اردو افسانہ انیسویں صدی کے اواخر سے اپنے ابتدائی نقوش وضع کرتے ہوئے بیسویں صدی کے لمبے پڑائو کو پار کرکے اکیسویں صدی کے ایّام میں داخل ہوچکا ہے۔ رومانیت ‘ترقی پسندی ‘جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی فکری اور فلسفیانہ اساس ایک صدی سے افسانے کے دامن پر اثرا انداز ہوتی رہی ہیں۔ گزشتہ صدی میں پیش آنے والے سرد وگرم ہوادث کو اردو افسانہ نے گلے لگا کر اپنے دامن میں ان تمام رجحانات ومیلانات کوبڑی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ہر صدی کے اپنے چنندہ مسائل ہوتے ہیں جو شعوری یالا شعوری طور پر ادب میںسرایت کرجاتے ہیں ۔اردو افسانہ کا معاملہ دیگر اصناف ادب کے مقابلے زیادہ حساس رہا ہے۔ اس نے زمانے کے سرد وگرم حوادث کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے خیر مقدم کیا ہے۔ میرے خیال سے افسانہ کو دیگر اصناف کے مقابلے کم مدت میں زیادہ شہرت اس کے اسی خاصیت کی بنا پر حاصل ہوئی ہے کہ اس صنف میں بہت کم مدت میں زمانے کے بدلتے رجحانات کو ڈھالنے کی خوبی موجود ہے۔ بہر حال ایک صدی کا لمبا عرصہ طئے کرکے افسانہ اب اکیسویں صدی کے پڑائو میں داخل ہو چکا ہے۔اس صدی کے اپنے مسائل ہیں جنہیں افسانہ بڑی فنکاری سے اپنے قالب میں سمو کر تخلیقیت کی عمدہ مثال پیش کررہا ہے۔
اردو افسانہ میں اکیسویں صدی کے مسائل کا اظہار سماجی ‘سیاسی‘اخلاقی‘معاشرتی‘معاشی سطح پر بڑی فنکاری سے ہو رہا ہے۔ افسانہ نے جہاں اکیسویں صدی کے پیدا شدہ مسائل کو اپنے اندر سمویا ہے وہیں ایسے آفاقی موضوعات جو شروع سے افسانے کے ساتھ وابستہ رہے ہیں‘ کو نئے مفاہیم اور اسلوب وتکنیک کے نئے تجربے سے وضح کر رہا ہے۔ دنیا کے ہر خطے کی طرح مغربی بنگال میںبھی افسانہ اکیسویں صدی کے نت نئے مسائل کے ساتھ رواں دواں ہے جہاں نئی صدی کے میزان پر اس کی آبیاری اقبال کرشن ،فیروز عابد،نذیر احمد یوسفی،مشتاق اعظمی،انیس رفیع،کمال احمد،ف۔س اعجاز،اظہار الاسلام ،تفضل حسین،صدیق عالم،عشرت بیتاب،جلیل عشرت،مشتاق انجم،خان شین کنور،خورشید اختر فرازی،شہیرہ مسرور،انیس النبی،شہنا ز نبی،یاسمین اختر،شبیر احمد،شاہد فروغی،سلیم سرفراز،شبّیر اصغر،سہیل ارشد،عظیم اللہ ہاشمی،جاوہد نہال حشمی،شکیل افروز،ریاض دانش،شیران اسماعیلی،ارشد نیاز،عمران قریشی،حسان بن عثمان،محمد زاہد،مسرور تمنا ‘صابرہ خاتون وغیرہ جیسے باشعور افسانہ نگار کر رہے ہیں۔ دنیا کے ہر خطے کی طرح مغربی بنگال کا خطہ بھی نئی صدی کے نئے مسائل سے نہ صرف نبردآزما ہو رہا ہے بلکہ یہاں کے تخلیق کار افسانے کے دامن میں معاصر عہد کے مسائل کو کامیابی سے افسانوی متن میں پیوست کرنے کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔
انسانیت اور انسانی قدروں کی شکست وریخت کا مسئلہ افسانہ کے لیے کوئی نیا نہیں ہے ‘اردو افسانہ نے ہر دور میں انسانیت کی روح کو تڑپتے‘بلکتے ‘آنسو بہاتے دیکھا ہے۔لیکن اکیسویں صدی کا معاشرہ جدید ٹکنالوجی اور جدید ذہن کا معاشرہ ہے جہاں زندگی کے بدلتے لمحات اور وقت کی تیز دھار نے انسانی قدروں اور رشتوں کے بھرم کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔چنانچہ معاصر عہد میں انسانی قدروں کا بکھرائوں اور گرتی ہوئی اخلاقی مروّت کی تخم ریزی اکیسویں صدی میں پروان چڑھنے والے مسائل سے جنم لے رہے ہیںجن کا بھر پور عکس مغربی بنگال کے افسانوی منظر نامے پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یاسمین اختر کا افسانہ ’’یہی ہے زندگی‘‘اخلاقی بے مروتی کی بہترین مثال ہے۔ اس افسانے میں زندگی کی مادی آشائشیں اخلاقی رشتے پر غالب آجاتی ہیں۔ باپ بستر مرگ پڑا ہے لیکن دونوں بیٹیوں میں سے کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اس کا آخری دیدار بھی کرلے بلکہ انسانیت آج کے عہد میں اس قدر پامال ہو گئی ہے کہ ماں کے لاکھ اصرار پرباپ کی عیادت کے بجائے ریحانہ اور فرزانہ کو زندگی کی مادی ضروریات کی فکر زیادہ لاحق ہے:
’’امّی !آپ تو جانتی ہیں ‘میں اس چھوٹے سے مکان میں کس طرح گزارا کررہی ہوں۔اگر ابّو سامنے والی زمین میرے نام کردیتے تو…‘
کیا بات کر رہی ہو ریحانہ تمہارے ابّو اس قدر بیمار ہیں اور تمہیں زمین کی پڑی ہے۔‘‘(ا)
———
’’ہا امّی !میں ضرور آئوں گی۔بس دو چار دن انتظار کیجئے۔دراصل پرسوں میری نند انگلینڈ سے آرہی ہیں ۔آپ تو میری ساس کو جانتی ہی ہیں ………..وہ جب بھی انگلینڈ سے آتی ہیں تو ڈھیروں سوغات لاتی ہیں اور اگر میں چلی آئی تو دیورانی اور جیٹھانی سب کچھ ہضم کرجائیں گیں۔‘‘(۲)
معاشرتی سطح پر اکیسویں صدی میں رشتوں کا ڈور خون کے بجائے پانی کی طرح شفاف بن کر رہ گیا ہے جس میں ایک فرد کو دوسرے فرد کے دکھ درد میں مداوا کرنے کی فکر تو درکنار اس کے جذبات واحساسات کو سمجھے تک کی فرصت نہیں ۔ غیر جذباتی رشتے کی بات تو درکنار آج کا معاشرہ خونی رشتے کا بھرم رکھنے میں بھی ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ جہاں ایک باپ زندگی بھر محنت مزدوری کرکے اپنا گھر سنسار اور اپنی آل اولاد کو ترقی کے زینے طے کراتا ہے لیکن وقت آنے پربیٹا باپ کو یہ کہہ کر مستر د کردیتا ہے کہ:
’’آج سے تجارت کی فکر چھوڑ دیں۔ویسے بھی دکان میں آپ رہیں یا نہ رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ (۳)
جلیل عشرت کے اس افسانے(عذاب) میں باپ بیٹے کا خونی رشتہ پانی بن کر بہتا چلا جاتا ہے ۔ بیٹے کی زبانی نکلا یہ جملہ پوری زندگی اس کے باپ کے وجود پر عذاب بن کر نازل ہوتا رہتا ہے۔دراصل یہ نئے معاشرے ‘نئی تہذیب کا وہ چلن ہے جس کے تار عنکبوت میں رواں صدی کا ہرفرد جکڑا ہوا ہے۔ اخلاق سوزی اور دل آزاری کی داستان یہی نہیں تھمتی بلکہ انسانی قدریں اس قدر پامال ہوچکی ہیں کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اس کی شکل دیکھنے تک نہیں آتا اور یہ کہہ کر اخلاقی رشتے کا گلا گھونٹ دیتا ہے کہ:
’’جب پاپا ہی نہیں رہے تو انڈیا جا کر کیا کروں گا۔‘‘(۴)
نئی صدی میں سانس لینے والے انسان کے دل سے مروّت اور محبت دم توڑ چکی ہے۔وہ اپنی جنسی اور جسمانی خواہشات کو تقویت دینے کے لیے اپنے خونی رشتے کا خون کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔صدیق عالم کا افسانہ’’جانور ‘‘میں ماں باپ اپنے Abnormalبچے کو بیس سال شفقت ومحبت سے پالنے کے باوجود ایک جانورکی بدولت اپنی زندگی میں بیس سال پرانی شہوانی جذبات حاصل کرکے‘ اپنے سگے بیٹے پر اس ہیبت ناک جانور کو ترجیح دیتے ہیںاور اپنی اولاد کواس شخص کے حوالے کردیتے ہیں جو جانوروں کا سودا ئی ہے ۔اس افسانے کا ہرمنظر انسانی شرست کی گرہ کشائی کرتا ہوا قاری کے دل کو چھید کر رکھ دیتا ہے:
’’میں جو جانورلے جا رہا ہوں اس سے ہمارا کوئی جذباتی تعلق نہیں جس طرح جو جانور میں چھوڑے جارہا ہوں اس سے آپ لوگوں کا کوئی جذباتی رشتہ نہیں۔آپ دیکھ سکتے ہیں سودا واقعی برا نہیں ۔آپ کو اچھی طرح پتہ ہے یہ انتظام سب سے بہتر ہے بلکہ اس انتظام کے تحت زندگی زیادہ بہتر طریقے سے گزاری جاسکتی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی دن اس جانور سے اکتا جائیں تو کسی جانورکے ڈاکٹر کے پاس لے جاکر مہلک انجکشن کے ذریعے اسے ایک ابدی نیند سلاسکتے ہیں جس کی قانون کی طرف سے اجازت ہے۔‘‘(۵)
’’بے حسی‘‘کا تھیم بھی افسانے کے قاری کو انسان کی بے حسی کا درس دیتا ہے۔ جس میں افسانوی کردار اپنی انفرادی وجود کے لیے راوی کا پیچھا کرتا ہے اور اسے چین کی نیند سونے نہیں دیتا تو وہیں Transgenderطبقہ کو عام لوگوں کی بہ نسبت اپنے اجداد سے حد درجہ محبت ہے ۔اس افسانے میںراوی کا کردار معاشرے کا فرد بن کر قاری کے ذہن میں موجودہ سماج کے خود غرض انسان کا نقشہ چھوڑ دیتا ہے۔کمال احمد کا افسانہ’’کاندھے سے ٹکی لاش ‘‘بھی سڑے ہوئے سیاہ معاشرے کی تصویر دکھاتا ہے۔یہ افسانہ علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے جس میں مصنف نے اکیسویں صدی کے معاشرے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ معاشرے کا یہ عالم ہے کہ اس میں مردے کی شناخت بھی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہو پارہی۔ شبیر احمد کا افسانہ’’بسرجن‘‘بھی انسانی نفسیات کے بدلتے عکس کا مظہر ہے۔اس افسانے میں انسانی نفس کو بوڑھے کی علامت بنا کر پیش کیا ہے‘ جس میں انیل ہر بار اپرادھ کرنے کے بعد بھی پشیماں نہیں ہوتا لیکن جب اسی اپرادھ سے اسے مالی آسودگی حاصل ہوتی ہے تو وہ اسی نفس کو دریا میں پھینک دیتا ہے جو اسے اپرادھ کا صحیح معنی سمجھاتا ہے۔
انتقام کا جذبہ رواں صدی میں انسانی شرست میں داخل ہوکر فیشن کی شکل اختیار کرگیا ہے۔اکیسویں صدی کے معاشرے میں سانس لینے والا انسانی ذہن ایک دوسرے کے مقابلے میں انٹرنیٹ کی تیز رفتاری سے بھی آگے نکلنے کی فراق میں ہے۔ گویا ابن آدم کی زندگی سائنس کے اس تجربے کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کی معیاد کبھی پوری نہیں ہوتی اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ بنگال کے افسانوں میں اس مادیت پرستی اور اخلاق سوزی کے نقوش بڑے وضع مرتسم ہوئے ہیں۔ خورشید اختر فرازی کا افسانہ’’انتقام‘‘میں ایک صحافی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا خاموش انتقام صدیوں بعد لیتا ہے ۔ اس کے دل میں اس انتقام کی خلش چنگاری بن کر دبی رہتی ہے جسے وہ وقت آنے پر بغیر کی عجلت کے بیان کردیتا ہے:
’’صا حبوں !جب نواب صاب نے میرے خلاف ڈی پی آئی کورپورٹ دی تھی تو وہ رپورٹ عام ہوگئی تھی اور اس بات سے میرے والد صاحب کو شیدید جھٹکا پہنچا تھا اور وہ بلکل گم سم ہوکر رہ گئے تھے ۔حالانکہ انہوں نے مجھے کبھی شاکی نظروں سے نہیں دیکھا تھا لیکن ان کے دل پر گہرا صدمہ اور میں نے اسی دن سے تہیہ کرلیا تھا کہ جس شخص نے میرے تعلق سے غلط ریمارک لکھا ہے میں اسی کی زبان سے اپنے لیے ستائشی جملہ سنوں گا اور شاید وہ دن یہی ہے ‘آج میرا انتقام پورا ہوا‘ایک خاموش پر امن انتقام…..‘‘(۶)
اکیسویں صدی کے معاشرے میں انسان کی اخلاقیت بام عروج سے پھسل کر فرد کے پیروں کے نیچے تک چلی گئی ہے۔ بڑھتے ہوئے فیشن اور زندگی کی بدلتی ہوئی تیز رفتاری نے انسانی حس ِکو مجروح کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔ لہذا آج کا معاشرہ اخلاقی پستی کے اس دہانے پر ہے جہاں انسانیت ڈرتی ‘سسکتی اور بے بس معلوم ہورہی ہے۔کمزوروں پر ظلم‘عصمت دری کے واقعات‘باپ کا بیٹی کے ساتھ ریپ‘ماں کا بیٹے کے ساتھ بھاگنا‘زمین جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا قتل ‘چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر،عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم وغیرہ ایسے اخلاق سوز واقعات ہیں جو آئے دن اخباری صفحات پر بکھر کر قاری کو نئے معاشرے کا سنگین روپ دکھا رہے ہیں۔ بنگال کے افسانوں میں ان تمام اخلاقی گراوٹ کو بڑی فنکاری سے نہ صرف سمویا جا رہا ہے بلکہ ملک کے اس خطے کے افسانوں میں نئی صدی کے معاشرے میں پیدا ہونے والے یہ تمام سانحات افسانوی متن میں ڈھل کر تخلیقیت کی معراج تک پہنچتے نظر آرہے ہیں۔مثلاً اقبال کرشن کا افسانہ’’نماز پڑھوں‘‘میں ڈاکٹرجو راوی کی شکل میں موجود ہے‘ مریض کی نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ مشورہ دیتا ہے :
’’نوجوان!لاشعوری طور پر تم دو کمپلکس کے شکار ہو۔تمہارا پہلا کمپلکس یہ ہے کہ تم دنیا کے مقدّس ترین رشتے کو ناپاک کرنا چاہتے ہو۔دوسرا کمپلکس یہ ہے کہ تم کو ماں کی محبت سے زیادہ ماں کی جسم کی چاہت ہے ۔چونکہ بچپنے میں تمہیں ماں کا جسم نہیںملا اس لئے اب تک تم کو اس جسم کی تلاش ہے ۔ایک بچے کے لئے اس کی ماں کا پورا جسم ایک کھلا میدان ہوتا ہے ۔وہ اس کے کسی حصّے کو بھی چھو سکتا ہے ۔وہ دودھ پیتے وقت اس کی چھاتیوں سے لطف اندوزبھی ہوتا ہے۔‘‘ (۷)
افسانے میں مریض کا ذہن ماں اور عورت کے رشتے کے فرق سے پوری آگاہی رکھتا ہے پھربھی ڈاکٹردونوں کو خلط ملط کرکے اسے ’’لاشعوری طور پر انسسٹ‘‘کامریض قراردیتا ہے۔دراصل یہ ڈاکٹر کوئی اور نہیں بلکہ آج کے معاشرے کا وہ فرد ہے جس کے ذہن میں عورت اور ماں کا درمیانی فرق مٹ سا گیا ہے۔ماں کا پاک رشتہ تو درکنار ‘روا ں صدی کے اس سڑے ہوئے معاشرے میں ایک طوائف بھی دوسرے طوائف سے رقابت کا جذبہ رکھتی ہے۔ سلیم سرفراز کا افسانہ ’’لچھی پور کی شریفن‘‘میں سلمیٰ اپنے رقیب طوائف شریفن کو اکیسویں صدی کے بدلتے ماحول کا منظرنامہ دیکھا کر یہ کہہ کر نظروں سے گرا دیتی ہے کہ:
’’’بھوکی کیوں مروں گی‘؟سلمہ کا لہجہ اسی طرح شانت اور نرم تھا۔میں نے کہا نہ کہ آج چیزیں اپنی اصلی شکل اور نام کے ساتھ آسانی سے اور اچھی قیمت پر نہیں بکتیں۔تم پڑھی لکھی نہیں ہو تو کیا ہوا؟تجربہ کار تو ہو۔کچھ نہیں تو ان پیسوں سے کسی اچھے کھاتے پیتے علاقے میں لیڈیز سلائی ٹرینگ ہی کھول لینا۔‘‘(۸)
اس افسانے میں اکیسویں صدی کا پورا منظر نامہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ کس طرح نئی صدی کا ذہن نئی تہذیب کے لباس میں ملبوس ہوکر اپنی فکری بساط کھو چکا ہے۔جہاں جسم بیچنے والی طوائفیں طوائف جیسے گندہ پیسہ کہہ کر ٹھکرا دی جاتی ہیںوہیں بڑے گھرانے کی اسکول اور کالج کی لڑکیاں جسم کا سودا کرکے بھی عزّت کا چادر اوڑھے ہوئے ہیں:
’’وہ شریف اور عزت دار گھرانے کی لڑکیاں ہیں ۔ان کا اور تمہارا کیا مقابلہ ؟……..تمہارے پاس آنے والا رنڈی باز ہی کہلائے گا جبکہ ان کے ساتھ وقت گزارنے والوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔‘‘(۹)
عہد حاضر کا معاشرہ عورتوں کی پاکدامنی کے تصور کو ردّ کر رہا ہے۔ عورت ذات کی اہمیت کبھی گھر کی لکشمی کی تھی لیکن بدلتے وقت کے جھونکے نے عورت کی انفرادیت کو معدوم کردیاہے۔ نئے معاشرے ‘نئی تہذیب میں عورت کی حیثیت محض ایک الاکٹرانک مشین کی سی ہوکر رہ گئی ہے جسے جب چاہیں آن کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرلی جاتی ہیں۔یو ں تو عورت صدیوں سے ہندوستانی معاشرے میں جارحیت کا شکار رہی ہے لیکن اکیسویں صدی کا معاشرہ عورت کی حیثیت کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن اس کا حق اسے دینے سے قاصر ہے۔ صنف نازک کے تئیں اس صدی کے اس برتائوکا عکس نہ صرف زن بازاری بلکہ اچھے خاصے گھریلوں رشتوں میں بھی بخوبی دیکھا جاسکتاہے‘جہاں عورت کی حیثیت ماں‘بہو‘بیٹی کی نہیں بلکہ ایک نوکرانی جیسی ہوکر رہ گئی ہے ۔شہیرہ مسرور کا افسانہ ’’نسلوں کی کیل میں ٹنگا رشتہ ‘‘میں ماںکو نسلوں کی کیل پر ٹنگا دکھایاگیا ہے کہ کس طرح تمام رشتوں کی بھیڑ میں ماں کا رشتہ پاک وصاف ہونے کے باوجود بھی نئے معاشرے کی بوجھ تلے دب کررہ گیا ہے :
’’’ماں…..‘میں پوچھتی ہوں ’یہ ساری مائیں جھکتی کیوں ہیں؟‘‘
’’یہ ہماری قسمت ہے…… ؟‘‘ماں کہتی ہے۔
’’ناکہ ہماری کمزوری……؟میں پوچھتی ہوں۔
ان سے ٹوٹے رشتے جڑتے ہیں اور جڑے رشتے مضبوط ہوتے ہیں …..‘‘ماں نے کہاں۔
’’جھکنے سے اگر رشتے بنتے ہیں ‘مضبوط ہوتے ہیں تو ایسے رشتے بچا کر فائدہ کیا۔میں تو باقی نہیں بچ پائوں گی …..؟میں نے احتجاج کیا۔(۱۰)
اسی طرح شہناز نبی کا افسانہ ’’کبڑوں کی بستی ‘‘میں بھی کملا ایک کمزور عورت کے روپ میں سامنے آتی ہے جس کا رمیش عورت ہونے کی بنیاد پر استحصال کرتا ہے۔ یہ افسانہ عورتوں پر کیے جانے والے مظالم کی داستان ہے جس میں مردوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر عورت کو اکیسویں صدی کی اس ناری کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے جو اپنا انفرادی وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
رواں صدی میں سیاست لوگوں کی زندگی میں اہم رول ادا کررہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں ‘سیاسی تحریکوں کے تارِعنکبوت میں انسان جکڑ کر رہ گیا ہے۔ یہ سیاست کے نقیب ایک طرف تو لوگوں کو اپنے دام میں لے کر فریب دے رہے ہیں تو دوسری جانب انہیں سیاسی پارٹیوں سے ملک میں تباہی وبربادی کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔آج کے معاشرے میں کرپشن فیشن کی شکل اختیار کرگیا ہے جس کے روں سے سرکاری دولت کو بغیر کسی خوف کے ہضم کر لیا جارہا ہے۔ بنگال کا افسانہ سیاست سے پیدا شدہ مسائل کو نہ صرف اپنے دامن میں سمیٹ رہا ہے بلکہ ان سیاست دانوں کے کالے کرتوتوں کو ہوبہوں صفحہ قرطاس پر پیش کر کے افادی ادب کے ذریعہ اخوت کا پیغام بھی دے رہا ہے۔ مثلاً فیرو عابد کا افسانہ’’تشنہ لب‘‘کچھ اور نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی بے مروتی کی کہانی ہے جس میں ایک فرد ایک سیاسی جماعت کے لیے کتے کی موت مرجاتا ہے ‘دودنوں تک اس کی لاش تک نہیں ملتی تو دوسری طرف ایک ایسا شخص موجود ہے جو پوری زندگی پارٹی کا جھنڈا کاندھے پر لئے نظام اقداربدلنے کی خواہش میں دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن مرنے کے بعد بھی یہ خود غرض پارٹی اس کی پوری زندگی بھر کی محنت کو محض ایک انڈین ہوائی کمپنی کے رعایتی ’’بورڈنگ کارڈ‘‘کے سوا کچھ نہیں دے پاتی:
’’لالو‘تو نہ کہتا تھاتیری چچی کو ٹیکسی پر نہ بٹھاسکا دیکھ میری موت نے اسے ہوائی جہاز پر………‘‘ (۱۱)
’’تیری چچی کو ٹیکسی پر نہ بٹھاسکا دیکھ میری موت نے اسے ہوائی جہاز پر‘‘——یہ افسانے کا وہ طنزیہ جملہ ہے جو سیاسی پارٹیوں کی تمام قبائیں ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔دراصل اکیسویں صدی کے معاشرے میں سیاسیت نے انسان کے مردہ جسم تک کو نہیں چھوڑا وہ اسے بھی نوچ کھانے کی فراق میں ہے یہی وجہ ہے کہ ’’اب یہاں گدھ نہیں اترتے ‘‘ ۔انیس رفیع کا یہ افسانہ(اب یہاں گدھ نہیں اترتے) بھی سیاست دانوں کے قلعی کھولنے میں کوئی آر محسوس نہیں کرتا ۔ یہ افسانہ اپنے اندر زبردست HealingTouchلیے ہوئے ہے۔اس افسانے میں علامتوں کے ذریعہ سیاست دانوں کے کارنامے اجا گر کئے گئے ہیں:
’’دایونگی کتنی اطمینان بخش صورت ہوتی ہے ۔لوگ بھی شاید دیوانے ہوگئے ہیں۔دارالسلطنت نے اپنے اطراف میں ویرانے قائم کئے ہیں۔ سارے پتھر پرندے وہیں جمع ہوگئے ہیں ۔ہمارے پشو تو اب پشو ہی پیدا ہوں گے ۔موٹی خوراک پانے والے بھلا ہمارے ویرانے میں اب کہاں اتریں گے۔ مردے کو مکُتی کہاں ملے گی۔ نراش ہوکر اس نے سائیکل ٹھیلے کی ہنڈل پکڑ لی اورواپسی کے ارادے سے کھینچنے لگا۔ ‘‘(۱۲)
سیاسی رہنما جو ملک وقوم کے محافظ ہوتے ہیں ‘ان کی زندگی کا اصل چہرہ تفضل حسین کا افسانہ ’’بھوت بنگلہ‘‘میں پیش کیا گیا ہے۔ جس میں آنند موہن چکرورتی ہمارے معاشرے کے ان سیاست دانوں کی فہرست سے تعلق رکھتا ہے جو سیاسی طور پر اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کامیاب تو ہے لیکن اس کی زندگی سیاہ کرتوت کے جن اینٹوں سے بنی ہے وہ کسی بھی طرح اسے ملک وقوم کا رہنما نہیں بناتی۔ یہ افسانہ سیاست دانوں کے اصلی روپ کو نہ صرف بے نقاب کرتا ہے بلکہ سیاست کی عیاری اور مکاری سے بھی قاری کو آگا ہی دلاتا ہے کہ سیاسی رہنما الیکشن جیتنے اور اپنی کالی کرتوتوں کو چھپانے کے لیے بھوت بنگلے تک کا سہارا لے سکتے ہیں اوران کے نزدیک اپنے کیریئر کی خاطر کسی کی جان کی بھی کوئی قیمت نہیں ہوتی:
’’تھوڑی دیر میں آنند موہن کمرے میں واپس آیا اور اس نے جوہی کے لمبے بالوں کو اپنے کلائی میں لپیٹ کر گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر نکالا اور باغیچہ کی طرف لے گیا وہاں دو گڈھے پہلے ہی سے کھدے ہوئے تھے‘ایک میں ادھیر کی لاش پڑی ہوئی تھی ‘اس نے آنند بابوسے ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کی کہ وہ اسے چھوڑ دے یہ بات وہ کسی کو بھی نہیںبتائے گی اس پر آنند موہن نے کہا کہ وہ اپنے گناہوں کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا اس لئے تجھے بھی مرنا ہی ہے۔‘‘(۱۳)
آنند موہن چکرورتی جیسے نہ جانے کتنے سیاسی شیطان عوامی رہنما کے لبادے میں چھپے بیٹھے ہیں جو ہمارے ملک کو کھلوکھلا کررہے ہیں۔ایسے ہی انسان معصوم عوام کو جذباتی طور پر مجبور کر کے سماج ومعاشرے میں کرپشن پیدا کرتے ہیںجسکے نتیجے کے طور پر :
’’ڈاکٹر کی کرسی پر ڈاکو‘وکیل کی کرسی پر پاکٹ مار‘جج کی کرسی پر جلّاد ‘وزیر کی کرسی پر لومڑی‘راجہ کی کرسی پر گدھا‘چوہے کی کرسی پر شیر‘افسر کی کرسی پر سور…….‘‘(۱۴)
بے خوف وخطر براجما ن ہو رہے ہیں۔ مشتاق انجم کے اس افسانے(آب گزیدہ) میں علامتوں کے ذریعہ بڑی فنکاری سے کرپشن کے پھیلے ہوئے جال سے واقف کرایا گیا ہے ۔اس افسانے میں پانی کو لالچ کی علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے ‘جو بڑی فنکا ری سے قاری کو سماج کے اندر پنپنے والے اس برہنہ حقیقت سے آگاہ کراتی ہے :
’’خوداری کو مٹھی میں بند رکھ کر پانی کے قریب جایاجاسکتا ہے۔‘‘
’’انسان کو زندہ رہنے کے لیے بے حس ہونا ضروری ہے ۔احساس تکلیف دیتا ہے۔‘‘(۱۵)
بنگال کے افسانے سیاسی ‘معاشرتی ‘سماجی سطح پر ہی نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے عالمی مسائل کو بھی اپنے قالب میں ڈھالنے کا فریضہ بہ حسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی آج کے دور میں ہر ملک کے لیے چیلنچ بنی ہوئی ہے۔ دنیا کا ہر خطہ اس خونریز سیاست کے چنگل میں گرفتا ر ہو کر خوف اور ڈرکے سائے میں سانس لے رہا ہے۔ بنگال کا افسانہ دہشت گردی کے مسائل سے پیدا شدہ سانحات کا ہو بہو نقش وضع کر رہا ہے۔مثلاًبم کے دھماگے سے سیراسیمگی پھیلنے کا حقیقی منظر نامہ عظیم اللہ ہاشمی کاافسانہ ’’نیل گگن کے تارے ‘‘وضع کرتا ہے :
