دوپہر کا وقت تھا ۔ سپنا نے کالج سے آتے ہی اپنا فیس بک کھولا ، تو دیکھا کہ کسی انجان آئی ڈی سے اسے دوستی کی التجاء اور ساتھ ہی میں اسی آئی ڈی سے اس کے ان باکس میں ایک” سلام اور کیسی ہو؟” کا پیغام بھی پڑا تھا۔ سپنا نے دوستی کی التجاء کو حزف کیا اور آئی ڈی بند کرکے کھانا کھانے کےلئے چلی گئی۔
دوسرے روز اس نے پھر جب آئی ڈی کھولی تو دیکھا اسی آئی ڈی سے پھر دوستی کی التجاء اور سلام کا پیغام آیا تھا۔ سپنا نے بغیر سوچے سمجھے اس کو "وعلیکم السلام” کا جواب بھیج دیا ۔ اس نے فوراً بات چیت شروع کی جس پر سپنا نے اسے کہا کہ "میں آپ کو نہیں جانتی تو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی”۔
آئی ڈی بند کی اور کالج کے کاموں میں مصروف ہوگئی ۔ سپنا کے سالانہ امتحانات میں کچھ عرصہ باقی تھا ۔ وہ پڑھائی میں اتنی مصروف ہوگئی کہ اس نے پورا ایک مہینہ بعداپنی آئی ڈی کھولی تو دیکھا ۔ اسی انجان آئی ڈی سے اس کےلئے بہت سارے پیغامات پڑے تھے ۔ سپنا پیغامات پڑھنے لگی کہ اچانک” اسلام کا پیغام ایا”۔ سپنا نے” وعلیکم السلام کا جواب دیا”اور اس کے ساتھ باتیں کرنے بیٹھ گئی ۔ دو تین گھنٹے گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ سپنا کو امی نے آواز دی کہ” آجاؤ بیٹا کھانا کھالو” تو اس نے اللّٰہ حافظ کہہ کر آئی ڈی بند کی اور کھانا کھانے کےلئے چلی گئی۔
کھانا کھانے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر وہ پھر آکر فیس بک کھول کر بیٹھ گئی۔
ایک ہی دن میں وہ اس کے ساتھ اتنا گھل مل گئی تھی کہ اس نے سارا دن کچھ نہیں کیا ،اور اس انجان آئی ڈی کے ساتھ باتیں کی ۔ وہ ان دنوں فارغ بھی تھی۔ امتحانات ختم ہوگئے تھے۔
وہ پہلے کبھی کبھی اپنی آئی ڈی کھولتی تھی، اب وہ روز فیس بک پر گھنٹوں گھنٹوں تک آن لائن رہتی ۔ ان سے باتیں کرتی اور تمام دن کی سرگزشت اس کو بیان کرتی کہ” آج میں نے یہ کیا ، وہ کیا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔”
یہ عارضی تعلق سپنا کےلئے بہت اہم ہوگیا تھا۔ ایک دن طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے سارا دن سپنا ان لائن نہیں ہوئی تھی۔ دوسرے روز جب آن لائن ہوئی، تو اس کے ان باکس میں عفان نام کی آئی ڈی سے بہت پیغامات پڑے تھے۔ جس میں کچھ غصے کے تھے کچھ فکرمندانہ ۔ "کہ کہا ہو تم؟آن لائن کیوں نہیں آرہی تھی؟ ” سپنا مسکرائی اور جواب میں لکھا ” میں بیمار تھی” عفان فوراً آن لائن ہوا اور جواب دیا” کیوں کیا ہوا ہے میری دوست کو؟” سپنا نے کہا کہ” یار بہت تیز بخار تھا۔عفان نے اوہو کیا اور کہا "کہ اب کیسی ہے طبیعت ہے”سپنا نے جواباً کہا کہ اب میں ٹھیک ہوں ” عفان نے کہا کہ "مجھے بہت فکر ہورہی تھی کہ تم کہا اچانک غائب ہوگئی ہو”مزید لکھا کہ ایسا کرو نہ تم مجھے اپنا موبائل نمبر دے دو” سپنا نے تو پہلے انکار کیا کہ "نہیں بس یہی بات کرتے ہے نہ۔ "عفان نے کہا کہ” پلیز دے دو اب کے بعد اگر ایسا ہوا تو تمہاری خیریت تو معلوم کرسکوں گا نہ ” سپنا نے پھر انکار کیا، جس پر عفان نے کہا "کہ اگر اتنا نہ اعتبار ہوں تو پھر بات کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔؟اور آف لائن ہوگیا۔ سپنا نے بہت پیغامات بھیجے معذرت بھی کی لیکن وہ دو دن تک آف لائن رہا۔ تیسرے دن جب آن لائن ہوا تو سپنا کے پیغامات دیکھے اور کوئی جواب دئیے بغیر پھر آف لائن ہوا ۔ سپنا نے پھر پیغامات بھیجے "کہ بات کرو میں معافی مانگتی ہوں آپ سے ۔” پھر عفان آن لائن ہوا اور کہا کہ "جی بولو ؟”سپنا نے کہا "کہ میں دے دوں گی موبائیل نمبر… ” جس پر عفان نے کہا "نہیں” اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے اپنی اوقات کا پتہ چل گیا ہے۔”سپنا نے بغیر سوچے سمجھے نمبر بھیج دیا کہ” اب تو مان جاؤ مجھے ہے آپ پر اعتبار”۔ اسی سےہی دونوں میں موبائل کے ذریعے رابطہ شروع ہوا۔ سپنا چھپ چھپ کر پڑھنے کا بہانہ کرکے چھت پر جاتی اور ان سے گھنٹوں گھنٹوں موبائل پر باتیں کرتی تھی ۔سپنا کو عفان کی باتیں اچھی لگ گئی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ عفان سے محبّت کرنے لگی ہے لیکن اظہار نہیں کرہی تھی۔ ایک دن عفان نے سپنا سے کہا کہ” وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے بغیر جی نہیں سکتا "۔ سپنا بھی دل ہی دل میں عفان کو چاہتی تھی اس نے بھی اظہار کیا کہ "وہ بھی اس محبت کر رہی ہے اور اس کے ساتھ زندگی جینے کے بہت خواب دیکھ چکی ہے”.عفان نے پہلے ہی سے منگنی کر رکھی ،اور اس کے ساتھ بھی وعدے کررہا تھا۔ کہ "میں تم سے ہی شادی کروں گا۔ تمہارے بغیر میں کچھ بھی نہیں، مر جاؤں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ ” سپنا سے مطالبات شروع کرنے لگا کہ "مجھ سے یہاں آکر مل لو اور وہاں آکر "سپنا بھی محبت میں اندھی ہوکر کبھی سہیلی کے گھر کا بہانہ کرتی ،تو کبھی کوئی دوسرا بہانہ کرکے اس کے پاس ملنے چلی جاتی۔
جیسے جیسے تعلق بڑھتا گیا سپنا کے دل میں عفان کےلئے محبت میں اضافہ ہوتا گیا اور عفان کے دل سے سپنا نکلتی گئی۔ کیوں کہ عفان کے دل میں اس کے لیئے کوئی عزت احترام باقی نہیں رہا تھا ۔ اسے بس وقت گزاری کےلیے ایک کھلونا چاہیے تھا جو اسے مل چکا تھا ،اور اسی ہی کے اشاروں پر ایک بندر کی طرح ناچ رہی تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ دونوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوئی۔ عفان سپنا کو گالیاں دیتا، برا بھلا کہتا اور وہ چھپ چھاپ سنتی تھی، کیوں کہ وہ بے بس تھی ۔ ایک دن لڑتے لڑتے عفان نے اس کو بتایا کہ” میں منگنی کر چکا ہوں اور میرا نکاح بھی ہوچکا ہے ۔”جس کو سنتے ہی سپنا کے پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی اور وہ زار و قطار رونے لگی ۔ اس کے منتیں کرنے لگی کہ ” عفان کہہ دو کہ یہ تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ ایسا مت کہو میں نہیں رہ سکتی تمہارے بنا”۔
