آج اس دورِ انحطاط میں جب ہم ان گنت مسائل و مشکلات سے جھوج رہے ہیں، روحانیت اور طمانیت کی برکتوں کے ساتھ ایک بار پھر سے ماہِ رمضان ہم پر سایہ فگن ہورہا ہے اور ہماری کھوئی ہوئی امیدوں کو نوید سحر سنانے والا ہے۔ اس مہینے میں اہل ایمان دن کو روزہ رکھتے ہیں،راتوں کو قیام کرتے ہیں،
قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔یہ مہینہ نزولِ قرآن کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہے جو لازوال رہنمائی اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔ تاہم، ان ناگفتہ بہ مشکل حالات میں ہمیں روزے کے مقصد پر غور کرنا ہوگا اور اس مہینے کی تمام برکات کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ رمضان المبارک ربانیت پیدا کرنے، تقویٰ حاصل کرنے اور خود کو تقویٰ سے مزین کرنے کا مہینہ ہے۔
مذہب کے ذریعے حاصل کیے جانے والے بہت سے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد نفس، روح اور عقائد کی تطہیر ہے اور روزہ تربیتِ نفس کے لئے قدیم ترین عبادت ہے۔ماہ رمضان ہر سال بندے کی روحانی و اخلاقی تطہیر کا مکمل پروگرام لے کر آتا ہے۔
امام ربانی شیخ احمد سرہندیؒ فرماتے ہیں: "اگر کسی شخص کو اس مہینے میں خیرات اور اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو سارا سال یہ توفیق نصیب رہتی ہے اور اگر اس کا یہ مہینہ کوتاہی اور پراگندگی میں گزرا تو تمام سال پراگندہ رہے گا لہذا جہاں تک ہو سکے اس مہینے میں اعمال صالحہ پر جمعیت و پابندی کی کوشش کرنی چاہئے اور اس ماہ مقدس کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔”
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقویٰ اور تزکیہ نفس کے حصول کے لیے اسلام کے ستونوں کی صورت میں پانچ نکاتی طرز عمل بتایا جو نہ صرف انسانی فطرت کے موافق ہے بلکہ آسانی سے قابل عمل بھی ہے۔ روزہ ایسا ہی ایک اہم ستون ہے جو تقویٰ کے حصول اور تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے۔ حصولِ تقوٰی روزے کی اصل غایت ہے ۔تمام شریعت کی بنیاد تقوٰی پر ہے ، تقوٰی پیدا ہوتا ہے جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت سے اور اس قوت و صلاحیت کی سب سے بہتر تربیت روزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔
روزے کا مقصد یہی ہے کہ تمام اخلاق رذیلہ اور اعمال بد سے انسان مکمل طور پر دستکش ہوجائے۔تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بیتاب ہورہے ہو، تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا۔ ٹھنڈے پانی کی صراحی اور لذیذ کھانا پاس رکھا ہے لیکن تم ہاتھ بڑھانا تو کجا آنکھ اٹھا کر ادھر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔اس کی وجہ صرف یہی ہے نا کہ تمہارا رب تمہیں دیکھ رہا ہے اور یہ اسی کا حکم ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ روزے کا تصور ہر مذہب اور معاشرے میں کم و بیش کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ لیکن اسلام نے بالکل منفرد انداز میں اسے فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق پیش کیا ہے۔ روزے کے دوران ایک مسلمان اپنی مرضی سے کھانے پینے اور جماع کی پابندیاں اپنے اوپر لگاتا ہے جو جسم اور روح کے لیے مفید ورزش فراہم کرتی ہیں۔ روزہ ایک تربیتی کورس ( Training Course) ہے جو سال بھر کے لیے جسم اور روح کو تقوٰی و طھارت کے لئے تیار کرتا ہے اور اپنے اندر فرد اور معاشرے میں ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے ، اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا، "نماز پڑھو نجات پا جاوگے، زکوٰۃ ادا کرو فلاح پا جاوگے اور روزے رکھو، صحت و تندرستی پاو گے۔”
رمضان کا مقدس مہینہ ایک ریفریشر کورس (Refresher Course ) ہے جو نفسانیت کو قابو میں رکھ کر بندے میں
روحانیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم روزے کے ثمرات سے محروم ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ہم روزے کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اس عظیم عمل کو خالی پیٹ اور پیاسا رہنے تک محدود کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال کی منظر کشی علامہ اقبال نے کچھ اس طرح کی ہے:
رگوں ميں وہ لہو باقی نہيں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہيں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے پیاس اور بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے ایسے نمازی ہیں جنہیں رات کو جاگنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔”
عجیب بات ہے کہ ہم روزہ رکھ کر بھی گپ شپ، جھوٹ، غیبت،بغض و حسد، بد دیانتی اور غفلت نہیں چھوڑتے اور رمضان کے اثرات و برکات سے محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔
تقویٰ کا ایک پہلو صبر اور تحمل ہے۔ روزہ کا مقصد انسان کو شکر کی بلندی تک پہنچنے کے قابل بنانا ہے۔ روزے کا عمل ہی اسے طاقت دیتا ہے کہ وہ آزمائش اور مصیبت کے وقت فکر اور اضطراب کا شکار نہ ہو بلکہ بہادر انداز میں چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار رہے۔ روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس کی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اس سے انسان میں بے لوثی اور قربانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اس عملی تجربے کے ذریعے معاشرے کے کم مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقات کے دکھوں کا شدید احساس پیدا کرتا ہے۔ اس لیے روزے کا ایک مقصد متمول طبقے کو ان مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ شناسائی پیدا کروانا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ اسلام کا مقصد ایک ایسے فلاحی معاشرے کا قیام ہے جو باہمی احترام، ایک دوسرے کے لیے قربانی کے جذبات اور بنی نوع انسان کی محبت کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ اسلام چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ امیر اور وسائل رکھنے والے لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کو اپنی دولت اور خوشحالی میں شامل کریں۔ لہذا روزہ ایک موثر عمل ہے جس کے ذریعے عدل و مساوات پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ماہ رمضان ‘مواسات’ یعنی باہمی ہمدردی اور رفاقت کا مہینہ ہے جس میں ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے اور بانٹنے کا سلیقہ سیکھنے کو ملتا ہے۔موجودہ صورتحال میں دیکھا جائے تو گردابِ ہلاکت میں گھِرے ہوئے شکستہ دل اور پریشان انسان کے لئے ماہِ رمضان اطمنان و سکون کا روح پرور موسمِ بہار ہے جس کی رحمتوں اور برکتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہِ رمضان سے تربیت پا کر بندہ ہمہ وقت اس حالت میں رہے کہ تقوٰی اس کا اوڑھنا بچھونا ہو اور وہ سماج کے لئے سراپا خیر بن جائے۔
ہر روز باشی صائما ہر لیل باشی قائما
در ذکر باشی دائما مشغول شو در ذکر ھو
( شیخ احمد سرہندیؒ)
میر امتیاز آفریں
بڈگام کشمیر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

