مجبور انا ہیں کہ مداوا نہیں کرتے
اے درد! مسیحا کو پکارا نہیں کرتے
مجنوں! تجھے صحرا کی یہ شہرت ہو مبارک
ہم شہر میں رہ کر بھی تماشا نہیں کرتے
اے مملکتِ حسن! ہمی ہیں وہ قلندر
جو تیری عنایت کا تقاضا نہیں کرتے
جن کو ہے سمندر کی سیاحت کا بہت شوق
کیوں کر مرے اشکوں کا نظارہ نہیں کرتے
ظلمت میں بھی اس طور ہیں خود دار کہ خالد
مانگے کا اجالا بھی گوارا نہیں کرتے
خالد مبشر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

