۱۸۵۷کی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر کا نام برصغیر ہند و پاکستان کا ایک عظیم واقعہ ہے جسے تاریخ فراموش نہین کر سکتی اور اس جنگ آزادی میں مغلوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا جس کے سبب عوام و خواص کی زندگی بے حد متاثر ہوئی اور ہندوستانیوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ انیسویں صدی کے ہندوستانی سماج کا جائزہ لینے سے یہ معلومات فراہم ہوتی ہے کہ ہندوستانی سماج اپنی بے حسی اور بے عملی کے سبب تنزلی کا شکار ہوتا ہے اور مغربی سماج اپنی بیداری کے سبب ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے غرضیکہ انیسویں صدی کا زمانہ ہندوسان کی مفلوک الحالی کا زمانہ تھا۔ اس دور کے ہر طبقے کی حالت ابتر تھی، اس سماج کا ہر طبقہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا یا جوان، بداخلاقی، جہالت، بدعنوانی اور ریاکاری کا مرقع تھا۔ بے حیائی، غلط رسم و رواج غرضیکہ تمام طرح کی برائیاں اس عہد میں رائج تھیں۔ جہالت کا درد دورہ تھا اور تعلیم محض امیروں اور رئیسوں کی جاگیر تھی۔ غریبوں اور نچلے طبقوں خصوصاً عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہ تھا۔ اگر اس دور کی عورت کا تصور کیا جائے تو گھر کی چار دیواری میں مقید علم و عقل سے بے بہرہ اور زندگی کے مسائل سے بے خبر اور محض دوئم درجے کی مخلوق نظر آتی ہے۔ سماج میں ہندو مسلم خواتین ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔ ان کو مرد اساس سماج میں اپنے کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔ مردوں کو دیوتا بنا کر پوجنا، ان کی خواہشات پوری کرنا اور ان کے مرنے کے بعد ستی ہو جانا (یعنی چتائوں کے ساتھ جل جانا) ہی ان کی قسمت تھی۔ا یک طرف جہیز کی لعنت نے جہاں اس کی زندگی کا دائرہ تنگ کیا وہیں ستی کی رسم نے عورت سے جینے کا حق چھین لیا۔ بیوہ عورت کی زندگی تمام رنگوں اور خوشیوں سے خالی تھی اور بے چارگی کی زندگی اس کا نصیب بن جاتی تھی۔ نہ وہ دوسری شادی کر سکتی تھی اور نہ کسی کی شادی اور خوشیوں میں شامل ہو سکتی تھی کیونکہ اب شکتی کا لفظ اب اس کا نام کے حصہ ہوتا تھا۔ غریب خاندان کی عورتیں محنت، مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پوری کرتیں اور مرد محض مے نوشی اور جواخوری میں بدمست رہتا اور اس کے باوجود بھی وہ عورتوں پر ظلم و ستم کرنے کے لیے آزاد تھا گویا کہ یہ اس کا عینی حق تھا۔ ڈاکٹر تاراچند ’’تاریخ تحریک آزادی ہند‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ولیم برفورس لندن کی پارلیمنٹ میں جون ۱۸۱۳ کی رپورٹ میں ہندوستان کے متعلق کہتا ہے:
’’ہمارا مذہب ارفع و اعلیٰ پاکیزہ اور اچھا ہے ان (ہندوستانیوں) کا مذہب رکیک، عیاشانہ اور ظالمہ ہے… اس دوران (۱۷۹۳سے ۱۸۱۳) جو کچھ سنا اور پڑھا ہے اس نے ہندوستان کے متعلق برے خیالات میں اضافہ کر دیا ہے۔‘‘
(تاریخ تحریک آزادی ہند، از ڈاکٹر تاراچند، جلد دوم، صفحہ۲۰۶)
اسی سلسلے میں دوسری رپورٹ میں ہندوسانی عورتوں کے تعلق سے وارڈ کہتا ہے:
’’وہ (ہندوستانی عورت) دکھوں سے چور، غیر تعلیم یافتہ اور ایسے جانوروں کی طرح ہیں جن پر یا تو بوجھ لادا جاتا ہے یا ذبح کیا جاتا ہے۔‘‘
(تاریخ تحریک آزادی ہند، از ڈاکٹر تاراچند، جلد دوم، صفحہ۲۰۶)
اس طرح مختلف تاریخ نگاروں نے اس دور کی عورتوں کے حالات اور ان کے مسائل کی تصویر کشی کی ہے۔ ڈاکٹر تارا چند خود لکھتے ہیں:
’’ان (ہندوستانی مردوں) کے نزدیک عورت کھیلنے کے لیے ایک گڑیا تھی اور انسان کی شہوت کو آسودہ کرنے کا ایک ذریعہ، وہ اپنی خود انفرادی شخصیت رکھنے والی ہستی نہ تھی۔ اس لیے صحیح محبت کی چیز نہیں بن سکتی تھی۔‘‘
(جلد اول، صفحہ ۲۷۴)
عورت کے ہر عمل اور سوچ پر مرد کی اجارہ داری ہوتی تھی اور یہی نہیں بلکہ تعلیم شعور و آگاہی حاصل کرنے کو عورتوں کی آوارگی اور بدکرداری سے جوڑا جاتا تھا۔ اس دبی کچلی بے چاری عورت کی زندگی کا واحد و عین مقصد محض بچے پیدا کرنا اور بچوں کی تربیت کرنا تھا۔ اس وقت بال وواہ (cky fookg) کی رسم عام تھی ہوش سنبھالنے سے پہلے بے چاری بچے سنبھالتے نظر آتی تھی۔ پردے کی پابندیاں اپنے حدود سے کہیں آگے نکل چکی تھیں۔ گھر کی چار دیواری میں اس کے لیے بہت سی رکاوٹیں تھیں۔ باہر کی دنیا سے اس کا تعلق نہ کے برابر تھا اور گھر کے دریچے سے باہر جھانکنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ مذہب کی آڑ میں پردہ اور پردے کی آڑ میں زندگی کے دروازے اس پر بند تھے۔ لوگ اپنی بچیوں کو حصول تعلیم کے لیے مدرسوں میں بھیجنے پر آمادہ نہ تھے۔ تعلیم کے نام پر زیادہ سے زیادہ وہ مذہبی کتابیں پڑھنا ہی جانتی تھی علاوہ ازیں تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اس زوال پذیر دور میں عورت کی حالت معاشرتی سطح پر ہر لحاظ سے دگرگوں تھی۔ عورت کے منفی روپ اور اس کے متعلق یک طرفہ تصورات انیسویں صدی تک محدود رہے اور کیا پتہ کب تک محدود رہتے لیکن ۱۸۵۷ کے انقلاب کے بعد انگریزوں نے برصغیر ہند و پاک پر باقاعدہ قبضہ کر لیا اور یہ ایسا انقلاب اور اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس سے پہلے رونما نہ ہوا تھا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ زمانے میں نئے تغیرات، نئی تہذیب، نئے حالات، نئی شورش، نئے احکامات اور نئی مشکلات رونما ہوئیں۔ یہ بہت بڑی تبدیلی تھی اور ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ تھی۔ اس جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں جدید مغربی تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا اور زندگی نے اس نئے ماحول میں نئی کروٹ بدلنی شروع کی۔ پی۔ سی۔ جوشی اپنی کتاب ’’انقلاب ۱۸۵۷ ‘‘ میں سید احتشام حسین کے مضمون ’’اردو ادب اور انقلاب ۱۸۵۷ ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’… مبہم طور سے یہ ایک نئی بیداری کا دور بھی تھا، اس نئے شعور کی ابتدا کا جو بدلتے ہوئے تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات کا تقاضا تھا۔‘‘
چنانچہ حالات کے تقاضے کے تحت اور اس نئے اور بدلتے ماحول کا سامنا کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت تھی اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہٰذا اس ضرورت نے ایسی پرآشوب گھڑی میں بہت سی عظیم شخصیات و رہنمائوں کو جنم دیا جنھوں نے اس بدلتے ہوئے ماحول کو محسوس کیا اور نئے حالات سے نپٹنے کے لیے مختلف تجاویز کیں اور قوم کو نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ان رہنماؤں میں سرسید احمد خاں، راجہ رام موہن رائے، دیانند سرسوتی، ایشور چندودیا ساگر، گاندھی جی اور ولزلی کے نام قابل ذکر ہیں جنھوں نے اپنی مساعی سے اصلاحی تحریکوں کو جنم دیا اور ملک و قوم میں شعور و بیداری پیدا کی۔ ان رہنماؤں نے بدلتی ہوئی دنیا اور اس کی ترقی کو دیکھا تھا خصوصاً مغرب کی آزاد خیالی، روشن خیالی، سائنسی طرز و فکر نے ان رہنمائوں کو بہت متاثر کیا جس کی روشنی میں انہوں نے ملک و قوم کے ترقی پسند عناصر کو اجاگر کرنے کی سعی کی اور جدید ہندوستان کی تعمیر و تشکیل میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ ملک کے احیاکے لیے جہاں راجہ رام موہن رائے نے ہندوقدامت پرستوں سے مخالفت کی اور ’’ستی‘‘ کی رسم کے خلاف آواز اٹھائی تو دیانند سرسوتی نے ہندو مذہب کے احیا کے لیے اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کیا۔ سرسید نے تعلیم نسواں کا نعرہ بلند کیا اور ہندوستان کی شناخت قائم رکھنے کے لیے عورتوں کی تعلیم اور شعور و بیداری پر زور دیا۔ اسی طرح ایشور چندو دیا ساگر نے بیوہ عورتوں کی دوبارہ شادی کرانے کی پرزور حمایت کی اور مہاتما گاندھی اور وویکانند نے عورتوں کی آزادی کی بات کی اور ’’بال وواہ‘‘ یعنی کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کی مخالفت کی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان رہنمائوں نے اپنی اصلاح کے ذریعہ ہندوستان میں پھیلی ہوئی ایسی تمام برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کیں اور ان میں شعور و بیداری کا احساس پیدا کیا۔
اس طرح مختلف تحریکوں نے ہندوستان میں تعلیمی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیاں پیدا کیں اور آہستہ آہستہ انگریزی تہذیب و تمدن نے معاشرے کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ عورتوں کے حقوق آزادی اور تعلیم نسواں وقت کی اہم ضرورت بن کر ادب کا موضوع بنے۔ داستانوں کا دور ختم ہوا اور حقائق نے تخیل کی جگہ لے لی، شہزادی و ملکہ کی جگہ نذیر احمد کی اصغری اور اکبری نے لے لی۔ جہاں اصلاح کی ضرورت نے مردوں کو متحرک کیا وہاں عورتوں نے اندر بھی شعور و بیداری کی خواہش اجاگر ہوئی۔ ہندوستان میں قبضے کے چند دنوں کے بعد علمی و ثقافتی انجمنیں و ادارے قائم کیے گئے۔ بنارس، شاہجہانپور، آگرہ اور لکھنؤ سماجی اصلاح اور تعلیم نسواں کے اولین مراکز بنے اور تعلیم نسواں کی طرف خاص توجہ کی گئی۔ ان تعلیمی کوششوں اور نظریات سے متاثر ہونے والوں میں سرسید احمد خاں، مولانا حالی، مولوی نذیر احمد، نواب محسن الملک اور شیخ عبداللہ وغیرہ ہیں جنھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی۔ سرسید اور ان کے رفقا نے سب سے پہلے لڑکیوں کی تعلیم کے مسئلے کو سنجیدگی سے محسوس کیا اور اپنا موضوع بنایا۔
سرسید تحریک کے ایک اہم رکن مولوی نذیر احمد نے سب سے پہلے عورتوں کے حوالے سے ایسے ادب کا آغاز کیا جس میں عورتوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق بات کی جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ۱۸۶۹ میں اپنا پہلا ناول ’’مراۃ العروس‘‘ لکھا جس میں اصغری اور اکبری کے حقیقی کرداروں کے ذریعہ عورتوں کی اصلاح کا کام لیا گیا۔ حالی نے ’’مجالس النسائ‘‘ دو جلدوں میں لکھی اس کے علاوہ بھی بہت سے ناول لکھے گئے جن میں عورتوں کی تعلیم، مشہور و معروف علوم کے متعلق بنیادی باتیں، خواتین کے مسائل و توہمات اور رسم و رواج کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی۔
بلاشبہ یہ اردو کے اولین قصے تسلیم کیے جاتے ہیں جس میں عورتوں کے مسائل پیش کیے گئے اور اصغری و مریم زمانی جیسے نسائی کرداروں پر ان کی عمارت تعمیر کی گئی۔ خصوصاً ندیر احمد کی ناولوں نے عورتوں کی تعلیم وتربیت اور اصلاح میں نہایت اہم رول ادا کیا جس نے آگے چل کر عورتوں میں بھی ایک نئی بیداری و شعور پیدا کیا جس کی بنیاد پر ان میں اظہار کی مختلف پنہاں صورتیں نمایاں ہوئیں۔ اور اب عورتوں نے خود بھی اپنے مسائل باقاعدہ طور سے پیش کرنے شروع کر دیے چنانچہ نذیر احمد نے عورتوں کی وکالت کا جو کام شروع کیا اسے اب خود عورتوں نے شروع کر دیا جس کے ذریعہ نئے نئے مسائل و موضوعات نمایاں ہوئے اور مختلف قصے اردو ادب کی زین و زینت بنے۔
اردو ادب میں سب سے پہلے رشیدۃ النسا بیگم نے اپنا ناول ’’اصلاح النسا‘‘ پیش کیا۔ یہ پٹنہ صوبہ بہار سے تعلق رکھتی تھیں۔ رشیدۃ النسائ اردو کی پہلی باقاعدہ ناول نگار تسلیم کی جاتی ہیں انہوں نے اردو ادب کا پہلا معاشرتی، اصلاحی اور مقصدی ناول لکھا جو کہ ۱۸۹۴میں منظر عام پر آیا اور یہیں سے خواتین کے تمثیلی قصوں کا آغاز ہو گیا۔مصنفہ نے اس ناول کے دیباچے میں ذکر کیا ہے کہ اس کا مسودہ تیرہ برس یوں ہی پڑا رہا۔ اس لحاظ سے اس کا سن تصنیف ۱۸۸۱شمار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ زمانہ ایسا تھا جہاں عورتوں کا پڑھنا لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان کے لیے اپنی کہانیوں کو چھپوانا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ خاص طور سے مسلم معاشرے کی شہزادیوں کے لیے نام کیا آواز تک کا پردہ ہوا کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں انھوں نے پہلے پہل لکھنا شروع کیا اور ’’اصلاح النسائ‘‘ میں اپنا تعارف اصل نام کے بجائے اس طرح کرایا ہے: ’’والدہ محمد سلیمان بنت سید وحیدالدین خاں و ہمشیرہ امداد امام اثر‘‘ بعض محققین نے ان کا دوسرا نام خدیجۃ الکبری بھی بیان کیا ہے۔ رشیدۃ النسا اردو کے مشہور و معروف محقق و اسکالر امداد امام اثر کی بہن تھیں۔
’’اصلاح النسا‘‘ مسلم گھرانوں میں پھیلی برائیوں اور مسلمان خواتین کی اصلاح کے لیے ہی تحریر کیا گیا۔ یہ ایک مقصدی ناول ہے جس کا خاص اور بڑا مقصد مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط اور لغو رسم ورواج توہمات اور روایات و حکایات کی اصلاح و انسداد تھا۔ بلاشبہ یہ ناول مولوی نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ سے متاثر ہو کر اور اس کی پیروی میں لکھا گیا لیکن اس ناول کی ترقی یہ ہے کہ اس میں عورت کی جدوجہد کو گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عورتوں کی بیداری اور حقوق کی بھی بات کی گئی۔ نذیر احمد کے اعتراف میں ایک جگہ رشیدۃ النسا لکھتی ہیں:
’’اللہ مولوی نذیر احمد کو عاقبت میں بھی بڑا انعام دے۔ ان کی کتاب پڑھنے سے عورتوں کو بڑا فائدہ پہنچا۔ جہاں تک ان کو معلوم تھا انہوںنے لکھا اور اب جو ہم جانتے ہیں اس کو انشائ اللہ تعالیٰ لکھیں گے۔ جب اس کتاب کو لڑکیاں پڑھیں گی تو مجھے امید ہے کہ انشائ اللہ سب اصغری ہو جائیں گی۔ شاید سو میں سے ایک اپنی بدقسمتی سے اکبری رہ جائے تو رہ جائے۔‘‘
بے علمی کے سبب مسلم معاشرے میں جو جہالتیں، غلط رسم و رواج، شرک و بدعت اور بری رسومات وروایات پیدا ہو چکی تھیں ان سے خواتین کا طبقہ زیادہ شکار ہو رہا تھا۔ خصوصاً مسلمان گھرانوں کی عورتیں گمراہی کی حد تک جا پہنچی تھیں۔ اس وقت سماج میں جو بدلائو ہو رہے تھے خصوصاً نئی تعلیم، ٹکنالوجی اور نئی روشنی کی بدولت سماج میں جو تبدیلی ہو رہی تھی اس سے مرد طبقہ تو براہ راست مستفیض ہو رہا تھا لیکن عورتیں جو گھر کی چاردیواری میں مقید تھیںاس نئی روشنی سے بے خبر تھیں ان کو یہ موقع نہ ملا تھا۔ لہٰذا رشیدۃ النسائ بیگم نے عورتوں کے تمام مسائل اور خامیوں پر مبنی ناول ’’اصلاح النسا‘‘ لکھ کر ان عورتوں کی اصلاح کی کامیاب کوشش کی۔ غالباً رشیدۃ النسائ نے نذیر احمد کی طرح پر ہی اپنے ناول میں مقصدیت کو پیش نظر رکھا اور کرداروں کو بھی اپنی مقصد کے مطابق دو حصوں میں تقسیم کر دیا یعنی خیر و شر کے زمرے میں، ایک حصہ بے انتہا خوبیوں کا مالک بن گیا اور دوسرا سراسر خامیوں سے لبریز۔ ایک طبقہ ترقی پسند اور دوسرا رجعت پسند بن کر سامنے آیا۔ مثلاً امتیاز الدین کی والدہ اور گھر والے فرسودہ رسوم و روایات کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے جبکہ دوسری طرف بسم اللہ کا خاندان ہر طرح کی بدعات و شرک میں مبتلا ہوتا ہے۔ چونکہ مصنفہ کو رجعت پسندی کو غلط اور بُرا ثابت کرنا ہے اسی لیے انھوں نے یہ نقشہ کھینچا ہے کہ آخرکار بسم اللہ اور اس کی والدہ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد اور اپنے ہاتھوں پیدا کیے ہوئے برے اور ناخوش گوار حالات سے گھبرا کر بالآخر شر سے خیر کی جانب مراجعت کرتی ہیں۔ رشیدۃ النسائ بیگم کا کہانی لکھنے کا یہ انداز بالکل نذیر احمد کے جیسا ہی ہے یہاں اس قصے کے کرداروں کے نام بھی نذیر احمد کے انداز بیان کے چغلخوری کرتے ہیں مثال کے طور پر محمد واعظ، اشراف النسائ وغیرہ۔ اس طرح ان بنیادی خامیوں کے باوجود بھی رشیدۃ النسائ کا یہ ناول فنی طور پر نذیر احمد کے ناولوں سے کہیں زیادہ بہتر درست اور بھروسے کے لائق ہے کیونکہ مولوی نذیر احمد کے ناولوں میں محض سادہ و سپاٹ قصے اور وعظ و نصیحت کے علاوہ کسی طرح کی کوئی تہذیبی و معاشرتی منطر کشی نہیں ملتی جبکہ رشیدۃ النسائ کے یہاں اس زمانے کی مکمل منظر کشی خصوصاً نسوانی زندگی کے ہر پہلو کی ماہرانہ و فنی طور پر زور بیان اور قوت مشاہدہ کے ساتھ منظر کشی کی گئی ہے جس کی داد دیے بغیر قاری آگے نہیں بڑھ سکتا۔ علی الخصوص یہ ان کی فنی مہارت اور قوت مشاہدہ کا بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی سے متاثر ہو کر اردو کے مشہور و معروف نقاد پروفیسر وقار عظیم نے نذیراحمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ پر رشیدہ النسا کے قصے ’’اصلاح النسائ‘‘ کو فوقیت دی ہے۔
اگر ہم کبھی اپنی سماجی تاریخ لکھنا چاہیں تو اس ناول سے ہمیں بہت مدد ملے گی کیوں کہ ’’اصلاح النسائ‘‘ اس دورکا ایسا ذخیرہ و گنجینہ ہے جس میں زمانے کی خصوصاً عورتوں کی تمام اوہام اور رسوم و روایات کا ذکر مکمل طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رشیدۃ النسائ کی گھریلو زندگی پر بہت گہری نظر تھی اور اسی لیے انہوں نے اس ناول میں اپنے مشاہدات و تجربات سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور بہترین منظر کشی کی ہے اور کردار نگاری و جزئیات نگاری کی ایسی شاندار مثال پیش کی ہے کہ نذیر احمد کا ناول بھی اس کے سامنے پھیکا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کرداروں کو ایک اچھا نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔ نذیر احمد کے کردار آئیڈیل، غیر حقیقی اور جامد ہوتے ہیں جبکہ رشیدۃ النسا کے کردار حقیقت پر مبنی اور سماج کے جیتے جاگتے افرادہیں۔ امتیاز الدین کا کردار ہیرو کا ہے اور عورتوں کے کردار میں بسم اللہ اور وزیرن پوری کہانی میں چھائی ہوئی ہیں دوسری جانب لاڈلی اور سردار دلہن کے کردار کے ذریعہ انہوں نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی ہے اور انہیں کرداروں نے اس ناول کو کامیابی سے سرفراز کیا ۔ ان کے کرداروں مین زندگی کی حرکت اور چہل پہل ملتی ہے۔ اسی طرح نچلے طبقے کے مختلف کردار ہیں جو اس ناول کی رونق ہیں جن کے ذریعہ کہانی اپنے انجام تک پہنچتی ہے مثلاً دھوبن، مامائیں، چوڑی والی، پنڈت اور ملا، کمہارن، تیلن باجے والی وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ناول کا سب سے اہم اور پُرجوش کردار وزیرن کا ہے جس کے ذریعہ مصنفہ نے اس دور میں پھیلی ہوئی غلط رسومات، توہمات اور واہیات رسموں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ یہ کردار خرافات، بیہودہ باتوں، واہیات رسموں، ٹونہ ٹوٹکے اور تویز گنڈوں کے امید و بھروسے زندہ نظر آتا ہے۔ ناول میں وزیرن کا کام غیر تعلیم یافتہ اور توہم پرست عورتوں کو بہکا کر جھوٹے فقیروں و پیروں کے لیے جا کر ان سے پیسے حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا اس کردار کے ذریعہ مصنفہ نے اس دور کی مکمل تصویر کشی کی ہے کہ کس طرح غریب و جاہل عورتوں کو بہلا پھسلا کر انھیں غلط رسومات میں مبتلا کر دیا جاتا تھا جس کی انہوں نے مذمت بھی کی ہے اور اصلاح بھی۔ وہ ترقی پسند خیال کی حامل تھیں اور سماج میں پھیلی برائیوں کو دور کرنا چاہتی تھیں۔ عورتوں کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتی تھیں تاکہ وہ جہالت اور فرسودہ رسومات سے خود کو بچا سکیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ہمارے معاشرے کی عورتوںمیں موجود ان تمام خرابیوں اور برائیوں کا اصل سبب ان میں تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ غلط عقائد و نظریات اور غلط رسومات و توہم پرستی میںمبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا انہیں برائیوں کو دور کرنے کے لیے وہ عورتوں کو تعلیم یافتہ کرنا چاہتی تھیں اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئیں اور رشیدۃ النسائ کے انہیں تعلیمات نے عورتوں اور لڑکیوں میں جہالت سے دور رہنے اور تعلیم کے حصول کی ایک جرأت و دلیری پیدا کی اور حوصلہ افزائی کی ہے۔
’’اصلاح النسا‘‘ میں رشیدۃ النسائ نے جہیز جیسی لعنت پر بھی طعن و تشنیع اور لعنت کی ہے اور اس کی پرزور مخالفت کی ہے جو اس زمانے کے لحاظ سے ایک عورت کے لیے بہت ہی دلیرانہ اور جرأت مندانہ اقدام تھا، لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ نہ کیے بغیر اپنا قلم اٹھایا اور تیکھا طنز کیا۔اس کے علاوہ دیگر فرسودہ رسومات و روایات اور شرکت و بدعت پر بھی گہرا طنز کسا ہے علاوہ ازیں زمانے میں پھیلی دیگر برائیوں اور بہت سی حرکتوں کو غیر اسلامی قرار دے کر پند و نصیحت کے ذریعہ اصلاح کی مکمل کوشش کی ہے مثال کے طور پر ایک گیت کے کچھ بول پیش کیے جا رہے ہیں جو شادی بیاہ کے موقع پر چلا چلا کر گایا جاتا تھا جس میں شرک کے کلمات جابجا ملتے ہیں اور اس پر کتنی خوبی سے انہوں نے طنز و اصلاح کی ہے:
اللہ میاں کا چہرا رنگ بھرا
میں تو دیکھت ہوں گی نہال
اے بے نیاج مجھ پر رحم کرو
کچھ رحم کرو کرم کرو
میرے پروردگار مجھ پر رحم کرو
کوٹھے بیٹھے اللہ میاں
چھجّے بیٹھے اللہ میاں
پھر سہرا باندھے اللہ میاں
کنگنا باندھے اللہ میاں
اس دور میں یہ گیت شادی کے موقع پر گایا جاتا تھا اور اس کے خلاف کسی کو بولنے کی جرأت نہ ہوتی تھی جو شرک سے لبریز ہے لیکن مصنفہ کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ دھیمے لہجے میں ایک کردار کے ذریعہ اس کی یوںمذمت کی ہے اور لوگوں کی اصلاح کی ہے۔ ناول کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ طبقۂ نسواں کی اصلاح سے تعلق رکھتا ہے۔ اس عورت کے مختلف رنگ و روپ، منفی و مثبت افکار و نظریات کے پیش نظر مصنفہ نے یہاں دکھانے کی کوشش کی ہے بغیر تعلیم یافتہ عورت گھر اور سماج کوجہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی اس لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جہالت و گمراہی کے سبب جب عورت برائیوں سے لبریز ہو جاتی ہے تو اس کے زیر سایہ پرورش پانے والی نسل بھی اسی سے متاثر ہو کر ایک برے معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔ چنانچہ انہیں عیوب و نظریات کے پیش نظر انہوں نے اپنا یہ اصلاحی اور مقصدی ناول اصلاح النسائ لکھا جس کے ذریعہ معاشرتے کی عورتوں کی اصلاح ہو اور وہ صحیح راہ پر گامزن ہو سکیں۔
مختصراً یہ ناول ’’اصلاح النسا‘‘ اس زمانے کی یادگار ہے اور اس عہد کی معاشرتی حقیقت پر مبنی ہے۔ ہر چند کہ اس کی بنیاد نذیر احمد کے ناولوں پر رکھی گئی اور اس کی اتباع میں لکھا گیا لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ناول نذیر احمد کے ناولوں سے زیادہ معتبر و مؤثر ہے۔ ’’اصلاح النسا‘‘ گویا طبقۂ خواتین کے پندو نصیحت اور اصلاح و شعور کا ایک مؤثر سبب بنا۔ یہ ناول اس عہد کی بہترین تخلیق ہے جس میں مصنفہ نے علم و تعلم، شعور و آگہی کی اہمیت او رعظمت کو عیاں اور آشکار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ اس طرح رشیدۃ النسا بیگم نے اپنے اس ناول کے ذریعہ عورتوں میں علم کی روشنی پھیلانے کی سعی کی اور علم کے فائدے و نقصانات پر بھی روشنی ڈالی ہے چنانچہ پہلی مصلح خواتین ہونے کا سہرا انہیں کے سر ہے۔
٭٭٭
رخسار پروین (ریسرچ اسکالر )
الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد
ای میل:rukhsarparveen4974@yahoo.in
موبائل:9628360669
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

