دونوں تڑپ رہے تھے، سانسیں اٹک رہی تھی، دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آئی سی یو کے دو الگ الگ بیڈوں پر پڑے ہوئے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے لیکن دونوں کے چہرے پر غضب کا درد تھا ، جینا چاہتے تھے پر دونوں کی روح ایک ساتھ پرواز کر گئی۔
شاہد اور حامد دو جگری دوست تھے۔ اچھے اور اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں جوان تھے اور کالج میں زیرِ تعلیم تھے۔ ایک ساتھ اُٹھتے، بیٹھتے تھے ہنستے، کھیلتے تھے ایک دوسرے کی چیزیں تک استعمال کرتے تھے، ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے لیکن دونوں میں آسمان زمین کا فرق بھی تھا۔
حامد ہر وقت کسی نہ کسی مشغلے میں رہتا تھا، ہر نئی لڑکی سے دوستی کرنا جیسے اُس کا پیشہ بن گیا تھا وہ ایک ساتھ دو دو تین تین لڑکیوں سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اُس کا دوست شاہد لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا اور حامد کو بھی سمجھایا کرتا تھا کہ وہ بھی لڑکیوں سے دور رہا کریں لیکن حامد ماننے والا کہاں تھا اور دونوں کی زندگی یوں ہی گزر رہی تھی۔
ایک دن دونوں دوست کالج کے صحن میں بیٹھے گپے لگا رہے تھے کہ اچانک شاہد کی نظریں ساکت ہو گئی حامد نے شاہد کی نظروں کا تعاقب کیا تو دیکھا اس کی نظریں کسی لڑکی پر اٹکی ہوئی تھی، ”اُس کی جھیل جیسی آنکھیں، گلابی ہونٹ، سنہری بال اور گال پر ایک چھوٹا سا تل جو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہا تھا“۔ حامد دیکھتے ہی کہنے لگا واہ کیا مال ہے ابھی پٹا کر آتا ہوں تو شاہد اس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا یار پہلی بار کوئی دل کو لگی ہے اس کو تو میرے لئے بخش دے۔
تو حامد اچھل پڑا کیا میرے یار کو بھی کوئی لڑکی پسند آئی ہے۔ جا تو بھی کیا یاد کریں گا چھوڑ دیا اس کو تیرے لئے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی کا نام عائشہ تھا اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کافی شریف بھی تھی۔ پہلا دن تھا کالج میں اسی لئے ہچکچا رہی تھی لیکن شاہد نے پاس جاکر ہمت بندھائی اور پورا دن اس کے ساتھ رہا۔ اب تو یہ روز کا معمول بن گیا دونوں فارغ وقت میں ایک ساتھ نظر آتے تھے رفتہ رفتہ دونوں کی دوستی ہوگئی اور بات محبت تک جا پہنچی۔
کالج ختم ہونے کے بعد شاہد نے باپ کا بزنس سنبھال لیا اور حامد اپنی ماں کے ساتھ امریکہ چلا گیا۔ یوں دونوں دوست اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔
شاہد اور عائشہ کی محبت بھی پروان چڑھتی گئی ، دونوں شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ شاہد کو خبر مل گئی کہ اس کے دوست حامد کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔ یہ خبرسن کر شاہد پر پہاڑ ٹوٹ پڑا ، وہ دل مسوس کر رہ گیا،۔ ہر وقت یہی سوچتا رہتا تھا کہ حامد نے تو کبھی کسی بیماری کی شکایت نہیں کی پھر وہ ایسے کون سے مرض کا شکار ہوا جس نے اسے اس کی زندگی چھین لی۔ دوست کی موت نے اس کو نڈھال کر دیا۔ لیکن رفتہ رفتہ گھر والوں کی ہمت و حوصلے اور عائشہ کے ساتھ کی بدولت وہ واپس معمولاتِ زندگی میں لوٹ آیا ۔ کچھ عرصے بعد اس کی اور عائشہ کی شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد دونوں ایک دوسرے کا ساتھ پاکر کافی خوش تھے۔ جب اللّہ نے بچے سے نوازا تو عائشہ کی پریگنینسی کی خبر سُن کر تو شاہد کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی، وہ خود اُس کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور سارے ٹیسٹ کروائے۔ رپورٹ آنے پر ڈاکٹر نے فوراً دونوں کو بلایا تو دونوں پریشانی کی حالت میں ہسپتال پہنچے۔ وہاں ڈاکٹر نے گمبھیرتا سے کہا دیکھیں آپ کی بیگم اس پریگنینسی کو کنٹینیو نہیں کرسکتی وہ ایچ-آئی-وی پازیٹیو ہے اور ایسی حالت میں ماں بننا کسی خطرے سے کم نہیں۔ میری مانیں تو آپ دونوں مشورہ کرکے اس بچے کو گرا لیجئے اور شاہد صاحب آپ کو بھی آج ہی ٹیسٹ کرانا ہوگا۔
ڈاکٹر کی بات سُن کر دونوں پر قیامت ٹوٹ پڑی شاہد عائشہ کی پاکیزگی پر سوال اٹھانے لگا۔ عائشہ نے خود کو صحیح ثابت کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ دونوں ایک دوسرے سے بیزار ہو گئے اور بات تک ترک کر دی۔ شاہد اب اکثر گھر سے باہر رہتا تھا، وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگا۔ وہ گھر سے باہر پارکمیں بیٹھا سگریٹ کےکش لے رہا تھا اور عائشہ کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ کہ اس کو وہاں کالج کا کوئی دوست مل گیا ۔ شاہد کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھ کر حیرانگی سے پوچھنے لگا کہ تمہیں کس غم میں اس کی لت لگ گئ؟ پھر خود ہی جواب دیا حامد کے غم میں پی رہے ہو نا۔ یار حامد کی موت کاسن کر بہت افسوس ہوا لیکن اس نے خود یہ بھلا مول لے لی۔ تو کتنا اس کو روکتا تھا کہ ہر لڑکی سے دوستی مت بڑھایا کر تمہاری بات مان لیتا تو شاید اس موذی مرض کا شکار نہ ہوا ہوتا۔ اپنے دوست کی بات سن کر شاہد نے بڑی حیرانگی سے پوچھا موذی مرض! ایسا کونسا مرض تھا اسکو ؟
تو اس کے دوست نے جواب دیا کیا تمہیں نہیں پتہ کہ وہ کیسے مرا تھا؟
یار سنا تو تھا کہ حامد اب نہیں رہا لیکن اس کو کیا بیماری تھی یہ نہیں پتہ کر پایا۔
ایچ-آئی-وی پازیٹیو، ایچ-آئی-وی تھا وہ
کیا ایچ-آئی-وی پازیٹیو! نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ تمہیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔
غلط فہمی تب ہوتی اگر میں اس کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیتا۔ جس ہسپتال میں اس کی موت ہوئی میں بھی ان دنوں وہی تھا تو اس لئے یہ سب جانتا ہوں۔
وہ اسی صدمے میں تھا کہ عائشہ کے ڈاکٹر نے فون کر کے دونوں کو ایک ساتھ بلا لیا اور وہاں ڈاکٹر نے شاہد کے بھی ایچ-آئی-وی پازیٹیو ہونے کا انکشاف کیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس کی بیماری کس کو لگی ہے لیکن شاہد آپ کی رپورٹ دیکھ کر لگ رہا آپ کافی عرصے سے اس مرض کے شکار ہیں۔ آپ مطلوبہ سیکشن میں جاکر ڈاکٹر کو دکھائیں اور مشورہ کر لے۔ہمیں آج ہی بچے کو گرانا ہوگا ہم مزید رسک نہیں لے سکتے لیکن عائشہ کسی طور پر بچے کو گرانے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔
شاہد عائشہ کو لے کر گھر چلا گیا لیکن وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا دوسری طرف عائشہ خود صفائی پیش کرنے لگی تو وہ اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا اور اس کو ساری بات بتائی جو پارک میں دوست نے بتائی تھی اور روتے روتے بہوش ہوگیا۔ عائشہ فوراً اس کو ہسپتال لے گئی جہاں اُس کو ایڈمٹ کیا گیا ۔ عائشہ دن رات اس کی خدمت میں لگی رہی کچھ دنوں بعد اس کی بھی حالت بگھڑ گئی اور اُس کو بھی ایڈمٹ کیا گیا۔ میاں بیوی کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی لیکن دونوں کو یہ سکون تھا کہ وہ ایک ساتھ ہے ایک دوسرے کےغمخوار ہیں اور یونہی دونوں کی روح ایک ساتھ پرواز کر گئی۔
الف عاجز اعجاز
کلسٹر یونیورسٹی سرینگر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

