Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

شفیقہ فرحت: پہلی مزاح نگار خاتون – ظفرالاسلام

by adbimiras جون 24, 2021
by adbimiras جون 24, 2021 2 comments

شفیقہ فرحت کی پیدائش ۲۶؍اگست ۱۹۳۱ء کو ناگپور میں ہوئی۔ والد کا نام محمد رستم خان تھا جو انگریز سرکار میں پولس محکمہ میں سی۔ آئی۔ ڈی تھے۔ بعد میں برہان پور کے کوتوال ہو گئے۔ شفیقہ فرحت کی تعلیم ابتدا سے پانچویں کلاس تک ناگپور کے کانونٹ اسکول سینٹ جوزف میں ہوئی، جس کا شمار اس وقت کے سب سے معیاری اسکول میں ہوتا تھا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ ’’پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے فرافر انگلش بولنے لگی تھیں۔‘‘ ۱۹۴۷ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر ناگپور کےc.c.wکالج سے ۱۹۵۱ء میں بی۔اے کیا۔ ان کا ارادہ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کرنے کا تھا، لیکن والد کی مالی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ۱۹۵۴ء میں ناگپور سے ڈپلومہ ان جرنلزم حاصل کیا۔

شفیقہ فرحت نے بی۔ اے کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ ان کی پہلی تخلیق ۱۹۵۱ء میں کالج میگزین میں ڈرامہ نما انشائیہ کی صورت میں شائع ہوئی۔ جرنلزم میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد ناگپور سے نکلنے والے رسالے ’چاند‘ کی معاون مدیر رہیں۔ ۱۹۵۵ء میں والد کی مدد سے اپنا رسالہ ’’کرنیں‘‘ جاری کیا۔ اس کو عام طور سے بچوں کا رسالہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی بہن پروفیسر شمیم علیم کے بقول:

’’بعض لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ یہ صرف بچوں کا رسالہ تھا، اس زمانہ کے تمام مشہور ادیب مثلاً رضیہ سجاد ظہیر، راجہ مہدی علی خان، پرکاش پنڈت، سلام مچھلی شہری (ابن انشاء، نریش کمار شاد) وغیرہ کی تخلیقات اس رسالہ میں شائع ہوئی تھیں، اور ان سب ادیبوں کو ان کی تخلیقات کا معاوضہ دیا جاتا تھا۔۱؎

(یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ چہارم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

’کرنیں‘ کو بہت پسند کیا گیا یہ ہر اعتبار سے اونچے معیار کا رسالہ تھا لیکن مالی اعتبار سے مار کھا گیا لہٰذا مجبوراً اسے بند کرنا پڑا۔ اس کے بند ہونے کے بعد شفیقہ فرحت نے ناگپور یونیورسٹی سے ۱۹۵۷ء میں اردو میں ایم۔اے کیا۔ جسے مکمل کرتے ہی مدھیہ پردیش بھوپال میں پبلک سروس کمیشن کے تحت ان کا سلیکشن ہو گیا، اور مہارانی لکشمی بائی گرلز کالج میں اردو کی لکچرار مقرر ہو گئیں۔ ۱۹۵۷ء میں شفیقہ فرحت بھوپال گئیں اور زندگی کے قیمتی پچاس برس انھوں نے وہیں گزارے۔ دوران ملازمت انھوں نے ناگپور یونیورسٹی سے ۱۹۶۲ء میں فارسی ایم۔ اے کیا، اس کے بعد حمیدیہ کالج بھوپال میں اردو کی لکچرار اور صدر شعبہ اردو ہوئیں۔ کسی زمانے میں اسی کالج میں جاں نثار اختر کی اہلیہ اور مجازؔ کی بہن صفیہ اختر استاد رہ چکی تھیں۔ شفیقہ فرحت نے بھی بہت جلد حمیدیہ کالج میں اپنی ایک خاص شناخت اور مقبولیت حاصل کرلی۔ بھوپال میں قیام اور دورانِ ملازمت انھوں نے ’’نظیراکبرآبادی ایک مطالعہ‘‘ (ہندی میں) کے عنوان سے تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر جیوا جی یونیورسٹی گوالیار نے انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ ۱۹۹۱ء میں ملازمت سے سبک دوش ہوئیں۔

