تاریخ دعوت و عزیمت ایک شاہکار کتاب – : مرسلین احمد
میرے پسندیدہ مصنفین اور مؤثر شخصیات میں سے ایک حضرت الامام ابوالحسن علی ندوی ہیں جن کی ہر تحریر و تقریر اور حیات و کارناموں کو وفور شوق کے ساتھ پڑھتا ہوں اور سر دھنتا ہوں امام ندوی واقعی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیت و صالحیت کے جوہر بکھیرے ہیں ، وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے ، انہوں نے تن تنہا علم و عمل کی راہ میں جتنے کام کئے ہیں اتنا تو دور حاضر میں شاید کوئی تنظیم و تحریک بھی نہ کر پاۓ رفاہی و سماجی امور و معاملات ہو یا پھر ملک و ملت کے مسائل ہر گوشے میں انکے اندرون کی سوز و تپش ، بے چینی و بے کلی، تدبر و تفکر ، اور انکی مخلص قربانی و جہد مسلسل اظہر من الشمس ہیں، اتنی مشغول زندگی کے باوصف بھی تحریر و تسوید اور تصنیف و تالیف سے انکا رشتہ ایسا ہی تھا جیسا روح اور اور چولی دامن کا ہوتا ہے.
وہ کسی ایک فن کے ماہر نہیں تھے بلکہ تمام علوم و فنون پر انہیں کامل دستگاہ حاصل تھی، وہ جس موضوع پر لب کشائی کرتے حق ادا کر دیتے، ناقص و خشک گفتگو کرنا تو انکا حصہ تھا ہی نہیں۔ تفسیر و حدیث ہو یا عقائد و علم کلام یا پھر تاریخ و ادب سیر حاصل گفتگو کرتے ، مجمع میں کیف و سرور کا سماں بندھ جاتا تھا
اسکا بخوبی اندازہ انکی جمع کردہ خطبات کی کتابوں سے ہوجاۓ گا. دوسری جانب انکی مختلف علوم و فنون پر لکھی کتابوں میں تو یہ لطف اس وقت دوبالا ہوجاتا ہے جب آپ انکے عمدہ اسلوب کی اثر انگیزی اور تحقیق و ریسرچ کی کد و کاوش کو دیکھیں گے.
حضرت نے عربی اردو دونوں زبانوں میں خامہ فرسائی کی ہے وہ بھی خوب کی ہے مثلا ٪ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین ،المد و الجزر فی التاریخ، الأرکان الأربعۃ، الصراع بین الفکرۃ الإسلامية و الفكرة الغربية، إلى الإسلام من جديد، ردة ولا أبابكر لها، مختارات، إسمعيات، التفسير السياسي للإسلام ، المرتضی….. تاریخ دعوت و عزیمت ٥جلیں، پرانے چراغ ٣ج، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، سیرت سید احمد شہید ٢ ج، کاروان زندگی قرآنی افادات، خطبات علی میاں وغیرہ .
ان کے طرز تحریر میں بلا کی عمدگی و پختگی، سادگی و پرکاری، سلاست و روانی ، اصطلاحات و محاورات کا برمحل و برجستہ استعمال، طراوت و تازگی جاذبیت و رعنائیت، تصنع سے دوری، ملک و ملت کیلئے کڑھن ، افکار و خیالات کی بلندی، توازن و اعتدال، اور سحرطرازی و جادوگری ہر جگہ موجود ہے، خلاصہ یہ کی موضوع کیسا بھی ہو ادب کا دامن نہیں چھوٹتا ہے.
میرے سامنے مصنف علام کی عظیم تاریخی کتاب ” تاریخ دعوت و عزیمت ” کا پانچواں حصہ رکھا ہوا ہےجو بارہویں صدی ہجری کی انقلاب آفریں شخصیت ، مسند الہند، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حیات بےمثال کی عظیم دستاویز ہے،تاریخ دعوت و عزیمت کی مکمل جلدیں علامہ ندوی کی تاریخ سے وابستگی و وارفتگی، اور اسکے مالہ و ما علیہ پر کامل دسترس کا منہ بولتا ثبوت ہے،میں نے اسکی ٥ ویں جلد کوبار بار پڑھا ہے پھر بھی سیری حاصل نہیں ہوئی ، یہ معلومات کا خزینہ ہے، یہ کہنا سراسر نا انصافی ہوگی کہ یہ فقط شاہ صاحب کے حالات پر مشتمل ہے ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں ١٢ ویں صدی ہجری کی مکمل (اجمالا ) روداد موجود ہے ، اسکے نشیب و فراز، شروفسآد ، طوائف الملوکی و اجتماعی بدنظمی، خانہ جنگی و سیاسی بد امنی، بد اخلاقی و اعتقادی کمزوری، شرک و بدعات کا زور، تین خطرناک جنگجو طاقتوں ” جاٹ، مرہٹہ، اور سکھوں کی انتشار انگیزی، شورش و بلوی اور حملہ آوری، مغلیہ سلطنت کی حالت احتضار ،اورنگ زیب کی اولادوں کی عیاشی ، خودغرضی و جاہ پسندی، کاہلی و نااہلی، اندرونی اختلاف و کشمکش،، ان نا مساعد حالات میں شاہ صاحب کا بالکل مطمئن اور یکسو ہوکر بے مثال و نایاب کتابیں وجود تحریر میں لانا، وقت کے حکمرانوں اور وزراء سے خط و کتابت کرنا اور اسکے ذریعے انکو راہ راست کی طرف مدعو کرنا، پوری جرأت و بیباکی کے ساتھ انکے کار غلط اور انکی بے راہ روی پر تنقید کرنا ، اور زمانے کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھنا.
یہ سب اتنے خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے کہ کہیں بھی کسی قسم کا بوجھل پن معلوم نہیں ہوتا ، بلکہ انکا اشہب قلم اس طریقے سے نقشہ کھینچتا ہے کہ قاری انکے سحر طراز اور معلومات سے پر قلم کو داد تحسین دئے بغیر نہیں رہ سکتا
*عالم اسلام میں عمومی طور پر جمود و تنزل پایا جاتا تھا، اخلاق و معاشرت میں فساد آچکا تھا، اہل عجم اور غیر مسلموں کے بہت سے شعائر اور انکے عادات مسلمانوں نے اختیار کر لئے تھے، حکام میں خود سری ،اور سلطنتوں میں مطلق العنانی پائ جاتی تھی، امراء اور اغنیاء کا طبقہ دولت و تمول کے بڑے اثرات سے متاثر اور بہت جگہ” مترفین” کے اخلاق و رجحانات کو اختیار کر چکا تھا، معاشرہ کے بہت سے طبقوں پر کسل مندی،تعطل، سرکار دربار سے وابستگی، اور تملق و خوشامد کی عادت غالب آگئی تھی، بہت سے حلقوں میں توہمات کا زور تھا ، توحید خالص سے بیزاری کے نمونے نظر آتے تھے*
اولاد عالمگیر کے سلسلے میں بڑے زوردار اور غیرت وحمیت سےپر انداز میں تحریر فرماتے ہیں کہ
* لیکن اورنگ زیب کے بعد اسکے عظیم و پرجلال تخت پر اسکی اولاد کے وہ لوگ آۓ جنہوں نے گویا قسم کھائی تھی کہ عالمگیر سے حمایت و حفاظت اسلام ، احیاء دین اور اجراء سنت کی جو غلطی ہوئی تھی ” وہ اسکی تلافی کریں گے، نیز سلطنت کے حدود میں جو توسیع کی تھی ، ہندوستان کے نظم و نسق کو اپنی بیدار مغزی ، مستعدی، اور فرض شناسی سے جو استحکام بخشا تھا، عوام و فتنۂ پردازوں پر جو رعب قائم کیا تھا ” اپنی تعیش پسندی ، کاہلی و نا اہلی، اندرونی اختلاف و کشمکش ، خود غرض و جاہ پسند ارکان سلطنت و وزرا پر کلی اعتماد اور امور سلطنت سے غفلت کے ذریعہ اس” گناہ” کا مسلسل کفارہ ادا کرتے رہے*
مسند الہند رح کے حیات و کارناموں کے جن جن لوگوں پر خامہ فرسائی کی ہے سیر حاصل بحث کی ہے ، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوگا کہ مزید کسی کتاب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ، ایسے تو پوری کتاب ہی جامعیت کی اعلی مثال ہے، لیکن مصنف کے قلم نے اصلی جوہر اس باب میں دکھا ۓ ہیں جس میں شاہ صاحب کی بے مثال اور عبقری و شاہکار کتاب *حجۃ اللہ البالغہ* پر بحث کی ہے ، اس باب میں مصنف رح کی فہم و فراست ، تفہیمی صلاحیت اور زور قلم کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ بعثت مقرونہ کے موقع پر لکھتے ہیں
* شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ سب سے کامل بعثت اس نبی کی ہوتی ہے جس کی بعثت ” مقرون” ہوتی ہے ، یعنی اسکی بعثت کے ساتھ ایک پوری قوم تبلیغ و دعوت پر مامور اور اسکے فیض صحبت سے تیار ہوکر دوسرے انسانوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنتی ہے، نبی کی بعثت بالاصالت ہوتی ہے، امت کی ماموریت بالواسطہ و بالنیابہ ہوتی ہے*
الغرض! یہ کتاب مصنف کی انتھک محنت و کوشش اور عمدہ اسلوب کا اعلی نمونہ اور انکی شاہکار کتابوں میں سے ایک ہے، جو بارہ ابواب پر مشتمل ہے جسمیں بارہویں صدی ہجری پر مختصر مگر جامع تبصرہ ہے ۔
شاہ صاحب کے حالات، کارناموں، تالیفات و تصنیفات پر سیر حاصل بحث ہے اور انکی عظیم اولاد و ارشد تلامذہ کے اجمالی خاکے موجود ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ مؤرخ ندوی کی حیات و خدمات کو قبول فرماۓ اور ہمیں انکے نقش قدم پر گامزن فرماۓ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

