جنازے پر میرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے
(راحت اندوری)
زندگی کے ہر شعبہ میں ہر شخص اپنی اہمیت رکھتا ہے ۔ لیکن ہزاروں کے مجمعے سجا کر ، ہزاروں اشعار سنا کر قصے کہانیاں بیان کر کے اندور کی پتھریلی مٹی سے اٹھی ہوئی ، مفلسی و ناداری میں مگر ناز و نعم کے ساتھ پلی بڑھی شخصیت راحت اللہ قریشی عرف راحت اندروی 12؍ اگست 2020 کو دنیا کے مختلف ملکوں کے اردو سے محبت کرنے والے کروڑوں لوگوں سے ہمیشہ ہمیش کیلئے اس جگہ کیلئے رخصت ہوگئی جہاں دنیا میں آنے والے ہر شخص کو جانا ہے ۔ کیونکہ یہی اللہ کا حکم ہے اور اس کا نظام بھی ۔ اور گویا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے کہ
جنازے پر میرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے
ڈاکٹر راحت اندوری نے یوں تو غزل کی صنف میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں لیکن اِدھر آخری زمانے میں انہوں نے زمانے کو اپنی ذات میں تحلیل کر لیا تھا اس لیے ان کا مطمح نظر عوام رہا کرتی تھی جس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں عصری اور عوامی مسائل کو شعری جامہ پہنا کر اپنے عہد کا حال بیان کیا ہے ۔ اور سامع کو سوچنے اور سر دھننے پر مجبور کر دیا کرتے تھے ۔
راحت صاحب کی شاعری جہاں ظالم و جابر ارباب اقتدار کیلئے تیر و تفنگ کا کام کرتی تھی وہیں قوم کی بزدلی و بے حسی پر نشتر بھی چلاتے تھے تاکہ قوم اپنی بزدلی و بے حسی کی اوڑھی دبیز چادر کو اٹھا پھینک کر زندگی کے کارزار میں آگے آئے اور ظلم وجبر کے اقتاد کو اکھاڑ پھینکے جیسا کہ انہوں نے کئی موقعوں سے یہ کہا کہ ملک کے مٹھی بھر وہ لوگ جن کا وطن کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردا ر نہیں ہے بلکہ کہا جائے کہ وہ ہمیشہ تخریبی سرگرمیوں میں ہی پیش پیش رہتے ہیں۔ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو ہمیشہ دھمکی دیتے رہتے ہیں اور اس وطن عزیز سے دور کردینے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے چیلنج اور دو ملکوں کے درد کو اپنے ایک لافانی شعر میں راحت صاحب نے یوں بیان کیا ہے ۔
اب کے جو فیصلہ ہو گا وہ یہیں پر ہوگا
ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی
اسی طرح دوسری اکثریت کی بے بسی پر استہزا کرنے والوں سے راحت صاحب یوں مخاطب ہوتے :
ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پر طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں
طاقت وقوت اور اقتدار کے نشے میں چور ملک کے موجودہ ارباب حل و عقد اور ملک کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھنے والے نے جب ایک قانون بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے نئے قوانین بنانے کا ارادہ کیا تو اس کے ردعمل میں مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاج کے اندر راحت صاحب کے بہت پہلے پڑھے گئے اشعار عوام میں زبان زد تھا ، ایسا لگتا تھا کہ انہوںنے انہی دنوں پڑھا ہے :
آج جو صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے
کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹھی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
راحت صاحب کی شاعری کا اپنا رنگ تھا اور ڈھنگ بھی نرالا ہی تھا چنانچہ پیش کش اور انداز اس طرح ہوتا تھا کہ وہ ان کی شاعری کی تفہیم کا کام کرتا تھا اس لئے ان کی شاعری مقبول ہوتی تھی اور عوام ان کو پسند کرتے تھے ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی شاعری مقصدی ہوتی تھی اور انسانی زندگی اور عہد حاضر سے قریب تر ہوتی تھی ۔ راحت صاحب اشعار پیش کرنے کے معاملے میں سامعین کی نفسیات کا خاص خیال رکھتے تھے اس لئے ان کے اشعار میں الفاظ بہت پُر شکوہ اور خیالات بہت اعلیٰ و ارفع نہیں ہوتا تھا جس کو سمجھنے کے لئے ذہن و دماغ پر بہت زور دینے کی ضرورت پڑے بلکہ ان کی شاعری وقت اور حالات کے اعتبار سے مواد اور الفاظ پر مشتمل ہوتی تھی اور ہرسننے والا اپنی آواز سمجھتا تھا ۔
راحت صاحب اپنی خوبیوں کی وجہ سے ملک کے گوشہ گو شہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کہ جہاں کے لوگ تھوڑے بہت بھی اردو بولنے ، سمجھنے اور اردو سے محبت کرنے والے ہیں سب کے درمیان یکساں مقبول تھے۔ اور سب لوگ انہیں کا وہ مصرعہ جو انہوںنے جاں نثار اختر کے ایک مصرعہ پر فی البدیہہ لگایا تھا ’ ’ ہم نے تمہیں چاہا ہے چاہنے والوں کی طرح ‘‘ کہاکرتے ہیں ، مگر اب آہ ………
نوٹ: مضمون نگار بی آر اے بہار یونیورسٹی مظفر پور میں ریسرچ اسکالر ہیں۔


1 comment
اب آپ ادیبہ فریحہ خانم بن چُکی ہیں، تحریر بہوت عمدہ تھی، اردو ادب کی کُچھ جھلکیاں دیکھنے کو ملی جیسے ادھر آخری زمانے میں اُنہوں نے زمانے کو اپنی ذات میں تحلیل کر لیا تھا