اس نے جس وقت شمال کی طرف سے اس وادی کا رخ کیا ۔اس کی تو اڑان میں ہی فرق آگیا ۔کبھی وہ پرندوں کے ساتھ اٹھکلیاں کرنے لگی تو کبھی ہری بھری فصلوں کے ساتھ ،کبھی لہرا کے اپنے پھن پھلاتی اور کبھی سمٹ کر ایک طرف نکل جاتی ۔اتنے میں ہوا کا ایک سرد جھونکا جنوب کی طرف سے آیا اور آتے ہی اپنی جگہ پر ایک نئی ہوا کو دکھ کر سیخ پا ہو گیا ۔اس جھونکے کو شمال کی جانب سے داخل ہونے والی نئی ہوا اس وادی میں ایک آنکھ نہیں بھائی جبکہ شمال کی طرف سے آنے والی گرم ہوا کو یہ وادی کچھ ذیادہ ہی پسند آئی ،وہ اسی سرشاری کے عالم میں مسلسل جھومے جا رہی تھی۔اتنے میں جنوب کی جانب سے آنے والی سردہوا کے جھونکے نے مخالف سمت کا رخ کیا اور تیزی سے پلٹ کر واپس آئی اور گرم ہوا کو زور دار جھٹکا مارا ۔جس سے گرم ہوا پیچھے ہٹ گئی اور ایک جگہ پر رک کر اس اجنبی ہوا کو دیکھنے لگی جس کا وجود برف کی طرح سر د تھا ۔ گرم ہوا کے وجود میں اس ٹکراؤ سے سردی کی لہر دوڑ گئی۔اتنے میں سرد ہوا کے جھونکے نے کوئی بات کیے بغیر گرم ہوا کو ایک اور دھکا دیا ۔سرد ہوا کے جھونکے نے گرم جھونکے کو مخاطب کیا ؛
”یہ جگہ میری ہے ،یہاں میری مرضی چلتی ہے،میری اجازت کے بغیر یہاں کوئی نہیں آتا ،اس لیے تم میرے علاقے سے نکل جاؤ ،مجھے تمھارا ایک پل کے لیے بھی یہاں ٹھہرنا برداشت نہیں ہے۔”
سرد ہوا کے تیور دیکھ کر گرم ہوا کو بھی غصہ آ گیا۔اس نے سرد ہوا کو بولا؛
”کر لو جو کرنا چاہتی ہو ،مجھے تم یہاں سے ہر گز نہیں بھیج سکتی ۔”
سرد ہوا کو گرم ہوا کے جھونکے کے جواب سے مزید طیش آ گیا۔اب اس نے تیزی سے ٹھنڈے بادلوں کا رخ کیا اور انہیں لے کرگرم ہوا کو پھر سے ٹکر مارنے کی کوشش کی ۔ اب تک یہ جھونکا بھی سنبھل چکا تھا۔یہ کچھ پیچھےسرک گیا۔مگر اب باری اسی گرم جھونکے کی تھی اس نے بھی گرم بادلوں کو لے کر سرد ہوا کے جھونکے کی طرف رخ کیا ۔ان دونوں کا آپس میں تصادم شروع ہو گیا ۔آسمان کی گرج چمک سے زمین پر کپکپی طاری ہو گئی۔اس لڑائی کی وجہ سے وادی میں موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔آندھیوں نےبھی موقعے سے فائدہ اٹھا کر اس وادی کا رخ کیا ۔ہر کسی کو موقع مل گیا۔ سب نے اپنے دل کے ارمان نکالے۔ایک ہفتے کے اندر اندر اس خوبصورت سر سبز وادی کا نقشہ ہی بدل گیا،مسلسل بارش کی وجہ سے وادی کے سب ندی نالوں کا پانی لوگوں کے گھروں سے راستہ بنانے لگا،وادی سے گزرتے دریا نے طوفان کی صورت اختیا ر کر لی ،بارش کے پانی کی تیز دھاروں نے زمین کا کٹاؤ شروع کر دیا ،آندھیوں نے کھڑی فصلوں کو زمین بوس کر دیا،درخت اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائے،سارا اناج بارشوں کی نظر ہو گیا،وادی کا کوئی بھی گھر اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکا،ان ہواؤں نے اس وادی کی ساری خوبصورتی اور یہاں بسنے والی معصوم کی جانیں نگل لی،وادی کے لوگوں کاکوئی پرسان حال نہ رہا۔
ایک ہفتے سے جاری اس لڑائی کے بعد ہوائیں تھکی اور ان کا غصہ کچھ ٹھنڈا پڑا تو دماغ بھی کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا۔دونوں کی نظر یں ایک ساتھ وادی کی طرف گئیں اور پلٹنا بھول گئیں ۔حیرت و پریشانی سے دونوں کے منہ کھل گئے۔جس وادی کے لیے وہ دونوں لڑرہی تھیں وہاں اب کچھ بھی نہ بچا تھا۔جس غلطی کا احساس انہیں ایک ہفتے میں نہیں ہوا اس ایک نظر نے انہیں احساس دلا دیا مگر؛
”اب پچھتائے کیا ہوت جب چیڑیاں جگ گئیں کھیت۔”
کومل ممتاز
مانسہرہ بالاکوٹ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

