سانسوں کی مالاجب تک باقی رہے گی شایدوہ دن بھول نہیں سکوں گا۔ وہ دس بارہ برسوں میں پہلادن تھا،جب میں اس جادوگرکو غم زدہ دیکھ رہاتھا۔الجھا ہوا۔فکرمند،شیو بڑھی ہوئی،وہ تو ایساجادوگر تھا،جس کاجادو بالخصوص نوجوانوں کے سرچڑھ کربولتا تھا۔لوگ اسے اپنا آئیڈیل مانتے تھے ۔لکھتاتوکھاناپیناسب کچھ بھول جاتا۔بولتاتوموتی رولتا،بولنے میں ایسا طاق کہ سامعین اپنا وجود بھول کر اسے سنتے ۔برصغیرکی بہت سی ہندی واردولکھنے والیاں اس پرجان چھڑکتی تھیں اور وہ اپنی تبسم پر۔دونوں قیدحیات وبندغم ایک ساتھ جھیلتے رہے ،سانسوں کی مالاٹوٹی تودونوں کی ایک ساتھ ٹوٹ گئی۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کرجادوگر آوازدیتااوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں کے سہارے بلا تاخیر پہنچ جاتیں ۔بالکل اسی طرح جادوگر نے قبرستان سے آوازدی اور وہ وہاں بھی تاخیرکیے بغیرپہنچ گئیں ۔
وہ 28مارچ2021کادن تھا،سہ پہرکاوقت ،میں جادوگر سے ملنے اس کے گھرپہنچا،مردہ خانہ میں عورت کی کاپیوں کے درمیان جادو گر اداس بیٹھاتھااورپوسٹ کرنے کے لیے کتابیں انولپ میں پیک کررہاتھا ۔گذشتہ دس بارہ برسوں کے دوران کی ملاقات کے برخلاف یہ ملاقات کافی مختصررہی۔میں حیرت زدہ تھا،اس کی اداسیاں مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھیں۔لیکن میں کچھ پوچھ بھی نہیں سکا۔ خودہی بتایاکہ تبسم بیمار ہیں ۔تب اداسی کی وجہ سمجھ میں آئی ۔
وہ جادوگرمشرف عالم ذوقی تھے،جو اردو اور ہندی کی دنیامیں معروف ہیں ۔تقریبا دوتین سو افسانے اور پندرہ ناول انھیں ہندوستان کے اہم ترین لکھاریوں میں شامل کرتے ہیں ۔اکیسویں صدی میں کسی نے انھیں کرشن چندرسے ملایاتوکسی نے قلم کامزدورکہہ کران کاموازنہ پریم چندسے کرنے کی کوشش کی ۔انھوںنے بھی کبھی خود کوترقی پسندوں سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔وہ خودکہتے تھے کہ بنیادی طورپرمیں ترقی پسندہوں ۔لیکن انھوں نے کبھی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوکرسیاسی فائدے یاعہدے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔وہ اپنے نظریے کی بناپراپنے فن پاروں اورشاہ پاروں کے نظریات اورموقف کی وجہ سے بآسانی ترقی پسندکہے جاسکتے ہیں ۔وہ اپنے اندازاوراسلوب کی بناپرترقی پسندتھے،وہ باضابطہ ترقی پسندمصنفین کی تحریک سے وابستہ تھے یانہیں مجھے اس کاعلم نہیں البتہ گمان غالب یہی ہے کہ وہ تحریک میں بحیثیت رکن شامل نہیں تھے ۔چوں کہ کسی کو فالو کرنا، کسی خاص گائڈلائن کے مطابق لکھتے رہنا،کسی مخصوص قسم کے جلسے میں برابرشرکت کرنا،نعرے بازی کرناان کے بس کی بات تھی ہی نہیں ۔وہ ایک باغی قسم کے انسان تھے ،جب انھیں اختلاف کے لیے کوئی مناسب انسان نظرنہیں آتاتووہ خود سے الجھتے ،خود سے اختلاف کرتے ،ایک بار وہ خود کو جوڑتے اور پھرخودکوہی کاٹ دیتے ۔ایک سیمابی صفت ،انسانی محبت کا اسیر انسان تھے وہ ۔وہ دنیاوی سود و زیاں سے اوپر اٹھ کرسوچنے والے اورلکھنے والے قلم کارتھے ۔وہ اپنے قلم کے ذریعہ مفادات کے حصول کے لیے کوشاں کبھی نہیں رہے ،وہ اپنے ناولوں کوپروجیکٹ کرتے تھے،نوجوانوں سے اپنے ناول اورافسانے پڑھوانا چاہتے تھے ۔لیکن مالی مفادات کے حصول کے لیے نہیں ۔وہ خود کوسب سے بڑا اردومصنف ،ناول نگاراورافسانہ نگاردیکھناچاہتے تھے ۔ جیسے ہی مارکیٹ میں کوئی نیاناول آتاوہ بے چین ہوجاتے،انھیں لگتاکہ شایدمیں کہیں پیچھے چھوٹ رہا ہوں اور وہ قلم کاغذلے کربیٹھ جاتے ۔وہ ہیلدی کمپٹیشن کے قائل تھے،کسی کے خلاف جتھااکٹھانہیں کرتے ، جولوگ ان کے خلاف ہوتے ،عموماوہ ان کاجواب بھی نہیں دیتے ۔ وہ دوچارکام مسلسل اورتھکے بغیرکرتے تھے ۔ان میں (1) سگریٹ کے کش کے ساتھ سوچنا(2)لکھنا(3)نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اورانھیں لکھنے اور پڑھنے کی طرف مائل کرنا(4)اوراپنی تبسم کی تعریف کرنااوران کی حوصلہ افزائی کرنا ۔
ان کے افسانوں اورناولوں کاایک واضح نظریہ تھا،جس سے وہ کبھی کمپرومائزنہیںکرتے تھے ۔کسی کے برابھلاکہنے یانشاندہی سے گھبراتے بھی نہیں تھے۔ان ہی لکیروں پروہ تیزدوڑرہے تھے ،جن لکیروںکے خالق وہ خودتھے اوروہ اس سلسلے میں کبیرداس، سورداس،مولاناروم اوراقبال سے بھرپورفائدہ اٹھاتے تھے ۔شایدہی ان کاکوئی افسانہ یاناول ہو،جس میں روم اوراقبال کے اشعارسے استفادہ نہ کیاگیاہو،اقبال کے بھی ان اشعاراوران نظریات سے وہ فائدہ اٹھانے کے قائل تھے ،جس میں تصوف یابھگتی کارنگ گہرا ہو،جس میں عشق اورعشق کے اثرات نمایاں ہوں ۔شایدعشق نے ہی انھیں رومی اوراقبال کاگرویدہ بنادیا تھا۔وہ دوسروں کوغصے کی آگ میں جلنے سے روکتے تھے لیکن شایدہی ان کی زندگی میں ایساکوئی دن گزراہو،جس دن وہ کسی کے خلاف ناانصافی پر غصہ نہ کرتے ہوں ۔کمزوروں،مجبوروں اورسماج کے دبے کچلے لوگوں کی حمایت کو وہ اپنافرض سمجھتے تھے ۔اوپری سطح سے دیکھاجائے تو بیان سے لے کرمردہ خانہ میں عورت تک ان کے تمام ناول یازیادہ ترناول ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں لکھے گئے ہیں ۔لیکن جب غورکیا جائے تواحساس ہوتاہے کہ وہ مسلمانوں کے حق میں نہیں لکھتے تھے،بلکہ سماج کے دبے کچلے عوام کے حق میں لکھتے تھے ۔طلبہ وطالبات کے حق میں لکھتے تھے ،بنیادی طور پروہ انسان کوانسان سمجھتے تھے، ہندو اور مسلمان کاچشمہ ان کے پاس نہیں تھا ۔وہ سسٹم کے خلاف لکھتے تھے اورسسٹم کے خلاف لکھنے میں کہیں مصلحت پسندی کی بھٹی میں خود کو خاکستر نہیں ہونے دیتے تھے ۔ رومی کے مصرعے ’ہرنفس نومی شود دنیا وما‘کونہ صرف یہ کہ انھوں نے لے سانس بھی آہستہ میں سوتردھارکی طرح استعمال کیاہے ۔بلکہ عملی زندگی میں بھی وہ اس کے گھورقسم کے قائل تھے ۔وہ زندگی میں نیاکرناچاہتے تھے اورنئے امکانات کی تلاش میں مسلسل رہتے تھے ۔مجبوروں ،کمزوروں کی جانب سے کچھ نیاکرنے کی جدوجہدکووہ اپنے قلم کے ذریعہ حمایت دیتے تھے ۔
