر عیاں کردیا ہے، اصل پیغام تو اس شعر میں مکمل ہو رہا ہے:
منھ اپنا سا لے کے رہ گیا مور
تھا اس میں کہاں اڑان کا زور
بھاتا ہے جنہیں نرا دکھاوا
وہ لوگ ہیں مور کے بھی باوا
اس شعر میں ان کی بات مکمل ہو رہی ہے، اس بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے پورا مکالمہ پیش کیا ہے اور بچہ کی نفسیات کا لحاظ کرتے ہوئے پیغام اس میں رکھ دیا ہے، جیسے بسا اوقات بچے کو دوا میٹھی گولی کی شکل میں دے دی جائے یہی طرز ہے جو اسمعیل میرٹھی کو عظیم بناتا ہے، اس کے علاوہ انہوں کچھ تعارفی نظمیں بھی کہیں ہیں، جن میں بچوں کو اشیا سے بڑے دلچسپ انداز میں متعارف کرایا گیا ہے، اسی قبیل کی ایک نظم ’’ریل گاڑی‘‘ ہے، ان کی تمام نظموں میں بچوں کی نفسیات کا بھرپور لحاظ کیا گیا ہے، چاہے وہ تعارفی انداز کی نظمیں ہوں، مشاہداتی اور تمثیلی نظموں کا بھی یہی معیار ہے، ان کی کہانیوں میں بھی یہ عنصر غالب نظر آتا ہے، ’’ایک شیر اور چیتا‘‘، ’’ایک مرغا اور لومڑی‘‘، ’’ایک ہاتھی اور گیدڑ‘‘ اس کے علاوہ اور بہت سی کہانیاں ہیں جن میں انہوں نے بری عادتوں کے نقصانات کو تمثیلات کا خوبصورت پیکر عطا کرکے اپنے ننھے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے، حالانکہ ناقدین نے ان کی کہانیوں کو بستان حکمت اور انوار سہیلی سے ماخوذ قرار دیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے نصاب میں بھی بچوں کی نفسیات کا بھرپور خیال کیا ہے، اور بتدریج انہیں اردو سے واقف کرایا ہے، ابتدا میں حروف تہجی اس کے بعد افعال کا استعمال کرنا، اور اس کے بعد مہینوں کے نام، موسموں کے نام یعنی بنیادی معلومات فراہم کی، پھر آگے چل کر نظمیں اور کہانیاں پیش کیں، جن میں بچوں کی نفسیات اور عمر کا خیال کیاگیا ہے اور بہت ہی خوبصورت پیرائے میں باتیں پیش کی گئیں ہیں، کہیں کہیں براہ راست عمدہ خصلتیں، آداب زندگی مذکور ہیں، یا نصیحت کی گئی ہیں، ان کا لب و لہجہ اتنا سادہ شگفتہ اور محبت بھرا ہے کہ بچوں کہ نفسیاتی آبگینے پر حرف بھی نہیں آتا ہے، ان خوبیوں کی وجہ سے اسمعیل میرٹھی بچوں کے ادب میں اتنے مشہور ہوئے کہ ان کی دوسری تمام خوبیاں نگاہوں سے اوجھل ہوگئیں اور لوگوں کی نظر میں وہ محض بچوں کے ادیب رہ گئے،حالانکہ انہوں نے دیگر اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور کوثر مظہرِی ان کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’نظم نگاری کے سلسلے میں نقادوں نے کتنوں کے سر اس کی ایجاد کا سہرا باندھا ہے، مگر جس نظم معری کو بیسوی صدی میں فروغ حاصل ہوا اس کی داغ بیل بزرگ شاعر اسمعیل میرٹھی کے ہاتھوں انیسویں صدی میں پڑ چکی تھی ۔‘‘
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

