Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

شائستہ فاخری سے انٹرویو – حقانی القاسمی

by adbimiras مئی 28, 2023
by adbimiras مئی 28, 2023 0 comment

حریت اور حقوق نسواں کی تحریکوں سے کچھ تو بدلا ہے مگر بہت کچھ باقی ہے ۔ شب و روز کی وہی اذیتیں اورعذاب ہیں ،خوابوں اور خواہشوں پر شب خون کا وہی پرانا سلسلہ ہے ۔ جبرو استحصال کی بھی بہت سی شکلیں برقرار ہیں ۔جہیز، خانگی تشدد ، جنسی ہراسانی، آنر کلنگ ، عصمت فروشی ، صنفی امتیاز اور دوسرے مسائل ابھی تک عورتوں کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ وقت بدلا ہے مگر عورتوں کی تصویر اور تقدیر مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ کچھ خواتین اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے عالمی کردار ضرور ادا کر رہی ہیں مگر خواتین کی ایک بڑی تعداد عائلی حصار میں ابھی تک قید ہے ۔ کچھ عورتوں نے حدو د و حصار سے باہر نکل کر بہت سی ورجناؤں اور زنجیروں کو ضرور توڑا ہے مگر اب بھی پاؤں ظواہر و رسمیات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ اسی لیے شائستہ فاخری نے اپنے ایک افسانے میں یہ سوال کیا تھا کہ
’رقیہ باجی !عورت کے وجود کی چیخ و کراہ ، اس کی روح کے المیہ اس کے باطن کی زندگی کو محسوس کرنے والا کون ہے؟ سو برس کے بعد بھی ہے کوئی ؟(سنو رقیہ باجی ) ‘
اوریہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں ابھی بھی صورت حال میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے ، خواتین کے تعلق سے منفیت کا باب بند نہیں ہوا ہے ۔ اسی لیے حساس خواتین نسائی متون تخلیق کر رہی ہیں اور حقوق نسواں کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں بہت پہلے تارا بائی شندے نے استری پرش تلنا کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جسے اولین تانیثی متن کا نام دیا گیا ہے۔ ساوتری بائی پھولے نے بھی مہیلا سیوا منڈل قائم کرکے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ۔ اس کے بعد سے ہندوستانی خواتین بھی تانیثی متون کی تشکیل کرتی رہیں۔ شائستہ فاخری بھی ایسی خاتون ہیں جنھوں نے اپنے ہاتھ میں ایک عورت کا قلم لے کر ان کی زندگی سے جڑے ہوئے مسائل کو اپنے تخلیقی متون کا حصہ بنایااور اس طرح نادیدہ بہاروں کے نشاں ، صدائے عند لیب بر شاخ شب، اداس لمحوں کی خود کلامی ، وصف پیغمبری نہ مانگ، ہرے زخم کی پہچان،سندھی بیلا ، دیہہ کا دکھ جیسے شاہکار وجود میں آئے اور ان کے مرکز میں عورت کا وجود تھا جو نہ جانے کتنی اذیتوں کا شکار ہے۔
شائستہ فاخری نے اپنے فکشن میں انہی موضوعات کو مرکز بنایا ہے جو عورت کی نفسیاتی ،جنسی ،معاشی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ صدائے عندلیب بر شاخ شب میں جہاں انھوں نے معاشرتی جبر و استحصال کے حوالے سے لکھا ہے ،مردوں کی منفی ذہنیت پر وار کیا ہے وہیں ان کا ناول نادیدہ بہاروں کے نشاں حلالہ جیسے سلگتے موضوع پر ہے۔ جس میں انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر عورت کے جسم کی اس تقسیم کا جواز کیا ہے۔ مرد اپنی عیاشی اور آوارگی کے لیے عورت کے جسم کو کئی مردوں میں تقسیم کر نے کا کیا حق رکھتا ہے ۔ اس ناول کا کردار علیزہ ہے جو فرحان جیسے شکی شوہر کی بیوی ہے ۔ فرحان اسے طلاق دے دیتا ہے اور پھر بعد میں پچھتاوے کی وجہ سے عیان سے حلالہ کروا کر اپنے وجود کا حصہ بناتا ہے۔ علیزہ ایک ایسی عورت بن جاتی ہے جو ہر رات مرتی ہے ۔ دراصل یہ صرف علیزہ کے بدن کی نہیں بلکہ ذہن کی بھی موت ہے ۔یہ اس کے جسمانی وجود کا استحصال ہے ۔ اسی لیے علیزہ ان فرحان اور عیان الگ ہو کر ایک نیا تجربہ کرنا چاہتی ہے اور وہ ہے مرد کی صحبت کے بغیر ماں بننے کا تجربہ ۔ شائستہ فاخری نے حلالہ جیسے موضوع پر نہایت ہی فنکارانہ انداز میں یہ ناول تخلیق کیا ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں میں عورت کی مظلومیت، معصومیت اور بے چارگی کے ساتھ ساتھ بیداری کی آواز بھی ملتی ہے۔عورتوں کو کن خار دار راہوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کی صحیح تصویر شائستہ فاخری کے افسانوں میں نظر آتی ہے۔ شائستہ نے اپنے افسانوں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ عورت صرف مرتعش بدن نہیں بلکہ متحرک ذہن بھی ہے۔
شائستہ فاخر ی نے اپنے اس انٹرویو میں عورتوں کے مسائل کے بارے میں نہایت بے باکی اور جرأت مندی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا اصل نام شائستہ ناز ہے اور ان کا تعلق سلطان پور یوپی سے ہے۔ انھوں نے سنسکرت زبان میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لی ہیں ۔ درگاہ شاہ اجمل الہ آباد کے خانقاہی خانوادے سے تعلق رہا ہے مگر ان کی تحریریں اس ماحول سے انحراف کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں تحیر کی کیفیت اور تسخیر ی قوت ہے اسی لیے قاری کو ان کی تحریریں آخر تک باندھے رکھتی ہیں۔ پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹرویو سے کچھ اقتباسات۔
سوال : فیمنز م سے عورتوں کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان؟
جواب:کوئی خاص تحریک یا نظریہ سامنے آتا ہے تو اس کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی۔ بات افسوس ناک تب ہوتی ہے جب منفی پہلو مثبت پہلو پر حاوی ہو جائے۔ عورتوں کی ذہنی آزادی کے لیے نسائی تحریک کسی ’وردان‘ سے کم ثابت نہیں ہوئی۔ عالمی سطح پر جب اس تحریک کو قلم کے ذریعہ ایک آواز ملی تو ہر قوم اور ہر معاشرے کے کھلے ذہن مردوں نے اس کا استقبال کیا۔ لڑکیوں اور عورتوں کو آسانی سے تعلیم حاصل کرنے کی کم و بیش ہر چھوٹے بڑے گھرانوں میں اجازت مل گئی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکیوں کے ’پیر مضبوط ہو سکے۔‘ اس کے لیے انھیں نوکری کی مناہی نہیں کی گئی۔ اب کوئی میدان ایسانہیں بچا جہاں عورتوں نے اپنے پرچم نہ لہرائے ہوں۔ کام، وقت اور دور کے حساب سے لباس میں بھی تبدیلی آئی۔ خود مختاری خود اعتمادی اور فائننشیئل مضبوطی نے انھیں اکیسویں صدی کی خاتون کہلوانے کا حقدار بنوایا۔ یہ ہے اس تحریک کا مثبت پہلو۔
اس کے برعکس دوسری تصویر جو سامنے آئی ہے اس نے عورت کی زندگی کو عبرت ناک بنا دیا۔ پہلے سے زیادہ وہ روندی جانے لگی۔ افسوس ناک پہلو یہ رہا کہ یہ روندنا کہیں ان کی مرضی سے خاموش سمجھوتے کے تحت ہوا اور کہیں ان کی مرضی کے خلاف سمجھوتہ کرنے کے لیے انھیں مجبور کیا گیا۔ عورت پر غالب ہونے کی مردوں کی جو نفسیات تھی اس تحریک نے اس نفسیات کو ہوا دے دی۔ پہلے مرد جہاں اپنے گھر کی عورت ’گھر والی‘ سے ناخوش ہو کر سڑکوں پر نکلا کرتے تھے، کوٹھے پر جاتے ، گلیوں کے چکر کاٹتے ، کھلی کھڑکیوں سے شعر و شاعری والی کاغذ کی گیند پھینکا کرتے، بند دروازوں کی چوکھٹوں سے بے ہودہ خط سرسرا کر اندر ڈالے جاتے، مشاعرے میں ناکام محبت کا رونا روتے، آوارہ بن کر سڑکوں پر گھوما کرتے۔۔۔ وہ ساری جھنجھٹیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئیں۔لکا چھپی کے سارے کھیل ختم۔۔۔ مگر عورت کی آزادی کے نام پر جو نئے کھیل شروع ہوئے اس نے ہمارے معاشرے کی ہندستانی تہذیب کوکافی حد تک مجروح کیا ہے۔ نئی تہذیب کیسی ہوگی اس میں گل بوٹے سجیں گے یا وہ خار دار ہوگی اس کے متعلق کچھ کہنا وقت سے پہلے بولنا ہوا۔ ممکن ہے اس صدی کے آخر تک آپ کے سوال کا واضح جواب ہم سب کو حاصل ہوجائے۔
سوال : کیامرد کے بغیر عورت کے وجود کو مکمل مانتی ہیں؟
جواب : مرد کے بغیر عورت کا وجود مکمل ہے نہ عورت کے بغیر مرد کا۔ قدرت کے کچھ قانون ایسے ہیں جس سے منہ پھیرنا ممکن ہی نہیںہے۔ مخالف جنس کی کشش چھوٹے بڑے ادنی اعلیٰ ہر ایک میں موجود رہتی ہے۔ ہر لتر (بیل) کو پھلنے پھولنے کے لیے سہارا چاہیے اور ہر درخت کو جڑیں جمانے کے لیے زمین چاہیے۔ سڑک کے کنارے ٹھوٹھ کھڑے پیڑ کے تنے پر تب تک ہریالی نہیں آتی جب تک اس کی جڑیں زمین سے مضبوطی سے نہ جڑی ہوں۔ زمین یعنی دھرتی، دھرتی یعنی عورت۔ مرد کو ایک تناور درخت بننے کے لیے زمیں میں گہرائی سے جڑیں جمانی ہی ہوں گی۔
سوال:کیا یہ سچ نہیں کہ انیسویں صدی کے اواخر میں رام موہن رائے اورو دیا ساگر کی اصلاحی تحریکوں کے بعد ہی فیمنزم کو آواز ملی؟
جواب:راجہ رام موہن رائے اور ودیا ساگر کی تحریک کو نسائی تحریک سے سیدھے طور پر نہیں جوڑنا چاہیے۔ کیونکہ اس وقت ہندوستانی معاشرے کا جو سیاسی پس منظر تھا اس میں ہندو عورتوں کے حالات بد سے بدتر تھے۔ انگریزوں کی حکومت نے ہندو مرد کی غیرت کو گہری چوٹ پہنچائی تھی۔ کیونکہ عورت ان کے لیے ’گھر کی ناک‘ ہوتی تھی۔ اس لیے اس دور میں ہندو عورتوں نے سب سے زیادہ پردے کیے۔ سر اور منھ ڈھک کر رہنے میں ہی انھوں نے اپنی عافیت سمجھی۔ توہم پرستی نے ہندو عورت کے وجود پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ ایسے میں ان کمزور عقیدوں سے معاشرے کو آزاد کرانے کے لیے ستی پرتھا کا خاتمہ کرنے اور عورتوں کو تعلیم دلوانے کا بگل بجانے والوں میں یہ دو اہم شخصیتیں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ راجہ رام موہن رائے اور ودیا ساگر کی تحریک سے سیدھے طور پر نسائی تحریک کو جوڑنا میرے خیال سے مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں کا نظریہ ایک ہوتے ہوئے بھی پس منظر مختلف تھا۔
سوال: ڈپٹی نذیر احمد مولوی ممتاز علی، مولانا حالی نہ ہوتے تو کیا عورتیں اپنے حقوق کی جنگ لڑ پاتیں؟
جواب : دونوں ہتھیلیوں کے درمیان اسپرنگ کا ایک ٹکڑ الے کر دبایا جائے تو ہتھیلیوںکا دبائو جتنا بڑھتا جائے گا اسپرنگ اتنا ہی سمٹتی چلی جائے گی۔ ایک وقت پھر ایسا آتا ہے کہ یہ دبائو اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ ہتھیلیاںبے قابو ہوکر اپنا توازن کھونے لگتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب رد عمل کے طور پر اسپرنگ جمپ مارتی ہے اور آزاد ہو جاتی ہے۔
مرد اساس معاشرے میں عورتوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ گھر کی چہار دیواری میں سمٹی خاص طور سے مسلم خواتین کے اندر مرد کی تاناشاہی کے خلاف پھسپھساہٹ شروع ہو چکی تھی۔دبے ہوئے نالے لبوں کو جھلسانے لگے تھے۔ زبان بند تھی مگر آنکھیں تیور دکھانے لگی تھیں۔ کیونکہ دور بدل رہا تھا۔ عورتوں کی سوچ میںتبدیلی آرہی تھی۔ گھر میں ہی اردو ، عربی، فارسی پڑھ پڑھ کر فکر کے دریچے کھل رہے تھے۔ مردانہ ناموں سے قلم چلنے لگے تھے۔ ایسے میںڈپٹی نذیراحمد، مولوی ممتاز علی اور مولانا حالی جیسے لوگوں نے تبدیلی کی اس آہٹ کو پہچان لیا۔ یہ آگے نہ آتے تو ممکن تھا کوئی اور نام آتا اور اگر مردوں کا نام نہ آتا تو دیر سے ہی سہی گھروں کے اندر اپنی آواز اٹھانے کے لیے عورتوں کی صفیں تیار ہو رہی تھیں۔۔۔
آزادی کا بگل کوئی دوسرا نہیں بجاتا نہ،زور زبردستی سے کوئی نظریہ کسی پر تھوپا جا سکتا۔ یہ سب کچھ اپنے اندر ہوتا ہے اور جب اپنے اندر گھٹتا بڑھتا اور اپھنتا ہے تو ایک نہ ایک دن طوفانی شکل میں سامنے آتا ہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حقوق کی لڑائیاں خود لڑی گئی ہیں۔ کسی کے نام پر کوئی دوسرا جنگ نہیں جیتتا۔
سوال: عورتوں کے رسائل اور اخبارات زیادہ تر مردوں نے نکالے تو پھر حق تلفی کا شکوہ بیجا کیوں؟
جواب : عورتوں کے رسائل اور اخبارات زیادہ تر مردوں نے نکالے ہیں یہ بات آپ کی کچھ حد تک درست ہے۔ مگر یہی سوال اگر پلٹ کر کیا جائے کہ کیا وجہ ہے کہ مرد رسالہ نکالتے ہوئے اپنی بیویوں کے نام کا استعمال کررہے ہیں۔ کچھ تو مجبوری ہے نا جسے لکھے بغیر ہم ان کی مجبوری آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح انھیں بھی بغیر لکھے ہماری بھی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے۔
کہیں الفاظ بولتے ہیں، کہیں خاموشی ساری داستانیں سنا جاتی ہے فکر اور سماعت ساتھ دے تو تمام سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں۔
سوال :مسلم معاشرے کی خواتین تعلیم میںدوسروں سے پچھڑی ہوئی کیوں ہیں ؟
جواب: مسلم معاشرے میں خواتین کے حالات تبدیلی کے باوجود اب بھی بدتر ہیں۔اس کی وجہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ گدے پر سے ہی لڑکیوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ بلکہ اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ انھیں کیا نہیں کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ انھیں خواب دیکھنے کا تو حق ہے۔کیونکہ خواب چپکے چپکے دیکھے جاتے ہیں کبھی بند آنکھوں سے کبھی کھلی پلکوں سے۔ مگر خواب کی تعبیر کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ یہ دائرہ وہ طے نہیں کرتیں بلکہ ان کے باپ ،بھائی ماموں یا چچا طے کرتے ہیں۔ جہاں تک تعلیم کی بات ہے کافی تبدیلی آئی ہے۔ لڑکیاں پڑھ رہی ہیں اور اپنے شہر سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
سوال : من کی کوئی بات ایسی جو دنیا سے شیئر کرنا چاہتی ہوں؟
جواب: ہاں ! شئیر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ عورت اپنے من کو نو من مٹی کے نیچے دفن رکھتی ہے پھر بھی من کی مٹی میں ایسے ایسے گلاب اپنے رنگ و بو سے عورت کے من کو گلنار کئے رہتے ہیں جس کا اندازہ لگانے کے لیے مرد سو بار من کی مٹی میں دفن ہوں اور سو بار اس مٹی سے پیدا ہوں تب بھی عورت کے من کی اس گہرائی کو نہیں پا سکتے جس میںعورت کا من منچلا رہتا ہے اور اس منچلے پن کی یہ تاثیر ہوتی ہے کہ وہ من کی باتوں کو اپنے من میں ہی رکھتی ہے ۔
سوال ؛ آپ کی کوئی خواہش ، کوئی خواب جس کے پورا نہ ہونے کا ملال ہو ؟
جواب ؛ ہا ں میر ی خواہش ہے کہ کاش! ایسا ممکن ہوتا کہ میں ایک بار پھر سے جنم لیتی اوراس جنم میں پھر سے شائستہ بنتی اور پھر سے وہی اپنے پرانے خواب دیکھتی ۔ مگر اب کہ خوابوں کی تعبیر کھو جانے کا ملال ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔
سہمی ہوئی رات اور
دن کوزے میں بند ہیں
کوئی مجھے بتائے
زندگی اتنی مختصر کیوں ہے
درد کی سرزمین پر
عشق کے کھیت میں
خبث کی اندھی ندی
پیار کے مسکن کو بہاتی کیوں ہے ۔
بس اتنی سی ایک ہی خواہش ، ایک ہی خواب اور ایک ہی ملال ہے۔
rrr
Cell: 9891726444
E-mail: haqqanialqasmi@gmail.com

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
طلبا کو سرگرم رکھنے کے لیے مقابلے بہت ضروری ہیں ۔ ڈ اکٹر ہمایعقوب
اگلی پوسٹ
ہندوستان میں فارسی زبان وادب کا مستقبل تابناک بھی ہے اور محفوظ بھی: پروفیسر سید اختر حسین

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں