اٹھ کے اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے ! – کاشفہ شفق مون

by adbimiras
0 comment

‏ہم نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے آپ کو آنے والے زمانے کے لیے تیار کریں، دشمن ہمارے لیے تیار ہے تمام دیگر طبقات سے زیادہ ہم نوجوانوں کی آمادگی کی ضرورت ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ تزکیہ نفس کریں، اور دنیا کی محبت کو دلوں سے نکال دیں کیوں کہ اب ہمارے پاس وقت بھی بہت کم ہے ۔۔۔۔۔۔ اور قیامت آنے کی نشانیاں بھی ہم دیکھ رہے ہیں ، نبی آخر الزماں کی پیش گوئیاں بھی پوری ہونے لگی ہیں۔۔۔۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے عربوں نے دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنا لیں، مگر ہم کہاں کھوئے ہوئے ہیں ۔۔۔؟ ‏ انسانی ظلم و ستم سے یہ زمین بار بار لرز رہی ہے آسمان کی آنکھ دیکھ رہی ہے کہ ظلم و فساد سے بھر دینے والا انسان اب زمین کا ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے ، انسان کو بار بار ہلایا جا رہا کبھی زلزلے کی شکل میں تو کبھی کرونا وائرس کی شکل میں، تو کبھی طوفانی بارشوں کی شکل میں مگر انسانیت ہوش میں نہیں آئی،۔۔۔۔ ہم تمام نوجوانوں کو جاگنا ہوگا ہمیں اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنا ہوگا، ہماری عمر پگھلتے برف کے مانند ہے نہ جانے کب ختم ہوجائے۔۔۔۔۔اور ہمیں پچھتاوے کے علاؤہ کچھ ہاتھ نہ آئے۔ عزیز بہنوں ! ہمیں مجاہدہ بننا ہے ، ہمیں اسلام کا داعی بننا ہے، اور ہمارا مقصد اللہ کے زمیں پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہونا چاہیے ۔۔۔۔ دنیا ہمارے بارے میں کیا بول رہی ہے اس پر دھیان مت دیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر انسان کو اس کے کاموں کے مطابق جواب دہی ہونا ہے ۔۔وہا پر دنیا ہماری سفارش کرنے نہیں آئے گی ۔۔ دنیا ہمارے بارے میں بہت کچھ بولے گی ، بولنے دیں، ہمیں ہمارے کاموں سے روکنے کی کوششیں کرےگی ، دنیا ہمارے سامنے مظبوط چٹانوں کے مانند حائل ہو جائے گی لیکن ہمیں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹانا ہے ۔۔۔۔ کیوں کہ ایک داعی کبھی بزدل نہیں ہوتا ۔۔۔۔ میرے عزیزو! پھر سے کہہ رہی ہوں کہ ہمیں اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنا ہوگا، ۔۔۔۔۔ہم کچھ نہیں کر رہے اس دنیا کے لیئے جہاں ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے رہنا ہے ۔۔ عزیز بہنوں! ہم لڑکیاں تو رب کائنات کی سب سے خوبصورت اور دلکش تخلیق ہیں ہم اپنے رب کی رضا سے الحمدللہ سب رشتوں کی بنیاد ہیں ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر وہ تمام صلاحیت عطا کی ہیں کہ ہم جس رشتے میں بھی ڈھل جائیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تصویر کائنات میں رنگ بھر دیتے ہیں ۔۔۔ بہنوں ہم لڑکیاں قدرتی طور پر زمہ داریوں سے بندھے ہیں۔۔ ہمیں اپنی زمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا اور اسے دل سے قبول کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔ ہماری گود میں مجاہدین، شہدا ،اور غازی اولادیں پروان چڑھنے ہیں اور انشاء اللہ ہمارے فرزندوں کے تلواروں سے القدس ، قرطبہ جیسی مسجدیں فتح ہونے ہیں ۔۔۔۔۔ بہنوں ہمیں اپنے وقار کو پہچاننا ہوگا ہم اسلام کی شہزادیاں ہیں (الحمدللہ) اور میرے بھائیو۔ ! ‏باطل پرست یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہمارا وجود مٹا دیں گے،یہ بس انکا بظاہر خوبصورت خیال ہے۔۔۔۔یہ بات صحیح ہے کہ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے آج ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ جس دن ہماری قوم بیدار ہوگی اس دن باطل پرستوں کی تمام سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔(انشاء اللہ) عزیز بھائیوں اب تو جاگ جانا ہے اب ہمارے پاس وقت بلکل بھی نہیں کیوں کہ ہم سب نے قیامت آنےکی ساری نشانیاں دیکھ چکے اگر اب بھی نہ جاگیں تو ہماری کوتاہی ہوگی ۔ ! اور تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے بقول اقبال تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق عطا فرمائے( آمین)

 

 

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment