غالبؔ کا یہ پیشِ نظر خط اردو ادب کے لئے یقیناً بیش قیمت ہے کیونکہ اس میں غالب کی حیات کا مرقع جوں کا توں ہماری نظروں کے سامنے آشکار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم بخوبی واقف ہیں کہ انہوں نے طویل القاب و آداب اور بےجا تعریف ترک کر کے مختصر القاب و آداب استعمال کیا، تو یہاں پر بھی انہوں نے محض ”بندہ پرور“ سے خط شروع کر کے اپنا سارا توجہ نفسِ مضمون کی طرف مرکوز کر دیا اور ہم طالبِ علموں کے لئے خط لکھنے کا ایک نیا راستہ ہموار کر دیا۔ انہوں نے ہماری تعدیب کی کہ خط کا وقار نفسِ مضمون کی ادائیگی اور سہل پسندی میں مضمر ہے-
لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے دوست کو خط لکھ رہے ہیں بلکہ ایسا گمان ہوتا ہے کہ وہ بنفسِ نفیس اپنے بے تکلف دوست سے راز و نیاز کی باتوں میں محو ہیں۔ انہوں نے ہماری توجہ اپنی آزادانہ روش کی طرف مبذول کیا کہ انہیں تین طرح کی خوشی میسر ہوئی، ایسا تو عموماً بات کرتے ہیں جب ہمارا دوستِ عزیز ہمارے روبرو ہے۔ اسی لئے نہ صرف یہ خط بلکہ ان کے دیگر خطوط اس بات کے لئے اوجِ ثریّا تک پہنچ گئے کہ انہوں نے مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا۔ یہ خط مکالماتی انداز کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں سوالات کا بھی دخل ہے- انہوں نے اپنے خط کو یک رخی بنا کر کسی مخصوص دائرے میں اسیر نہیں کیا، بلکہ سوالات کے استعمال نے ان کے خط کو فطری گفتگو سے ہم کنار کیا۔ زبان اس قدر سہل ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ غالب جیسے مشکل پسند شاعر و نثر نگار کبھی ہمیں اپنی سلاستِ بیان اور جادو بیانی سے محظوظ بھی کریں گے۔ پڑھتے وقت ذہن کی تسکین ہوتی ہے۔بعض جگہوں پر ثقیل لفظوں سے پرہیز کر کے ہماری تفہیم کو گراں معلوم نہیں ہوتا ہے۔ غالب نے وہ طریقئہ اظہار وضع کیا جسے پڑھتے وقت مکتوب الیہ کشمکش میں منہمک نہیں ہوتا ہے۔ اسی لئے یہ خط برجستگی اور بے تکلفانہ انداز کی چاشنی سے معمور ہے۔
تو دوسری طرف یہ خط تاریخی اور سوانحی اعتبار سے اردو نثری ادب کے لئے گراں مایہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں غالب کی زندگی کے کچھ مخفی پہلو سے نقاب کشائی کی گئی ہے۔ کبھی کبھار کتابوں میں بھی ایسی معلومات دستیاب نہیں ہوں گی جو اس خط کے مطالعے سے دریافت کی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یہ معلومات تاریخ کی ترتیب و تدوین کے لئے بھی ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے اپنے لڑکپن سے لے کر بڑھاپے تک کے احوال ایجاز و اختصار کے ساتھ چند سطروں میں رقم کر دیا۔
خط کے بغائر مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جس وقت سے انہوں نےلکھنا شروع کیا وہ چست اور چاق و چوبند تھے۔ لیکن زندگی کے آخری مرحلے میں وہ نحیف و ناتواں ہو گئے تھے۔ غالب اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ عنفوانِ شباب سے ضعیف العمر تک قلم ان کے ہاتھوں سے نہیں چُھوٹا۔ ان کی فارسیت سے کون اردو داں نا آشنا ہے؟ ان کے خط کے ذریعے یہ بصیرت افروز معلومات موصول ہوئی کہ انہوں نے فارسی آمیز عبارت اور عبارت آرائی رد کر کے صاف اور شستہ طرزِ تحریر آغوش میں لیا۔ غالب مرقوم ہیں: ”جو زبان پر آوے وہ قلم سے نکلے“۔ انہوں نے خط نگاری کو پُرتکلف فضا سے نکال کر اسے بے تکلف طرزِ نگارش کا خزانہ بنا دیا۔ اس خط میں گویا ان کی سوانح حیات کی ایک متحرک تصویر آشکار ہوتی ہے جس میں شعر کی شانِ نزول نے خط کو ایک تخلیقی دستاویز کی صورت عطا کر دی۔ اسی لئے غالب ایک رجحان ساز اور عبقری شخصیت بن کر ابھرتے ہیں۔ زبان، معلومات، تاریخ، سوانح، شعر و سخن، اس زمانے کی نفسا نفسی ایک مکمل تخلیقی سرمایہ کی صورت میں ادب کا حصہ بن گئے۔
اودھ کی افراتفری اور تباہی کے متعلق غالب اپنی افسردگی اور احساسات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزئیات نگاری پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس سے ان کی غیر معمولی دقیقہ سنجی اور ہمہ گیری کا ثبوت ملتا ہے۔ عموماً جب کسی دوست سے آنکھیں چار ہوتی ہیں تو اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن غالب جیسی جدت پسند شخصیت تو خط کو بھی ملاقات کی شکل دے سکتے ہیں۔ سخت سے سخت حالات میں بھی غالب اپنی مزاحیہ قرینے منکشف کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ اسی لئے تو الطاف حسین حالی نے انہیں حیوانِ ظریف کہا ہے۔ غالب اپنی شگفتہ طبعی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: “کل آپ کا خط آیا آج میں نے جواب لکھا تاکہ انتظارِ جواب میں آپ کو ملال نہ ہو ”۔ اس خط کے ذریعے ہم اس بات کی طرف ملتفت ہوتے ہیں کہ غالب کی شخصیت کو بیک وقت مختلف النوع خانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہمہ گیر شخصیت کسی ایک خانے میں اسیر بھی نہیں ہوتی ہے۔
اس خط میں غالب کبھی اپنی زندگی کے احوال رقم کرتے ہیں، کبھی رنج و ملال کا اظہار کرتے ہیں، کبھی شعر کہہ دیتے ہیں، کبھی ظرافت آمیز فقرہ لکھ دیتے ہیں۔ اس ایک خط میں ہمیں گونا گوں اسالیب کا مرقع حاصل ہوا۔ اگر ایک خط ہی اس قدر معلومات افزا ہے، تو باقی خطوط تو یقیناً بصیرت افروز معلومات کا سرچشمہ بن گئے ہیں۔ خط کے اختتام میں بھی بےجا تفصیل سے سلام اور دعا میں وقت کا زیاں نہیں کیا، بلکہ براہِ راست طریقے سے سلام عرض کرتے ہوئے اپنا نام رقم کر کے تاریخ بھی تحریر کر دی۔ انہوں نے ہمیں اپنی جدت پسند طبیعت سے عارف کر کے خط لکھنے کا ایسا قابلِ ستائش قرینہ وضع کیا جس کی تقلید کر سکتے ہیں۔
آج جب ہم نجی خط رقم کرتے ہیں تو غالب کے اسلوبِ نگارش اور بےتکلفی سے ہی مستفید کرتے ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اگر انہوں نے ۱۸۵۷ کی تاریخ نہ لکھی ہوتی تو شاید تاریخ کو ترتیب دینے میں دشواری پیش آتی۔ گویا انہوں نے محقق اور مورخ کا کام آسان کر دیا اور یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس دور میں ہندوستان کی صورتِ حال کیا رہی ہوگی۔ لوگ کس قدر اثر پذیر ہو کر نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے تھے اور بغاوت پیدا کرنے والے کن ذہنی کشمکش سے دوچار ہو رہے تھے کہ وہ بغاوت پر اتر آئے۔ ان کے خط کا مطالعہ کرنا بلاشبہ ہمارے لئے موجبِ افتخار ہے کیونکہ یہ خط کلیتاً ایک ادبی خزینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اتنی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی اس فنکارانہ تخلیق سے پہلو تہی کرنا ناممکن ہے۔ ان کا خط عصرِ رواں میں بھی خورشید کی طرح پوری تابندگی کے ساتھ درخشاں ہے اور باغ میں ہرے ہرے پتوں کی مانند تر و تازہ ہے۔
وہ خط کے وسیلے سے اپنے شاگردوں کے کلام کی اصلاح بھی کرتے تھے۔ ماسوا، غالب ایک مجلس پسند شخص تھے اور خط کے ذریعے وہ اپنی نا آسودہ آرزوؤں کا اظہار کرتے تھے اور اپنے دوست احباب سے ہم کلام ہو کر دلی مسرت حاصل کرنے میں مشغول رہتے تھے۔ جب اودھ کی ہستی کئی ہنگاموں پر منحصر تھی تو خط کے ذریعے اپنی تنہائی کو بہلایا کرتے تھے۔ ان کا خط ان کی مجلس پسند فطرت کی آسودگی کرتے تھے۔
اگر مرزا اسد ﷲ خاں بیگ غالبؔ اردو شاعری میں عہد ساز فنکار ہیں، تو خطوط نگاری بھی ان کے تراشیدہ راستوں پر گامزن ہوتے ہوئے آگے بڑھی۔ ان کے بعد بیشتر نثر نگاروں نے ان کے طرزِ نگارش کی پیروی کرنے کی سعیِ پیہم کی۔ ایک باصلاحیت شاعر کی حیثیت سے ان کا کلام پورے اردو ادب کی دنیا پر اپنے زمانے سے لے کر عصرِ نو میں حکمرانی کر رہا ہے، تو دوسری طرف ایک منفرد نثر نگار کی حیثیت سے بھی ان کے خطوط اردو نثری ادب کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو رہے ہیں۔
بی بی ثریّا مہنگر
یونیورسٹی آف موریشس
اسکول آف انڈین اسٹڈیز، شعبئہ اردو
مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ
موکا، موریشس
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

