تاثرات:
موجودہ دور انزوا و اسارت البتہ خلوت و تنہائی، اکثر تخلیقی عمل یا مطالعات کی طرف لے گئی، اگرچہ اس کا ایک حصہ مجازی محفلوں سے بھی محظوظ و پراکندہ رہا۔ کچھ تفریحی کتب بینی بھی ہوئی اور ارادہ تھا کہ حالیہ برسوں میں شائع متعدد ناولیں پڑھی جائیں، اس میں ایک دیرینہ خواہش خود کبھی ناول لکھنے کی بھی رہی ہے، البتہ یہ کبھی انجام پذیر نہ ہوئی۔ یہ دور استغراق شعری کا رہا اور اب ایک مجموعہ آمادہ ہوا چاہتا ہے۔ بہرحال، ایک دن یونہی کچھ مختصر پڑھنے کا موڈ ہوا سو ژولیاں کی "تین ناولٹ” اٹھا لی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایک ہی جلد میں تین ناولٹ یا طویل افسانے ہیں جو بہ عنوان ساغر، میراجی کے لیے اور منیر جعفری شہید شامل ہیں۔
ژولیاں فرانسیسی ہیں اور انھوں نےہماری یونیورسٹی یعنی جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سےاردو میں غالباً پی ایچ ڈی کی ڈگری کسب کی ہے۔ ان کی طالب علمی کا زمانہ وہی تھا جو میرا تھا۔ ناول پڑھتے ہوئے جس چیز نے سب سے زیادہ چونکایا وہ اس کی زبان، خلاقیت اور تراکیب سازی ہے، خاص طور سے اس وجہ سے بھی کہ اس زمانے میں میں نے ژولیاں کو کبھی بھی سنجیدہ طالب علم کے بطور نہ دیکھا اور نہ ان سے کوئی راہ رسم رہی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں بیشتر طواف کتابخانہ کا عادی تھا اور ہاسٹل سے لائبریری آتے جاتے اسے اکثر کسی سروِ رواں کے موہوم وجود میں دستِ تکوین حمایل کیے کیمپس کی سڑکوں اور پگڈنڈیوں پر رینگتے اور بے آواز گفتگو میں محو دیکھا، جیسے خودکلامی کا شکار کوئی خجول ذی روح ہو۔ آج اس کا یہ ناولٹ پڑھ کر یہ خواہش ہوئی کہ اس شخص کو نزدیک سے بھی جاننا چاہئے تھا، لیکن دو شرمیلے نین آپس میں کبھی نہیں ملتے۔ یوں بھی جے این یو بھانت بھانت کے موجودات کو ان کی اپنی رنگارنگ انفرادیت کے ساتھ جینے اور نمو پانے کی آزادی بخشتی رہی ہے۔ یہی اس کیمپس کا امتیاز ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ابنِ صفی -ایک عظیم مفکر ،بے مثل ادیب(حصہ 1) – عبداللہ زکریا )
پہلی ناولٹ”ساغر” پڑھی۔ اس کی داستان گوئی کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر لفظ تمثیل کی صورت زندہ رواں دواں ہے جو اپنے پس پشت ایک جدا دنیا کا حامل ہے اور اس کی گرہوں میں بہت کچھ پنہاں ہے۔ اس کے کردار ہمیں یوں باور کراتے نظر آتے ہیں جیسے ہر فرد کے اندر شاید ایک ملامتی چھپا بیٹھا ہوا ہے جو قنوطی کیفیت میں لعنت کناں رہتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کہانی اسی نفسیاتی پہلو کا بیانیہ ہے ۔ اس نے لازمی طور پر زبان دانی کے حوالے سے بڑی تپسیا کی ہوگی۔ اس کہانی کا پس منظر بیشتر لاہور کے گرد و نواح میں پھیلی ملنگوں اور ملنگ نما افراد کی پراسرار دنیا ہے۔ منظرکشی بتاتی ہے کہ وہ اس سے بخوبی آشنا بھی ہے۔…………اخلاق آہن….
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

