اب تو کتبے کی فکر چھوڑ صابر!
تجھے محفوظ کر لیا ہے دل میں
شخصیات خیبر پختونخوا نے ہمیشہ ملک کی سرحدات سمیت اردو ادب کی خدمت و حفاظت کی ہے ۔ اس صوبے میں 90 فی صد پشتو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے ادبا نے اردو ادب کی آبیاری میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے دوسرے اضلاع کی طرح جنوبی اضلاع کے ادیبوں نے اردو ادب کی ترویج میں عالمی معیار کی شہرت حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے ۔ ان میں قاسم علی خان آفریدی ، احمد فراز ، غلام محمد قاصر، سورج نرائن ،،اسلم فیضی اور ایوب صابر شامل ہیں۔
محمد ایوب خان المعروف ایوب صابر 24 فروری 1922ء میں شہر فراز (کوہاٹ) کے ایک قصبے جنگل خیل میں ملا محمد یوسف کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار کوہاٹ کے معتبر شاعروں اور نثاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بیک وقت اردو و پشتو ادب کی خدمت کی ہے ۔ وہ بطور شاعر ، نثر نویس ، کالم نگار ، انشائیہ نگار اور اقبال شناس اپنی اہمیت منوا چکے ہیں۔
ایوب صابر ایک حجرہ پسند شخصیت اور مجلسوں کی جان تھے۔ وہ مختلف محافل میں ہر موضوع پر دل کھول کر تبصرہ کرتے تھے ۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والے زیادہ تر سامعین کا کردار ادا کرتے تھے۔ "اقبالیات” پر بحث کرنا ہمیشہ ان کا پسندیدہ موضوع رہا ۔ انہیں خیبرپختونخوا کا اہم اقبال شناس کہنا مبالغہ آمیز دعویٰ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے علامہ اقبال سے محبت کا ثبوت ان کے معترضین کے جوابات دے کر پیش کیا ۔ اس سلسلے میں ان کی کتب کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے تفہیم اقبال کے دروازوں پر ٹھوس دلائل سے دستک دی ہے۔
احمد ندیم قاسمی، احمد فراز ، مرزا ادیب ، مظفر علی سید، فارغ بخاری ، رضا ہمدانی ، شجاعت علی راہی ، سورج نارائن اور دیگر ادبا نے ایوب صابر کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ ان کی تخلیقات پاکستان و بھارت کے معروف رسائل میں شائع ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو اور پشتو ادب کے ہر موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے ۔ ان کی کتابوں کی تفصیل یہ ہے:
اس حمام میں:
204 صفحات پر مشتمل فکاہیہ کالموں کا مجموعہ "اس حمام میں” 1973ء میں شائع ہوا ۔عوامی مقبولیت کی خاطر اسے دوسری بار 1989ء میں شائع کیا گیا تاہم یہ اب نایاب ہے۔ یہ کالم انہوں نے 1950ء سے 1970ء تک "بانگ حرم” پشاور میں”حجرہ” کے عنوان سے چھاپے۔ کالموں سمیت اس مجموعے میں دو خطوط ، تین نظمیں اور دو تبصرے بھی شامل ہیں۔
خون جگر:
یہ "اباسین آرٹس کونسل پشاور” ایوارڈ یافتہ ایوب صابر کی پشتو شاعری کا مجموعہ ہے جو ان کی زندگی میں پہلی بار 1973ء میں شائع ہوا۔ اس کا دوسرا ایڈیشن 1983ء اور تیسرا 2014ء میں شائع ہوا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کتاب پشاور یونی ورسٹی کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ کوہاٹ کے معروف لکھاری انکل ریاض نے اس شعری مجموعے کا اردو میں منثور ترجمہ بھی کیا ہے ۔
جدید پشتو ادب :
ایوب صابر نے اردو زبان میں پشتو ادب کا احاطہ 251 صفحات پر مشتمل کتاب” جدید پشتو ادب” میں کیا ہے جو ان کی زندگی میں 1974ء میں شائع ہوئی۔ یہ بھی عوام میں خاصی مقبول ہوئی تبھی اس کا دوسرا ایڈیشن 1990ء اور تیسرا 2015ء شائع ہوا۔
ایوب صابر ایک مسلسل لکھاری تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ ادب کی خدمت کے لیے خود کو مصروف رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں نے مختلف مسودات کو جمع کرکے مندرجہ ذیل کتب کو شائع کیا:
ضرب الامثال:
اردو ، پشتو ، فارسی اور انگریزی ضرب الامثال کا تذکرہ کرنے کے لیے ایوب صابر نے کتاب "ضرب الامثال” تخلیق کی جسے ان کی وفات کے بعد 2016ء میں شائع کیا گیا۔
نقد حیات:
ادبی موضوعات پر مبنی پشتو کالموں کا مجموعہ جو 2016ء میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ یہ پشتو تنقید سے متعلق ہے۔
قوس قزح:
ادب و صحافت سے منسلک انشائیہ نما پشتو کالموں کا مجموعہ "قوس قزح” 2016ء میں شائع ہوا ۔
منحرف :
یہ ایوب صابر کی اب تک کی سب سے بہترین کتاب ہے جو ان کی اردو شعری تخلیق ہے۔ یہ 1999ء میں پہلی بار شائع ہوئی ۔ 136 صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں 3 نعتیں، 44 غزلیں اور 10 نظمیں شامل ہیں۔ ایوب صابر کا شہرہ آفاق شعر ،
مجھے محفوظ کر لے اے زمانے
میں اک کتبہ ہوں مٹتا جا رہا ہوں
اسی مجموعے میں درج ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔
ایوب صابر کے مطابق نعت کہنا ہر شاعر پر واجب ہے ۔ انہوں نے نعتیں کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار پیش کیا ہے :
قسم خدا کی کہ ہے مرتبہ محمد کا
مفکرین کے فکر و شعور سے اونچا
ایوب صابر کے ہاں خیالات میں تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کی غزلوں میں زندگی کی مختلف جہتوں کا بیان ہے۔ وہ ایک حقیقت پسند اور صاف گو شاعر ہیں۔ ان کے ہاں خودداری کی جھلک کافی نمایاں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
اے زمانے سر مرا ناواقف سجدہ نہیں
اس میں بس یہ عیب ہے یہ ہر جگہ جھکتا نہیں
اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
غریب شہر سہی دوستو مگر صابر
کسی رئیس کے در پر کبھی جھکا بھی نہیں
ایوب صابر کی شاعری میں سہل ممتنع کی خوب صورت مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:
یہ ستم دیکھئے کہ ہچکی بھی
زندگی میں شمار ہوتی ہے
ایوب صابر نے تلخ حقائق کو آساں اور سادہ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں:
نہیں پہچانتے وہ لوگ مجھ کو
کہ جن لوگوں کی خاطر مر گیا ہوں
1942ء میں ایوب صابر کے والد کا انتقال ہوا تو ان کو تلخ حیات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں تلخی و بے زاری کی جھلک کو محسوس کیا گیا ۔
نہ زندگی ہے نہ موت ہے یہ
نہ جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں
میر تقی میر کی طرح ایوب صابر نے بھی درد و غم جمع کرکے شاعری کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ:
بگاڑا سو طرح سے زندگی کو
تو پھر جا کر کہیں شاعر بنا ہوں
ان کی شاعری میں ہجر کی طویل راتوں کا نوحہ بھی پایا جاتا ہے۔ وہ ان تلخ تجربات کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں:
رات کٹتی نہیں ہے اے صابر
ہجر کی رات بھی عجیب سی ہے
ایوب صابر نے
ع زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
کے مصداق پر خود کو جلا کر تیرگی کے سینے میں خنجر پیوست کرنے اور روشنی پھیلانے کا عزم کر رکھا ہے۔
کہا حالات نے تو جل اٹھا ہوں
اور اپنی روشنی پھیلا رہا ہوں
اسی طرح تڑپتے، سسکتے اور پسے ہوئے طبقے کے دکھ و پریشانی میں خود کو شامل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
جب بھی روئی ہے یہ دکھی دنیا
میں بھی رویا ہوں میں بھی تڑپا ہوں
ایوب صابر نے اپنی شاعری میں صرف ارد گرد حالات کا نقشہ نہیں کھینچا بلکہ کلاسیکل شعرا کی روش اپنا کر محبوب کی تعریف بھی جا بہ جا کی ہے۔
گلاب ہو کہ دھنک ہو کہ چاندنی ہو تم
تمہارے حسن کی کوئی مثال ہے کہ نہیں
اس کے ساتھ ایوب صابر نے ترغیبی انداز اپنا کر مایوس اور بے ہمت لوگوں کو امید کی کرن دکھا کر جگہ جگہ محنت کی تلقین کی ہے :
چلے چلو گے تو چوٹی کو سر بھی کر لو گے
پہاڑ اونچا سہی اس پہ راستہ تو ہے
مجموعی لحاظ سے ایوب صابر نے خیبر پختونخوا کے ادبی میدان میں ملک گیر شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے سرخیل ادیب آخری عمر میں شوگر اور بلڈ پریشر کے امراض میں مبتلا ہوئے اور 8 فروری 1989ء کو جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ انہوں نے ادبی حوالے سے خیبر پختونخوا کا نام روشن کیا مگر مقام افسوس ہے کہ پاکستان کی جامعات نے ان پر تحقیقی کام میں بخیلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایوب صابر کی کتب پر مختلف پہلوؤں سے ریسرچ کرکے ان کی شخصیت اور ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں تحقیقی مقالے لکھ کر ایوب صابر (مرحوم) کی اس وصیت پر عمل پیرا ہونا چاہیے:
مجھے محفوظ کرلے اے زمانے
میں اک کتبہ ہوں مٹتا جا رہا ہوں
راج محمد آفریدی
درہ آدم خیل
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
ایوب صابر مرحوم اپنی زندگی ہی میں ایک ادبی لیجنڈ بن گئے تھے۔ انہوں نے اردو پشتو دونوں زبانوں میں بلند پایہ ادب تخلیق کیا، مزاحیہ اور سنجیدہ نثر لکھی اور شاعری کی۔ کوہاٹ کی تمام سینیر ادبی نسل اُن کی شاگردی کا دم بھرتی ہے۔ ہمارے بھی استاد رہے۔ ایک بےباک اور جواں مرد انسان تھے۔ سچے اور کھرے پٹھان تھے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ کئی دہائیوں تک جناح میونسپل لائبریری کوہاٹ کے لائبریرین رہے جو ان کے دور میں کوہاٹ کا سب سے اہم ادبی مرکز بنا رہا۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
شجاعت علی راہی