ناگپور کو خیر بعد کہنے کے بعد بھوپال میں ان کی خوب ترقی ہوئی۔ انجمن ترقی اردو مدھیہ پردیش کی جنرل سکریٹری، انجمن ترقی پسند مصنفین مدھیہ پردیش کی نائب صدر اور مدھیہ پردیش کی مجلس عام و مجلس عاملہ کی رکن رہیں۔ بھوپال میں خواتین کی ادبی اور سماجی انجمن ’دھنک‘ کی صدر رہیں۔ ورڈ رائٹرس اسوسی ایشن سے بھی وابستہ تھیں۔ اس کے علاوہ آل انڈیا ویمنس کونسل کی نائب صدر اور تا عمر ممبر رہیں۔

بھوپال کی متوسط طبقے کی مسلمان خواتین کو آگے بڑھانے، ترقی پسندی کو عام کرنے اور روشن خیالی کو تحریک بنانے میں ان کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی دوسری خاتون کو نہ مل سکا۔ اگرچہ نواب سلطان جہاں بیگم نے بیداری اور تعلیم کو عام کرنے کے لیے زبردست کوششیں کیں مگر ایک حکمراں عوامی اور زمینی سطح پر اس طرح مواصلت نہیں کر سکتی تھیں، جس طرح شفیقہ فرحت وابستہ ہوئیں۔ وہ ہر اس تحریک خیال اور عمل کا حصہ بنیں، جو جہالت تاریکی اور نابرابری کے اندھیروں کو دور کر سکے اور ہندوستان کی سا  لمیت کو مضبوطی فراہم کرے۔ (یہ بھی پڑھیں اوراد فتیحہ ——– علمی، فکری و روحانی افادیت -حافظ میر ابراھیم سلفی )

شفیقہ فرحت ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہا کرتی تھیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی مالی حالت بہتر نہ تھی مگر ایسا نہیں تھا، دراصل وہ خود کے کھانے پینے، رہنے سہنے پر پیسہ نہ خرچ کر کے دوسروں کی مدد کر دیا کرتی تھیں۔ مثلاً کسی کو آٹے کی چکی فراہم کر دی، کسی لڑکی کی شادی میں جہیز دلوا دیا کسی صاحب کا گھر جل گیا تو اسے سنوارنے میں لگ گئیں۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ مسلسل فلاحی اور سماجی کاموں میں مشغول رہیں۔ کوثر صدیقی لکھتے ہیں:

’’ادب کے میدان کے باہر بھی انھوں نے قابل ذکر خدمات انجام دیں۔ سماجی خدمات کے میدان میں آپ ہمیشہ نابیناؤں کی مدد اور ان کے فلاحی کاموں میں پیش پیش رہیں۔ آپ مدھیہ پردیش کی نابیناؤں کی انجمن M.P. Blind Associationکی صدر بھی رہیں۔اور آپ نے بھوپال میں ایک بریل لائبریری (نابیناؤں کے طریقۂ نوشت وخواند کے رسم الخط کی لائبریری) بھی قائم کی، جس میں نابیناؤں کو پڑھنے لکھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ‘‘۲؎

شفیقہ فرحت نے عام خواتین قلم کاروں کی روش سے ہٹ کر طنزو مزاح اور ظرافت نگاری کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا۔ اس فن میں وہ اس حد تک کامیاب ہوئیں کہ لوگوں کو اپنی فکر تبدیل کرنی پڑی۔ اس سلسلے میں ہاجرہ مسرور رقم طراز ہیں کہ۔ ’’میں نے فون پر آپ سے کہا تھا کہ طنزومزاح نگاری خواتین کو زیب نہیں دیتی مگر اب آپ کی کتاب پڑھ کر اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں، اور یہ محسوس کرتی ہوں کہ اب بھی آپ کو وہ مقام نہیں ملا جس کی آپ بجا طور پر مستحق ہیں۔‘‘۳؎

اس میں کوئی شق نہیں کہ شفیقہ فرحت ہندوستان کی پہلی مزاح نگار خاتون تھیں۔ ان کی تحریروں میں طنزومزاح کا بہترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ اپنے پہلے مجموعے ’’لو آج ہم بھی‘‘ کے ذریعے ہی انھوں نے اس میدان میں قدم بڑھایا۔ یہ مجموعہ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے زیر اثر ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا۔ اس میں کل ۱۵ مضامین شامل ہیں۔ میری روم میٹ، تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں، ذرا دھوم سے نکلے اور ’حضرت آلو‘ اس کے بہترین نمونے ہیں۔ ’حضرت آلو‘ میں آلو کی مختلف خوبیوں سے قاری کو مزاحیہ انداز میں روبرو کرایا گیا ہے۔ گویا وہ کہتی ہیں کہ آلو خدا کی ایسی نعمت ہے جس تک امیر و غریب، گداو فقیر سب کی رسائی ہے۔ امید کے تمام دروازے بند ہونے کے بعد لوگوں کو بے چارہ آلو ہی یاد آتا ہے۔ اس کے علاوہ شفیقہ فرحت نے آلو کی مختلف خصوصیات کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس مضمون کو انھوں نے لندن کی کسی تقریب میں پڑھا تھا، جسے مشتاق احمد یوسفی نے بہت پسند کیا تھا۔ ’حضرت آلو‘ سے اقتباس ملاحظہ ہو:

’’جب بے موسم کی بارش اور موسم کے اولوں کی طرح مہمان آپ کو ایصال ثواب کا موقع عطا کرتے ہوئے عذاب بن کر نازل ہو جائیں اور فرار کے سارے راستے مسدود اور بازار کی ساری دُکانیں بند ہو جائیں۔ ۔۔ اس وقت یہی آلو اپنی بے رنگی سے آپ کے دسترخوان میں رنگ اور مہمانوں کے دل میں ترنگ بھر دے گا۔‘‘

’’ویسے آلویات کے صحیح اور اصل مراکز ہوٹل اور ہوسٹل ہوا کرتے ہیں۔۔۔ ماہر آلویات اپنی آلو شناسی کے ایسے ایسے نمونے پیش کریں گے کہ ہر کھانے والا بہ رقت ودقت یہ شعر پڑھتا ہوا ڈائیننگ ہال سے نکلے گا۔‘‘

ہال میں پھر آلو نے ایک شور اٹھایاظالم

آہ جو برتن اٹھایا اس میں آلو نکلا

’’ان مقامات آہ و فگاں میں بشرط استواری ہر دن و ہر رات کا مینو آلو ہی ہوتا ہے۔، یعنی آلو پراٹھا۔ آلو پلاؤ۔ آلو چلاؤ۔ آلو گوبھی۔ آلو مٹر۔ آلوٹماٹر۔ آلو بیگن۔ آلو سیم۔ آلو گوشت۔ آلو مچھلی۔ آلو مرغ۔ یا پھر آلو آلو۔ مثلاً آلو دم۔ آلو رائیتہ۔ آلو حلوہ۔ آلو کھیر۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔‘‘۴؎

طنزومزاح اور انشائیہ کے فن سے شفیقہ فرحت خوب واقف ہیں۔ زبان کی سلاست و روانگی کے علاوہ الفاظ کی الٹ پھیر اور اشعار میں حرف کی تبدیلی سے ایسا مزاح پیدا کرتی ہیں کہ قاری ہنسنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل پر بھی ان کی اچھی گرفت ہے۔ انھوں نے جن مسائل کو اپنے طنز کا موضوع بنایا ہے وہ ہماری زندگی سے کافی قریب نظر آتے ہیں۔ ’’میری روم میٹ‘‘ اس کی عمدہ مثال ہے۔ یہ بیانیہ طرز کا مزاحیہ مضمون ہے جس میں روم میٹ کی زبانی کہانی بیان کی گئی ہے۔ روم میٹ اپنی ساتھی سے اس قدر پریشان ہے کہ۔ شب معراج جب لوگ جہنم سے رہائی کے لیے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، وہ اپنی روم میٹ سے نجات کی دعا کررہی ہے۔ روم میٹ ایک ایسی افسانہ نگار ہے جس کا آج تک کوئی افسانہ شائع نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ رسالے سے واپس کر دیا جاتا ہے۔ افسانہ نگار صاحبہ ہیں کہ ان کو ہمہ وقت نئے نئے افسانوں کے پلاٹ وحی کی صورت میں نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اقتباس دیکھیں:

’’ابھی صبح کے صرف آٹھ بجے ہیں۔ میں بستر میں دبکی اپنے ادھورے خواب پورے کرنے کی آس میں آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کر رہی ہوں کہ آواز آتی ہے۔

’’ارے بھئی سننا ذرا۔۔۔ وہ غضب کا پلاٹ سوجھا ہے۔‘‘ پھر وہ اپنا بیچارہ خواب تو گیا جہنم میں، ان کا غضب کا پلاٹ غضب دھانے لگتا ہے۔‘‘

’’رات کے دس بجے ہم نے بڑی کوشش سے اپنے دل و دماغ کو پالٹکس پڑھنے پر مجبور کیا۔ ابھی ایک ہی پیراگراف پڑھا تھا کہ آپ کے دماغ میں پھر پلاٹ کی وحی نازل ہونے لگتی ہے پھر کہاں کی پالٹکس اور کہاں کی اکنومکس۔!‘‘۵؎

’’ذرا دھوم سے نکلے‘‘ ایک ایسا مزاحیہ مضمون ہے جس میں مرزا غالب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آج جب کہ ملک کے ہر شہر میں غالب کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں اور غالب کا جشن منایا جا رہا ہے۔ شفیقہ فرحت نے غالب کو یاد کرنے کے کچھ نئے زاویے تلاش کئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں غالب کے پسندیدہ فعل کو اپنایا جائے تاکہ ان سے محبت کا صحیح معنی میں حق ادا کیا جا سکے۔ اقتباس: (یہ بھی پڑھیں غضنفر کا افسانہ’سرسوتی اسنان‘ کا تجزیاتی مطالعہ – پروفیسر (ڈاکٹر) عبدُ البرکات )

’’فلم مرزا غالب شہر شہر، گلی گلی گھر گھر مفت دکھائی جائے اور ایک سے زیادہ بار دیکھنے والوں کے لیے خاطر خواہ انعام بھی مقرر کیا جائے۔‘‘

’’آم غالب کو بے حد پسند تھے۔ اس لیے آموں کا ایک باغ ’’غالب باغ‘‘ کے نام سے لگوایا جائے اور تخمی آموں کی کسی خاص قسم کا نام بھی ’غالب‘ آم رکھا جائے اور آموں کے موسم میں عقیدت مند باغ میں جائیں جشن آم منائیں۔‘‘۶؎

شفیقہ فرحت کا دوسرا طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ ’’رانگ نمبر‘‘ ۱۹۸۶ء میں نئی آواز، مکتبہ جامعہ نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس پر ماہنامہ ’’نقش کولن‘‘ بمبئی ماہ جون؍ ۱۹۸۷ء میں یوسف ناظم نے تبصرہ کیا ہے تھا۔ شفیقہ فرحت کے انشائیوں کا تیسرا مجموعہ ’’گول مال‘‘ کو بھی مکتبہ جامعہ نئی دہلی نے ’نئی آواز‘ اشاعتی پروگرام کے تحت ۱۹۸۸ء میں شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے تقریباً دس سال بعد انور سدید کا مختصر تبصرہ ’’شگوفہ‘‘ حیدرآباد میں شائع ہوا۔ ان کی دیگر مطبوعہ تصانیف کے نام درج ذیل ہیں۔ ’’رانگ نمبر‘‘ طنزیہ و مزاحیہ مضامین ۱۹۸۶ء، ’’گول مال‘‘ طنزیہ و مزاحیہ کہانیاں ۱۹۸۸ء، ’’چوں چوں بیگم‘‘  طنزیہ و مزاحیہ کہانیاں بچوں کے لیے، ۱۹۸۸ء، ’’تیڑھا قلم‘‘ طنزیہ و مزاحیہ مضامین، ۲۰۰۳ء، ’’نیم چڑھے‘‘ طنزیہ و مزاحیہ مضامین، ۲۰۰۴ء، ’’چہرے جانے انجانے‘‘ شخصیات کے خاکے ۲۰۰۶ء۔

کوثر صدیقی کی اطلاع کے مطابق ان کی غیر مطبوعہ تخلیقات کے نام یہ ہیں۔ ’’بچوں کے نظیر اکبرآبادی‘‘، ’’چہرے جانے انجانے‘‘(حصہ دوم، دھنک کے ہزار رنگ) ’’چہرے جانے انجانے‘‘(حصہ سوم، ان سے ملیے میرے ساتھ)، ’’نئی دیوار چین‘‘ (سفرنامہ)، ’’سات سمندر پار‘‘ (سفرنامہ)، ’’بے اجالا شہر‘‘ (بھوپال گیس المیہ پر ناول) ’’پتھر گلی کی کالی کجلی سیپ‘‘ (نثری نظموں کا مجموعہ)۔۷؎ شفیقہ فرحت کی تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ مشہور مزاح نگار مجتبیٰ حسین کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے:

’’اردو کی واحد خاتون ہیں جنھوں نے طنزومزاح کو بطور صنف سخن اپنایا اور اس کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا برسوں سے لکھ رہی ہیں۔ انھیں سب جانتے پہچانتے ہیں۔ ان کے بارے میں میری رائے کیا اہمیت رکھتی ہے۔‘‘۸؎

یہ حقیقت ہے کہ شفیقہ فرحت نے اردو ادب اور طنزومزاح کی جو آبیاری کی اس کی پزیرائی ملکی پیمانے پر نہیں ہوئی جن کی وہ مستحق تھیں۔ مشاہیر بھوپال پر شائع شدہ تصانیف کے علاوہ باقی اہم ناقدین نے ان کے فن پر گفتگو نہیں کی ہے۔ ڈاکٹر قمر رئیس نے اپنی کتاب ’’اردو ادب میں طنزو مزاح کی روایت اور ہمعصر رجحانات‘‘ میں بھی شفیقہ فرحت کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔ اس تصنیف میں نہ شفیقہ فرحت کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کے فن یا تصانیف پر کوئی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب ۱۹۸۶ء میں شائع ہوئی جبکہ شفیقہ فرحت کی پہلی تصنیف ’’لو آج ہم بھی‘‘ ۱۹۸۱ء میں منظرعام پر آچکی تھی، اور شفیقہ فرحت ۱۹۵۱ء سے مسلسل اردو کے پرچوں اور ادبی رسالوں میں لکھ رہی تھیں۔ نامی انصاری کی تصنیف ’’آزادی کے بعد اردو نثر میں طنزومزاح‘‘ (۱۹۹۷ء) میں بھی ان پر کوئی خامہ فرسائی نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ اس زمانے تک شفیقہ فرحت کی چار تصانیف شائع ہو چکی تھیں۔ ڈاکٹر ثروت خان نے ’’اردو ادب میں طنزومزاح کی روایت‘‘ کے موضوع پر منعقد سمینار میں ’’اردو کے تانیثی ادب میں طنزومزاح کے عناصر‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اس میں وہ لکھتی ہیں:

’’اردو زبان و ادب کے میدان میں جہاں ایک طرف فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، سجاد حیدر یلدرم سے لیکر مشتاق احمد یوسفی اور مجتبیٰ حسین تک متعدد طنزومزاحیہ نگار ہوئے، تانیثی ادب میں ایسے شاہکار ڈھونڈے نہیں ملتے۔‘‘۹؎

جب کہ آگے اسی مضمون میں انھوں نے شفیقہ فرحت کے تینوں مجموعے ’’لو آج ہم بھی، رانگ نمبر اور گول مال کے منظر عام پر آنے کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر ثروت خان اگر شفیقہ فرحت کی تصانیف اور ان کے مضامین کا گہرائی سے مطالعہ کرتیں تو ان کی تحریری صلاحیتوں کا اعتراف ضرور کرتیں، اور وہ خواتین کے لیے ’’ڈھونڈھے نہیں ملتے‘‘ کا لفظ شاید استعمال نہ کرتیں۔

مردوں کی بنائی اس دنیا میں جہاں شادی کے بغیر عورت کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ شفیقہ فرحت نے پوری زندگی تنہا بسر کی، اور دکھلایا کہ عورت تنہا بھی زندگی گزار سکتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے لیے رشتوں کی کمی تھی۔ پنجاب کے ایک مشہور شاعر اس امید میں بھوپال معہ بوریے بستر کے آگئے کہ شاید نظر کرم ہو جائے، لیکن شفیقہ فرحت شادی کے بندھن میں قید ہوکر کسی کے تابع زندگی گزارنے کے لیے خود کو تیار نہ کر سکیں۔ اقبال مسعود ان کی شادی سے متعلق واقعے کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:

’’پاکستان کے شہرہ آفاق محقق مشفق خواجہ جب بھوپال تشریف لائے تو انھوں نے شفیقہ فرحت سے ایک انٹرویو لیا تھا۔۔۔  جب مشفق خواجہ نے شادی کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ اب کیا ارادہ ہے اور اس وقت وہ پچاسویں موسم بہار سے گزر رہی تھیں تو انھوں نے تپاک سے کہا کہ  ؎

میں محبت کی نگاہوں کو سمجھ سکتی ہوں

میرے معیار کے قابل کوئی پیغام تو دے

اور اگر آج کوئی مل جائے تو سبحان اللہ۔ ان کا جواب جو ہنسی کے پس پردہ ایک آنسو کی طرح چمک رہا تھا زندگی بھر ان کی آنکھوں کو نمناک کرتا رہا۔‘‘۱۰؎

شفیقہ فرحت کو سیروتفریح اور ملک و بیرون ملک کی سیاحت کرنا بہت پسند تھا۔ ہندوستان کے تمام مضافات کے علاوہ کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں انھوں نے شرکت کی۔ یوروپ، امریکہ، چین، جاپان اور پاکستان کے علاوہ انھوں نے متعدد ملکوں کا سفر کیا۔ ان میں سے کچھ ملکوں کے سفر نامے انھوں نے تحریر کیے ہیں ان ہی میں سے ’’سفرنامۂ چین‘‘ بھی ہے۔ بقول پروفیسر عذرا جمال۔ ’’یہ سفرنامہ ڈائری کے انداز میں ہے۔ چین کا یہ سفر International Women Confreranceمیں خواتین کی ادبی و ثقافتی انجمن ’’دھنک‘‘ کی نمائندگی کے طور پر کیا گیا تھا۔‘‘۱۱؎

ان کی آخری تخلیق ’چہرے جانے انجانے‘ کی رسم رونمائی سابق صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر عبدالکلا م کے ہاتھوں ہوئی۔ رسم اجرا سے چند روز قبل وہ فریکچر سے دوچار ہو گئیں، تب بھی ہمت نہیں ہاری اور ایمبولنس میں اسٹریچر پر راج بھون پہنچ گئیں، اس طرح راج بھون میں ڈاکٹر عبدالکلام نے ان کی کتاب کے رسم رونمائی کو انجام دیا، اس تقریب کی تصویر اخباروں میں شائع ہوئیں۔

شفیقہ فرحت نے ۷۷ برس کی زندگی پائی۔ ان کی بہن لکھتی ہیں۔ ’’۲۰۰۰ء تک آپا بالکل صحت مند تھیں لیکن اس کے بعد سے ان کی صحت خراب رہنے لگی اور وہ بھی ان کی اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے، نہ کبھی ڈاکٹر سے رجوع ہوئیں اور نہ کبھی کوئی دواپیتیں۔‘‘۱۲؎  ۶؍ نومبر ۲۰۰۷ء کو وہ گھر میں گر گئیں اور ان کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ کبھی صحت یاب نہ ہوسکیں، بالآخر ۶؍ جنوری ۲۰۰۸ء کو بھوپال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ شفیقہ فرحت کی ادبی خدمات کے صلے میں اب تک جو تحریریں منظرعام پر آئی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

’’بچوں کی شفیقہ فرحت ‘‘ پروفیسر انیس سلطانہ؛ مکتبہ پیام تعلیم جامعہ نگر دہلی ۱۹۹۶۔

’’شفیقہ فرحت‘‘ مشمولہ : اردو نثر کے طنزیہ و مزاحیہ ادب میں بھوپال کا حصہ، رشیدہ بیگم، ۲۰۰۲۔