جس پر عفان غصے میں بولا کہ "مر جاؤ میرا کیا ہے ۔ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ میں تم کو پسند کرتا ہوں۔ بس دوستی کا رشتہ تھا اور اب وہ بھی مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ختم کرنی چاہیے۔”
سپنا سسک سسک کر رو رہی تھی۔ عفان کو خدا کے واسطے دے رہی تھی کہ "خدا کےلیے مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ۔ خیر ہے تم بے شک نہ کرو، محبت میں تو تم سے اپنی جان سے بھی زیادہ کرتی ہو” ۔ سپنا خدا کے واسطے دے رہی تھی اور اسے اپنے محبت کا یقین دلا رہی تھی کہ عفان کی طرف سے کال منقطع ہوا ۔ تو سپنا نے جلدی جلدی دوبارہ ملایا .تو جواب میں آیا ” کہ آپ کا ملایا ہوا صارف اس وقت مصروف ہے”۔
شائد وہ کسی اور کے ساتھ مصروف ہوگیا تھا۔
سپنا میسجز لکھتی رہی اور رو رو کر آواز خراب کرلی تھی۔ آنکھیں بھی لال ہوگئے تھے۔ امی نے کمرے میں آکر وجہ پوچھی تو سپنا نے طبعیت کا بہانہ بنایا اور کہا ” امی سر میں بہت درد ہے تو اس وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ ” امی کمرے سے گئی .کہا!”اچھامیں تمہارے لیے سر درد کی گولی لیکر آتی ہوں۔” سپنا دوبارہ کال کرنی لگی اور ساتھ میں اس کو عفان کی وہ بات یاد آگئی کہ "میرے کزن کا ایک لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا تھا ۔ پھر اس نے شادی کرکے اس لڑکی کو ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے چھوڑ دیا ۔” یہ بات سپنا کے ذہن میں تھی کہ عفان نے کال اٹھا کر سپنا کو باتیں سنانے شروع کردی اور اسکو کہا کہ” میں تجھے بلاک کر رہا ہوں”۔
سپنا کو بات کرنے کا موقع بھی نہ دیا کال کاٹا اور سپنا کو بلاک کردیا۔
جس پر سپنا نے اپنا موبائل زمین پر دے مارا اور پلنگ پر لیٹ گئی ۔
وہ اپنی غلطی پر پچھتا رہی تھی کہ "میں نے کیسے دھوکا کھایا ؟ کیوں میں اس کی باتوں میں آگئی تھی؟ ” رو رو کر اپنے آپ کو دو تین روز کمرے میں بند کرلیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ وہی باتیں وہی یادیں اسکو ستا رہی تھی ۔
اس نے وقت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا اور کالج کے پڑھائی میں خود کو مصروف کرلیا، لیکن پھر بھی جب وہ اس کے ہم نام کو بھی دیکھتی تو اس سے نفرت کرتی۔ ہر شخص اس کو عفان کی طرح جھوٹا ،مکار اور فریبی لگتا ۔لیکن نا چاہتے ہوئے بھی وہ نفرت نہیں کر پارہی تھی کیونکہ عفان سے وہ جنون کی حد تک محبت کر رہی تھی۔
پانچ، چھہ مہینے بعد سپنا کی ملاقات اتفاقاًعفان کی کزن عروج سے کالج میں ہوئی ۔ جو داخلے کے سلسلے میں کالج آئی ہوئی تھی۔ سپنا نے عروج سے اپنا تعارف کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہا سے آئی ہے؟۔ عروج نے بتایا کہ وہ رجڑ سے آئی ہوئی ہے ۔ باتوں باتوں میں اس نے عفان کے والد کا کہا کہ وہ میرا چچا ہے ۔ سپنا نے فوراً عفان کا پوچھا کہ وہ کیسا ہے ؟ کیا کر رہا ہے؟ عروج نے کہا کہ آپ جانتی ہو اس کو تو سپنا نے کہا کہ "نہیں لیکن ایک دو بار زکر سنا تھا اپنے بھائی سے” ۔وہ ابھی بھی اس سے محبت کرتی تھی ۔ عفان کی کزن عروج کو شک تو ہوا لیکن اچھا کہہ کر اس نے سپنا سے کہا ! کہ "اگلے ہفتے اس کی شادی ہے ۔ ” یہ سن کر سپنا کچھ نہیں کہہ پائی اور چھپ چھاپ بیٹھ گئی ۔ پھر عروج سے پوچھا ” کہ کیسی ہے وہ لڑکی ؟ کیا وہ بہت خوبصورت ہے؟۔
جس پر عروج نے کہا کہ نہیں بس عام شکل و صورت ہے اس کی۔ ” سپنا اٹھ گئی کہ اچھا اور کالج کے انتظامیہ دفتر جاکر اپنی طبیعت کے خراب ہونے کا کہا تو انہوں نے کہا کہ "آپ درخواست لکھ کر پرنسپل صاحبہ سے دستخط لے کر آؤ۔ ” سپنا نے درخواست لکھا اور میڈم سے دستخط کرکے چٹھی لے لی۔ کالج سے نکل گئی ۔ بہت اداس تھی ۔ کسی رکشہ ،ٹیکسی میں نہیں بیٹھی بس پیدل چل رہی تھی۔ خدا سے شکوے کر رہی تھی کہ "اے اللہ اگر ملانا ہی نہیں تھا، تو پھر کیوں میرے دل میں اس کےلیے محبت پیدا کردی؟” کیوں میں اس کو نہیں بھول پا رہی؟” ٹیکسی ،رکشے اس کے پاس کھڑے ہوتے اور پھر روانہ ہوجاتے۔
سپنا انہی سوچوں میں گم گھر پہنچی اور سیدھا اپنے کمرے میں گھس گئی ۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا بس سوچوں میں گم لیٹی رہی ۔ رات کو اس کو بہت تیز بخار ہوگیا ۔ گھر والے اس کو معالج کے پاس لے گئے لیکن اس کی طبعیت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ کیوں کہ اس کا جسم نہیں بلکہ روح بیمار تھا ۔ وہ ٹوٹ چکی تھی ۔ ایک ہفتہ کالج سے غیر حاضر رہی ۔ ہفتہ گزر گیا ۔ اور وہ دن آگیا جو سپنا کےلئے قیامت کا دن تھا ۔ اتفاق سے عفان کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیا یا پھر سپنا کے دل جلانے کےلیے اسکو کال کیا۔ کچھ وقت اس نے سپنا سے بات کی اور اس سے کہا کہ "اپنی زندگی میں آگے بڑھو آج میری شادی ہے ۔ میں ہمیشہ کےلئے اب اس کا ہونے جارہا ہوں ۔اب تم بھی یہ روگ چھوڑ دو اپنی زندگی پر توجہ دو اور آگے بڑھو ” سپنا نے کوئی سوال کوئی جواب کچھ بھی نہ کہا، جبکہ اس کا سینہ پھٹ رہا تھا۔ وہ اسے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن نہ کہہ پائی۔موبائیل بند کیا اور امی کے کمرے میں چلی گئی۔
الماری سے امی کے نیند کی گولیاں اٹھا کر سارے کھا لی اور جائے نماز پر سجدے میں گر گئی۔ اور ماتھا ٹیک کر بلک بلک کر رونے لگی کہ "خدایا مجھے معاف کر مجھ میں اور برداشت نہیں ہے۔ میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے ۔ مجھے معاف کر۔۔۔۔ میں نے تو ہر کوشش کی ۔ اس کو بہت چاہا آپ سے بھی التجائیں کی ۔ کہ "اللّٰہ میاں اسے میرے نصیب میں لکھ دو” وہ کب کا چھوڑ چکا تھا مجھے۔۔۔ خدایا لیکن میرے دل میں ایک امید تھی، کہ وہ آئے گا لیکن وہ اب تو میرا نہیں بلکہ کسی اور کو مل رہا ہے۔ "خدایا اس نے میرے محبت کو ٹھوکر مار دی ۔ رو رہی تھی اور اپنے دل کا غبار اتار رہی تھی۔ خدا نے بھی شاید اس پر رحم کھا کر اس کا سخت وقت ختم کردیا،اور وہ جائے نماز سے نہ اٹھ سکی ۔ بس وہی پر خداسے جا ملی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

