Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

نیا حمام …….تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

by adbimiras فروری 2, 2021
by adbimiras فروری 2, 2021 1 comment

انسانی دماغ کا سماجی ماحول سے متاثر ہونا ایک فطری عمل ہے اور جب کوئی انسان کسی بھی قسم کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے تو بعد میں اس کی سوچ اور زبان کا باہمی اتصال اس ماحول کا ترجمان بن جاتا ہے اور ادبی وتخلیقی سطح پر یہی تجربات ومشاہدات کسی بھی تحریر یا تخلیق کا محرک بن جاتے ہیں یا اس میں اس کی عکاسی ضرور نظر آتی ہے۔فکشن کی بات کریں تو ناول اور افسانہ میں اکثر سماجی وثقافتی‘سیاسی ومعاشی اور نفسیاتی و تاریخی عناصر کی تخلیقی تشکیل (Creative figuration) ہوتی ہے۔افسانوی مجموعہ ”نیا حمام “(ڈاکٹرذاکر فیضی۔دہلی)میں شامل افسانے’نیا حمام ‘’ٹوٹے گملے کا پودا‘ ’فنکار‘’ٹی۔او۔ڈی‘ وائرس‘’اسٹوری میں دم نہیں ہے‘’ایک جھوٹی کہانی‘’ہریا کی حیرانی ‘’میں آدمی وہ انسان‘’اتفاق‘’میرا کمرہ‘ ’جنگ جاری ہے ‘’ہم دھرتی پر بوجھ ہیں‘’عجوبے کا عجائب گھر‘’گیتا اور قرآن‘’آدی مانو‘’مردوں کی الف لیلہ‘’کوڑا گھر‘’ورثے میں ملی بارود‘’ہٹ بے‘’کلائمکس‘’اخبار کی بدری‘’لرزتی کھڑکی ‘’دعوت نون ویج“اور افسانچوں ”جھٹکے کا گوشت ‘’اکیسویں صدی کی داستان‘’دلہن‘’انسان کی موت ‘’کپڑوں میں پیشاب کرنے والے“ کے موضوعات اور کہانیوں سے ظاہر ہے کہ ”نیا حمام“ میں شامل افسانوں کے موضوعات اور کہانیوں کی تخلیقی تشکیل (Creative figuration) میں سماجی‘ثقافتی‘عائلی‘ سیاسی‘معاشی اور نفسیاتی و تاریخی عناصر کا دلچسپ فنکارانہ انعکاس (Artistic reflection) نظرآتا ہے۔کسی بھی تخلیق کی موضوعاتی جہات کا مدار مشاہدات وتجربات پر ہوتا ہے یعنی جتنا گہرا مشاہدہ یا تجربہ اتنا ہی موضوعاتی برتاؤ میں وسعت ہوگی۔شعر وفکشن میں یہی عمل تخلیقی مشاہدہ (Creative observation)کہلاتا ہے۔اس قسم کا تخلیقی مشاہدہ”نیا حمام“ کے کئی افسانوں میں اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے۔جیسے افسانہ”نیا حمام“”ٹوٹے گملے کا پود“ٹی۔او۔ڈی“”فن کار“”وائرس“”ہریا کی حیرانیاں“ ”میرا کمرہ“”ہم دھرتی پر بوجھ ہیں“”گیتا اور قرآن“ وغیرہ۔

کتاب کا نام اور پہلا افسانہ”نیا حمام“ہے۔اس افسانے کی کہانی اور کردارنگاری سے جو تاثر ذہن میں ابھرتا ہے وہ سلیمان اریب کے درجہ ذیل شعر کی افسانوی توضیح لگتا ہے:

ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا

سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرماؤں میں

اس طرح سے افسانہ”نیا حمام“ حدود مشاہدہ(Range of observation)کی اس سماجی‘ مادی اور صحافتی منظرنامے(Journalistic scenerio)کی طنز آمیز فنی عکاسی کرتا ہے‘جس میں دولت وشہرت اورجاہ و حشمت کی خاطرایک معصوم سی گونگی‘بہری اور

ا ندھی بچی کے قتل کرنے کی سازش میں میڈیا‘ ماں‘ عاشق‘ اسکرپٹ رائٹر‘ کھلونے بنانے والی کمپنی کا ایم۔ڈی‘فلاح وبہبود تنظیم ’معصوم کی آواز‘ کی صدر اور بال سماج کلیان سمیتی کاصدر وغیرہ کی سبھی کردار نگاری اور موجودگی اپنا رول نبھاتی ہیں۔افسانے کا مرکزی کردار عصری میڈیا جسے اب گودی میڈیا یا جرنلزم(Lapdog media/journalism) کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے‘ادا کررہا ہے۔کیونکہ بچی کو قتل کرنے کا مسئلہ دراصل اس کی ماں اور عاشق کا ہوتا ہے تاکہ وہ کسی جھنجھٹ کے بغیر شادی کرسکے لیکن جونہی اس راز کی بھنک میڈیا کو لگتی ہے تو وہ اپنی ٹی۔ آر۔پی بڑھانے کی خاطر سارے سماجی‘اخلاقی اور صحافتی اقدار و ضوابط بالائے طاق رکھ کر قتل کی سازش کو سنسنی خیز منافع وشہرت بنانے کے لئے ایک میٹنگ کا اہتمام کرتا ہے۔جس کا اشارہ افسانے کی ابتدا میں کیا گیا ہے:

”تین سال کی اندھی‘گونگی اور بہری بچی کو کیسے مارا جانا ہے۔اس کا فیصلہ آج کی آخری میٹنگ میں ہونا تھا‘ جس کے لئے میٹنگ ہال میں موجود تمام لوگ نیوز چینل کے مالک وایڈیٹر کے منتظر تھے۔“ (کتاب”نیا حمام“ص۳۲)

( یہ بھی پڑھیں ذاکر فیضی کا نیا حمام – زائرحسین ثالثی)

افسانے میں میڈیا کے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنانے کی کرتب بازی کو اچھی ہنر مندی سے ایکسپوز کیا گیا ہے۔میڈیا جب عاشق اور بچی کی ماں کو بینک بیلنس بڑھانے کا لالچ دے کر بچی کے قتل کرنے کو سنسنی خیز نیوز بنانے کی آفر دیتا ہے اور جب بچی کی ماں سماج اور قانون کے سامنے مجرم ٹھہرانے کے خوف کا اظہار کرتی ہے تو کس طرح میڈیااسے اس مجرمانہ اقدام کو انجام دینے کے لئے ذہنی طور پر مطمئن کرتا ہے:

”اس کی فکر تم مت کرو۔اس طرح کی اسکرپٹ تیار کی جائے گی کہ تم پرآنچ تک نہ آئے……اور ویسے بھی پبلک کو چاہئے سنسنی خیزخبریں‘جس کو وہ بعد میں کسی نئی خبر کی وجہ سےبھول جاتی ہے۔“

(کتاب:نیا حمام“ص ۴۲)

اب اگر افسانے کے موضوع‘کردارنگاری اور کہانی پر غور کریں تو افسانہ عصری مادیت پرستی اور میڈیائی کرتب بازی کو اچھے ڈھنگ سے افسانوی رنگ میں پیش کررہا ہے اورمیڈیا کو استعارتی انداز سے ”نیا حمام “ کے بطور پیش کرتا ہے جس میں دولت وشہرت کی دوڑ میں سبھی ننگے نظر آتے ہیں۔تکنیکی طور پر افسانے کا پلاٹ نیم ڈرامائی تکنیک پر استوار ہوا ہے اور موضوعاتی سطح پر جدت بھی نظرآتی ہے تاہم فنی برتاؤ کے پیش نظرکردار نگاری میں ایک دو جگہ سقم موجود ہے جیسے:

”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔“ بچی کے باپ نے کہا….”پبلک سوال کرسکتی ہے۔۔۔“(ص:۷۲)

تو سوال ابھرتا ہے کہ افسانے میں بچی کو یتیم دکھایا گیا ہے۔کیونکہ اس کا باپ مرچکا ہے اور پوری کہانی اسی ایک مسئلے کے اردگرد گھومتی بھی ہے اور جس کو باپ کہا گیا ہے وہ تو اس کی ماں کا عاشق ہے جو بچی کے مرجانے کے بعد شادی کرنا چاہتا ہے نہ کہ بچی کو اپنانے کے لئے تیار ہوتا ہے تو پھر اس مکالمے میں عاشق کو کیسے باپ بناکر پیش کیا گیا ہے۔

اکثراوقات میں ادب/ فن برائے ادب/ فن اور ادب/ فن برائے زندگی/تعمیرکی بحثیں چلتی رہتی ہیں‘ خیر… شامل کتاب افسانہ”فنکار“کی کہانی اور کردار نگاری میں دلچسپ انداز سے فن کاروں کی سوچ و فکر اور ایک عام انسان یا فن کے شیدائی کی اخلاقی برتری کو موضوع بنایا گیا ہے۔کردار نگاری میں بڑی ہوشیاری سے کام لیا گیا ہے کیونکہ پوری کہانی بغیر کسی نام کے کہانی کار‘ آرٹسٹ‘ فلم ساز‘ چوتھا‘لڑکی اور وزیر کا بیٹا جیسے کرداروں پر تخلیق ہوئی ہے۔افسانہ نگار کہانی کے تجسس کو آخر تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے جس کی وجہ سے افسانہ ایک عام سے واقعہ کو انجام تک پہنچانے میں قاری کی دلچسپی قائم رکھنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔تجسس کا محرک عام آدمی یعنی ’چوتھا‘بنتا ہے۔کیونکہ چاروں لوگ ’کہانی کار‘ ’آرٹسٹ‘ ’فلم ساز‘اورچوتھا الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود گہرے دوست ہوتے ہیں۔ چوتھے کے انتظار میں باقی تینوں دوست ایک ریسٹورنٹ میں اس کی سست رفتاری اوروقت کی ناقدری کرنے پر فقرے کستے رہتے ہیں۔ دراصل ان تینوں نے ریسٹورنٹ میں اپنی کامیابی کی خوشی میں پارٹی رکھی تھی ‘ جس میں چوتھے کو بھی شامل ہونا تھا تاکہ چاروں دوست کامیابی کو انجوائے کرسکیں۔ کامیابی کی وجہ لڑکی کا درد ناک قصہ ہوتا ہے جس کے والدین کو ایک وزیر کا اوباش لڑکا ایک سال پہلے قتل کرکے اور اس کی عزت لوٹ کر اس کے چہرے کو تیزاب سے جھلسا دیتا ہے۔اس دردناک واقعہ پر کہانی کار ایک کہانی لکھتا ہے جو قومی سطح کے کہانی مقابلے میں پہلا انعام حاصل کرجاتی ہے۔فلم ساز نے کہانی کو فلم کا روپ دیااور کامیابی کے زینے چڑھ گیا اورآرٹسٹ کی پینٹنگ نے بھی خوب شہرت ودولت کمائی۔لیکن اس معصوم ومظلوم لڑکی کا اس دوران کیا ہوا۔ان میں سے کسی کوکبھی بھی اس کا خیال تک نہیں آیا۔جب تینوں دوست چوتھے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے تو باہمی مشورے سے اس کے گھر کی طرف چل دیے۔چوتھے یعنی عام آدمی کے گھر پہنچتے ہی کہانی کار اس پر برس پڑا کہ”ابے سالے یہاں مررہا ہے۔۔۔ وہاں ہماری شام سڑا کر۔“لیکن جب چوتھا دوست انہیں بتاتا ہے کہ وہ بیوی کو اسپتال لے گیا تھا تو یہ تینوں حیران ہوکر پوچھتے ہیں کہ ایک ہی دن میں کہاں سے بیوی ٹپکی۔اس کے بعد جب وہ کہتا ہے کہ ایک مہینے پہلے کورٹ میرج کرلی لیکن وہ انہیں نہیں بتا سکا تو کمرے میں داخل ہوتے ہی فلم ساز پوچھتا ہے کہ ”ویسے وہ ہے کیسی؟“ اس کے بعد جب چوتھے کی بیوی کمرے میں پانی کا جگ لے کر داخل ہوتی ہے تو افسانہ نگار نے افسانے کے کلائمکس میں عمدہ فن کاری کا ثبوت دیکر قاری کو سوچنے کے لئے بہت کچھ رکھ چھوڑا ہے:

”تینوں فنکار اسے دیکھ کر اچھل پڑے۔وہ بے حد بدصورت اور ڈراؤنی تھی۔

چوتھے نے کہا…. یہ وہی ہیں‘جس پر آپ تینوں فنکاروں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے….!

تینوں فن کاروں نے ایک دوسرے کے چہرے کو ایسے دیکھا جیسے آپس مین سوال پوچھ رہے ہوں…. فنکار کون ہے‘ہم یا۔۔۔۔۔؟“

ہم جب ادب کے اس تصور پر غور کرتے ہیں کہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے توظاہر ہے کہ ایک ادیب کی ادبی تحریر سماج کی عصری زندگی کا وہ آئینہ ہوتی ہے جس میں سماج کے نشیب وفراز کی کئی صورتیں جلوہ گر ہوتی ہیں۔افسانہ”ٹی۔او۔ ڈی“کی کہانی میں بھی ہندوستان کی عصری گھٹن زدہ زندگی اور سیاسی کرتب بازوں کی خود پرستی‘نخوت‘انکل سام(امریکہ) کی چاکری اور عوام کی رضامندی کے بغیر تاناشاہی فیصلوں کو زبردستی لاگو کروانے کا وہ آئینہ نظر آتا ہے جو قاری کے سامنے ہندوستان کی سیاسی وسماجی اور اقتصادی صورتحال کی کئی بدنما صورتیں دکھا رہا ہے۔جس میں کمر توڑ ٹیکس کا اطلاق‘ڈیجیٹل ترقی کے نام پر لوگوں کی پرسنل لائف تک کی نگرانی اور سب سے اہم بات لوگوں کی سوچ اور خواب دیکھنے کی آزادی پر قدغن لگانے کے عامرانہ اقدامات بقول غالبؔ:

بات پر واں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

افسانے کاپلاٹ نیم علامتی بیانیہ پر استوار ہوا ہے اور مرکزی کردار ایک کہانی کار(اسٹوری ٹیلر) ہے۔ یہاں پر ادب کے سماجی آئینہ کا تصور دلنشیں اسلوب میں ظاہر ہوتا ہے۔کیونکہ کہانی بذبان اسٹوری ٹیلر بیان ہوتی ہے جو کہ باہر سے ملک کی راجدھانی کے ایک بڑے آڈیٹوریم میں کہانی سنانے کے لئے بلائی جاتی ہے۔ وہ جب ملک کی پوری کہانی داستانوی انداز میں سناتی ہیں تو سامعین کی طرف سے کوئی بھی حوصلہ افزا ردعمل سامنے نہیں آتا ہے۔حتی کہ وہ تاناشاہی فیصلوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاجی ریلیوں بصورت راجدھانی کی ایک مشہور یونیوسٹی J.N.U کے طلبہ کے شعلہ بیاں احتجاجی نعروں ”آزادی…سپنے دیکھنے کی آزادی…جینے کی آزادی“کا ذکر بھی کہانی میں کرتی ہیں تو بھی پورے آڈیٹوریم پر سناٹا چھایا رہتا ہے۔ وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہیں کہ ایک کامیاب کہانی کار کی شاندار کہانی سن کر بھی یہ لوگ کیوں نہیں کسی قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ یہ تو انہیں لوگوں کی دردبھری کہانی ہے۔ اس پہیلی کو افسانہ نگار بڑی ہوشیاری سے افسانے کے اختتام پر یوں کھول دیتا ہے:

”اسٹوری ٹیلر کہانی مکمل کرچکی تھی۔مگر اسٹوری ٹیلر کے لئے مقام حیرت تھا کہ سامعین میں

میں سے کسی نے تالیاں نہیں بجائی تھیں۔کسی بھی طرح کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔وہ سوچ رہی تھی کہ یہ کیسے لوگ ہیں ہراحساس سے عاری۔سارے سامعین کہانی سن کرآڈیٹوریم سے اس طرح باہر نکل رہے تھے جیسے ان کے بازو میں بھی کوئی چِپ نصب ہو۔“

(ص: ۹۴)

افسانوں میں کردار کے نفسیاتی رویہ (Psychological behaviour)کے بدلاؤ کی طرف توجہ دیں تو اردو اور انگریزی یا دوسری کئی زبانوں کے افسانوں میں اچانک ایسا موڑ آتا ہے کہ افسانہ نگار کسی واقعہ کے نفسیاتی اثر کوکسی کردار کے ذہنی تناؤ یا بدلاؤ کا محرک بناتا ہے اور پھر اخلاقی پہلو نکال کر اس کی زندگی یا سوچ کا نیاموڑ سامنے لاتاہے‘ جیسے سعادت حسن منٹو کے مشہور افسانہ”ٹھنڈا گوشت“ کے کردارایشور سنگھ کے نفسیاتی تناؤ یا بدلاؤکی روداد جب وہ ایک مکان میں داخل ہوکر چھ آدمیوں کا قتل کرنے کے بعد اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے لڑکی کو کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے اور جب وہ اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے تو وہ لڑکی مرچکی ہوتی ہے اور یہی واقعہ ایشور سنگھ کے نفسیات پر اتنا اثر ڈالتا ہے کہ وہ ایک زندہ لاش بن جاتا ہے۔ڈاکٹر ذاکر فیضی کا ایک افسانہ”وائرس“ کی کہانی بھی اسی قسم کی نفسیاتی تناؤ کی کہانی ہے۔جس میں ایک کردار ” معصوم“ کے قتل ہوتے وقت کا یہ جملہ”میری ماں سے کہنا…میں مرگیا۔“قاتل کو نفسیاتی طور پر اتنا متاثر کرتا ہے کہ وہ کئی دنوں تک پریشان رہ کر صرف اپنی ماں سے کہتا رہتا ہے کہ:

”میں مر گیا….. میں مرگیا ماں۔“(ص۷۵)

فنی اور موضوعاتی سطح پر دیکھیں تو افسانہ اسی جملے پر ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد والا حصہ زائد ہے جو کہ قریباََ آدھے صفحے پر پھیلا ہوا ہے۔ کیونکہ افسانہ نگار نے لفظ”وائرس“ کو علامت کا روپ دے کر قاتل کی نفسیات سے اس طرح انگیز کیا ہے کہ قاتل کی اخلاقی حس جاگ جاتی ہے اور وہ اعتراف جرم اور

پچھتاؤے کے احساس سے نفسیاتی تناؤ کی زد پر آجاتا ہے۔جس کی وجہ اسے اس کا کھانا پینا بھی چھوٹ جاتا ہے اور نیندیں بھی حرام ہوجاتی ہیں۔بس ایک زندہ لاش ہوکر رہ جاتا ہے۔

کتاب میں چند افسانچے بھی ہیں جو کہ فنی اور موضوعاتی طور پر دلچسپ افسانچے ہیں نہ کہ دو سطری تین سطری خیال آرائی۔ان میں ایک افسانچہ ”اکیسویں صدی کی داستان“مابعدجدید افسانچہ کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ اچھی کرافٹ اور موضوعاتی جدت کا حامل یہ افسانچہ قاری پر اچھا تاثر چھوڑجاتا ہے۔یونیورسٹی ہوسٹل کے ایک کمرے میں چار انٹلیکچول کسی سماجی موضوع پر بحث و تمحیص کرتے ہوئے سرپر آسمان اٹھاتے رہتے ہیں۔ہوسٹل کی دیوارپر ایک نوجوان رنگ وروغن چڑھاتے ہوئے انٹلیکچولی کے اس کھیل کا شور سنتا رہتا ہے لیکن اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا ہے۔پھر وہ ردی کاغذجمع کرنے والے ایک بوڑھے سے جب پوچھتا ہے کہ”چاچا!یہ کمرہ نمبر ۰۰۷ میں کیا جھگڑا چل رہا ہے۔ بہت تیزم تازی ہورہی ہے۔کیا بات ہے؟“ تو افسانچے کی پنچ لائن پورے ماجرے کا آپریشن کردیتی ہے جب چاچا جواب دیتا ہے:

”یہی کہ……. ان کے پیٹ میں روٹی ہے۔“ بوڑھے نے یہ کہہ کر انٹلیکچولی کا بھاری گٹھر سر پرلاد لیا اور لرزتی‘کانپتی سوکھی ٹانگیں آگے بڑھ گئیں۔“(ص ۷۹۱)

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر ذاکر فیضی افسانچہ لکھنے کی طرف بھی توجہ دیں گے تو اردو کے بہترین افسانچوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

مجموعی طور پر شامل کتاب افسانوں کا احاطہ کریں تو”نیا حمام“کے کئی افسانے/افسانچے فن اور فکر‘موضوعاتی برتاؤ اور پلاٹ سازی اور کردار نگاری میں مثالی افسانے ہیں‘کیونکہ ان کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ ڈاکٹرذاکر فیضی کرافٹ اور بیانیہ کو کنٹرول کرنے کا اچھا فنی شعور رکھتے ہیں۔جن میں سے چند ایک پر بات بھی ہوئی۔تاہم کئی افسانوں میں افسانہ نگار کہیں کہیں پر موضوعاتی الجھاؤ کا شکار نظر آتا ہے کیونکہ لکھنے کے دوران وہ کہانی کے تھیم کو صحیح ڈھنگ سے سنھبالنے میں فکری طور پر ڈگمگانے لگتا ہے یا اس طرح زیادہ توجہ نہیں دیتا ہے جیسے :افسانہ”وائرس“کے اس آخری جملے ”فنکار کون ہے‘ہم یا۔۔۔۔۔؟“میں اگر لفظ اصلی کا اضافہ کیا جاتا یعنی’اصلی فنکار کون ہے‘ہم یا۔۔۔۔۔؟“ تو کہانی کے پورے تھیم یا پیام کا نچوڑ بدل جاتا۔یہ معمولی خامیاں معیاری افسانوں کے مطالعہ اور مشق جاری رکھنے سے دور ہوجائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Address: Wadipora Handwara Kashmir 193221

Email: drreyaztawheedi777@yahoo.com cell:7006544358

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasnaya hammamzakir faiziادبی میراثافسانہذاکر فیضینیا حمام
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عورت مرد سے زیادہ علمِ دین والی ہوسکتی ہے – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

1 comment

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری فروری 4, 2021 - 5:45 صبح

بے حد شکریہ

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں