میں سوچتا ہو کہ اب آسمان اٹھایا جائے
قیامت دور نہیں ہے جہاں اٹھایا جائے
ہماری بستی میں کم ظرف لوگ رہنے لگے
ہوا ہے فیصلۂ ہجرت سرو سامان اٹھایا جائے
اب اس کے ظلم کی مدت دراز ہونے لگی
میان میں تیغ دھرے اور کماں اٹھایا جائے
ہمارا ہجر مکمل ہوا تمہیں بولو
مقابل گھر کے تمہارے مکان اٹھایا جائے
یہ لوگ صلح کے قابل نہیں فلک ان سے
تمام عہد و پیمان اب اٹھایا جائے
سیمیں فلک علیگڑھ


1 comment
Mashallah well composed