’’شفیقہ فرحت فن اور شخصیت‘‘ نجیب رامش، مشمولہ؛ ’’نیم چڑھے‘‘ ۲۰۰۴۔

ماہنامہ ’شاعر‘ ممبئی، گوشہ شفیقہ فرحت؛ اکتوبر ۲۰۰۵۔

’’ہندوستان کی پہلی ظرافت نگار خاتون: شفیقہ فرحت‘‘ ہماری زبان، انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی، یکم تا ۷ مارچ ۲۰۰۸۔

ماہنامہ ’شگوفہ‘ حیدرآباد، بیاد شفیقہ فرحت؛اکتوبر ۲۰۰۸۔

’’وہ ایک خوشبو جو کھو گئی ہے‘‘(خاکہ) ا قبال مسعود، سہ ماہی رسالہ’ نئی کتاب‘ جنوری تا مارچ ۲۰۱۱۔

’’آہ ڈاکٹر شفیقہ فرحت صاحبہ‘‘ مشمولہ؛ کیا لوگ تھے، رام پرکاش کپور، ۲۰۱۲۔

’’ڈاکٹر شفیقہ فرحت‘‘ مشمولہ؛ تذکرہ شخصیات بھوپال، شگفتہ فرحت،۲۰۱۴۔

شفیقہ فرحت فن اور شخصیت، مقالہ برائے ایم۔اے، مہرالنساء عارف دیوی اہلیا یونیورسٹی اندور۔

حوالہ:

۱۔شمیم علیم، ماہنامہ شگوفہ، اکتوبر ۲۰۰۸، ص:۲۱

۲۔ ہماری زبان یکم تا ۷مارچ، ۲۰۰۸، ص:۸

۳۔ بحوالہ تیڑھا قلم، ص:۴

۴۔ حضرت آلو، مشمولہ ’لو آج ہم بھی‘

۵۔ میری روم میٹ، مشمولہ ’لو آج ہم بھی‘

۶۔ زرا دھوم سے نکلے، مشمولہ ’لو آج ہم بھی‘

۷۔ کوثر صدیقی، ہماری زبان یکم تا ۷مارچ ۲۰۰۸، ص:۷

۸۔ بحوالہ تیڑھا قلم، ص:۴

۹۔ ثروت خان، اردو ادب میں طنزومزاح کی روایت، ص:۳۵۸،۳۵۱

۱۰۔ اقبال مسعود، نئی کتاب جنوری تا مارچ ۲۰۱۱، ص:۱۷۷

۱۱۔ عذرا جمال، ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۲۰۰۸، ص: ۲۹

۱۲۔ شمیم علیم، ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۲۰۰۸،ص:۲۳

 

 

ظفرالاسلام

ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

ای۔میلzafar.ghosi@gmail.com

موبائل9336239933

شفیقہ فرحت
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اوراد فتحیہ ——– علمی، فکری و روحانی افادیت -حافظ میر ابراھیم سلفی 
اگلی پوسٹ
عصمت کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل – ڈاکٹر شہناز رحمٰن

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

2 comments

Jarrar Ahmad جون 24, 2021 - 8:56 شام

ظفر الاسلام صاحب مبارکباد قبول کریں
بہت ہی محنت و لگن اور عرق ریزی کے ساتھ ایک مدلل ، جامع اور بسیط مضمون آپ نے لکھا ہے، پڑھ کر معلومات میں اضافی ہوا اور دلی خوشی ہوئی۔
اللہ آپ کے قلم میں اور زور دے ۔ آمین

Reply
پرویز مظفر اگست 26, 2023 - 12:33 صبح

ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت اچّھا مضمون اچھا خراج عقیدت محترمہ کے ہمارے گھر سے بھی اچھے تعلقات تھے ایک بار کولکتہ کا سفر کیا تھا اور قیام ہمارے گھر پر ہی تھا –
ائک دفعہ ہمارے والد محترم مظفّر حنفی صاحب کو اور کچھ دوسرے دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا اور جب یہ لوگ اُن کے دولت کدے پر پہنچے تو معلوم ہوا محترمہ بھول ہی گیں تھیں کہ دوستوں کو کھانے پر بلایا ہے – اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے آمین

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں