ہر دور میں کچھ افراد، شہرت کی خاطر اپنی اپنی کیچلیاں بدلتے رہے ہیں۔پھر اپنی نمایاں شناخت و ساخت قائم کرکے مال و زر بٹورتے رہے ہیں۔دراصل مایا کے جال ہوتے ہی ہیں بڑے خوشنما، جس سے دامن بچانا کارِ محال ماناجاتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آسا ن راستے (short cut) سب کو لبھاتے ہیں، مقصود چاہے جور ہے۔دورِ رواں میں سوشل میڈیا پر رِیل(reel)بناکر اَپ لوڈ کرنا سب کو بھاتا ہے، اس میدان میں کچھ یوٹیوبرس صاحبان خوب دھوم مچائے ہوئے ہیں اور اس توسط سے وہ خوب خوب نام اور دام کما رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اس طرح کی مثالیں ناپید رہی ہیں۔ ایک دَور تھا جب فلموں کی ٹکٹ حاصل کرنے اور پردۂ سیمیں پر اپنے محبوب ہیرو، ہیروئن اور حیرت زا مناظر کو دیکھنے کے لیے سینما ہال میں گتھم گتھی ہُوا کرتی تھی۔ کھڑکی سے ٹکٹ حاصل کرنے میں بہتوںکے کپڑے پھٹ جاتے اور ہاتھ بھی کٹ جاتے تھے۔طالب علمی کے دَور میں راقم بھی کئی بار دِھنگا چکا ہے۔ ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے آگے لائن میں کھڑے ہوکر کھڑکی میں مَیں نے ہاتھ گھُسایا کہ بھیڑ بڑھ گئی،پیچھے سے لوگ کندھے پر سوار ہوکر آگے بڑھے لیکن ہاتھ کھڑکی سے باہر اس وقت نکلتے جب ٹکٹ ہاتھ لگ جائے۔ بھیڑسے باہر نکلتے تو آستین پھٹ کر لٹک گئی، چہرہ لال ہوگیا اور کان گولر کا پکے پھل جیسا۔ بعض سینما کے شائقین دوگنی چوگنی قیمت پر بھی ٹکٹ مول لینے کے لیے اس پُراسرار فرد کو تلاش کرتے نظر آتے جو بلیک سے ٹکٹ بیچا کرتے اور پولس ان کے پیچھے پڑی رہتی۔ وہ اپنی اصلیت چھپائے رکھتے لیکن عاشقینِ سینما کو ان کی خبر ہوجاتی۔سماج میں کبھی ایسے افراد کے بھی مقام ہوا کرتے ہیں جن کے پیچھے عوام کے ساتھ پولس پڑی رہتی لیکن وہ پولس کے ہاتھ نہیں آتے تھے جب کہ عوام کی رسائی ان تک ہوجاتی تھی۔ سماج میںہیرو، ہیروئن اور فلموںکے چرچے عام تھے۔ ہر طبقے کے لوگ فلمی کرداروں کو دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے۔ ادبا شعرا بھی ان کے گُن گاتے رہتے کہ فلموں سے ان کے قریبی رشتے ہیں بلکہ اس کے بنیادی جز میں شامل ہیں۔اس لیے پروفیسر محمد حسنین صاحب نے ایک نہایت بامعنی انشائیہ ’’ہیرو‘‘ لکھ مارا، جس نے نصاب میں بھی اپنی جگہ بنالی، کیوںکہ انشائیہ ’’ہیرو‘‘ میں انھوںنے ہیرو کے جو اقسام گنائے ہیں، اس کے جلوے سماج میں نظر آتے ہیں:
’’مثال کے طور پر فلمی ہیرو، قومی ہیرو، کلاس کا ہیرو اور بازار کا ہیرو، محلہ کا ہیرو اور میچ کا ہیرو وغیرہ وغیرہ۔‘‘
………٭………
حضرات! دورِ رواں میں کچھ یوٹیوبرس بھی سماج کے ہر حلقے سے نظر آتے ہیں جیسے کہ ہیرو۔لیکن ان کے اقسام نہیں گنائے جاسکتے جیسا کہ پروفیسر محمد حسنین صاحب نے گنائے ہیں۔کیوںکہ ان کے جذبات و کیفیات کے مظاہرے میں دیرپائی نہیں ملتی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبے سے ان کی نمائندگی ملتی ہے۔وہ ہرفن مولان نظرآتے ہیں، جس کی گرفت مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ان میں سے ایک نوعیت کے یوٹیوبر کو سماجی محرک ( social influencer) بھی کہا جاتاہے جن کو سوشل میڈیا نے مقبولِ عام کردیا ہے۔ ان کے یہاں سے کئی رنگوںکے دھارے بہتے ہیں جس سے ادب، مذہب اور سماج کا ہر طبقہ متاثر ہوتاہے۔ ان میں سے کچھ حقائق پر مبنی ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔ وہ خود جو کچھ دیکھتے ہیں، اس سچائی سے دوسروںکو بھی واقف کراتے ہیں۔ اس صداقتی منظرنگاری کے ذریعہ وہ علم و معلومات کے جو خزانے لٹاتے ہیں اس سے سماج میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، اس لیے عام سے خواص، بے علم سے باعلم، عامل سے بے عمل، گاؤں سے شہر، حسین و جمیل سے بھینگا وغیرہ وغیرہ اپنی اپنی بولیوں،نصیحتوں اور عجیب و غریب کارناموں کے سبب لوگوںکی توجہ اپنی طرف مبذول کرارہے ہیں اس لیے ہر درجے کا فرد کوموبائل پر نظریں گڑائے دیکھا جاتا ہے۔حصولِ شہرت کے لیے آپا دھاپی مچی ہے جس میں یوٹیوبرس کیا سے کیا بن جاتے ہیں۔ بعض یوٹیوبر مرد و زن میں اس طرح ہم آہنگ نظر آتے ہیں کہ تفریق مشکل ہے بلکہ ناممکن؛وہ مرد ہیں یا زن۔چہرے پر چھوٹی چھوٹی ہلکی مونچھ اور داڑھی کے گمان سے مرد لگتے ہیں جب کہ ان کا رویّہ، لب و لہجہ، لب ورخسار، بناؤ سنگار۔ لباس اطوار کسی بھی زاویہ سے ان کو آپ مرد نہیں کہ سکتے۔ ان کے اوصاف کی کیفیات و محسوسات کا بیان مشکل ہے۔ مصطفی خاں شیفتہ کے مطابق ان کا ایک ہی مقصد ہے:
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو، کیا نام نہ ہوگا
……٭……
صحتِ عامہ پر بنائے گئے ویڈیوز نے سماج میں انقلاب برپا کردیاہے۔ دورِ رواں میں صبح کی سیر سپاٹے اور ورزش کی اہمیت و افادیت نے گاؤں سے شہر تک کے افراد کو بیدار کردیا ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتاہے۔ اگرچہ سماجی زندگی کے معاملات میں زمانۂ قدیم سے ہی کاشتکاری کے لیے سحر خیزی کی طرح پڑ گئی۔لیکن شہر کے خواص میں صبح خیزی اور طرح طرح کی ورزش کا چلن ویڈیوز کی وجہ سے عام ہوگیاہے۔یوگا اور چہل قدمی کے رواج نے رفتار پکڑلیاہے۔
الصباح سیر یا چہل قدمی کے لیے نکلیں تو شاہراہیں بھی سنسان ملتے ہیں۔ اِکّا دُکّا سواریاں اسٹیشن کی طرف بھاگتی نظرآتی ہیں۔ دُکانیں بند، جس کا فائدہ کتّے اٹھاتے نظر آتے ہیںجو چار پانچ کے جھنڈ میں بلا روک ٹوک سڑک پر اُدھم مچاتے ملتے ہیں۔اس لیے عمر گزیدہ افراد اپنے ہاتھ میں چھڑی لے کر نکلتے ہیں اور بچّے اپنے والدین کے ساتھ۔ایک روز چائے کی ایک بند دُکان پر میری نظریں ٹھٹھرگئیں، جہاں دیکھا کہ شٹر سے پیٹھ ٹیکے اور سرنہوڑائے؛ بنچ پر ایک شخص بیٹھا تھا۔اس کی شبیہ دیکھ کر یوٹیوبر کلّو کا گمان ہوا اور میں سوچ میں ڈوب گیاکہ یہ وہی کلّو ہے جس کا بیٹا راز اپنے ویڈیوز سے دھوم مچائے ہوئے ہے اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے لیے اس نے اپنا حلیہ اور رویہ بدل دیا ہے کہ پہچاننا مشکل۔جِم میں طرح طرح کی کسرت سے بدن سڈول اور گداز دِکھتا ہے، چہرے کی سرجری سے اس کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی معلوم ہوتے ہیں اور ناک جو پکوڑے کی طرح تھی ستواں اور تیکھی بن گئی ہے۔ گال پنک گلاب بن گئے اور ابرو کمان کی طرح تنے نظر آتے ہیں۔ گویا شعر و ادب میں اُبھرنے والے حسن و جمال کا نوخیز مجسم نظر آتا ہے۔ایک نمونہ (model) جو کبھی نر اور کبھی ناری نظرآتاہے۔ اپنے رویہ اور رنگ و روپ کی وجہ سے مقبول و معروف ہے اور اپنی کمائی کو بھی مشتہر کرتاہے کہ یہ بھی حصولِ شہرت کا ضامن ہے۔ مقبول یو ٹیوبرس کے اپنے اعلان کے مطابق دس سے بارہ لاکھ روپئے ماہانہ آمدنی کرتے ہیں اس لیے عام لڑکے بالے سے لے کر بڑے بڑے صاحبان بھی یوٹیوبر بن گئے ہیں۔کلّوکا بیٹا راز نے بھی بڑی شہرت اور دولت کمائی ہے۔ میرے اس طرح گم سم دیکھ کر ، دانش صاحب جو ہاتھ میں چھڑی لیے صبح کی سیر کو نکلتے ہیں، رُک گئے۔ میںنے اُن سے کہا کہ ’’دیکھئے! اس طرح کلو یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں!! بیٹا نے تو بہت پیسہ کمایا ہے۔ میری آواز پر سر نہوڑائے بیٹھے آدمی نے سر اُٹھایا اور بولا کہ میں کلّو نہیں اُن کا بیٹا راز ہوں! اس کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے سبز و شاداب پیڑ سے ساری پتیاں جھڑگئی ہوں، اس کی کھال تک اُدھڑگئی ہو۔ خزاں رسیدہ پیڑ کا منظرآنکھوںکے سامنے اُبھر گیا۔اس کے چہرے سے میک اپ اُترگیاتھا اور سوجن آگیا تھا جس پر سرخ سرخ چھوٹی چھوٹی پھنسی اس طرح چمک رہی تھی جیسے اندھیری رات میں تارے چمکتے ہیں۔ ہونٹ پھول گئے تھے اور ناک جو سرجری سے ستوا ں ہوگئی تھی پکوڑے بن گئے تھے۔بالکل اجاڑ پت جھڑ کا تنہا پیڑ کی طرح۔ اس نے بتایاکہ ریسورٹ میں سوٹنگ کے دوران میں بیمار پڑ گیا ، کوئی دیکھنے والا نہیں، ہر کوئی اپنی ویڈیوز بنانے اور خود کو چمکانے میںمصروف اور مست۔اس حالت میں دانت کاٹی روٹے کھانے والے دوست بھی نظریں پھیر لیتے ہیں اورمیں مجبور ہوکر گھر آگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر ابا بیمار پڑگئے، ان کو اسپتال میں داخل کراکر یہاں بیٹھا تو جھپکی آگئی اور ایک ڈراؤنا مستقبل میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا۔آپ لوگوں کی آواز پر چونک کر بیدار ہوگیا۔
درحقیقت شہرت کے پیچھے دولت دوڑی دوڑی آتی ہے اور شہرت و دولت حاصل ہوجائے تو اقتدار تک رسائی ناممکن نہیں کہ اقتدار بھی مل جاتاہے۔ اس صورتِ حال میں شہرت کا جنون ہونا فطری امر ہے۔ عالمی سطح پر رقص و موسیقی میں اپنی انفرادی شناخت بنانے والے ’’کنگ آف پاپ‘‘ سے پوری دنیا واقف ہے۔ رقص و موسیقی کی دنیاکا ایک نمونہ گلوکار و رقاص۔ان سے ایک عالم واقف ہے۔اس میدان میں اپنی پہچان کی خواہش رکھنے والے ان کی شخصیت سے خصوصی واقفیت رکھتے ہیں۔ انھوںنے پورے بدن کی سرجری کرائی اور کالے سے گورے بھی بن گئے۔ رقص و موسیقی کا انداز نرالہ کہ بامِ عروج پر پہنچ گئے۔ دولت کی آمد نے ان کی آدابِ زندگی سے لے کر رہائش گاہ تک کو پُراسرار بنادیا۔ محل نما مکان عجائبات کا مرقع بن گیا۔ ماہرین کی نہگداشت میں طرح طرح کی ورزشیں کرکے دھان پان گل اندام نازنین بانکپن بن گئے، جس سے کمر بادِ نسیم کی طرح لچکتی۔ خود کو صحت مند رکھنے اور اپنے گلیمر کو بنائے رکھنے کے لیے دوائیوں کا استعمال اور انجکشن۔ شعبۂ صحت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرے مطمئن ہوگئے کہ اب برسہا برس بیماری اور موت نہیں آئے گی۔ لیکن فطری انسانی عمر جو سو برس متوقع ہے؛ اس کو بھی حاصل نہیں کرسکے۔ اس کے آدھے سفر پر ہی دنیا کو خیرباد کہہ دیا!
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
……٭……
حضرات! تواریخ کے اوراق میں بہت سارے واقعات موجود ہیں جس میں حصولِ شہرت اور قوتِ و اقتدار کے لیے لوگوں نے کیا کچھ نہیںکیاہے۔ ایسے ہی کچھ افراد کے کارناموں کی وجہ سے تہذیب و ثقافت بھی نئی کروٹ بدلتی رہی ہے اور تواریخ میں نئے نئے ابواب درج ہوتے رہے ہیں۔یہاں ان ناموں کا گوشوارہ تیار کرنا مقصود نہیں کہ اس کام کو مؤرخین بہترطریقے سے انجام دیتے ہیں۔ شعرا ادابا تو اشارے کنائے سے تواریخ کے اوراق کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرادیتے ہیں جس کے تناظر میں بہت سے قدیم سے جدید تک کے معاملات وواقعات کے تصور ، ذہن میں ابھرتے ہیں اور وہ عبرت کے موجب بنتے ہیں۔ انھیں میں سے یہ روایت بھی گشت کرتی ہے کہ اغیار کو جب تک اپنوں کا ساتھ اور ہاتھ نہیں ملتا؛ دشمن کی بھی دال نہیں گلتی۔ اس کی صراحت کے لیے حکایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ بانس کی کوٹھیوںکی طرف سے ٹانگی (کلہاڑی) سے بھری ایک بیل گاڑی گزر رہی تھی جس کو دیکھ کر تمام بانس رونے لگے کہ اب ہماری خیر نہیں، ہم سبھی بیک وقت گاجرمولی کی طرح کاٹ دیے جائیں گے اور سرمایہ داروںکی تجوری بھرے گی۔ان کی عیش و عشرت میںمزید اضافہ ہوگا۔ان میں سے ایک جہاںدیدہ اور قوم کے بہی خواہ بانس نے کہا کہ دیکھو تو اس میں کوئی اپنی برادری کا بھی ہے۔مطلب، اس کلہاڑی میں دستہ لگا ہے!!! بغیر دستہ لگائے وہ کلہاڑی کسی کام کی نہیں ہے، وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑے گی۔معلوم ہوا کہ گاڑی پر لدی کلہاڑی بغیری دستہ کی ہے اور دستہ حاصل کرنے کے لیے یہاں بانس واری میں کھڑی کی گئی ہے۔ اس جہاںدیدہ اور تجربہ کار بانس نے بتایاکہ تب ڈرنے کی کوئی بات نہیں اور نہ ہی گھبرانے کی ضرورت ہے۔ان کوٹھیوںمیں ایک مفاد پرست اور جاہ پسند بانس یہ سب سن رہا تھا۔اس نے ٹانگی لدی گاڑی کے مالک سے رابطہ کرکے اپنی کوٹھی کے بانس مہیا کرانے کا وعدہ کرلیا جس کے عوض میں اس کو بہت مال و زر اور زمین و جائیداد مل گئی۔اس کی زندگی کا معیار بدل گیا۔ برادری میںاس نے اپنی انفرادی شناخت بنالی لیکن اپنے مربی کی طرف سے ہر تیکھی موڑ پر بے جا فرمان کی تعمیل اور قوم فروشی کے لیے ان کو مجبور کیاجانے لگا،وہ کٹھ پتلی بن گئے؛کٹھ پتلی کا جینا کیا اور مرنا کیا!! پھراس طرح کے افراد کا حشر جو کچھ ہوا، تواریخ اس کی شاہد ہے۔
٭
Dr. Abdul Barkat
University Professor
Iqbal Hasan Road, Quila Chowk , Near Jheel, P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842 003 (Bihar) Mob. : 8210281400
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

