تم ابھی تک بھوک کے سفر میں ہو
سر جھکائے
بند منہ والے تھیلے لئے
خام اناج
قیمتی پتھر
زرخیز زمین
ابھرا سینہ اور بھرے ہوئے کولہے والی
عورت کی تلاش کے سفر میں
اور تمہارا یہ سفر نا تمام رہیگا
تمہارے باپ کی طرح
کہ جب تک تم اپنے تھیلے کا منہ نہیں کھولتے
اور نہیں نکال پھینکتے اندر سے
اناج
پتھر
زمین
عورت
اور
پرانی زنگ آلودہ سوچ
تم میں بھوک کاٹنےکی ریاضت مکمل نہیں ہوگی
کہ جب تک تم بھوک کے سفر میں
اپنے تھیلے سے اناج پھینک کر
کتاب بھرنے والوں کی صف میں نہ ہو جاؤ ۔
محمد عاصم بدر
طالب علم ، ڈپارٹمنٹ آف اردو ،
جے این یو ۔
روم نمبر 202 ستلج ہوسٹل
، جے این یو , (110067)
(7532044228)