’’رات ٹھیک بارہ بجے دوسری دیوالی شروع ہوئی ۔اس وقت راج کھڑکی کے پاس سو رہا تھا اور ہم لوگ پونم کو لیکر ٹی وی پر تازہ خبر سن رہے تھے کہ اتنے میں ایک سنسناتی گولی کھڑکی کے پٹ کو چھیدتے ہوئے آئی اور راج کی کنپٹی سے گذرگئی۔ خون کے فوارے پھوٹ پڑے۔آنکھوں کے سامنے میرا راج بستر پر مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہوگیااور ہم لوگ اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے رہ گئے ۔اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔بہو کی ہچکی بند ہوئی تو بیٹے نے بتایا۔اسپتال میں بیڈ کے داہنے طرف ایک کیفے کا مال زیر علاج تھا۔ اس کی تانگ میں گولی لگی تھی۔ اس کی زبانی پتہ چلا کہ اس نے دونوں کو دیکھا۔ دونوں پہلے ویٹینگ روم میں گئے اور بیگ کو فرش پر پھینک کر کلاشنکوف سے ملتی جلتی بندوق نکالی اور پلیٹ فارم کی طرف بڑھ کر مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ تھوڑی دیر بعد ادھ جلے پردے ‘بکھری لاشیں ‘دیواروں پر بُلیٹ کے نشان‘ادھر ادھر بکھری ننھی منّی جوتیاں ‘فرش اور دیواروں پر خون کے دھبّے ‘چوڑیوں کی ٹوٹی کرچیاں ایک عجیب داستان سنا رہی تھیں۔ ‘‘(۱۶)
اس افسانے میں ایک طرف تو دہشت گردی کے خونریز واقع تو دسری طرف جوگیشوری اور پونم کے ذریعہ راج کے کھو جانے پرٹوٹتی انسانیت کا منظر نامہ بڑی فنکاری سے تراشا گیا ہے جسے پڑھ کر قاری کی آنکھیں بھی نم ہوجاتی ہیں۔جاوید نہال حشمی کا افسانہ ’’جڑو کی تلاش ‘‘میں بھی خونی کھیل کا منظر نامہ صداقت کے ساتھ تخلیقی فن کا حصہ بنتا ہے:
’’اس نے بارود سے بھرے ٹرک کو شہر کے ایک بارونق ہوٹل کے مین گیٹ سے ٹکرا دیا تھا—دورکھڑے کئی لوگوں کے چہروں پر خون کی چھینٹوں کے ساتھ کئی انسانی اعضاء بھی آٹکرائے تھے!‘‘
اس کے بعد ایک بار اس نے کھچا کھچ بھرے بس میں کھڑے ہوکر اپنے شکم سے بندھے بم کا سوئچ آن کردیا تھا—-صرف بس کا ڈھانچہ بچا رہ گیا تھا جن سے جابجا انسانی گوشت کے لوتھڑے جھول رہے تھے۔(۱۷)
ارض ِ بنگالہ کے افسانوں میں جہاں اس درندگی کی خونی چھینٹوں کی بربریت کا مناظر نامہ پیش کرکے اخلاق سوز حوادث کوتنقید کا نشانہ بنایا جا رہا وہیں اس حقیقت کی بھی تصدیق کی جارہی ہے کہ دہشت گردی دہشت کے بطن سے ہی جنم لیتی ہے۔خان شین کنور کا افسانہ ’’بزن‘‘کچھ اور نہیں بلکہ رواں صدی میں دہشت گردی کے نام پر ہورہی سیاسیت کی ہو بہو عکاسی ہے۔ اس افسانہ میں کوّا ظالم اور کبوترمظلوم قوم کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ یہ افسانہ حق وانصاف کے اس قول پر گردش کرتا ہے کہ:
’’ظلم کو برداشت کرنا ظالم کی مدد کے مترادف ہے۔‘‘(۱۸)
لیکن یہی مظلوم جب اپنے حقوق کی خاطر اقدار کی جنگ لڑتے ہیں تب عالمی سیاست کے سیاہ کوّے اپنے اصلی چہرے کو چھپا کر اخوت ومحبت کے امین بن جاتے ہیں اور سیدھی سادھی مظلوم قوم کے ماتھے پر سماج کا سب سے بدنما داغ لگا دیا جاتا ہے:
ز د میں آئے کبوتر پھڑپھڑا کر اپنے ہی لہو سے اپنے تن کی سفیدی کو سرخ کر رہے تھے۔
اور کوے
امن کا پیامبر بن کر ۔
ساری دنیا کو امن کر درس دے رہے تھے۔ (۱۹)
عالمی مسائل کی پیش کش میں بنگال کے افسانوں کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں کا افسانہ محض خونی کھیل کا منظر نامہ ہی نہیں پیش کر رہا بلکہ یہ دہشت گردوں کے نہاں خانوں میں ڈوب کر ان کی ذات وکردار کا تجزیہ بھی کررہا ہے ۔ف۔س۔اعجاز کا افسانہ’’خدا کے نام خط‘‘ دہشت گردوں کے اصلی چہرے پر چڑھے نقاب کو نوچ کر پھینک دیتا ہے:
’’وطنیت خون میں نہ اُتری ہو تو وطن کی محبت دل میں کب پیدا ہوگی۔جو لوگ وطن سے بندھے نہ ہوں‘زمین کی سرکشی پر معمور ہوں وہ نفرت اور سوفسٹی کیٹیڈ ہتھیاروں کی تجارت کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔‘‘(۲۰)
یہ افسانہ امن ِ عالم کے موضوع پر گردش کرتا ہے جس میں بڑی فنکاری سے مغربی دیواروں سے رحم کی التجا کی گئی ہے:
’’اے مغربی دیوار‘میری چسم تصور تیری سوراخوں میں سے کسی فاختہ کو اپنی چونچ میں زیتون کی نرم ملائم کونپل پکڑ کر آسمان میں اڑتے ہوئے دیکھتی ہے تو جی چاہتاہے اس منظر کو آسمان وابر سمیت کاٹ کر اپنے ڈرائنگ روم میں سجا لوں۔‘‘(۲۱)
غرض کے اکیسویں صدی میں بنگال کا افسانہ سماج سے لیکر سیاست تک کے تمام مسائل کو اپنے دامن میں سمو رہا ہے۔ انسانی سرشت کی گرہ کشائی ‘فرقہ وارانہ فساد‘دہشت گردی ‘اخلاق سوزی‘عورتوں پر ظلم ‘وغیرہ جیسے نئے زمانے کے سلگتے مسائل کو پیش کرنے میں اس خطہ کا افسانہ کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔رواں صدی کے بدلتے تناظر نے معاشرے کے ہر فرد کی خارجی اور داخلی دونوں صورتوں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔اس میں ’’سڑا ہوا ہاتھ ‘‘(شاہد فروخی) کافر د ہے جو ’’جڑوں کی تلاش‘‘(جاوید نہال حشمی)میں سرگردا ہے اور ادھر اودھر بھٹک رہا ہے لیکن اس کے ’’بکھرے ہوئے خواب‘‘(عمران قریشی)کبھی یکجا ہو کر اسے حسین دنیا کا منظر نہیں دکھاتے ۔عہد حاضر کا انسان ہر’’گھڑی‘‘(ریاض دانش)اپنی زندگی میں ’’روشنی کے سائے‘‘ (محمد زاہد)کی تلاش میں سرگردا ہے لیکن یہ سایہ اسے کبھی نصیب نہیں ہوتا ۔اکیسویں صدی کی دہلیز پرپہنچ کرانسان کی ’’لائف اسٹائل کا پیریڈ‘‘(صابر ہ خاتون )پچھلی صدی کے مقابلے پوری طرح تبدیل ہوچکا ہے جس میں اسے ہمیشہ’’کہیں دیر نہ ہوجائے‘‘(حسان بن عثمان)کے مصداق زندگی کا ہر لمحہ نبض سے چھوٹتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ایسے معاشرے میں ’’امّی دروازہ کھولئے ‘‘(سہیل ارشد)کی پاک صدا میں بھی حیوانیت کی چینکھیں سنائی دے رہی ہیں‘گویاں اس نئے معاشرے میں انسانی زندگی ’’نیل گگن کے تارے‘‘(عظیم اللہ ہاشمی )میں کہیں کھو کر رہ گئی ہے ۔
٭٭٭
حواشی :
(۱)یہی ہے زندگی‘یاسمین اختر،مشمولہ مغربی بنگال میں اردو افسانے (دوہزار کے بعد)،مرتب ڈاکٹر عشرت بیتاب ،نواز پبلی کیشنز،آسن سول، ۲۰۱۳ئ،صفحہ۹۱
(۲)ایضاً، صفحہ۹۲
(۳)عذاب‘جلیل عشرت،ایضاً،صفحہ۱۳۵
(۴)اونچے شجر کا سایہ‘نذیر احمد یوسفی،ایضاً،صفحہ۴۱
(۵)جانور‘صدیق عالم،ایضاً،صفحہ۱۲۳
(۶)انتقام‘خورشید اختر فرازی،ایضاً،صفحہ۱۵۷
(۷)نماز پڑھو‘اقبال کرشن،ایضاً،صفحہ۲۸
(۸)لچھی پور کی شریفن‘سلیم سرفراز،ایضاً،صفحہ۲۲۱
(۹)لچھی پور کی شریفن‘سلیم سرفراز،ایضاً،صفحہ۲۱۹
(۱۰)نسلوں کی کیل میں ٹنگا رشتہ‘شہیرہ مسرور،ایضا،صفحہ۱۶۵
(۱۱)تشنہ لب‘فیروز عابد،ایضاً،صفحہ۳۹
(۱۲)اب یہاں گدھ نہیں اُترتے‘انیس رفیع،ایضاً،صفحہ۶۰
(۱۳)بھوت بنگلہ‘تفضل حسین،ایضاً،صفحہ۱۰۱
(۱۴)آب گزیدہ‘ مشتاق انجم،ایضاً،صفحہ۱۴۵
(۱۵)آب گزیدہ‘ مشتاق انجم،ایضاً،صفحہ۱۴۰
(۱۶)نیل گگن کے تارے‘عظیم اللہ ہاشمی،ایضاً،صفحہ۲۵۳
(۱۷)جڑوں کی تلاش‘جاوید نہال حشمی،ایضاً،صفحہ۲۵۸
(۱۸)بزن‘خان شین کنور،ایضاً،صفحہ۱۴۸
(۱۹)بزن‘خان شین کنور،ایضاً،صفحہ۱۵۱
(۲۰)خدا کے نام خط‘ف۔س۔اعجاز،ایضاً،صفحہ۷۵
(۲۱)خدا کے نام خط‘ف۔س۔اعجاز،ایضاً،صفحہ۷۴
ڈاکٹر ارشاد شفق
پوسٹ گریجویٹ ،شعبۂ اردو،
ٹی ڈی بی کالج،
رانی گنج،مغربی بنگال،فون:8100035441
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