نالہ شب گیر،لے سانس بھی آہستہ،آتش رفتہ کاسراغ اوران کے بہت سے افسانوں میں انسانی آزادی کوخصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔وہ ایک سطح پرتانیثیت پسندبھی تھے۔مذکورہ ناولوں اورافسانوں میں خواتین کے حق میں آوازیں بلندکی ہیں ۔عورتوں کووہ مجبور دیکھنا پسندنہیں کرتے تھے ،وہ اسی طرح خواتین کوبھی آزاددیکھنا چاہتے تھے،جس طرح ہمارے سماج میں مردآزادہیں ۔کسی کی آزادی چھیننے کے قائل نہیں تھے ، ٹشوپیپر،باپ اوربیٹا،دادااورپوتاجیسی کہانیوں اورنالہ شب گیر،لے سانس بھی آہستہ وغیرہ میں انسانی آزادی کاان کانظریہ بہت صاف طورپرہمارے سامنے آتاہے ۔وہ انسانی دنیاکوگھٹتے ہوئے دیکھناپسندنہیں کرتے تھے ،کہیں کہیں ان کی کہانیوں اورناولوں میں احتجاج کی آوازاتنی لاوڈہوگئی ہے کہ کمزورد ل انسان لزرجاتاہے ۔انسانی آزادی کے حق اوراس کی غلامی کے خلاف آوازبلندکرنے میں کہیں کتراتے نہیں تھے اوران کایہی رویہ انھیں دوسرے اردوفکش رائٹروں سے الگ مقام پرکھڑا کرتاتھا ۔ہوسکتاہے کہ بہت سے لوگ ان کے کسی افسانے یاناول میں سیکڑوں فنی اورتکنیکی خامیاں نکال دیں لیکن محبت انسانی اورانسانی آزادی کی دھن ان کے فن پاروں کو بڑابناتی تھی ۔وہ عورتوں کوخودکفیل ،خودمختاراوراپنے فیصلے خودکرنے والی دیکھنا چاہتے تھے،انھیں روتی،سسکتی ،فرسٹیڈعورت اچھی نہیں لگتی تھی،وہ عورتوں میں خوداعتمادی تلاش کرتے تھے ۔وہ عورتوں کوتھانے میں بھی بولڈدیکھناچاہتے تھے ،جہاں وہ روئے نہیں،فریادیں نہ کرے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرانصاف کی بات کرے ،بلکہ اپنے حق میں انصاف کوچھین سکنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔اسی طرح وہ نئی نسل کے لوگوں کے لیے بھی آزادی چاہتے تھے،پڑھنے لکھنے اوربولنے کی آزادی،وہ کسی کی آزادی کوسلب نہیں کرتے تھے،بہت سے ایسے نوجوان تھے،جوان کے سامنے ان سے اختلاف کرتے تھے،ان کے افسانوں اوران کے رویوں کے خلاف بولتے تھے،لیکن وہ کبھی بھی اس کی آواز کو دباتے نہیں تھے ۔میں نے خودیہ جانتے ہوئے کہ وہ اردوکے معروف ناقدومحقق اورفکش رائٹرشمس الرحمان فاروقی کوپسندنہیں کرتے،فاروقی کی جم کرتعریف کی ،ان کے ناول کئی چاندتھے سرآسماں پرذوقی کے جواعتراضات تھے،اس کے خلاف ان سے باتیں کیں،وہ سنتے رہے بلکہ اعتراف کیاکہ فاروقی بڑاانسان ہے ۔وہ بارہاکہتے تھے کہ میں کس سے اختلاف کروں،فاروقی،خالدجاوید،حسین الحق،صدیق عالم اورسید محمد اشرف ہی تو ہیں ،جن سے اختلاف کیاجاسکتا ہے اور اپنی دستار سلامت بھی رکھی جاسکتی ہے۔
انھوں نے اپنی کہانیوں اورناولوں میں بہت سے کرداردیے،ہوسکتا ہے کہ الگ الگ لوگوں کوان کے الگ الگ کردار پسند ہوں۔لیکن انھیں اوران کی ناول نگاری کواعتبار بخشنے والاکردار اسامہ پاشاہے،جوآتش رفتہ کے سراغ کامرکزی کردارہے۔ایک ایسے ہندوستان میں جہاں ایک قوم دوسری قوم کوقابل برداشت تصورنہیں کرتی ۔روزبروزعدم تحمل کارجحان بڑھتاچلاجارہاہے۔ایسے دورمیں انھوں نے جب سسٹم سے ہٹ کرہندواورمسلمان قوم پرلکھاتوانھیں اسامہ پاشاکی شکل میں ایک مستحکم کردارملا،جس کارویہ صوفیانہ ہے ،جو ہندو اور مسلم میں اتحاد اور بھائی چارہ پھیلاتاہے۔ انھوں نے درمیان سے سیاست اورسیاسی لوگوں کونکال کردوقوموں کے مذہبی لوگوں کو ملایا اوراپنے اس ناول سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ مادروطن ہندوستان میں جوفرقہ واریت پھیلی ہوئی ہے ۔اس کی اصل وجہ سیاست اورسیاسی افرادہیں ۔اگران دونوں کوالگ کرکے ہندواورمسلم ایک ساتھ چلیں تودونوں کی بدگمانیاں دورہوتی چلی جائیں گی۔پھرمٹھوں اورمندروں میں بھی عبادت کی اجازت بآسانی مل جائے گی ۔دوسری طرف مسلمانوں کوبھی پیغام دیا کہ آپ اکثریت سے مقابلہ کرکے یہاں پرسکون زندگی نہیں جی سکتے ۔اگرآپ خود اور ہندوستان کے ماحول کوپرسکون دیکھناچاہتے ہیں توسیاست سے ہٹ کرہندوقوم کوآزمائیں ۔گزشتہ زمانے سے اب تک وہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اورآئندہ بھی آپ کواپنابھائی بندھومانتے رہیں گے اورآپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے اورانھوں نےیہ پیغام ایک نوجوان کردارکے ذریعہ دیا ۔تاکہ نوجوان نسل اس رازکواچھی طرح سمجھ لے کہ ہندویامسلم دونوں ہی ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں ۔اگردل جیتنے کی صلاحیت ہے توپوراہندوستان آپ کاہے ۔ان کے بہت سے اہم کرداروں میںبھی یہ کرداراہم ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں تخلیقی تجربوں کا عہد – مشرف عالم ذوقی )
ہمارے یہاں اردووہندی میں بڑے رائٹرز،ناولسٹ اورکہانی کارعام طورپرنوجوانوں کواہمیت کے قابل نہیں سمجھتے۔انھیں اس لائق بھی نہیں سمجھتے کہ وہ اپنی کتاب نوجوانوں کودیں،جب کہ اقتصادی طورپروہی کمزورہوتے ہیں،نوجوانوں کونئی کتابیں خریدنی پڑتی ہیں اوراسٹیبلش رائٹرزکواکثرکتابیں مفت میں ملتی ہیں،مشرف عالم ذوقی اس کے برعکس زیادہ تراپنی کتابیں نوجوانوں اورنئے لکھنے والوں کودیتے اورکتابوں کے ساتھ انھیں وقت بھی دیتے،تاکہ ان کے اندریقین پیداہوسکے،بات کرنے اورسوچنے کی صلاحیت میں نکھار آئے ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیرسے کنیاکماری تک اردوریسرچ اسکالراورنوجوان افسانہ نگاران کے نام اورکام سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کی زندگی اورزندگی کے بعدبھی ان پرریسرچ کاکام چل رہاہے ۔
بہت سے اردوناقداوردیگرلوگ انھیں جذباتی سمجھتے تھے اوریہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ نوجوانوں کوجذباتی بناکراپنی کتابیں پڑھواتے ہیں،جب کہ ایساہے نہیں ،ان کی پوری کہانی کائنات کودیکھ جائیں ،کہیں بھی وہ نوجوانوں کوذہن میں رکھ کرسیکسوئل سین کرئیٹ نہیں کرتے۔اپنی سگریٹ جلاکرماچس کی تیلی وہ نوجوانوں کے بسترمیں لگانے کے عادی نہیں ہیں ۔وہ جذباتی ہوتے تھے، جذباتیت پرمبنی تحریریں بھی لکھتے تھے،البتہ وہ جذباتیت حاشیے پرڈال دیے گئے لوگوں،غریبوں،مجبوروں،کمزوروںکے حق میں ہوتی تھی ۔اگرکہیں وہ سیکسوئل سین کرئیٹ بھی کرتے ہیں توایسی مجبوری اورایسے ظلم وجبرکے سائے میں ،جہاں نوجوانوں کی آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں ۔حالاں کہ اردوسمیت بہت سی ہندوستانی زبانوں کے رائٹرزایسے ہیں ،جویہ سمجھتے ہیں کہ رومانس ،سیکس اورجذباتیت پروس کروہ نوجوانوں کے درمیان ہٹ کرجائیں گے ،حالاںکہ ایساہوتانہیں ۔
وہ 80کے بعدکے لکھنے والوں میں گنے جاتے تھے،پہلے انھوں نے افسانے لکھنے شروع کیے اورپھرناول کی طرف آئے اوراپنے زیادہ تربڑے ناول اکیسویں صدی میں لکھے،ان میں پوکے مان کی دنیا،پروفیسرایس کی عجیب داستان وایاسنامی،لے سانس بھی آہستہ، آتش رفتہ کاسراغ،نالہ شب گیر،مرگ انبوہ،مردہ خانہ میں عورت اورغیرمطبوعہ ناول چوراہے پرکھڑاآدمی ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے افسانے بھی لکھے۔البتہ گزشتہ دس برسوں میں انھوں نے کہانیاں بہت کم لکھیں ۔ناول زیادہ لکھے۔یہ تمام ناول ضخیم ہیں ،سارے ناول500صفحات سے زیادہ کے ہیں ۔ایک رائٹرکے لیے اتنالکھناہی کچھ کم نہیں لیکن انھوں نے اس کے علاوہ ناولوں پرمضامین ،تنقیدی مضامین ،خاکے ،اسکرپٹ بھی اورنئے لکھنے والوں کے افسانوں اورناولوں کی اصلاح بھی کی ۔بہت سے ایسے بھی ہیں ،جن کے افسانوں اورناولوں کی اصلاح کرتے کرتے انھیں فکشن رائٹربنادیا۔ایک ناول توایساہے جسے ان کی اصلاح کے بعدساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ایک رائٹرکے طورپردیکھا جائے توذوقی اپنی عمرسے زیادہ لکھ کرگئے ہیں ۔
ان کے زندگی جینے کاطریقہ بہت الگ تھا،وہ روروکرزندگی کوکاٹتے نہیں تھے،میں نے اپنی زندگی میں پہلے ایسے شخص کو دیکھا،جوزندگی کرناجانتا تھااوراپنی زندگی سے دوسروں کی زندگی کومتاثر کرتاتھا۔ان کی رگ رگ اورریشے ریشے سے زندگی ابلتی تھی ۔وہ نہ خود سے نہ اپنے کاموں سے تھکتے تھے،ایسالگتاتھاجیسے انھیں ہردن نئی زندگی ملتی ہے ۔نئی اورجاسے بھراہواشخص ،اتنی جلدی چلاجائے گا،ایساکسی نے سوچابھی نہیں تھا،ان کی کہانیوں ،ناولوں کے کلائمکس سے لوگ سچ مچ چونک جاتے تھے، ان کی موت نے بھی پوری اردودنیاکوچونکایاہے اورپھر24 گھنٹے کے اندرتبسم فاطمہ ذوقی کی موت نے لوگوں کواورزیادہ چونکایا،انھوں نے مرتے مرتے عشق کی کتاب میں اپنانام انمٹ کردیاہے اوروہ دونوں آج خودایک کہانی ،ایک ناول بن گئے ہیں ۔مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ نسلیں ان کے ناولوں کویادرکھیں گی یانہیں البتہ یہ یقین ہے کہ دونوں کی موت، کہانی کے طورپرنسلوں تک سنائی جاتی رہے گی اورعشق کی کتاب میں بارباردہرائی جاتی رہے گی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

