"Childhood shows the man, as morning shows the day”— Milton
محسن خان کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اپنے طرز کا منفرد ناول ہے۔ اس ناول میں درحقیقت معصوم بچوں کی دنیا آباد ہے اور واقعات اس قدر رواں بیانیہ میں ترتیب دیئے گئے ہیں کہ قاری اور کہانی میں ایک انوکھا رشتہ قائم ہوتا جاتا ہے۔ ایک بار ناول شروع کردیا جائے تو قاری اختتام تک خود بخود بچوں کی معصوم زندگی کے شب و روز اور بیانیہ کی رفتار کے ساتھ چلتا جاتا ہے۔ کہانی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور یہ کسی بھی ناول کی پہلی کامیابی ہوتی ہے۔ اس کہانی میں کہنے کو اگرچہ بہت کچھ نہیں ہے تاہم جو کچھ کہا گیا ہے وہ متانت، سادگی بلکہ نہایت منظم، پرکار اور منفرد لہجے میں کہا گیا ہے۔ پورے ناول میں ایک حیرت انگیز معصومیت اور سادگی ہے جو قاری کو اپنے حصار سے نکلنے نہیں دیتی اور بچوں کی نفسیات اور ان کی بھولی بھالی دنیا کو ہنر مندی سے متعارف کراتی ہے۔ یہ دور ہی شاید ناول کے لئے مخصوص ہے۔ میرے سامنے جو ناول کا نسخہ ہے وہ بہ لحاظِ اشاعت نسخۂ پنجم ہے؛ یعنی اس سے پہلے اس ناول کے چار ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے یہ نسخہ ایک ہزار شائع ہوا ہے۔ اگر اس بات کو قبول کرلیا جائے تو اپنی زبان کے سلسلے میں حیرت انگیز روشن خیالی کا احساس ہوتا ہیْ (کم سے کم اشاعت کے بعد کتاب کے کئی ایڈیشن کا حربہ بھی پبلشر نے خوب اپنایا ہے)۔ اس طرح کتاب کے گرد و پوش میں بھی اہم ادیبوں اور ناقدوں کی آرا درج ہیں جو مجھ جیسے ہر کم فہم قاری کو متاثر کرتی ہیں، لیکن ناول پر چاہے جیسی بھی تفہیم و تعبیر کے پل تعمیر کئے جائیں، ناول کا اثر ہر قاری پر مختلف پڑتا ہے اور وہ اپنے انداز اور اپنی نظر سے ناول کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتا ہے اور اپنے ذاتی اظہار کا حق بھی رکھتا ہے۔
’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ کا مرکزی کردار جبران ہے۔ دیگر اہم کرداروں میں اس کی بہن نصرت، اس کے والدین، اس کے چچا چچی، اس کی دادی، گاؤں کے چند دوست اور باشندے، حافی جی اور ایک عدد کتا بھی ہے۔ ناول کی فضا چھوٹے چھوٹے لیکن انتہائی فطری اور معصوم واقعات کے گرد بنی گئی ہے۔ گھر آنگن ہے، مرغی اور اس کے چوزے ہیں، نامساعد حالات ہیں، بچے پتنگ اڑاتے ہیں، مسجد /مدرسے میں پڑھتے ہیں، دھوپ میں دوڑتے ہیں، بندر بندریا کا ناچ بھی دیکھتے ہیں، حافی جی کا مدرسے میں پاؤں بھی دباتے ہیں، معصوم شرارتیں ہیں، عبرت کی چھڑی بھی کھاتے ہیں، عید بقرعید کی خوشیاں، غربت کے تھپیڑے میں مذہب اور دعاؤں کا گہرا ساتھ ہوتا ہے۔ درمیان میں سیاسی اور سماجی حقیقتوں سے پردہ کشائی بھی ہوتی ہے، غربت کے تھپیڑے سے بھی خاندان اثر انداز ہوتے ہیں لیکن یہ سارا کچھ کہانی کی ساخت یا تہہ سے ابھرتا ہے اور ناول کو قابل اعتبار بناتا ہے۔ گھر گاؤں کا ماحول مذہبی ہے۔ نماز روزے کے ساتھ دینی تعلیم سے ناول کی دنیا آباد ہے۔ ایک چچا بھی ناول میں کچھ وقفے کے لئے ابھرتے ہیں جو زندگی کے حسن اور روشن خیالی سے بہرہ ور ہیں اور بچوں کو آخرت سنوارنے والی کتابوں کے بجائے زندگی سے بھرپور کتاب پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ مدرسہ/ مسجد میں بھی بچوں کی تعلیم کا جو نظام مدتوں سے قائم ہے اس کی تصویر کشی ناول میں بخوبی کی گئی ہے۔ ان بچوں کی شرارتیں کچھ ایسی ہوتی ہیں جو قاری کو نہ صرف زیر لب مسکرانے کا موقع فراہم کرتی ہیں بلکہ انھیں ان کے بچپن کے دنوں میں واپس لے جاتی ہیں، جہاں وہ ڈربے میں مرغی اور اس کے چوزے کو دیکھتا ہے، راستوں اور چھتوں پر پتنگ بازیاں کرتا ہے، مسجد کے اندر مولوی اور حافی جی کی حرکتوں پر نہ صرف حیران ہوتا ہے بلکہ خاموشی سے پُر مزاح لہجے میں یاد کر کر کے کھلکھلاکر ہنس دیتا ہے۔ یہ سارے معصوم واقعات کے درمیان ایک ہی ایسا واقعہ ہے جو کہانی میں وقت اور عصر کا اہم حوالہ بنتا ہے۔ یہ واقعہ ناول کو ہم عصر سیاسی منظر نامے سے جوڑ دیتا ہے۔ جبران کے والد کٹر مذہبی قسم کے آدمی ہیں، اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لئے نکلتے ہیں اور واپس نہیں لوٹتے، مصیبت ٹالنے والے وظیفے کے ورد کے باوجود ان کا گھر بکھر جاتا ہے۔ یہ کہانی کی ایسی Twist ہے جو کہانی کو آج سے ہم رشتہ کردیتی ہے۔ وہ پولس کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں، دہشت گردی کا الزام ہے۔ پورے ناول میں یہ اہم سیاسی واقعہ ہے جو بچوں اور اس کی ماں کی زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کہ کہانی تیزی سے آگے بڑھنے لگی ہے، سیاسی نراجی کیفیت نے پوری کہانی میں حزن و ملال کی ہلکی سی چادر ڈال دی ہے ورنہ احمد، خالد اور دیگر دوستوں اور مدرسوں اور میدانوں کی بھاگ دوڑ اور بچوں کےs Prank میں کہانی کا سلسلہ دراز رہتا ہے۔ یہاں سے کہانی اپنی معصومیت کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف رواں رہتی ہے۔ اپنے منفرد موضوع اور زبان و بیان کی روانی میں ماں کی موت کا منظر، نصرت کے بدلتے ہوئے چہرے، گھروں پر سہمی ہوئی سراسیمگی، چچا اور چچی کے گھر بچوں کی زندگی اور ایک نہایت معصوم اور فطری غلطی کی وجہ سے جبران کو حافی جی کے پاس مقیم ہونے کے واقعات سے ہم واقف ہوتے ہیں۔ بڑی سرعت کے ساتھ تصویریں بدلتی جاتی ہیں۔ بکری کا چرانا، قبروں پر فاتحہ پڑھنا اور پھر انہی حوالوں سے حافی جی کی شفقت کا جذبہ بیدار ہونا ان کرداروں کو Typed ہونے سے بچائے رکھتا ہے۔ محسن خان نے نہایت فنکاری اور ہنری مندی سے ان واقعات کو ناول کے در و بست میں پرویا ہے۔ موضوع، واقعات، زندگی کے عملی تناظر، بچوں کی نفسیات اور مابعد واقعات کی بے ربطی اور بے ساختگی پورے ناول کو قابلِ مطالعہ بناتی ہے۔ سارے واقعات، کردار اور فضا ترتیب و تنظیم سے ہمارے سامنے رونما ہوتے ہیں، کہیں کوئی تفہیم کا مسئلہ نہیں بلکہ معیاری فکشن کا ثبوت ملتا ہے۔ پورے ناول کو ایک لے میں لکھا گیا ہے اور اسی لے میں قاری بھی اختتام کی طرف پہنچتا ہے جہاں بکرے کی قربانی کے بعد حافی جی بھی اپنی راہ لیتے ہیں اور بچہ بھی اپنے نئے سفر میں نکل جاتا ہے۔ اختتام اس ناول کا معصوم رواں بیانیہ سے مطابقت نہیں رکھتا یا قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ ناول ایک معصوم روح اور ارضی حقیقت کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے۔ حافی جی بکری چرانے کے عوض جبران کو رہنے اور کھانے کے لئے غذا فراہم کرتے ہیں۔ بکری چرانے، کھیتوں سے گزرنے اور قبر پر فاتحہ پڑھنے کا منظر جبران کو عام لڑکوں کی جبلت سے قریب بھی کرتا ہے اور منفرد بھی، وہ تصویریں بنا سکتا ہے۔ بکری سے ایک بے نام رشتے کے حوالے سے قریب ہوجاتا ہے، اس کی قربانی اسے رلاتی ہے، اللہ میاں سے اس کی تصوراتی باتیں، اس کے معصوم سوالات اور بکری کی قربانی اس کے کردار میں قوسِ قزح کا رنگ بھرتے ہیں، یہ سب کچھ متاثر کن ہے:
’’چکوے نے کہا، ’’بکری ہی تو ہے کوئی اونٹ تھوڑی ہے۔ ایک جھٹکے میں چت ہوجائے گی‘‘ پہلے تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ کیا ہونے والا ہے۔ جب بکری زور زور سے چلانے اور پچھاڑیں کھانے لگی تب سمجھ میں آیا کہ میری بکری قربانی ہونے جارہی ہے۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں بھاگتا ہوا آیا اور تخت پر لیٹ کر رونے لگا‘‘۔ (صفحہ 227)
ایک بھری پوری کہانی اختتام سے قریب ہے، لیکن نہایت سادگی اور دردمندی سے اور بغیر کسی تصنع، بناوٹ یا مابعد جدید فکشن کی اسلوبیاتی اور تکنیکی پیچیدگیوں سے ذرا دوری پر بلکہ پوری کہانی بغیر اس طرح کی تکنیکی بیساکھی کے، رواں بیانیہ میں رقم ہوئی ہے اور اس کی ٹھوس بنیادیں قاری کی نگاہ میں معتبر نظر آتی ہیں۔ بچپن کے یہ سارے سہانے دن اسی طرح ہمارے سامنے ابھر آتے ہیں جیسے کہ کوئی سامنے ایک شفاف آئینہ رکھ دے۔ جبران کی جانوروں اور پرندوں سے قربت، دیگر کرداروں کی چاہتیں اور کلفتیں، ان کے خواب، ان کے حالات، مسلم سماج، غربت اور روایت قاری کو فطرت سے بہت قریب نظر آتے ہیں۔ یوں احساس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے بچپن کی یاد، مسلم ماحول کے مشاہدے اور تجربے کو دیانت داری سے قاری کو لوٹا دیا ہے۔ بچپن کی کیفیات اور مختصر زمانے کے عرصے کے تخلیقی اظہار کے پہلو بہ پہلو جبران کے کردار کو دردمندی سے خلق کیا گیا ہے۔ دیگر بچے بھی زندگی کے کینوس سے منتخب کئے گئے ہیں۔ ان میں عام کمزوریاں بھی ہیں۔ ماں کے مرنے کے بعد چچی کے کردار کو بھی حقیقی اور ارضی سطح پر درشایا گیا ہے۔ پورے ناول میں ہم بچوں کی کمزوریوں، معمولی فطری خواہشات کے ساتھ بچوں کی نفسیات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان بچوں کی کیفیات کو پڑھتے ہوئے گوئٹے کا یہ قول بہت یاد آیا:
"In praising or loving a child, we love and praise not that is, but that we hope for” (Goethe)
اس طرح سے دل موہ لینے والی داستان ہے۔ یہ دیگر ناولوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں نہ تو تہذیب کے انہدام کا مسئلہ ہے، نہ جہانِ گم گشتہ کی دریافت یا بازیافت کی باتیں ہیں نہ ہجرت کا مسئلہ ہے، اور نہ بے جڑی کا احساس، نہ ہی ناول کی مختلف قرائت کا کوئی غبار ہے اور نہ موضوعاتی سطح پر تفہیم و تعبیر کی کوئی پیچیدگی ہے۔ بس بچپن کی سیدھی سادی زندگی اور واقعات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ پورے ناول میں بچے کی جبلت، اس کے تصور، اس کی خواہش اور اس کے رشتوں نے بڑے انکسار سے ڈیرا ڈال رکھا ہے جو ہمیں خوبصورت اور نہایت فطری تصویریں دکھاتے ہیں:
’’اس لئے امام صاحب کی دعا سے الگ اپنی دعائیں مانگنے لگا۔ سب سے پہلے میں نے اللہ میاں سے کہاکہ میرے ابّا جہاں بھی ہوں انھیں گھر پہنچا دیجئے۔ ان کے نہ آنے سے ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ اماں کی طبیعت بھی خراب ہے، ان کو بھی ٹھیک کر دیجئے۔ پھر میں نے اللہ میاں سے کہاکہ میرے گھر میں دو مرغیاں تھیں، ایک کالی اور چتکبری۔ کالی مرغی کو بلی اٹھا لے گئی، میری وہ کالی مرغی پھر سے میرے گھر میں واپس آجائے۔ میرے مرے ہوئے چوزے بھی واپس آجائیں۔ مرغی کو لے جانے والی بلی بھی مرجائے۔ حافی جی کسی دوسرے مدرسے میں چلے جائیں اور ان کی جگہ کوئی اچھے سے حافی جی آجائیں۔ میں نے اللہ میاں کو یہ بھی بتایا کہ میری اماں کو سونے کے کنگن پہننے کی آرزو ہے اور وہ کئی بار کہہ چکی ہیں کہ جب گھر میں خوشحالی آئے گی تو سب سے پہلے اپنے لئے کنگن بناؤں گی۔ میرے گھر میں خوشحالی کرکے ان کے لئے کنگن کا انتظام کردیجئے۔ دعا مانگنے کے بعد میں نے سوچا معلوم نہیں اللہ میاں نے امام صاحب کی اپنی دعاؤں کے ساتھ میری دعائیں سنی بھی ہوں گی یا نہیں۔ اگر سنی بھی ہو تو پتہ نہیں انھیں یاد رہیں گی یا نہیں یاد رہیں گی‘‘۔ (صفحہ 113)
اس اقتباس میں اگر چہ کسی مخصوص قسم کی تبدیلی کا احساس نہیں ہوتا ہے تاہم بچے کی حیرت انگیز نفسیات کا ذکر ہے۔ یہاں معصوم سی دعائیں بھی ہیں، خواہشیں بھی ہیں اور تشکیک کا ایک ہلکا سا عکس بھی ہے۔ ہوگا تو وہی جو اللہ میاں چاہیں گے، چاہے آپ جتنی دعائیں مانگ لیں، زندگی سے پُر ایسے مناظر ایک تسلسل کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں۔ پوری کہانی کا منظر نامہ ہنر مندی اور فہم و فراست سے ترتیب دیا گیا ہے۔ منظر کا کردار سے ربط اور عصری آگہی کے وسیع تناظر کو متانت اور سنجیدگی سے کہانی میں شامل کیا گیا ہے جس سے بیانیہ کے حسن میں نکھار آتا ہے۔ سادگی و پرکاری، معصومیت اور بے ساختگی اس ناول کے اہم اوصاف ہیں۔ گاؤں کا ماحول، مذہب اور ہدایت کے ساتھ ساتھ انسانی قدروں کا احساس بھی ناول کی دیگر خصوصیات ہیں ، واقعات کا بہاؤ اور دھیمی رفتار سے گزرتی زندگی کے اظہار میں اعتبار کی فضا قائم ہے۔
اس معصوم کہانی میں کوئی گہرا تصادم نہیں، کوئی چونکانے والے غیر متوقع واقعات بھی نہیں جو دل کی رفتار تیز کردے۔ یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ تمام موڑ، تمام راستے، تمام واقعات سوچے سمجھے طے شدہ راستوں پر اپنا سفر کرتے ہیں، چھوٹے چھوٹے فقرے اور جملے اپنی خوبی کے ساتھ کہانی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ انجام کی طرف ایک بار پھر لوٹنا پڑتا ہے، جہاں تفکر کا سماں چھایا ہوا ہے۔ تخیل کی حیرت انگیزی نے ناول کے اختتام کو داخلی کشمکش سے آمیز کرکے نئی صورت حال پیدا کردی ہے اور واقعات کی تشکیل میں استعا رے / علامت سے کام لیا گیا ہے:
’’حافی جی نے کفن جیسے کپڑے پہنے اور ایک بڑی خوبصورت چمکتی ہوئی چھری لے کر باہر چلے گئے۔ باہر بکری سر جھکائے، حافی جی کا انتظار کر رہی تھی، حافی جی اچک کر اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے اور انھوں نے چھری چابک کی طرح لہرائی تو بکری چل پڑی۔ پہلے تو وہ دھیمے دھیمے چلی، پھر تیز تیز دوڑ کر اڑنے لگی اور اڑن کھٹولے کی طرح خوب اونچائی تک چلی گئی۔ بہت اونچائی پر پہنچ کر اس کی گردن دھڑ سے الگ ہوکر آسمانوں میں جاکر چھپ گئی۔ اس کے بعد بکری کا دھڑ بھی حافی جی کو لے کر آسمانوں میں چھپ گیا اور ان کے پیچھے آندھی جیسا غبار فضا میں پھیلنے لگا۔ حافی جی کے آسمانوں میں چلے جانے کے بعد اماں میرے پاس آئیں اور اپنا برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ میری پیشانی پر رکھ کر کہنے لگیں ’’جبران تم کو تو بہت تیز بخار ہے، یہاں اکیلے ہو، اٹھو، میرے ساتھ چلو، وہاں چچا جان اور قطمیر (کتا) بھی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔
رات بہت ہوچکی ہے۔ چراغ کی روشنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ شاید تیل ختم ہوگیا ہے‘‘۔ (صفحہ 233)
پورا ناول سادگی اور پرکشش انداز میں لکھا گیا ہے۔ واقعات بھی بالترتیب اور سلجھے ہوئے ہیں۔ یہاں تصوراتی/ علامتی/ سُریلی/ طلسماتی طرز پر ناول کا اختتام کیا گیا ہے۔ اسے زندگی کے حقائق پر کس طرح منطبق کیا جائے۔ کہانی ان کی موت کے ساتھ ختم ہوتی ہے؟ یا متوسط اور غریبی کی ریکھا پر زندہ رہنے والوں کا انجام یہی ہوسکتا ہے۔ حافی جی خلد مکانی ہوتے ہیں، ماں بھی اپنے ساتھ اپنے بچے کو لے کر نئے سفر پر روانہ ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ تیل کا ختم ہونا زندگی کا دیا بجھنے کی بھی علامت ہوسکتا ہے۔ کہانی میں گنجائشیں نظر آتی ہیں اور کچھ واقعات قاری کے ذہن میں بھی ابھرتے ہیں تاہم کہانی کو کہانی کی صورت میں بیان کرنے کی یہ روشن مثال ہے۔ کالرج نے کہا تھا کہ میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ یہ دنیا بچوں کے بغیر کتنی اداس ہوتی اور بوڑھوں کے بغیر کتنی بے رحم!
بہر حال محسن خان کا یہ ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ مایوس نہیں کرتا بلکہ ایک اچھے اور بہتر ناول کی بہت سی نشانیاں اس میں موجود ہیں۔ دنیا کو بچے کی نظر دیکھیں تو دنیا بہت خوبصورت لگتی ہے!
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

