مجذوب شاعر: کامی شاہ – عفت نوید
ناقدین کہہ سکتے ہیں کہ ہمار ا ایسا کیا ادب میں مقام ہے کہ کسی شاعر کی کتاب پر کچھ کہنے کی جسارت کریں لیکن، اگر فن کی پوری عمارت کے انتظام کسی ایسے شخص کو سونپے جا سکتے ہیں ، جس کی اہلیت وفاداری بشرطِ استواری پر ٹکی ہے (جی ہماری مراد احمد شاہ اور آرٹس کونسل سے ہے) تو ہمارا یہاں ٹکنا بھی وفاداری پر استوار ہے ۔ شائد شعر نہ سمجھتے ہوں لیکن شاعرانہ زندگی اور اس جڑی کیفیت آزردگی، جنون ، بے دلی ، بد دلی ، حساسسیت ، وحشت یہ ساری کیفیات ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے ۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب عاشقی میں عزتِ سادات جاتی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔ اب تو عزتِ سادات ہتھیانے کے لیے شاعری کا سہارا لیا جا تا ہے ۔ شاعری ہوش سے ہوتی ہے نہ شوق سے ،نہ مرضی سے نہ خواہش سے ۔ شاعری خود اپنا شکار تلاش کرتی ہے ۔ وہ دیکھ بھال کے حساس، معصوم ، اور انسان دوست پر اپنا جال پھینکتی ہے۔ مگر کچھ ہوتے ہیں جو خود اس جال میں پھنسنا چاہتے ہیں اس کے لیے انہیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ، جبراً کیفیت طاری کرنا پڑتی ہے، ظاہری حلیے میں شاعرانہ ٹچ دینے کے لیے مستقل ایک گیٹ اپ اختیار کیا جا تا ہے ۔ کچھ کاہلوں کو مشہور ہونے کے لیے یہ ایک سہل راستہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ایسے شعرا کو پڑھنے کے لیے قاری پر بھی سستی طاری ہو جا تی ہے ۔ اچھے، سنجیدہ شاعر کے قاری بھی سنجیدہ ہوتے ہیں ۔اور شاعری کو سنجیدہ لینے والے شاعر کے قارئین بھی انہیں سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔ شوقیہ شعراکے قارئین بھی شوقیہ ہوتے ہیں ۔ آپ جیسے شاعر ہیں ویسا ہی قاری کا ردِ عمل ملتا ہے ۔ سو اگر کیفیات سچی ہوں تو شاعری کی سچائی بھی اپنا آپ منواتی ہے ۔ میرے نزدیک شاعری ایک مقدس اظہار ہے ۔ جس کا ہنر کوشش سے نہیں سیکھا جا تا۔ جو شاعری کے لیے کوشش کرتے ہیں، وہ محض ٹائم پاس کرتے ہیں کارِ دنیا سے فرار چاہتے ہیں ۔ ایسے مفرور جلد پکڑ لیے جاتے ہیں۔ شاعری اور عاشقی میں زیادہ فرق نہیں دونوں جسم سے جان کھینچنے کو تیار رہتی ہیں ۔ رات آئی ہے پھر اک ستارے بغیر دل نہیں لگ رہا ہے تمہا رے بغیر قیس صاحب کا فرمان یاد آتا ہے عشق جا تا نہیں جاں کو مارے بغیر دونوں ہاتھوں سے خود کو لٹاتے رہے ہم تمہارے بنا اور تمہارے بغیر شاعر ، عاشق ہو یا عاشق، شاعر ۔ زمانے کو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ جو عشق نہیں کرتے ان کے لیے یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور تخلیق کار محض انٹرٹینر، وہ اپنی روح پر لگے گھاؤ کا جتنی کرب سے اظہار کرتا ہے ، اتنی ہی شگفتگی سے مکرر مکرر کی صدا بلند ہو تی ہے ۔ اور یوں اس کے زخم ہرے رہتے ہیں ۔ اور تماشا بھی جاری رہتا ہے ۔
