Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

شمیم حنفی: نقشِ تہذیبِ معانی – پروفیسرکوثر مظہری

by adbimiras ستمبر 21, 2021
by adbimiras ستمبر 21, 2021 1 comment

(1)

1984 میں علم نباتات (Botany) میں B.Sc کرنے کے بعد، بلکہ بہت دنوں بعد مَیں اردو کی طرف آیا۔ کچھ دنوں طرح طرح کے مسابقاتی امتحانات دیتا رہا۔ پھر کسی جھونک میں اردو آنرز کرکے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کرلیا۔ ایم اے کے دوران ہی یوجی سی فیلوشپ کا اکزام پاس کیا۔ ریزلٹ آنے کے بعد Ph.D کا ارادہ ہوا تو میں نے سیدھا من بنا لیا کہ اب دہلی کا رخ کیا جائے۔ پٹنہ میں کچھ احباب سے مشورے ہوئے۔ بیشتر نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو پروفیسر شمیم حنفی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیجیے۔ خود میرے لیے بھی شمیم صاحب کا نام سرفہرست تھا لیکن سوال یہ ہے کہ دہلی میں کون میری مدد کرتا۔ میں ماہر اقبالیات اور بہار میں اردو تحریک کے سرگرم رکن پروفیسر عبدالمغنی کے پاس گیا۔ ان دنوں وہ یونیورسٹی کیمپس میں ہی تھے۔ ڈرتے ڈرتے بالکل تنہا ان کے پاس گیا تاکہ ایک سفارشی خط شمیم صاحب کے نام لکھوا سکوں۔پہلے تو انھوں نے قدرے توقف کیا پھر قلم اور لیٹرپیڈ سنبھال لیا۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی، خط لے کر دہلی آگیا۔ یہاں پروفیسر انورپاشا جے این یو میں پڑھانے لگے تھے۔ وہی مجھے شمیم حنفی صاحب کے گھر ذاکر باغ لے کر گئے اور میں نے انھیں خط دیا۔ پی ایچ ڈی کا موضوع بھی زیربحث رہا۔ دو دنوں کے بعد میٹنگ ہونے والی تھی۔ صبح صبح میں پھر ان کے گھر چلا گیا۔ وہ شعبہ اردو آنے کی تیاری میں تھے۔ وہاں سے میں ان کے ساتھ ہی شعبے تک آیا۔ انھوں نے راستے میں سوال کیا کہ اگر مان لو تمھارا رجسٹریشن میرے ساتھ نہیںہوتا ہے تو دوسرا آپشن کیا ہے؟ میرے منہ سے برجستہ نکل گیا— ’’سر یہاں کے لیے میں کوئی آپشن لے کر آیا ہی نہیں ہوں، پھر تو میں بہار لوٹ جاؤں گا۔‘‘ شعبے میں انٹرویو ہوا۔ اس وقت قرۃ العین حیدر بھی وزیٹنگ پروفیسر تھیں۔ لہٰذا، وہ بھی اس داخلے کے انٹرویو میں شریک تھیں اور انھوں نے بھی سوال کیا تھا۔ شمیم صاحب کی شفافیت کا یہ عالم کہ انھوں نے اس بورڈ کے سامنے عبدالمغنی صاحب کا مذکورہ بالا سفارشی خط رکھ دیا اور کہا کہ یہ میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ بغیر کسی حوالے کے بھی یہ بات کہتے تو کوئی بھی منع نہیں کرتا، لیکن انھوں نے سب کے سامنے خط رکھ کر معاملے کو بالکل واضح کردیا۔ میرا داخلہ ہوگیا، میں بہت خوش۔

اسی کے آس پاس (1993) میری شادی بھی ہوگئی تھی۔ لکھنے پڑھنے کے دوسرے کام ہوتے رہے۔ مضامین چھپتے رہے، شاعری چھپتی رہی، لیکن پی ایچ ڈی کا کام نہیںہوپارہا تھا۔ ایک سال کے بعد میں ایک مرتبہ شمیم صاحب سے ملنے ان کے گھر گیا، تھوڑی دیر کے بعد انھوں نے کہا — ’’پی ایچ ڈی کرنا آپ کے بس کا نہیں۔‘‘ میں نے کہا— ’میں کرلوں گا‘ پھر انھوں نے کہا— ’’سوال ہی نہیں، مجھ سے غلطی ہوئی۔ عبدالمغنی صاحب کی سفارش تھی، اس لیے میں نے آپ کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔ دیکھیے آئندہ یہاں تشریف لانے کی زحمت نہ کیجیے۔‘‘ مجھ پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑگیا۔ سر جھکائے تھوڑی دیر بیٹھا رہا، پھر اٹھ کر سلام کرتا ہوا واپس آگیا۔ لائبریری میں بیٹھ کر ایک ہفتے میں ایک باب لکھا اور جاکر انھیں دے دیا۔ دوسرے ہفتے دوسرا باب لکھا اور لے جاکر ان کے حوالے کردیا۔ اب میں وہاں بیٹھتا نہیں تھا۔ دروازے پر ہی Chapter دے کر آجاتا تھا۔ اس بار انھوں نے روک لیا۔ دونوں ابواب 40,40 صفحات کے تھے۔ آگے کے ابواب او ربھی طویل ہونے والے تھے۔ انھوں نے کہا— دونوں Chapters اپنے پاس ہی رکھو، بعد میں دیکھ لوں گا۔ پھر چار پانچ برسوں تک کچھ نہ پوچھا۔ بلکہ رسالہ جامعہ کے جب وہ مدیر ہوئے تو مجھ سے مضمون لکھواتے اور اس میںشامل کرتے۔ اسی زمانے میں 1994 کا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ مظہرامام کو ملا تھا۔ انھوں نے ایک دن کہا کہ تین چار دنوں میں رسالہ پریس جانے والا ہے، اگر ایک چھوٹی سی تحریر مظہرامام پر دے سکو تو دے دو، اسی شمارے میں چلا جائے۔ اسی رات چھ سات صفحے کا مضمون لکھا اور دفتر میں جاکردے دیا، انھوں نے پسندکیا اور رسالہ جامعہ میں چھپا۔ میں نے ان کے اس نوع کے کام کو چیلنج کے طو رپر قبول کیا۔ شبلی پر بھی لکھوایا۔ گاندھی جی پر خصوصی شمارہ نکالا تو میں نے گاندھی جی کی خود نوشت تلاش ِ حق (ترجمہ: سید عابد حسین (My experiments with truth) پر مضمون لکھا، مولانا آزاد پر رسالہ جامعہ کا خصوصی شمارہ (دو جلدوں پر مشتمل) شائع ہوا تواس کے لیے بھی مجھ سے مضمون طلب کیا۔ میں نے مولانا آزاد کی تصنیف ’تذکرہ ‘ پر ایک مضمون لکھ کر دیا۔ اندازہ ہوا کہ انھوں نے پہلے تو مجھے امتحان میں ڈالا اور پھر تربیت کی راہ پر ڈال دیا۔ غالباً انھیں بھی میرے حوالے سے کچھ اطمینان سا ہوگیا۔ اب مجھے اندازہ ہونے لگا تھا کہ شمیم صاحب نے اپنے گھر پر مجھے کیوں ڈانٹا تھا۔ استاد کی ڈانٹ یا والدین کی ڈانٹ کبھی بھی طلبہ اور بچوں کے لیے منفی نہیں، مثبت ہوتی ہے۔ جس نے اس ڈانٹ کو ہنس کر مثبت انداز میں قبول کرلیا، اس کی کشتیٔ حیات کبھی نہ کبھی ساحل سے ضرور لگ گئی ہے۔ شمیم صاحب بہت سخت گیر تھے بھی نہیں، نہایت ہی ضبط اور تحمل کے آدمی تھے لیکن جہاں ناگزیر ہوتا اپنی خفگی کا اظہار نہایت ہی شائستہ لہجے میں کرتے بھی تھے۔ یوں بھی، انسان میں اس صفت کا ہونا لازمی ہے۔ صرف محبت اور خاموشی، ضبط اور تحمل کو دینا بزدلی اور کمزوری تصور کرنے لگتی ہے۔ مجھے تو شمیم صاحب کے طرز زندگی میں غالب کے اس مصرعے کا رنگ نظر آتا تھا:

اسدؔ بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

(2)

فنا ہوئے تو کچھ ایسے کہ جیسے تھے ہی نہیں

ہمارے بعد ہمارے نشاں ملے ہی نہیں

پروفیسر شمیم حنفی، استاذی و مربی کا مذکورہ بالا شعر ان کے شعری مجموعے ’آخری لہر کی دستک‘ کی آخری غزل (تین اشعار پر مشتمل) کا مطلع ہے۔ لگا تو یہی تھا کہ اچانک ایک چھتنار درخت جڑ سے کھڑ گیا ہے اور دھوپ کی تمازت یکبارگی فزوں ہوگئی ہے۔ کبھی کبھی فنکار یا تخلیق کار اپنے وجود کو Reject کرتا ہے۔ یہ دنیا فانی ہے اور اس فنا پذیری کو مختلف فنون لطیفہ سے وابستہ فنکاروں نے اپنی اپنی طرح بیان کیا ہے لیکن شمیم حنفی نے جس فنا پذیر وقوعے کو دام تخلیق میں قید کیا ہے، اسے دیکھ اور سن کر سکتہ سا طاری ہوجاتا ہے۔ دنیا میں جب تک انسان ہوتا ہے، اس کے آس پاس نفوس کا ایک ہالہ سا بنا رہتا ہے لیکن فنا ہونے کے بعد امتداد زمانہ کے بعد یہ نفوس پرچھائیوں میں بدل جاتے ہیں اور پھر حیطۂ غیاب میں چلے جاتے ہیں لیکن، نہیں اس حقیقت کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ادیب اور تخلیق کار کی موت نہیںہوتی۔ اس کی سیاہ تحریروں کے اجالے انسانی معاشرے کی تاریکیوں کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ شمیم صاحب نے بہت سے آثار و نشانات چھوڑے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جن متنوع تہذیبوں کا انجذاب ہوا ہے، وہ لائق توجہ ہیں۔ شمیم صاحب نے ہندوستانی تہذیبوں سے عطر کشید کیا ہے۔ اسی عطر کی خوشبو اور اسی تہذیب کی روشنی ان کی تحریروں میں جا بہ جا جگنوؤں کی طرح چمکتی ہے۔ تاریکی، شام، اندھیرا، تیرگی، روشنی، دُھند، مشعل، چادر شب، دھوپ، شفق، چاند، سورج یہ سب عوامل شمیم حنفی کی تخلیقی تہذیب کے حوالے ہیں۔ شمیم حنفی کا سراغ انہی سے لگتا ہے:

اے خدا اس مشعل گم گشتہ کو محفوظ رکھ

روشنی اس کی مرے نام و نشاں تک جائے گی

بس ایک بجھتی ہوئی روشنی کی دستک پر

دلوں سے قافلۂ تیرگی روانہ ہوا

اندھیرے دوڑ کے آئے پناہ کی خاطر

ہمارے گھر کا دریچہ اگر کھلا دیکھا

شمیم حنفی نے کائنات کی دبیز پرتوں کو Penetrate بھی کیا ہے۔ اپنی تیز تخلیقی آنچ سے منجمد استعاروں اور تلمیحوں کو پگھلایا بھی ہے۔ کہیں کہیں غزلوں میں دینی جمالیات (Religious Aesthetics) کا پر تو بھی دکھائی دیتا ہے۔ پھر یہ کہ جمود اور تعطل کو ہر لمحہ تحرک میں بدلتے ہوئے آگے بڑھ جانا، یہ صفت ہے شمیم صاحب کی۔ یہ اشعار دیکھیے:

اے مطلعِ ملال ہمارے لیے بھی کچھ

تاروں بھری یہ رات خزانہ اسی کا ہے

روشن ہے ابھی روح میں اک اسم محمدؐ

کیا کیا نہ کیے ہوش نے انکار عزیزو

زمیں سے آسماں تک اپنے ہونے کا تماشا ہے

یہ سارے سلسلے اک لمحۂ فانی میں رہتے ہیں

شمیم حنفی صاحب نے اپنے مجموعۂ کلام ’آخری پہر کی دستک‘ کے ’اختتامیہ‘ میں لکھا تھا:

’’شاعری کی قدریں ہمیں کبھی کبھی موت کے تجربے کی ناگزیریت کے خیال میں رہائی اور نجات کا راستہ دکھا دیتی ہیں، بس! اس سے زیادہ کچھ اور نہیں۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں آخری پہر کی دستک :شمیم حنفی -ثاقب فریدی )

…لیکن موت کے تجربے کی ناگزیریت سے یا اس کے خیال سے اگر شاعری نجات اور رہائی کا راستہ دکھا سکتی ہے، تو اسے ایک بڑا اور عظیم کارنامہ سمجھنا چاہیے۔ ایسے میں تخلیق اور تخلیق کار دونوں کا سراونچا ہوجاتا ہے۔

شمیم حنفی کی شاعری میں ایک طرح کی حزنیہ لَے ملتی ہے۔ زندگی کے احوال و اشکال کو پیش کرتے ہوئے جشن و طرب کے بجائے حزن و ملال کی کارفرمائی ملتی ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے اور شمیم حنفی کی حزنیہ لَے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیجیے:

ایک دن مسمار ہوجائیں گی آوازیں تمام

ایک دن ہر بات احساس زیاں تک جائے گی

سمیٹ لے گیا ساتھ اپنے رونقیں ساری

دکھائی دیتا ہے خالی بہت خزانۂ شب

لبھاتی تھی مرے دل کو بہت افسردگی تیری

تری افسردگی بھی میرے پیکر میں چلی آئی

گھر میں بیٹھوں تو در و دیوار بیگانے لگیں

اور باہر جاؤں تو لگتی ہے دنیا اجنبی

ایک آواز سی آتی ہے عجب کانوں میں

شہر اب دیر تک آباد نہیں رہ سکتے

شاعری کے حوالے سے شمیم حنفی زیادہ سنجیدہ نہیں تھے۔ یعنی، انھوں نے اپنے لیے ادبی پناہ گاہ ادبی تنقید کو بنا لیا تھا۔ حالاں کہ ان کی شاعری میں سنجیدگی اور متانت کی بے پناہ وسعتیں ہیں۔ تخلیقی نگارشات میں انھوں نے ڈرامانگاری کو بھی فروغ دیا۔ ڈراموں کے  چار مجموعے منظرعام پر آئے۔ مٹی کا بلاوا، مجھے گھر یاد آتا ہے، زندگی کی طرف، بازار میں نیند، آخری مجموعے ’بازار میں نیند‘ کے علاوہ اوپر کے تینوں مجموعوں کے نام ہی سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے تخلیقی مزاج میں اپنی جڑوں کی طرف مراجعت کا راستہ ہے۔ اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنے گھر اور دیسی کلچر یا پھر رشتوں کی بُنت یا ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی ان کے ڈراموں کی شناخت ہے۔

شہری زندگی اور گاؤں کی زندگی میں تصادم یا پھر نئی نسل او رپرانی نسل کی سوچ کا تصادم ان کے ڈرامے ’مٹی کا بلاوا‘ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک طرف ترقی ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنی جڑوں سے کٹ کر لوگ شہروں کی طرف ہجرت کرنے لگتے ہیں جب کہ ایک نسل اپنی جڑوں سے وابستہ رہنا چاہتی ہے۔ شمیم صاحب کا ماننا ہے کہ جب تک کوئی لمحہ، واقعہ،واردات یا لفظ، میراتجربہ نہ بنے مجھ پر اس کے معنی نہیں کھلتے۔ مکالمہ سنیے:

جاوید:   آپ ہی سوچیے اس ویرانے میں آپ کیا کریں گے؟ پھر یہاں جما جمایا گھر اجڑ جائے گا۔

میر صاحب: (اداسی سے) اور وہ جو جما جمایا تھا اس کے اجڑنے کا تمھیں کوئی غم نہیں؟ تمھیں پتہ نہیں بیٹے کہ جب کوئی پرندہ ڈار سے بچھڑ جاتا ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔ شام کے دھندلکے میں کسی پرندے کو ہراساں اور سرگرداں نہیں دیکھا تم نے!

جاوید:   ابّی!

میر صاحب: (اسی رو میں) اور اب میری زندگی کی بھی شام ہے۔ نئی جگہ کیسی ہی آرام دہ دل کیوں نہ ہو نیند مشکل سے آتی ہے۔ نورپور ویرانہ سہی لیکن وہاں رفاقت اور اپنائیت کی وہ مہک ہواؤں میں رچی ہوئی ہے جو سانس کے ساتھ دلوں کو فرحت پہنچاتی ہے۔ تمھیں کیا پتہ بیٹے کہ اس ویرانے میںآج بھی یادو ںکے کتنے شہر آباد ہیں!

اوپر کے مکالموں میں اپنی تہذیبی جڑوں کو شمیم حنفی نے پیش کیا ہے۔ ڈراما ’مٹی کا بلاوا‘ پڑھتے ہوئے کہیں کہیں قاری یا اسے سنتے ہوئے سامع آبدیدہ ہوجاتا ہے۔ ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا جو دنیا کی صناعی اور وقتی چمک دمک کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔  شمیم حنفی نے اپنے ڈراموں کے دوسرے مجموعے ’مجھے گھر یاد آتا ہے‘ کے پیش لفظ میں لکھا ہے:

’’وہ چہرے جو کھوگئے، موسم جو گزر گئے، مکان جو ملبوں میں چھپ گئے اور بستیاں جو اجڑ گئیں ان کا تماشا ہر پل ساتھ ہے۔ ان کے ساتھ بہت سے رشتوں، قدروں، مفروضوں اور ایقانات کے بچھڑنے کا تجربہ بھی ہوا اور وہ کچھ، جو ان کی جگہ آج سامنے ہے،  محرومیوں کے احساس کو دور نہ کرسکا۔‘‘

یہ اقتباس پڑھ کر کوئی بھی شخص شمیم صاحب کے ادبی مزاج اور وظیفے کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ جو ادیب مکان کے ملبوں اور بستیوں کے اجڑنے کو اور رشتوں اور قدروں کے بچھڑنے کو اپنے لیے حرز جاں بنا لے، اس کے ادبی تقدس پر کسی طرح کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص انفرادی شعور اور اجتماعی زندگی کی کشمکش کو قرطاس ابیض پر مصور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو انسانی اور سماجی تاریخ و تہذیب کو اپنا تخلیقی تجربہ بنانے پر قدرت رکھتا ہو، جو ’رات، شہر اور زندگی‘ کی تثلیث قائم کرنے کی جسارت رکھتا ہو،جو شخص ’زندگی کی طرف‘ مراجعت کے لیے ’خیال کی مسافت‘ طے کرتا ہو، جو ادیب و نقاد جدیدیت کی فلسفیانہ اساس اور نئی شعری روایت کی تفہیم و تعبیر کے لیے ہم نفسوں کی بزم میں یا ہم سفروں کے درمیان قاری سے مکالمہ کرتا ہو یا پھر ادب کی مختلف النوع اصناف اور عظیم فنکاروں میں غالب، اقبال، منٹو اور کہانی کے پانچ رنگ کے اَن مٹ نقوش بناتا ہو، اس کی ادبی شناخت اور عظمت کا کیا کہنا!

شمیم حنفی نے اردو تنقید کو بہت کچھ دیا۔ اپنی فلسفیانہ اساس والی کتاب اور نئی شعری روایت سے نئی اردو شاعری کی تعبیر و تفہیم کے لیے نئی راہیں پیدا کیں۔ مغربی اصطلاحوں کو اردو میں پہلی بار شمیم حنفی نے ہی متعارف کرایا، یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کبھی اس بات کا سہرا اپنے سر نہیں باندھا نہ بندھوایا۔ ہمیشہ ان کے اندر ایک طرح کا علمی انکسار دیکھنے کو ملتا تھا۔ ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ پر اردو فکشن کے مشہور، بے محابا اور نہایت ہی باکمال نقاد جناب وارث علوی نے جس طرح سے شد و مد کے ساتھ تبصرہ کیا تھا، ایسا لگا تھا کہ اب  اردو کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ کا ذکر تک نہیں کرے گا۔ لیکن یہ کتاب شائع ہوتی رہی۔ پاکستان سے بھی شائع ہوئی۔ بعد کے بہت سے نقادوں نے کتابِ ہذٰا سے اکتساب فیض بھی کیا۔ روشنی بھی حاصل کی اور کبھی کبھی بغیر حوالے کے کچھ اصطلاحات اور نئی شاعری کی تفہیم کے نسخے شمیم صاحب سے مستعار بھی لیے۔ چلیے اس میں کچھ عیب بھی نہیں کہ ادب کا ارتقا بھی اسی طرح چراغ سے چراغ جلنے سے ہی ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ آج اگر کسی کے مضمون یا کتاب پر ذرا بھی منفی بلکہ غیر جانبدارانہ تبصرہ کردیا جائے تو صاحب مضمون یا صاحب کتاب مدت مدید تک ناراض رہ سکتاہے۔ میں نے بھی جب فلسفیانہ اساس پر وارث علوی کا مضمون پڑھا تو مجھے اچھا نہیںلگا۔ میں نے سوچا کہ شمیم صاحب تو اس مضمون سے اور بھی ناراض ہوئے ہوں گے۔ ان دونوںمیں بات چیت بند ہوگئی ہوگی۔ میں نے شمیم صاحب سے کبھی ذکربھی نہیں کیا۔ ایک روز میں شمیم صاحب کے گھر پر (ذاکر باغ) بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھنٹی بجی۔ شمیم صاحب نے خود ہی دروازہ کھولا۔ دیکھا کہ وارث علوی صاحب کھڑے ہیں۔ اندر آئے اور صوفے پر اپنی پوری تکان لیے بیٹھ گئے۔ دم پھول رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ سیڑھیاں چڑھ کر چوتھی منزل تک آنا اور وہ بھی ستر سال (اُس وقت) کی عمر میں، کوئی آسان نہیں تھا۔ شمیم صاحب نے کہا: آپ نے اتنی زحمت کیو ںکی، میں آجاتا ملنے۔‘‘ وارث صاحب نے کہا ’’نہیں ایسا بھی کیا اور زحمت کیسی۔ تمھارا خیال آیا سوچا چل کے مل لیتا ہوں، سو آگیا۔‘‘ خیر چائے ناشتہ کرکے چلنے سے پہلے وارث صاحب نے سامنے ایک طشتری میں رکھے ہوئے بادام اٹھائے اور کہا— شمیم اگر تم اجازت دو  تو یہ اپنی جیب میں رکھ لوں؟ راستے میں کھاتا رہوں گا۔‘‘ شمیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا— آپ بالکل رکھ لیجیے، آپ کا گھر ہے، اس میں تکلف کی کیا بات ہے؟— میں ہکّا بکّا  دیکھ رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ اسی شخص نے شمیم صاحب کی کتاب پر ایسا جارحانہ مضمون لکھاہے او رپھر آج یہ بے تکلف دوستی کا منظر؟ سچ ہے کہ بڑے لوگ بڑے ہی ہوتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ادب میں انسان دوستی کا تصور – پروفیسر شمیم حنفی )

خیر، اس نوع کی اور بھی باتیں ہوں گی جو دوسروں کے تجربے میں آئی ہوں گی۔ جہاں تک شمیم حنفی کی تنقید کا سوال ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انھوں نے ادب کی تعبیرات کے لیے مغربی نظریات کا سہارا کم لیا ہے۔ حالاں کہ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس کو دیکھ کریہ بات کہی جاتی ہے کہ انھوں نے مغرب کے نظریات پر کام کیا ہے، لیکن اس پوسٹ ڈاکٹریٹ کے مقالے سے قطع نظر ان کے Applied Criticism کی بات کریں تو  ایک طرح کا بُعد بھی نظر آتا ہے۔ انھوں نے ادب کی ہم عصریت (Contemporariness) کو اہمیت دی ہے۔ ان کے بقول: لیکن جدیدیت ہر اس تجربے کو اور ہر اس مظہر کو نئے انسان سے منسلک سمجھتی ہے جو اس کی شخصیت اور مسائل کے کسی پہلو ربط رکھتا ہے، خواہ تاریخی، سماجی اور عقلی اعتبار سے وہ کتنا ہی مجہول اور فرسودہ کیوں نہ سمجھا جائے۔‘‘ (نئی شعری روایت، 2005، ص 16,17)

ادبی تجربہ کا رشتہ نئے انسان کی شخصیت یا اس کے مسئلے سے ہونا لازمی ہے۔ یہاں اس بات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ تاریخی،سماجی اور عقلی اعتبار سے اس کی مجہولیت اور فرسودگی بے معنی ہوجاتی ہے۔ شمیم صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ جدیدیت کا منظرنامہ اتنا وسیع و بسیط ہے کہ متضاد عقائد و افکار اور ذہنی و جذباتی رویو ںکے لیے بھی اس میں یکساں گنجائش نکل سکتی ہے اور فنی سطح پر نئی شعری جمالیات کی جہتیں اتنی کثیر ہیں کہ اظہار و بیان کی مختلف النوع ہیئتوں کو بیک وقت اس سے مربوط کیا جاسکتا ہے۔ شمیم صاحب نے نئی شعری جمالیات کی جہتوں کا ذکر کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اظہار و بیان کی مختلف النوع ہیئتوں نے جدیدیت کے بہت سے ذہنوں کو گمراہ بھی کیا۔ کچھ شعرا غیرضروری لسانی توڑ پھوڑاور جدید لسانی تشکیلات کے چکر میں فیشن پرستی کے شکار بھی ہوئے،میں یہاں لفظیات یا شاعری میں غیرضروری صنعت گری یا مضمون کی سطح پر فیشن پرستی کے حوالے سے مثالیں پیش نہیں کروں گا کیوں کہ مضمون جدیدیت پر نہیں بلکہ شمیم حنفی صاحب پر ہے۔ انھوں نے جدیدیت کے مالہٗ وماعلیہ (Pros & Cons) کو جس انداز میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے، وہ زیربحث ہے۔ انھوں نے یہ بتایا ہے کہ 19ویں صدی والی جدید شاعری (آزاد اور حالی والی) اور 20ویں صدی والی ترقی پسندی کے واضح مقاصد اور نصب العین تھے لیکن جدیدیت کے پاس کوئی واضح دستورالعمل نہیں ہے کہ جس سے وابستہ ہوکر نئی شاعری کا مکمل جواز پیدا ہوسکے۔ بات بھی سچ ہے کہ جدیدیت میں بہت کچھ طے نہیں تھا، لیکن کچھ نہ کچھ نیا ضرور تھا جس کی آہٹ سب نے محسوس کی۔ شمیم صاحب نے لکھا ہے کہ:

’’آواں گارد جو مغرب میں جدیدیت کی بنیاد ہے، اس کے اثر سے جو تحریکیں فروغ پذیر ہوئیں ان میں چار اہم ترین تحریکیں یعنی (1) مکعبیت (کیوبزم) (2) ماورائے حقیقت نگاری (سرریلزم) (3) مستقبلیت (فیوچرزم) اور داداازم، ان سب کا آغازو ارتقا دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہوا اور ان چاروں تحریکو ںکی الگ الگ انفرادیتو ںکے باوجود رومانیت اور اشاریت پسندی کو ان کا پیش رو سمجھا جاتا ہے۔‘‘ (ایضاً، ص 18)

آواں گارد کے بنیادی اوصاف کا ذکر بھی کیا گیا ہے، لیکن شمیم صاحب نے یہ بات بہت ہی بنیادی اور مستحکم کہی ہے کہ:

’’احساس و اظہار کی ہر نوعیت اور فکر و فن کا ہر اصول و معیار اپنی پیش رو روایت سے کلیۃ لاتعلق نہیںہوتا، نہ اس کی نمود خلا میں ہوتی ہے۔ ہر جدت کسی نہ کسی روایت سے مربوط ہوتی ہے، کبھی اس کی توسیع بن کر اور کبھی اس کی تخریب کے بعد اس کے ملبے سے تعمیر کی ایک نئی صورت کے طو رپر۔‘‘ (ایضاً، ص 19)

ادب خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ ہر جدت کسی نہ کسی روایت سے مربوط ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ جو لوگ اپنے عہد کے ادب پارے کو ماقبل کے عہد سے کاٹ کر دیکھتے ہیں، دراصل وہ اپنے ساتھ بھی اور ادب پارے کے ساتھ بھی ناانصافی کرتے ہیں۔ بڑا فن پارہ تو وہ ہے جو اپنے کاندھے پر ماضی کے جگنوؤں کو بٹھا کر مستقبل کی تاریکی میں بھی اپنی راہ تلاش کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ سوچیے کہ کیا آج میر و غالب کے تخلیقی وجدان سے ہم اپنا رشتہ منقطع کرسکتے ہیں۔ جدیدیت سے وابستہ کوئی بھی بڑے سے بڑا فنکار کیا خود کو غالب کے فکری اجتہاد سے آگے لے جاسکا ہے؟ یا یہ کہ کیا آج کا کوئی شخص غالب کی شاعری کے اسلوب کو رد کرنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ صرف نئی ہیئتوں اور فیشن زدگی سے ہی فن پارہ بڑا نہیں ہوجاتا۔ اصل چیز ہے زندگی کی سچی عکاسی۔ یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جن کی تلاش شمیم حنفی صاحب نے جدیدیت میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے بودلیئر اور ملارمے سے لے کر میراجی اور راشد کا ذکر انہی آواں گارد کی بنیادی تحریکوں اور ان کے اوصاف کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمارپاشی، افتخار جالب، عادل منصوری، محمود ایاز، ناصر کاظمی، منیر نیازی، وحید اختر، محمد علوی، بانی، قاضی سلیم، بلراج کومل، عمیق حنفی، شکیب جلالی، سلیم الرحمن، زاہد ڈار، ساقی فاروقی اور بھی بہت سے دوسرے شعرا کے حوالے سے ’نئی شعری روایت‘ کی تقویم کی ہے۔ ان شعرا کی تخلیقیت کا جائزہ لینے کے لیے شمیم صاحب نے ایک وسیع تنقیدی تناظر خلق کیا ہے جس میں اردو میں لکھے گئے متعدد مضامین اور کتب کے ساتھ ساتھ انگریزی میں تحریرکردہ مضامین اور کتب کے حوالے دیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شمیم صاحب نے نئے شعری ادب کی تفہیم کے لیے فلسفیانہ اور تنقیدی نگارشات کو کھنگالا ہے۔ اس لیے ان کی تنقید میں زولیدہ بیانی کے بجائے ایک طرح کی اُپج اور ایک نوع کا قدرتی بہاؤ نظر آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مظہرامام کانظمیہ متن – پروفیسر کوثر مظہری )

فلسفہ اگر فن پارے کی جمالیاتی قدروں کو کھولنے اور واضح کرنے میں معاون ہو تو اسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے، تو کتاب کی علمی وقعت اور قدر و منزلت تو ہوتی ہے لیکن ادب فہمی سے معذور ہوتی ہے۔ وارث علوی نے کچھ اسی نوع کے استدلالی نکات کی بنیاد پر شمیم حنفی کی کتاب ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے تو یہاں تک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دیوندر اِسّر اور کرامت علی کرامت کی کتابوں اور مضامین میں ادبی حوالے شمیم حنفی سے کہیں زیادہ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ شمیم حنفی جمالیات کی جنگ سماجیات کے دائرے میں لڑنے گئے ہیں اور بری طرح پٹے ہیں (بحوالہ :خندہ ہائے بیجا، 114)۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وارث علوی کی تنقیدی روش بے لاگ اور بے لوث ہے۔ شمیم صاحب کے حوالے سے لکھے گئے اس مضمون کا آخری جملہ، تمام تر منفی ردعمل اور آرائ کے باوجود تحسین آمیز ہے کہ— ابھی بھی یہ سمجھتا ہو ںکہ بطور نقاد کے شمیم حنفی کا قد ان کے مقالے سے بڑا ہے (خندہ ہائے بیجا، ص 148) انداز لگائیے کہ وارث علوی کا دل کیسا صاف اور شفاف ہے اور یہ بھی دیکھیے کہ شمیم حنفی نے اپنے گھر پر وارث علوی کا کس محبت سے والہانہ استقبال کیا اور تواضع کرتے رہے جس کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ دراصل یہ تخلیقات، یہ تنقیدی نگارشات اور معاصرانہ چشمکیں ہنگامی طور پر اپنا اثر رکھتی ہیں، اصل چیز ہے انسانی دردمندی اور ہمدردی۔ اس لیے کہ ہم سماجی رشتوں اور اپنوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ وقت زیادہ گزارتے ہیں۔ اپنوں اور بیگانوں سے نبھاتے ہیں اور نبھاتے رہنے کی سوچتے رہتے ہیں، اس لیے بڑے لوگ ادبی کارگزاریوں سے ذاتی زندگی کو متاثر نہیں ہونے دیتے۔ یہی ہونا بھی چاہیے۔

بہرحال، شمیم حنفی ہمیشہ انسانی اوصاف میں مثبت پہلو کی تلاش میں رہے۔ انھوں نے کام بے شک جدیدیت کی فلسفیانہ اساس پر کیا لیکن ان میں انسانی دردمندی اور بے ریا زندگی کے رموز کی پاسداری تھی۔ انھیں نظیراکبرآبادی کی تخلیقی اساس میں اصل ’آدمی‘ کی مختلف جہتیں نظر آتی ہیں۔ یہاں بھی ایک سادہ دل او ربے ریا آدمی ہے جو اپنی تخلیقیت کا کیمرہ گھماتا جارہا ہے۔ شمیم صاحب نے نظیر کی نظم ’آدمی نامہ‘ کو ان کی مکمل شاعری کا عنوان تصور کیا ہے اور آگے لکھا ہے:

’’وہ عمر بھر اس آدمی کی سرگزشت بیان کرتے رہے جو راہ و مقام کی قید سے آزاد، بے ارادہ اور بے انتخاب چاروں کھونٹ مارا مارا پھرتا رہا۔

————

’’وہ جس قلندرانہ استغنا کے ساتھ زندگی کی نعمتوں کا اور اس کے الطاف کا ذکر کرتے ہیں، اسی فقیرانہ شان کے ساتھ اس کے دکھ درد کی روداد بھی بیان کرتے ہیں، جس استغراق کے ساتھ مظاہر کے شور میں چھپے ہوئے سنّاٹے اور حقیقت کے فریب کا حجاب اٹھاتے ہیں اسی سرمستی اور لذت کے ساتھ دنیا کی دل فریبیوں پر نظرڈالتے ہیں۔‘‘ (نظیرنامہ، 1979، ص 442)

شمیم صاحب نے اسی مضمون میں لکھا ہے کہ نظیر نے بڑی خاموشی اور آہستگی کے ساتھ خیال اور مادّے کافرق مٹا دیا۔ پہلے اقتباس میں جو باتیں کی گئی ہیں، خیال اور مادّے والی بات اس سے یکسر الگ ہے۔بظاہر یہ (خیال اور مادّے والی بات) ایک بیان ہے، لیکن شمیم صاحب کے گہرے مطالعے اور ان کی اپنی عمیق تخلیقی حسیت کے سبب نظیر کے تئیں یہ رائے سامنے آئی ہے۔ آخر میں نظیر کے یہاں جس افسردگی کے نشانات ہیں، ان کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ یہ افسردگی نتیجہ ہے:’’ ہر تماشے کے انجام سے  باخبری کا۔ سوچنا چاہیے کہ یہ دنیا جو تماشاگاہ ہے کہ ہم سب اس کے انجام سے باخبر ہیں۔‘‘

شمیم حنفی کی تخلیقی حسیت میں ایک طرح کی افسردگی ہوتی ہے، اس لیے شعورِ ذات اور شعورِ کائنات کے مابین جب ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور اُس سے جو ہیولہ تیار ہوتا ہے اس پر بھی ایک طرح کی افسردگی اور ملال کی ردا ہوتی ہے۔ اسی لیے اس نوع کی تحریروں سے شمیم صاحب کی ذہنی ہم آہنگی ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے ڈراموں اور کالمز (Columns) میں بھی اس کیفیت کے آثار ملتے ہیں۔ خالد جاوید نے شمیم حنفی کے کالمز کو مرتب کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ:

’’اگر ان کالموں کے موضوعات کے ساتھ ساتھ ان کی زبان اور اسلوب پر بھی بغور توجہ دی جائے تو ایک خصوصیت بہت واضح طور پر کھل کر سامنے آتی ہے اور وہ ہے بیانیہ میں پوشیدہ افسردگی اور ملال کی ایک کیفیت۔ افسردگی اور ملال بغیر انسان دوستی (Humanism) کے کبھی نہیں پیدا ہوتے۔

(یہ کس کا خواب تماشا ہے، 2014، ص 15)

شمیم صاحب نے نظیر کے طرب انگیز اور حزنیہ دونوں پہلوؤو ں کو دوسرے نقادوں کی بہ نسبت زیادہ بامعنی انداز میں پیش کیا ہے۔ میں نے اس مضمون کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ شمیم صاحب کی بعد کی نگارشات اور کتب پر زیادہ توجہ دی گئی اور دی جائے گی لیکن یہ مضمون پردۂ خفا میں ہے۔ ممکن ہے دوسرے لوگ بھی اس کا ذکر کریں۔

شمیم حنفی کی شعرفہمی اور ادب فہمی کے لوازم میں ان کا اپنا درک اور وسیع مطالعہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ مغربی نظریات کو تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ دوران گفتگو کہا کرتے تھے کہ یہ Modernism اور Post Modernism کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ حالاں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ مذکورہ دونوں رجحانات سے بالکلیہ باخبر تھے۔ جدیدیت پر تو انھوں نے ڈی لٹ کا مقالہ ہی لکھا تھا، ساتھ ہی مغربی ادب کا وسیع مطالعہ تھا لیکن وہ ادب کی تفہیم کے لیے ان مغربی نظریات کی کھتونی کرنا اور جگہ جگہ کسی نظریے کو پیش کرنا وہ غیرضروری سمجھتے تھے۔ ان کا اپنا تہذیبی سیاق اور تنقیدی انسلاک تھا جن کی روشنی میں ادب پاروں اور ادیبوں، دونوں کو دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ خلیل الرحمن اعظمی کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’وہ ان لکھنے والوں میں تھے جو آئین روزگار کے شعور سے بہرہ ور ہونے کے باوجود انسانی شعور میں تبدیلی کی منطق اور منصب سے بے نیاز نہیں ہوتے، جو اپنی تہذیبی روایت کو ایک توسیع کے طور پر دیکھتے ہیں اور صرف سچی، کھری تخلیقی بصیرت کو اپنا سامان سفر سمجھتے ہیں۔‘‘

(اداریہ، رسالہ جامعہ، خلیل الرحمن اعظمی کی یاد میں، 2001، ص 8)

شمیم حنفی نے ادب کو ایک تہذیبی تناظر اور متین مگر متحرک فکری رویہ دیا ہے۔ انھوں نے کبھی بھی رواروی میں کسی ادب پارے پر گفتگو نہیں کی۔ وہ طویل نظم کے ارتقائی سفر پر بات کریں یا غالب، اقبال یا فراق پر، ہر جگہ ان کے تنقیدی رویے میں ایک طرح کی سنجیدگی مگر متحرک فکری ارتعاش دیکھنے کو ملتا ہے۔ فراق سے انھوں نے انٹرویو بھی کیا تھا اور ایک کتاب بھی مرتب کی تھی، پھر رسالہ ’جامعہ‘ کی ادارت کے زمانے میں انھوں نے ایک خصوصی نمبر بھی شائع کیا تھا جو بعد میں ’فراق دیار شب کا مسافر‘ (دسمبر 1996) کے نام سے مکتبہ جامعہ سے شائع ہوا۔ پیش لفظ میں شمیم صاحب نے لکھا تھا کہ فراق صاحب کی بصیرت اور طباعی، ان کے غیرمعمولی شعور اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں نے ایک عالم کو متاثر کیا… فراق صاحب جیسی رنگارنگ، زندہ و تابندہ شخصیتیں بہت کم ہوئی ہیں۔ شمیم صاحب نے فراق صاحب سے کئی نشستوں میں مختلف امور اور نکات کے حوالے سے سوالات کیے  ہیں۔تہذیبی اور ہندوستانی رنگ، جنسی موضوعات، شعری و تخلیقی نظریات، مختلف زبانوں کے ادبیات اور اس  کے نشانات، جوش ملیح آبادی کی شاعری کے امتیازات اور خود فراق کی شاعری کے اوصاف وغیرہ پر شمیم صاحب نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں سوالات قائم کیے ہیں۔ فراق صاحب کے جواب بھی برجستہ اور پرلطف ہیں۔ اس کے علاوہ فراق گورکھپوری (ایک اور سلسلۂ روز و شب) پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ فراق صاحب کے مشاہدات اور زندگی کے تجربات تخلیقیت کا حصہ کیسے بنے۔ یہ مضمون فراق کے شعری متن سے زیادہ متن کاری کے عمل اور شب و روز کے عوامل اور گزران کو نشان زد کرتا ہے۔ ایک رواں تخلیقی اسلوب میں شمیم صاحب نے فراق کو اپنی تمام تر رعنائیوں اور زندگی میں برتے جانے والے اسالیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’انھوں نے فلسفہ، تاریخ، نفسیات، ادب، جو کچھ بھی پڑھا اس طرح گویا آتے جاتے موسمو ںیا مناظر کا جلوس دیکھ رہے ہوں۔ جب جی چاہا اس میں شامل ہوگئے، اور جس گھڑی طبیعت ذرا اکتائی منہ دوسری طرف پھیر لیا۔  (ہم نفسوں کی بزم میں، ص 17)

’’فراق صاحب کی پتلیاں سوچتے وقت جس رفتار سے گردش کرتی تھیں یا اگر ایک  نقطے پر مرکوز ہوتیں تو ہر لمحے کے ساتھ جس طرح گہری اور شدت آثار ہوتی جاتی تھیں اور ان میں ٹھہراؤ کے باوجود ہیجان کی جو کیفیت دھیرے دھیرے ابھرتی آتی تھی، اس سے فراق صاحب کے احتساس اور تفکر کی رفتار پیمائی کا کام بھی لیا جاسکتا تھا۔‘‘ (ایضاً، ص 18)

——

’’ہر لفظ ایک محسوس تجربہ اور ہر خیال ایک مشہور ہیئت۔ شاید اسی لیے وہ خیالوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے گھبراتے بھی تھے۔ فکر اور جذبے کی دوئی کو مٹانے کی یہ ادا فراق صاحب کی باتوں میں بھی تھی اور تحریروں میں بھی۔‘‘

(ایضاً، ص 18)

فراق صاحب کو شمیم صاحب نے بہت قریب سے دیکھا تھا اور گہرائی سے Observe کیا تھا۔ چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے، چہل قدمی کرتے، گفتگو اور تقریر کرتے، شعر پڑھتے، دوسروں کا مذاق بناتے اور مذاق اڑاتے ہوئے، اپنی بات دوسرے کا اقتباس کہہ کر سناتے ہوئے، ادھر ادھر کی ہانکتے ہوئے اور محفل پر چھا جانے کے تمام گُر اپناتے ہوئے—  یہ سب باتیں شمیم صاحب کے سامنے کی تھیں۔ اور پھر فراق کے شعری و نثری متون کا مطالعہ بھی تھا، اس لیے فراق صاحب کے بارے میں شمیم صاحب کی رائے جچی تُلی اور صائب کہی جائے گی۔

بیدی، ستیارتھی، خواجہ احمد عباس، عابد حسین، مجیب صاحب، خلیل الرحمن اعظمی، شکیب جلالی، احتشام صاحب، سرور صاحب، وحید اختر، سریندر پرکاش، غیاث احمد گدی، انتظار حسین، دیویندر اسر، زاہد ڈار، احمد مشتاق، احمد فراز، ظفر اقبال، خالدہ حسین، مین را، رام چندرن، سب پر لکھا اور ان سب کی شخصی، فکری اور تخلیقی تثلیث کو حیطۂ تحریر میں لانے کی کوشش کی۔ یہاں بھی شمیم صاحب تخلیق اور انسان کی ہم رشتگی کو مستحکم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غیرضروری نظریات، تھیوریز  یا Jargons سے اجتناب ہی شمیم صاحب کا اختصاص ہے۔  (یہ بھی پڑھیں تحریکِ آزادی اور اردو غزل – پروفیسر کوثر مظہری )

شمیم صاحب کی کتاب ’ہم سفروں کے درمیاں ‘ اٹھائیے تو یہاں بھی ان کے احباب جو شاعر و ادیب تھے یا ہیں، ان کی ایک کہکشاں ہے۔ وہ تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہے۔ احباب کے ساتھ، ان کی یادوں اور ان کی نگارشات کے ساتھ رہے۔ پھر یہ کہ معاملہ سطحی نہیں بلکہ گہرا اور سنجیدہ رہا۔ قرۃ العین حیدر، منیر نیازی، منیب الرحمن، جیلانی کامران، قاضی سلیم، محمود ایاز، من موہن تلخ، عمیق حنفی، باقر مہدی، محمد علوی، محمد سلیم الرحمن، بلراج کومل، کمار پاشی، زبیر رضوی، شہریار، کشور ناہید، انور سجاد، نیر مسعود، نسرین انجم بھٹی اور آخر میں خالد جاوید۔ یہ سب وہ جدید ادیب و شاعر ہیں جن کی تخلیقیت (Creativity) کی ضوپاشیاں ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ شمیم صاحب نے ان سب کی شخصیتوں اور افکار و تخلیقیت کو یکجا کرکے سخن سنجی اور ادب فہمی کی کلید پیش کی ہے جس کا انھوں نے کبھی دعوا نہیں کیا۔ کچھ لوگ تو انھیں نقاد نہیں مانتے لیکن ان کی تحریریں جہانِ نقد کا بیش قیمت سرمایہ ہیں اور وقت گزرنے کے بعد نظریاتی اور جارگن والی تنقیدی تحریریں ماند پڑتی جائیں گی اور شمیم صاحب کی تحریریں، مزیدنکھرتی اور روشن ہوتی جائیں گی، کیوں کہ ان میں جس تہذیبی شعور کی آنچ اور پرخلوص طرز نقد کے عناصر ہیں، وہی ان کی شناخت کی ضمانت کے لیے کافی ہیں۔ یہ ذاتی تعبیر و تفہیم کا رویہ ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں:

’’ادب اور آرٹ، انسانوں اور خیالوں کی طرح میرے لیے ایک نجی مفہوم کے حامل بھی ہوتے ہیں اور جب تک ان سے یہ رشتہ استوار نہ ہو، میرے شعور کی دنیا میں ان کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔‘‘ (ہم سفروں کے درمیاں، پیش لفظ)

شمیم حنفی نے ادب، آرٹ اور انسان سے بنے مثلث کو ہمیشہ ہی اہمیت دی ہے۔ کبھی اس مثلث کے اندر سے اس کے تینوں زاویوں (Angles) اور اضلاع کو دیکھا اور نہارا ہے۔ ان تینوں زاویوں کے کم و بیش ہونے میں ہی زندگی کی تمام تر نیکیاں اور بدمعاشیاں پوشیدہ ہیں۔ شمیم حنفی نے ان پر سے پردے اٹھائے ہیں اور کبھی اس مثلث کے باہر کھڑے ہوکر اس کے اندر غالب کی تخلیقی حسیت اور عصر حاضر کے خرابہ سے اقبال کی ہم آہنگی پر غور و فکر کیا ہے۔ انھوں نے منٹو اور میراجی کو بھی اسی مثلث میں رکھ کر باہر کھڑے ہوگئے ہیں۔ سیاہ فام ادب پر بھی ان کا مکالمہ ذہنوں کے بند دریچوں کو کھولتا ہے۔ یہ مثلث شمیم حنفی کے لیے منشور (Prism) کی طرح ہے جس سے روشنی کی کوئی کرن گزرتی ہے تو اس پار جاکر اس کرن کے  سات رنگ منعکس ہوجاتے ہیں۔ یہی تو ہے قوس قزح یعنی Rainbow۔ شمیم حنفی کی تنقید ایک پرزم ہے جس سے گزر کر کوئی بھی ادبی فن پارہ سات رنگوں پر مشتمل ایک Spectrum بناتا ہے جسے دیکھ کر جی مچل جاتا ہے۔ ان سات رنگوں میں زندگی کی تمام تر بدرنگیاں، بدمعاشیاں، جمال آگیں شعاعیں اور رنگینیاں، سیاسی و سماجی اتھل پتھل اور تہذیبو ںکے زوا ل کی کہانی اور ماضی کا بیش بہا جوہر— گویا سب کچھ شفاف ہوکر نظر آنے لگتا ہے۔

میں نے ادب، آرٹ اور زندگی سے بنے ہوئے جس مثلث کی بات کی ہے، اس کے حوالے سے اگر شمیم صاحب کی تنقیدی نگارشات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی ایک مطالعے کا زاویہ ہوسکتا ہے۔ اقبال کے حوالے سے لکھی گئی کتاب کے ’پیش لفظ‘ میں شمیم صاحب لکھتے ہیں:

’’بصیرت کی جس گہرائی اور فکری استحکام کے ساتھ، اقبال نے بیسویں صدی کی زندگی اور انسان کے ارتقا اور سربلندی اور پسپائی اور زوال کا احاطہ کیا ہے، اور جدید و قدیم اسلوب سے ماخوذ اصطلاحوں میں جس طرح انھوں نے اپنے گرد و پیش کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، وہ انھیں مغرب و مشرق کی آویزش اور اپنے گم شدہ تصورات کے تشخص اور بازیافت کا سب سے محکم وکیل اور مفسّر بناتی ہے۔‘‘

(پیش لفظ، اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ، ستمبر 2010، ص 12)

میں نے کئی جگہوں پر شمیم صاحب کے ’پیش لفظ‘ سے ہی حوالے دیے ہیں۔ شمیم صاحب کے پیش لفظ کی خوبی یہ ہے کہ وہ کوزے میں سمندر کو بند کردیتے ہیں، گویا کتاب کا عطر کشید کرتے ہیں۔ پیش لفظ میں وہ خواہ مخواہ کی غیرضروری اور Irrelevant باتوں اور حوالوں سے گریز کرتے ہیں۔ چلیے ایک مختصر حوالہ ’جاوید نامہ‘ اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ‘ سے دیتا ہوں۔ مضمون کا آغاز ہوتا ہے:

’’تنہائی اور ناصبوری— تخلیقی توانائی کے ان ہی دو سرچشموں سے ’جاویدنامہ‘ کا ظہور ہوا ہے۔ یہ سرچشمے اقبال کے منفرد شعور کا شناس نامہ بھی کہے جاسکتے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص 152)

وہی آرٹ، ادب اور انسان کی تثلیث یہاں بھی ہے۔ یہ دو سرچشمے اور ’جاویدنامہ‘ گویا تثلیث حیات ہے۔ شمیم صاحب کی تنقید کسی بھی فنکار کے باطن میں اتر کر گہری تاریکی سے تابناکیاں اور تابشیں لے کر آتی ہیں۔ یہ فن، یہ تنقیدی ہنر شمیم صاحب کے ہم عصروں میں شاید ہی نظر آئے۔ چاہے اور دوسرے پہلو اور رنگ نظر آجائیں۔ میری اس بات پر کسی کو پہلو بدلنا ہو تو بدل لے۔

غالب کا ایک شعر لکھ کر شمیم حنفی کہتے ہیں:

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو

آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی

’’اس ایقان کو ہم غالب کا ذاتی منشور بھی کہہ سکتے ہیں اور اسی انداز فکر کی سطح پر غالب اپنی گم ہوتی ہوئی اجتماعی تاریخ، ایک بجھتے ہوئے ماضی میں ہمیں موجود بھی دکھائی دیتے ہیں اور اس سے آگے جاتے ہوئے بھی‘‘

(غالب کی تخلیقی حسیت، 2005، ص 216)

دراصل شمیم حنفی کو نقاد کی اپنی آگہی اور بصیرت سے زیادہ شاعر کی حسیت عزیز ہے جس کا ذکر انھوں نے کیا بھی ہے۔ انھوں نے تو یہ تک لکھ دیا ہے:

’’تنقید میں اپنی نمائش کا شوق ایک بار پیدا ہوجائے تو نقاد کے لیے بدمذاقی کی کوئی بھی حد آخری حد نہیں ہوتی۔‘‘ (ایضاً، ص 221)

اس اقتباس میں روئے سخن چاہے جس طرف بھی ہو، اس کے لفظوں کی صداقت پر شبہ نہیں ہوسکتا۔ کچھ نقاد (بہ زعم خود) ایسے بھی ہوئے ہیں جنھوں نے مغربی نظریات کی جگالی بہت کی ہے، لیکن ادب فہمی کے نام پر جیسے کہ وہ بیگار ہی کرتے رہے ہیں۔ ایسے نقادوں سے شمیم صاحب کا کچھ لینا دینا نہیں۔ شمیم صاحب نے مغربی ادب اور نظریوں کو کسی بھی مغرب زدہ نقاد سے کم نہیں پڑھا تھا، لیکن مغرب زدگی اور اکتساب فیض کے فرق کو شمیم صاحب بخوبی سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنے مطالعے کو Digest کیا تھا بلکہ کہنا چاہیے کہ اپنے مطالعے کی وسعت کو قابو میں رکھا تھا، بے لگام گھوڑے کی طرح چھوڑ نہیں دیا تھا۔ انھوں نے بھی Miniature، Mural، The Meaning of Meaning، Precision،  Abstract، Concrete، Kinetic، Metahistorical، Meta Narrative وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ لیکن آپ کو کہیں بھی Patching کا احساس نہیں ہوگا۔  اقبال کی نظم ’ذوق و شوق‘ پر تجزیاتی مضمون لکھتے ہوئے ایک جملہ دیکھیے:

’’ذوق و شوق‘ دیکھنے میں ایک چھوٹی سی نظم ہے، لیکن معنوی اعتبار سے ایک مہابیانیے Grand Narrative کا ٹھاٹ رکھتی ہے۔‘‘ (اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ، ص 216)

بہرحال، عرض یہ کرنا ہے کہ شمیم حنفی کے وسیع مطالعے اور ان کی اپنی فکری جہتوں کا جو تنوع تھا وہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ انھوں نے کسی کے جبر میں اپنے مطالعے کے لیے کسی نوع کے ادب کا انتخاب نہیں کیا۔ انھیں تاریخ، فلسفے، ہندوستانی دیومالا، رقص، موسیقی، دیسی گیت، ان سب میں دل چسپی تھی۔ ان کی یادداشت کا یہ عالم تھا کہ معمولی شعرا کا کلام بھی وہ سنایا کرتے تھے۔ بڑے بڑے شعرا کا کلام تو لوگ ضرورتاً بھی یاد کرلیتے ہیں۔ شمیم صاحب کے دماغی سانچے میں بڑی لچک تھی۔ پھر یہ کہ ان کی گفتگو کا انداز بہت پُراثر اور سحرانگیز تھا۔ آواز میں کھنک اور روانی۔ بہت ٹھہر ٹھہر کر اور چبا چبا کر باتیں کرنے کے بجائے وہ کم وقت میں بہت کچھ بتا دینا چاہتے تھے۔ کبھی کبھی علمی وفور کے سبب گفتگو دوسری طرف چلی جاتی، لیکن، پھر اپنی سابقہ لیک پر آجاتے۔ پرکشش شخصیت کے مالک اور ایک نہایت ہی باوقار دانشور ادیب پروفیسر شمیم حنفی کے جانے کا غم پوری اردو دنیا کو ہے لیکن ہم ان کی تخلیقی و تنقیدی نگارشات سے ہر عہد میں مستفیض ہوتے رہیں گے۔

قارئین! آپ کو شمیم صاحب کا یہ شعر افسردہ کردے گا، لیکن کیا کیجیے اس عہد میں افسردگی ہمارا مقدر ہوچکی ہے:

ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا

کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو

 

 

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

Cell.: 9818718524


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

kausar mazharishamim Hanafiشمیم حنفیکوثر مظہری
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تین ناولٹ۔۔۔۔ژولیاں – اخلاق آہن
اگلی پوسٹ
سابق امراء شریعت میں انتخابی طریقۂ کار  – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

1 comment

علامہ اقبال کا تصورِ تہذیب ۔ پروفیسر کوثر مظہری - Adbi Miras اکتوبر 1, 2021 - 6:37 صبح

[…] فکر و عمل […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں