مولانا ابو الکلام آزاد نے الہلال اور البلاغ جاری کرکے عوام میں جس طرح اپنی رسائی وپذیرائی حاصل کی اور اردو صحافت کو بلندی عطا کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مولانا آزادنے پچپن میں ہی صحافت میں قدم رکھ دیا اور بارہ سال کی عمر میں ’نیرنگ عالم‘نامی ایک گلدستہ جاری کیا تھا۔ جب وہ بند ہوا تو انہوں نے 1901 میں ہفتہ وار ’المصباح‘ جاری کیا مگر یہ بھی تین مہینے سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ انہوںنے ’خدنگ نظر، ’مخزن‘لاہور،’احسن الاخبار‘ کلکتہ اور ’مرقع عالم‘ ’تحفہ محمدیہ‘ جیسے رسائل میں ابتدائی دور میں ادارتی مشق کی۔ 20 نومبر 1903 کو ’لسان الصدق‘کلکتہ سے جاری کیا۔ اس رسالے کو ادبی حلقوں میں مقبولیت کی نظر سے دیکھا گیااور عوام میں بھی کافی مقبول رہا۔ اس کے ذریعہ مولانا آزاد نے مسلمانوں کی اصلاح کی طرف توجہ دی اور انہیں بھلائی اور بھائی چارگی کی دعوت دی۔ سماج میں رائج فضول رسم و رواج سے دوررہنے کی ترغیب دی۔ اپنے ان خیالات کے پیش نظرمولانا آزاد عوام میں کافی مقبول ہوئے مگر’لسان الصدق‘ بھی جلد ہی بند ہوگیا۔1905 تا 1906 ’الندوہ‘کی ادارت بھی کی۔ پھر امرت سر سے شائع ہونے والا معیاری رسالہ ’وکیل‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ اس طرح مولانا آزاد اپنی قابلیت سے عوام و خواص سبھی میں مشہورو مقبول ہوچکے تھے ۔ جس کے بعد انہو ںنے خود اپنا اخبارنکالا۔
مولانا آزاد نے1912 میں جب اپنا اخبار ’الہلال‘ نکالنا شروع کیا تو اس کی بیحدمقبولیت ہوئی۔ اس اخبار میں جہاں علاقائی خبروں کو جگہ دی گئی وہیں قومی و بین الاقوامی خبروں کو بھی شہ سرخی بنایا گیا۔ مولانا آزاد کے پیش نظر مسلمانوں کی اصلاح بھی رہی، اس لیے مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حالات پر خصوصی کالمز بھی شائع کیے۔ ان کی تحریروں اور کالموں نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ چونکہ مولانا آزاد کے والد خود عالم تھے اور ایک روایتی اسلامی رسوم کے پیروکار بھی، اس لیے مولانا آزاد کو مسلمانوں کی روایتی تعلیمی و سماجی صورت حال کی پوری معلومات تھی۔ جیسا کہ ان کی طبیعت میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ہی جدید تعلیم کی طرف بھی کافی رجحان تھا، اس لیے وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے اور ان کی سماجی و معاشی صورت حال بہتر کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔
مولانا آزاد کے صحافتی کردار میں سب سے زیادہ اہمیت الہلال و البلاغ کو حاصل ہے کیونکہ اس اخبار نے اردو صحافت کو بلندیوں تک پہنچایا۔ الہلال اخبار کی اشاعت تین ادوار میں ہوئی۔ جولائی 1912 تا نومبر 1914 پہلا دور، نومبر 1915 تا مارچ 1916 دوسرا دور رہا مگر اس دور میں الہلال کا نام ’البلاغ‘ رکھا گیا تھا جبکہ جون 1927 تا دسمبر 1927 الہلال کی اشاعت کا تیسرا اور آخری دور تھا۔مولانا آزاد جس محفل میں جاتے وہ ’الہلال‘ کا ذکر ضرور کرتے تھے۔ انہوں نے اس اخبار کے ذریعہ لوگوں کو اپنی نظریات کی طرف دعوت دی۔ ہندو مسلم اتحاد، ملکی سا لمیت، دو قومی نظریے کا بطلان، حصول آزادی کی جد و جہد وغیرہ مولانا آزاد کے دعوت کے اہم پہلو تھے۔ مولانا آزاد الہلال کے کالم و عنوانات بالکل منفرد رکھا۔ من انصاری الی اللہ، الجہاد الجہاد، القسطاس المستقیم، احرار اسلام، شئون اسلامیہ، شئون عثمانیہ، کارزار طرابلس الہلال کے ایسے عنوانات ہیں کہ ان مباحث کو اگر کسی نے نہ دیکھا ہوتو غلط فہمی ہوسکتی ہے۔ 18 دسمبر 1912 کے الہلال میں ’الجہاد الجہاد‘ کالم میں مولانا آزاد قوم کو دعوت دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔یاد رکھیے کہ ہندوؤں کے لیے ملک کی آزادی کے لیے جد و جہد کرنا داخل حب الوطنی ہے مگر آپ کے لیے ایک فرض دینی اور داخل جہاد فی سبیل اللہ۔ آپ کو اللہ نے اپنی راہ میں مجاہد بنایا ہے اور جہاد کے معنی میں ہر وہ کوشش داخل ہے جو حق و صداقت کو بلند اور انسانی بند استبداد غلامی کو توڑنے کے لیے کی جائے۔ آج جو لوگ ملک کی فلاح اور آزادی کے لیے اپنی قوتوں کو صرف کر رہے ہیں یقین جانیے وہ بھی مجاہد ہیں اور ایک ایسے جہاد میں مصروف ہیں جس کے لیے در اصل سب سے پہلے آپ کو اٹھنا تھا۔۔۔۔ فجاہدو فی اللہ حق جہادہ‘‘
مولانا آزاد ’’من انصاری الی اللہ‘‘ عنوان کے تحت الہلال کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع کرنے اور اسے عوام تک پہونچانے کے لیے عوام و مخلصین سے گزارش کرتے۔اسی عنوان کے تحت 16 اکتوبر 1912 کے الہلال میں لکھتے ہیں:
’’پس آج میں آواز بلند کرتا ہوں کہ ’من انصاری الی اللہ‘؟ کوئی ہے جو راہ الہٰی میں میرا مددگار ہو؟۔۔ میں ایسے لوگوں کا طالب ہوں۔۔۔ (جو) اپنے دل میں ایک ہلکا سا زخم بھی درد ملت کا لیکر آئیں۔۔۔ کم از کم ایک رات کا بارہواں حصہ اخوان ملت کے درد میں بھی بسر کیا ہو۔۔۔میرا دل اور گھر دونوں کا دروازہ کھلا ہے تاکہ ہر سچے ارادے کے ساتھ آنے والے کا استقبال کرے اور اپنی اچھی بری زندگی کا شریک مساوی بنائے۔ مجھ کو جو کچھ اب کرنا ہے برسوں تک خاموش رہ کر اور تمام پہلوؤں پر غور کرکے اس کا فیصلہ کرلیا ہے اور زندگی جب تک ہے، اس سے کنارہ کش نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’الامر بالمعروف و النہی عن المنکر‘‘ کے تحت اخلاق پر گفتگو کرتے ہوئے الہلال کے 11 اگست 1912 کے شمارے میں لکھتے ہیں:
’’جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر انسان اخلاقا نرمی و آشتی اور محبت و عفو کا مستحق ہے اور کسی کا برائی کے ساتھ ذکر کرنا اخلاق کے اصول کے خلاف ہے، وہ اخلاق کے نام سے ایسی سخت بد اخلاقی کی تعلیم دینا چاہتے ہیں جس پر اگر ایک لمحے کے لیے بھی عمل کیا جائے تو دنیا شیطان کا تخت گاہ بن جائے۔۔۔ یاد رکھو۔۔۔ نیکی کو اگر پسند کروگے تو اس کی خاطر بدی کو برا کہنا بھی پڑیگا اور خدا کو خوش رکھنا چاہتے ہوتو شیطان کی دشمنی کی پروا مت کرو۔‘‘
الہلال میں قومی اور بین الاقوامی دونوں خبروں کو جگہ ملی۔ الہلال کے ابتدائی دور میں پہلی عالمی جنگ بھی شروع ہوچکی تھی جس میں برطانیہ کی جنگ جوئی اور پسپائیوں کی خبروں کو الہلال میں کھل کر ذکر کیا گیا۔ جس کے سبب’الہلال‘ کی ضمانت ضبط ہوگئی اور نومبر1914کو الہلال کا پہلا دور ختم ہوگیا۔ پھر ایک سال کے وقفہ کے بعد یہی اخبار ’البلاغ‘ کے نام سے شائع ہونے لگا۔ مگر مالی وسائل کی کمی اور دیگر وجوہات سے ’البلاغ‘ کی اشاعت میں باقاعدگی باقی نہیں رہی۔ اسی درمیان کلکتہ گورنمنٹ نے مولانا کو اپنی سرگرمیاں جاری کرنے سے روکا اور انہیں کلکتہ سے جلا وطن کردیا۔ جس کے بعد مولانا آزادرانچی رہنے لگے۔ مولانا کی جلا وطنی کے سبب مارچ 1916 میں ’البلاغ‘ بھی بند ہوگیا۔ انگریزی حکومت نے رانچی ہی میں مولانا آزاد پر اس بات کا الزام لگاکر نظر بند کردیا کہ وہ حکومت کے دشمنوں سے ساز باز کر رہے تھے۔ اپنی رہائی کے بعد مولانا آزاد نے جون 1927 میں ’الہلال‘ پھر نکالنا شروع کیا۔ الہلال کی اس تیسری اشاعت کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے عالمی سطح کے جدید مطبوعات اور دوسری زبانوں کے اچھے لٹریچر کے تراجم بھی شائع کیے جانے لگے۔ مگر تیسرا دور بھی جاری نہ رہ سکا اور دسمبر 1927 کا شمارہ الہلال کا آخری شمارہ ثابت ہوا۔ اخبار بند ہونے کی جہاں دیگر وجوہات تھیں وہیں مولانا آزادکا قومی سیاست میں باقاعدہ شمولیت و مشغولیت بھی تھی۔
الہلال کی نثر کو ادبی حیثیت حاصل تھی۔الہلال کے موضوعات اور معیار دیکھنے پر معلومات ہوتا ہے کہ مولانا کی کوشش تھی کہ الہلال معیاری انگریزی اخبار سے کسی طرح کم نہ رہے۔ مولانا آزاد ’الہلال‘ کو مواد، ترتیب، طباعت اور گیٹ اپ ہر لحاظ سے معیاری و بہتر بنانا چاہتے تھے۔ الہلال کو نکالنے میں دیگر کئی افراد نے بھی مولانا آزاد کا ساتھ دیا جن میں سید سلیمان ندوی، مولانا عبد السلام، مولانا عبد اللہ عمادی کے علاوہ خواجہ عبد الواحد و عبد الرزاق ملیح آباد وغیرہ شامل تھے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ الہلال و البلاغ اپنی اشاعت کے کافی دنوں بعد بھی یکجا موجود نہیں تھے۔ چند شمارے کسی کتب خانے تو چند کسی دوسری جگہ موجود تھے جن میں کئی شمارے ناگفتہ بہ حالات میں تھے۔ ایسے میں پروفیسر محمود الہٰی، چیئرمین اترپردیش اردو اکادمی نے الہلال و البلاغ کے تمام شماروں کو یکجا کرکے تین جلدوں میں 1988 میں شائع کیا۔ پروفیسر محمود الہی کا یہ نہایت ہی قابل قدر کام ہے جس کے سبب آج مولانا آزاد کے الہلال و البلاغ کے تمام شماروں تک رسائی ممکن ہوسکی ہے۔ جیسا کہ آج کل ڈیجیٹل لائبریری کا تصور عام ہورہا ہے، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد کے سینٹرل لائبریری میں الہلال و البلاغ کی ڈیجیٹل کاپی بھی موجود ہے۔مولانا آزاد سے موسوم اس اردو یونی ورسٹی میں مولانا آزاد کی شخصیت اور خدمات پر کئی اہم تحقیقی کام ہوئے ہیں ۔ اردو میڈیم سے تعلیم شروع کرنے والی اس منفرد مرکزی یونی ورسٹی سے ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ تعلیم حاصل کرکے ملک و بیرون ممالک اہم خدمات انجام دے رہے ہیں جو مولانا آزاد کے لیے ایک اہم خراج تحسین ہے۔
کتابیات و حوالہ جات:
مولانا آزاد کی کہانی، از ظفر احمد نظامی، مکتبہ جامعہ دہلی، 2011
الہلال، از مولانا ابو الکلام آزاد، مرتبہ پروفیسر محمود الہی، اترپردیش اردو اکادمی، یوپی 1988
مولانا ابوالکلام آزاد کا صحافتی کردار، ویڈیو لیکچر از پروفیسر ضیا الرحمان صدیقی، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ
نقش آزاد۔ ڈوکومینٹری مولانا ابو الکلام آزاد، از مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد 2010
Dr. Mohd Shamsuddin
Assistant Regional Director
Maulana Azad National Urdu Univeristy, Hyderabad
Mobile No. 9911487568, Email: shamsazizam@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

