دیومالائی عناصر اور اسطوری فکر نے اردو ادب کو بہت مالامال کیا ہے۔دیومالا،اساطیر یا متھ قدیم افسانوں،قصوں اور دیوی دیوتاوں سے متعلق داستانوں کو کہا جاتا ہے۔اساطیر کی تعریف ماہرین نے مختلف انداز میں کی ہے:
ہارن بی ایسی کہانیوں کو اساطیر کہتا ہے جو قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں،جن میں نسلی عقائد قدیمہ سموئے ہوئے ہیں۔
کارل یونگ تو اساطیر کو ایسی آرکی ٹائیپس قرار دیتا ہے جو افراد کے اجتماعی لاشعور میں زمانے سے محفوظ چلے آتے ہیں۔ان سے پائے ہوئے تخیلی واقعات محض تخیل کی کارفرمائی نہ ہوکر انسانی زندگی یعنی اس کے افکار،زبان و ادب۔مذہب،تہذیب،تاریخ و جغرافیہ غرض تمام شعبوں کی اثر آفرینی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
فریزر کے نزدیک ،،اساطیر،،سے مراد وہ دیومالا ہیں جن میں قدیم رسومات کی یاد محفوظ رہتی ہے۔ فریزر تاریخ میں بیان ان واقعات کو بھی اسطورہ میں ہی شمار کرتا ہے جو کچھ لوگوں کے ساتھ ایک بار رونما ہو چکے ہیں۔
اسطوری فکر و فلسفہ نے اردو ادب کو بے شمار تلمیحات و استعارات،علامات و تمثیلات اور ان گنت موضوعات فراہم کیے ہیں۔اساطیری فکر پر استوار ادب نے کلاسیکی مرتبہ حاصل کیا ہے۔اس میں جہاں رستم و اسفندیار کی داستانیں ہیں وہاں کرشن ارجن کے واقعات بھی موجود ہیں۔شیریں و لیلیٰ کی محبوبانہ دلنوازیوں کے ساتھ ساتھ شکنتلا اور رادھا کا والہانہ عشق بھی نفسی طمانیئت کا سامان ہے۔یوسف و زلیخا اور بلقیس و سلیمان کے ساتھ رام و سیتا اور کرشن و رادھا بھی اردو شاعری اور قصہ گوئی میں اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہیں۔
اردو کی دکنی اور گجراتی صوفیانہ شاعری میں دیومالائی اصطلاحات و تمثیلات کا ایک جہاں آباد ہیاور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اردو کی پہلی مثنوی،،کدم راو پدم راؤ،،میں نظامی نے شیش ناگ کے علاوہ کئی دیوتاؤں کا ذکر کیا ہے۔شمس العشاق میری جی کی چہار شہادت میں بھی خالص ہندو فلسفے کی اصطلاحیں ملتی ہیں۔برہان الدین جانم کے کلام میں ہندو اساطیر و روایات سے بہت کچھ اخذ کیا گیا ہے۔اس دور کا ادب بالخصوص شاعری ہندو مسلم عقائد کا سنگم معلوم ہوتی ہے۔قلی قطب شاہ،وجہی،نصرتی،غواصی اور ابن نشاطی وغیرہ کی شاعری میں کم و بیش یہی فضا ملتی ہے۔
متقدمین شعرا میں قائم،بیدار، اثر،سوز،میر،جرات،انشا،راسخ،مصحفی اور نظیر کے یہاں بھی یہ خصوصیات کم و بیش پائی جاتی ہیں۔
جدید شاعری میں میراجی،ساغر نظامی،اختر الایمان،فیض،راشد،قتیل شفائی،شہاب جعفری اور منیر نیازی کے یہاں اساطیری تلمیحات و استعارات کا استعمال ملتا ہے۔شہاب جعفری کے یہاں،،سورج،، کلیدی لفظ ہیجس کا استعمال مختلف علامات کی شکل میں بار بار ملتا ہے۔ مثلا،، سورج کا شہر، ذرے کی موت،گنہگار فرشتے،پس پرہ،آخری نسل،خونی صدیاں، سورج کا زوال،شہر انا میں،وجدان اور شام اور کھنڈر وغیرہ نظموں میں سورج کو خوشی،عیش و عشرت،ترقی،علم و آگہی،انا،خدا،طاقت،نئی نسل اور روشنی کا سرچشمہ وغیرہ کی علامات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اردو شاعروں کے یہاں سورج کے مختلف کردار یا استعمال پر بحث سے پہلیسورج کی مذہبی حیثیت پر نظر ڈال لینا ضروری ہے۔
ویدک اشلوکوں میں سورج کو،،سریا،، یا،،ساوتری،، کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ان دونوں ناموں کو ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے تو کبھی ایک دوسرے کے بدل کے طور پر۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ صبح اور شام میں جو سورج نظر آتا ہے اسے،، سریا،، کہا جاتا ہے اور جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو اسے ساوتری کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ساوتری کی سنہری آنکھیں،سنہرے ہاتھ اور سنہری زبان ہوتی ہے۔ یہ بگھی کی سواری کرتا ہے جسے سفید پاوں والے چمکیلے گھوڑے کھینچتے ہیں۔ رگ وید میں سورج کو تمام دیوتاوں کی آنکھ کہا گیا ہے۔سورج کو بارش کرنے والا دیوتا بھی سمجھا جاتا ہے۔ گایتری آج بھی رگ وید کا سب سے مقدس منتر مانا جاتا ہے۔اس منتر کا نام ساوتری بھی ہے۔یہ اس لیے کہ اس منتر میں سورج دیوتا کو ساوتری کی حیثیت سے مخاطب کیا گیا ہے۔یہ رگ وید کی سب سے مقبول اور کثرت سے استعمال ہونے والی بحر میں تخلیق کیا گیا ہیجو گائیتری کہلاتی ہے۔ رگ وید کے جس بند میں تین مصرعے ہوں اور ان تمام مصرعوں کے آٹھ آٹھ رکن ہوں اس بند کی بحر گائیتری کہلاتی ہے۔اس لیے یہ منتر ساوتری سے زیادہ گائیتری کے نام سے مشہور ہے۔ہندوں کا عقیدہ ہے کہ دیوتا منتر پڑھنے والے کے سارے گناہ دھو ڈالتے ہیں۔ابتدا میں یہ بالکل سادہ دعائیہ منتر تھا جس میں سورج سے یہ دعا مانگی گئی تھی کہ وہ اپنے پجاریوں،ان کے عبادت گاہوں اور اس سے متعلق رسوم پر شفقتیں نازل کرے۔ ان کے کاموں میں برکت دے۔ بعد کے زمانوں کے شارحین نے اس منتر کی مختلف توضیحات اور تشریحات کیں اور مفہوم و معانی میں اضافے کیے۔
یورپ کے متعدد علما نے گایتری کا ترجمہ کیا جن میں رالف گرفتھ (ralph griffith)، ولسن (wilson) کولبروک(colebrooke) میکڈانل(mc donel) اور سر ڈبلیو جونز(sir w. jones) وغیرہ ہیں۔ اردو میں اقبال نے،، آفتاب،، کے عنوان سے گائیتری کا ترجمہ کیا جو بانگ درا میں شامل ہے۔ اقبال کا یہ ترجمہ ہندووں کیاضافہ شدہ توضیحی تراجم پر مبنی ہے۔
اے آفتاب؛ روح روان جہاں ہے تو
شیرازہ ہند دفتر کون و مکاں ہے تو
باعث ہے تو وجود عدم کی نمود کا
ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا
قائم یہ عنصروں کا تماشہ تجھی سے ہے
ہر شئے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
ہر شئے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے
وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے،خرد ہے،روح رواں ہے،شعور ہے
اے آفتاب،ہم کو ضیائے شعور دے
چشم کو اسی تجلی سے نور دے
سورج سے متعلق ہزاروں اساطیری قصے کہانیاں وابستہ ہیں جو مذہبی کتابوں کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے ہم تک پہنچی ہیں۔ اس لیے تخلیق کار سورج کا علامتی استعمال کر کے قاری کا حافظہ بیدار کرتا ہے اور وہ ہزاروں سال پرانی دنیا میں جا پہنچتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ سورج ہماری زندگی کو کسی نہ کسی روپ میں متاثر کرتا ہے اس لیے اس کا استعمال بھی دوسری علامتوں کے مقابلے کچھ زیادہ ملتا ہے ۔ میرا جی کے یہاں ہی سورج کا استعمال بطور علامت پچیس نظموں میں کیا گیا ہے۔ان نظموں میں آمد صبح،سوریہ پوجا،اجنتا کے غار،انجام،ایک شکار،ایک شام کی کہانی اور ایک لڑکی وغیرہ ہیں۔نظم کتھک، میں ڈوبتے سورج کو زوال کی علامت کے روپ میں استعمال کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ سورج سے وابستہ اردو محاورے کئی حیاتیاتی جہت رکھتے ہیں۔ مثلا:
سورج طلوع ہونا، سورج غروب ہونا، آفتاب نصف النہار ہونا،اور چڑھتے سورج کی پوجا کرنا وغیرہ۔
اس کے علاوہ سورج اچھے برے وقت کا استعارہ ہے،سورج زندگی کی علامت ہے،سورج نور ہے اور نور حق ہے ،سورج حسن اور خیر کا استعارہ ہے،سورج عظمت اور عروج کی علامت ہے،سورج سفاکی اور قیامت کا استعارہ بھی ہے ۔مثلا ن۔م۔راشد نے اپنی کئی نظموں میں سورج کو ظلم و ستم کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔نظم ،، نیا آدمی،، میں سورج تباہ و برباد کرنے والے آلات کی علامت ہے۔جسے طاقتور ملک کی حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور کمزور تباہ کن ہتھیار سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ شاعروں نے سورج کو بلندی اور دولت کے علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے گویا شہر کے اونچے مکانوں پر چمکتا سورج شان و شوکت اور دولت کی علامت ہے جو غریبوں کو ہمیشہ ینچی نظر ڈالتا ہے۔ وزیر آغا نے رگ وید کے حوالے سے سورج کو عاشق اور رات کو بیک وقت ماں اور محبوبہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ رات کے تین روپ یعنی شام، رات اور صبح کی تین مختلف کیفیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ شہاب جعفری کی نظم ،، پس پردہ ،، میں بھی سورج کے غروب ہونے کے بعد رات کے آغوش میں چلے جانے سے لے کر طلوع ہونے اور پھر صبح سے شام ہونے تک گردش میں رہنے کے عمل کو پیش کیا گیا ہے جس سے زندگی کے نشیب و فراز اور تجرید زندگی کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔جیسا کہ اس سے قبل ذکر آیا کہ شہاب جعفری کی نظم ،، سورج کا شہر،، میں سورج خوشحالی کی علامت ہے۔ اس منابست سے نظم کے چند مصرعے:
نہیں یہ سورج کے شہر کا آدمی نہیں ہے
کہ یہ تو مرنے کے بعد فٹ پاتھ پر پڑا ہے
یہ لاش ہم سب کی طرح سورج کے ساتھ گردش میں کیوں نہیں ہے
پڑھو تو اس ڈائری میں کیا ہے
اس نظم میں سورج کے شہر سے شاعر نے قاری کے ذہن میں ایک ایسی دنیا کی تصویر ابھارنے کی کوشش کی جس کی مثال جنت یا اس جیسی کسی مثالی دنیا سے دی جا سکے۔ ظاہر ہے کہ وہاں کا آدمی فٹ پاتھ پر نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ آدمی سورج کے شہر کا ہوتا تو اس کے ساتھ گردش میں ہوتا جو عیش و عشرت کی علامت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نظم کے ذریعے فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے جو وہیں زندگی بسر کرتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ سورج کے شہر میں طنز کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔سماجی ناہمواریوں کا پہلو ادب میں در آنا ایک فطری عمل ہے۔جہاں ادب میں طنز کا اضافہ ہوا وہیں ۱۹۶۰ کے بعد ادب میں علامتوں کا استعمال کثرت سے ہونے لگا اور اساطیر کی واپسی خود بخود ہو گئی۔
سورج سے متعلق ہزاروں اساطیری قصے کہانیاں ادب کا حصہ بن گئیں جن میں سے کئی استعاراتی اور اساطیری پہلو ہمارے سامنے آئے جس سے اندازہ ہوا کہ ہزاروں سال پرانی تہذیب اور اس سے متعلق قصے کہانیاں نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ کس خوبی سے ان اساطیری علامتوں کا بر محل استعمال کیا گیا ہے۔
مہر فاطمہ(رسرچ اسکالر ،دہلی یونیورسٹی )
meharekta004@gmail.com
9891170486 / 9555949032
R-314, Sara Apartment , First Floor,F3 Near qadri Masjid
Jogabai Extrn, Batla House ,Okhla ,New Delhi110020
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

