نہ تو دولت کی ریل پیل ہے
اور نہ ہی شہرت کی ہے مجھے بھوک
نہ ہی اقتدار مجھکو بھاتا ہے
نہ ہی دنیا کی لزتوں سے مجھے سروکار
میری نظر میں کامیابی کے معنی ہی ہیں کچھ اور
جب بھی ملتی رہیں مجھے دو وقت کی روٹیاں
مجھ سا نہیں کوی خوش وخرم اس جہاں
مل جائے گر کوئی چھت سونے کے واسطے
تو مت پوچھ مجھ سے میری خوشیوں کی انتہا
تن کو ڈھانپنے کے لئے کافی ہیں چند لباس
خوبصورتی کا مسکن تو دلوں میں ہے پنہاں
نعم البدل نہیں صحت کا اس جہاں میں
مل جائے اچھی صحت تو مل جائے ساری دولت
کہتے ہیں جسے ‘ قناعت’ وہ ہے اصل میں کامیابی
ورنہ دنیا کی ساری دولت میں وہ بات پھر کہاں؟؟؟
از: افتخار زاہد
پتہ: فتح پور ویلیج روڈ گارڈن ریچ،کولکاتا:24
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