یار جانی بڑ ا تماشا ہے یہ جو تیرا مرا تماشا ہے آپ تو آدمی سے واقف ہیں کچھ تو کہیے یہ کیا تماشا ہے کامی شاہ کی کتاب میں غزلوں کی فہرست پر نظر ڈالیے ، سلام ہو یا غزل اس کا ابتدائی مصرع ہی آپ کو کلام پڑھنے کی جانب مائل کرے گا آپ چاہیں گے کہ کہ ہر سلام ، ہر کلام ، پڑھ لیاجائے۔ اس کا وسیع مطالعہ اسکی باتوں سے جھلکتا ہے۔ چھوٹی سی عمر سے اسے اپنی عمر سے بڑے لوگوں اور کتا بوں سے رغبت رہی ۔ کامی اور علی بابا سے ہمارے گھر کا تعلق ضرور شعر کی بنیاد پر قائم ہوا لیکن باہمی خلوص اور محبت کی وجہ سے اب یہ گھر کے فرد کی طرح ہمیں بڑے پیارے ہیں۔ کامی سے پہلی ملاقات میں جو دو چیزیں اس کی شخصیت میں محسوس کی جا سکتی ہیں وہ اس کی صاف گوئی اور جذباتیت ہیں ۔ وہ بے پنا ہ حساس اور محبت کرنے والا انسان ہے ۔ وہ جھنجلاتا ہے ، چڑتا ہے اختلاف کرتا ہے لیکن نفرت اور شکوہ کرنا اس کی سرشت میں نہیں ۔ بچوں کا ساتھ اور بے روز گاری کے طویل دن اس نے کیسے گزارے ہوں گے اس کا ہم اندازہ کر سکتے ہیں ۔ اور اب جو وہ ’’ روز گار ‘‘ سے ہے تب وہ سخن سے روزی حاصل کرنے کے لیے کوئی جتن کرتا ہے یا سخن خود ہی اسے نوکری کی آفر دیتا ہے ۔ اس کا ندازہ اس کا کلام پڑھ کر با آسانی لگا یا جا سکتا ہے ۔ شاعری میں اس اپنا رنگ ہے رواں بہتی ہوئی شاعری، جس میں عقیدت ، محبت اور عشق کے رنگ ہیں۔ ایک سلام کے اشعار دیکھیے بہت سے لوگ یہاں آئے اور چلے بھی گئے ہمیں کسی کا نہیں صرف غم حسین کا ہے کسی خیال کو سہل ممتنع میں باندھنا آسان نہیں ہو تا لیکن کامی نے اس کام کو بھی بڑی خوب صورتی سے انجام دیا ہے ۔ اس کے کلام میں ایک مجذوبیت ہے ۔ جو قاری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی بحروں میں خیال کا مکمل اظہار کامی کی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے۔ آگہی کا سفر بس کہ دشوار ہے جونہیں چل رہا اس کو چلتا کریں ۔۔۔۔۔ ویسے تم اچھی لڑکی ہو لیکن میری کیا لگتی ہو ۔۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے بتانا چاہیے صاحب اُسے اک دکھ بتانا ہے سو لکھنا چا ہیے صاحب احمد نوید کا ایک شعر ہے شعورِ عشق نے سب چھین لی ہے عمر مری نظر تو آتا ہوں لیکن میں نوجواں نہ رہا اس شعر کے مصداق کامی کا بھی یہ ہی حال ہے ۔ کامی کی زندگی بھی نارمل لوگوں کی طرح فطری اور سماجی سانحات کا شکار رہی لیکن شعری کیفیات میں کہیں یتیمی اور مسکینی نظر نہیں آتی ۔ اس کے دکھوں کے اظہار میں ایک ٹھراؤ اور وقار ہے ۔ جو دشتِ ہجر میں کامیؔ سخن آبادکرتے ہیں تمہیں آواز دیتے ہیں تمہیں ہم یاد کرتے ہی سحر سے شام تک زنجیر کے حلقے گنا کرنا یہ ہی اک کام ہے جو ہم تمہارے بعد کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دریا آباد رکھے مالک آپ کو شاد رکھے ۔۔۔۔ عفت نوید۔ #IffatNavaid (سید کامی شاہ کی کتاب قدیم کی تقریب پزیرائی میں پی اے سی سی میں پڑھا گیا۔)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

