طارق کی عمر بڑھتی تو جارہی تھی لیکن اس کی عمر کا اُس کے قد پر کچھ خاص اثر نہیں پڑھ رہا تھا وہ پانچ سال کی عمر میں بھی دو ڈھائی سال کا لگ رہا تھا۔ اُس کے چھوٹے قد کو لے کر اُس کے گھر والے کافی پریشان رہتے تھے لیکن جب ڈاکٹر نے اُس کو نارمل قرار دیا تو وہ مطمئن ہوگئے اور انہوں نے اُس کا داخلہ اسکول میں کرا یا تھا۔
طارق سکول جانے لگا ۔ لیکن سکول میں وہ باقی بچوں سے الگ رہتا تھا کیونکہ وہ اُس سے قد میں بڑے تھے اور اُس کو بہت تنگ کرتے تھے گالیاں دیتے تھے فقرے کَستے تھے، مذاق اُڑاتے تھے۔ وہ اُن سب سے بہت ڈرتا تھا اور الگ ہی رہتا تھا۔ اس طرح دن گزرتے گئے اور طارق اگلی کلاس میں پہنچ گیا لیکن اُس کا قد ویسے کا ویسا ہی تھا اور اب تو وہ پہلے سے زیادہ سہما سہما رہنے لگا ۔ وہ حسب معمول سب سے الگ بیٹھا تھا کہ ایک بچہ معصومیت سے آکر اُس سے کہنے لگا کہ تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو کیا یہ سب تمہیں بھی اپنے ساتھ کھیلنے نہیں دیتے ۔ مجھے بھی ان لوگوں نے اپنے ساتھ کھیلنے نہیں دیا۔ کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے، میرے دوست بنو گے۔ طارق پہلے تو بہت گھبرایا لیکن پھر ہمت کر کے پوچھنے لگا تمہارا نام کیا ہے؟
مدثر میرا نام مدثر ہے اور تمہارا
طاریق: میرا نام طاریق ہے۔
مدثر: چلو کھیلتے ہیں۔
یوں طاریق اور مدثر کی دوستی ہوگئی۔
وقت گزرتا گیا اور باپ کے حوصلے اور مدثر کے ساتھ کی بدولت طارق ہمت کر کے آگے بڑھتا رہا لیکن ابھی پانچویں جماعت میں ہی تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور گھر کی ساری ذمہ داری طاریق کے کندھوں پر آگئ۔ یہاں بھی مدثر نے طاریق کا ساتھ نہیں چھوڑا اپنے باپ کی وسعادت سے اُس نے طاریق کو اخبار بھیجنے کا کام دلایا۔ وہ صبح سویرے اُٹھ کر اخبار بھیجنے جاتا تھا اور اپنا کام ختم کرتے ہی سکول جایا کرتا تھا۔ طاریق سکول کی ہر تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا اور ہر بار اول آتا تھا لیکن اِس کے باوجود بھی باقی بچے اُس کو بہت تنگ کرتے تھے، گالیاں دیتے تھے، فکرے کستے تھے، اُس کا مذاق اُڑاتے تھے ، وہ اِس سب سے بہت تنگ آتا تھا اور ندی کے کنارے جاکر خود کو ختم کرنے کے بارے میں گھنٹوں سوچتا رہتا تھا لیکن ماں کی محبت اس کو ہمیشہ روک دیتی تھی۔ ایک دن کسی نے اُس کو بہت بُری طرح سے جھڑکا اور اِسی دکھ میں طارق پکا ارادہ کر کے خودکشی کرنے چلا گیا۔
ندی کے کنارے کھڑا ہوکر اپنے باپ کی کہی گئی باتیں یاد کرنے لگا اور بازو پھلا کر آنکھیں بند کر کے کہنے لگا میں آپ کے پاس آرہا ہوں بابا میرا اب اس دنیا میں گزارا نہیں ہوسکتا کہ پیچھے سے کسی نے پکڑ کر اُس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور دونوں دور جا کر گر پڑے خود کو سنبھالتے ہوئے دیکھا تو مدثر اُس کے بغل میں پڑا تھا اور اُس کو دیکھتے ہی طارق کے سارے جذبات اُمڑ آئیں اور اُس کے گلے لگ کر وہ زور زور سے رونے لگا اور اُس سے کہنے لگا یار میں تنگ آگیا ہوں اِس زندگی سے ، دیکھ نا ہم کتنے بڑے ہوگئے ہیں لیکن یہ لوگ میرا مذاق اُڑانا نہیں چھوڑتے، میرا ساتھ نہیں دیتے، مجھے قبول کیوں نہیں کرتے ہیں لوگ یار۔ میں بھی تو انسان ہوں اور باقی انسانوں کی طرح جذبات رکھتا ہوں پھر یہ لوگ مجھے کیوں دھتکارتے ہیں، میں مرنا چاہتا ہوں یار اور میں نے آخری فیصلہ کر لیا ہے کہ اپنا کام تمام کر دوں گا بار بار کی اذیت سہنے سے اچھا ہے نا کہ بندہ ایک ہی بار میں مر جائیں۔
مدثر اُس کو خود سی الگ کرتے ہوئے، میں وقت پر نہیں پہنچتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر سے کہہ ذرا، کیا کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی۔ مطلب میں جو بچپن سے تیرے ساتھ کھڑا ہوں یہ تمہارے لئے کوئی مطلب نہیں رکھتا۔ یار تجھے کسی نے کچھ کہا تھا تو میرے پاس چلا آتا نا، مجھ سے بات کرتا تُو نے اتنا بڑا قدم اُٹھانے کے بارے میں سوچ بھی کیسے لیا۔ تجھے کتنی بار کہا ہے یہاں مت آیا کر مجھے تو جیسے ہی پتہ چلا کہ تم یہاں آئیں ہو میں تیرے پیچھے دوڑا چلا آیا وہ تو شکر ہے خدا کا میں وقت پر پہنچ گیا ورنہ تُو نے مجھے اس جہنم میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
نہیں یار تُو تو میری زندگی ہے ، تیرا ساتھ نہ ہوتا تو پتہ نہیں میں کب کا مر چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدثرمحبت سے طارق کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہنےلگا تو یار میرے ہوتے ہوئے اِن لوگوں کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہے۔ جب میں تیرے ساتھ ہوں تو تجھے کسی اور کا کیا غم۔ چل اُٹھ تُو میرے ساتھ چل تجھے کہیں لے چلتا ہوں۔
اور مدثر طارق کو لے کر اپنے عزیز اُستاد سر مشاق کے پاس لے گیا۔ سر مشتاق ہمیشہ طارق کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا تھا، اُس نے بڑی گرم جوشی سے طاریق کا استقبال کیا اور اُس کی اتنی حوصلہ افزائی کی کہ طاریق نے وہی پر خود سے وعدہ لیا کہ بڑا نام کما کر ہی دم لوں گا اگر یہ دنیا میرے قد کی وجہ سے مجھے دھتکارتی ہیں تو اِس کو اپنے ہنر سے اپنا بناؤں گا۔
دن گزرتے گئے اور طارق آگے بڑھتا گیا اب وہ کالج بھی پہنچ گیا لیکن یہاں بھی لوگ اُس کو مذاق اُڑائے بنا نہ چھوڑتے تھے۔ لیکن طارق نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ایک طرف اپنی ماں اور بہنوں کی ذمّہ داری اُٹھاتا رہا اور دوسری طرف اپنے ہُنر کو نکھارتا گیا اور کامیابی کی اور بڑھنے لگا اور بلآخر وہ دن آ ہی گیا کہ طارق اپنے دوست مدثر کے ساتھ اور اپنے اُستاد سر مشتاق کے حوصلے کی وجہ سے ہندوستان کی فلم انڈسٹری تک پہنچ گیا اور اپنے ہنر کے دم پر فلم انڈسٹری میں دھوم مچا دی اور بہت ساری فلموں میں کام کیا، نام اور شہرت کمائی اور بونا چھوٹا ہونے کے باوجود اپنے ہُنر کے دم پر فلم انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا کامیاب ستارہ بن گیا اور لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔
۔ ختم شد ۔
الف عاجز اعجاز
اردو جرنلزم یونیورسٹی آف کشمیر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

