م ناگ اردو کے صاحبِ اسلوب افسانہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں ـ ویسے تو انھوں نے 75 کے بعد لکھنا شروع کیا تھا لیکن ان کی شناخت 80 کے بعد کے لکھنے والوں میں نمایاں ہے ـ م ناگ نے اپنے مخصوص طرز و اسلوب سے اردو افسانہ کو کئی اہم افسانے دیے ـ ان کے افسانے اشتراکی افکار کے حامل ہیں تو جدید طرزِ فکر سے بھی مزین ہیں ـ علاوہ ازیں مابعد جدیدیت کی نظریاتی فکر سے مملو ان کے کئی افسانے بھی قرطاس ادب پر اپنے نشانات چھوڑتے نظر آتے ہیں ـ
فکشن کے بیشتر ناقدین نے اسلوب ہی کی بنیاد پر م ناگ کو اردو کا نمائندہ افسانہ نگار گردانا ہے ـ البتہ ان کے موضوعات پر توجہ کریں تو موضوعات کے انتخاب میں بھی وہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ـ م ناگ نے جنس کو اپنا خاص موضوع بنایا ہے ، اس کے علاوہ ‘ عورت’، ‘ میاں بیوی کی نوک جھوک’ اور ‘آپسی رشتوں کی کشمکش ‘ جیسے موضوعات ان کے پسندیدہ رہے ـ اسی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی کشمکش ، سماجی انتشار ، معاشرتی مسائل ، شہری زندگی کی بھاگ دوڑ ، عدم مساوات، داخلیت، وجودیت اور سیاسی صورت حال وغیرہ کو بھی انھوں نے اپنے افسانوں میں خوب وضع داری سے برتا ہے ـ
م ناگ کا ویزن حیاتِ انسانی اور اس پوری دنیا پر بہت وسیع اور واضح تھا ـ اس لیے کہ وہ صحافت سے پیشہ ورانہ طور پر وابستہ رہے تھے ، اور اس لیے بھی کہ بطور ادیب زندگی اور اس پوری دنیا کے اکثر شعبوں سے واقفیت اور ان کے متعلق ایک نظریاتی فکر رکھنا ان کا فنکارانہ تقاضا تھا ـ م ناگ نے اسی حوالے سے اپنے مشہور افسانے "ڈاکو طے کریں گے ” میں بطور فن کار دنیائے فانی اور اس میں بسنے والے انسانوں کو اپنے منفرد مفکرانہ نظریے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ـ یہ افسانہ دراصل ایک پوری دنیا کے منظر نامے کا بیان ہے جس میں دنیا کی حقیقت، انسانی زندگی کے مقاصد ، اس کی ترقی کی انتہا، سیاسی تناظرات ، مکر و فریب، اعتماد اور جبر و استبداد پر مباحثہ قائم کیا گیا ہے ـ
تفہیم کے لحاظ سے افسانے کی توضیح آسان نہیں ہے ، اس کا پلاٹ بھی عجیب طرح کا ہے اور طرہ یہ کہ اس کا اسلوب اسے مبہم بناتا ہے ـ لیکن تب بھی م ناگ کے دوسرے افسانوں کی طرح اس افسانے میں تجسس کی ایک سنسناتی لہر موجود ہے ـ م ناگ کے مطابق دنیا کی ترقی کی کوئی حد متعین نہیں ہے ـ انسان نے بلا شبہ ترقی خوب کی لیکن وہ اس ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ کہا بہا جا رہا ہے یہ خود اس کو بھی پتا نہیں ـ اس خیال کو افسانے میں ایک ایسی ٹرین سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے جو اندھی سرنگوں سے ہو کر نا معلوم منزل کی طرف دوڑی چلی جا رہی ہے ـ
ملاحظہ ہو :
” ‘ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ ٹرین جا کہاں رہی ہے۔ ‘ شلوار
’آخر ہم کس ٹرین میں بیٹھے ہیں ؟ ‘ پینٹ
’ٹکٹ دیکھو! شاید ٹکٹ پر لکھا ہو کہ تمھیں جانا کہاں ہے ؟’ ”
اسی طرح آگے کا اقتباس دیکھیں :
” وہ شہر، گھپ اندھیروں میں گھرا میرا شہر ـ ماچس ڈھونڈتا ایک ہاتھ ـ اندھیرے میں کوئی چلتا ہے، آس پاس جیسے کوئی دوسرا ہاتھ…. میرے ہاتھ سے بچتا ہوا، اپنے آپ میں سمٹا ہوا ـ میں فکر مند کے جب تین ہی لوگ بچے ہیں تو چوتھے کا مردہ کون اٹھائے گا وہ تو یوں ہی گل سڑ جائے گا ـ نہیں نہیں میں اندھیرے میں سفر نہیں کروں گا ـ میں سارے دروازے اور کھڑکیاں کھول دینا چاہتا ہوں ـ مجھے ہوا کی سخت ضرورت ہے، ہوا کی اور روشنی کی ـ ”
م ناگ کے اسلوب کا علامتی، استعاراتی بیان اپنی جگہ منفرد ہے اور یہ وصف کسی بھی عمدہ فن پارے کا خاصہ ہے، کہ ایسا متن جس کی تعبیرات و ابعاد سماجی، معاشرتی اور نفسیاتی حوالوں سے کثیر الجہات ہوں اور جو تشبیہات اور استعاروں کے بغیر صرف متن ہی کی توسط پکڑ میں نہ آئے، یا وہ کچھ ایسا فلسفیانہ اساس رکھتا ہو جو گہری فکر کا متقاضی ہو؛ وہی متن اپنی تفہیم کے لیے قاری کو سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کرتا ہے ـ بلا شبہ کسی متن کے دیر پا ہونے میں درج بالا عناصر ناگزیر ہیں ـ
اس ٹرین کا سفر بے سمتی کا سفر ہے جس کی آگہی قاری کو ٹرین میں سوار ان لوگوں سے ہوتی ہے، جن کے نام عام مانوس، لیکن عجیب سے معلوم ہوتے ہیں ـ واضح رہے اس ٹرین میں سوار مسافروں کو نہ صرف یہ پتا نہیں ہے کہ ٹرین کہاں جارہی ہے، بلکہ یہ بھی پتا نہیں کہ یہ کونسی ٹرین ہے اور وہ کس اسٹیشن سے اس میں سوار ہوئے تھے ـ
ملاحظہ فرمائیں :
” ‘ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ ٹرین جا کہاں رہی ہے۔ ‘ شلوار
’آخر ہم کس ٹرین میں بیٹھے ہیں ؟ ‘ پینٹ
’ٹکٹ دیکھو! شاید ٹکٹ پر لکھا ہو کہ تمھیں جانا کہاں ہے ؟ ‘ دھوتی
چشمہ کتاب پڑھ رہا ہے۔
’ ایک سکیوزمی! کیا اِس کتاب میں کہیں لکھا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ ‘ ساڑی
’میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔ ‘ چشمہ
‘ملے تو مجھے بھی بتانا پلیز! شلوار’ ”
ٹرین کی تشبیہی حیثیت کے بعد افسانے میں ساڑی، سلوار، پینٹ ،پاجاما ، کرتا اور دھوتی وغیرہ عام لوگوں کا اشاریہ ہے جن کی معصومیت یہ ہے کہ وہ اپنے اطراف سے واقفیت رکھنے کے باوجود حالات سے واقف نہیں ہوتے ، ان میں افسانے کا راوی جو افسانے میں موجود ہے، وہ خود بھی شامل ہے اور اس پوری متحیر کن اور مضطربانہ صورت حال کا چشم دید بھی ہے ـ غریبی، تنگ دستی، مہنگائی، نوکری، ذرائع معاش کے مسدود و محدود ذرائع، بیماری، نا محرومی مظلومی اور استحصال ؛ ہر عام غریب، مجبور، مظلوم اور شریف النفس آدمی کے بڑے مسائل ہیں ـ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ عام آدمی حالات کا مارا، ذمہ داریوں اور ضرورتوں کا ستایا ہوا ہوتا ہے ـ وہ اپنی ہی دنیا کی زنجیروں میں اس قدر جکڑا ہوا ہوتا ہے کہ اسے سدھ ہی نہیں رہ پاتی کہ کب ان زنجیروں کا دوسرا سرا کسی اور کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اسے اپنی مرضی سے ادھر ادھر گھسیٹے جا رہا ہے ـ عام لوگوں کا طبقہ دراصل امید کے مصداق ہے کہ جن کے دم پر دنیا کا نظام قائم ہے ـ مگر افسوس کہ زندگی کرنے کی اپنی تگ و دو میں انھیں اپنی اہمیت کا احساس ہی نہیں ـ پھر جن پر یہ اپنا مکمل اعتماد جتاتے ہیں یعنی ان کے مذہبی رہنما و قائد، وہ بھی زندگی کا صحیح پتا بتاتے ہیں نہ انھیں ایسی مصیبت زدہ صورت حال سے نکال پاتے ہیں ـ
ملاحظہ فرمائیں :
” ‘سامان باندھ لو، گھر نزدیک ہے ـ” کون؟ کون؟ اچھا تو یہ سادھو مہاراج ہیں ـ میرے ساتھ دو چار لوگ اور بھی اٹھے اور ہم نے اسے گھیر لیا ـ آنا کانی کی تو دبوچ لیا ـ
‘ بول کہاں جا رہی ہے یہ ٹرین، کہ جا بھی رہی ہے یا نہیں ـ کس نے طے کی ہے اس کی منزل، کہ طے کی بھی ہے یا نہیں ـ ہمیں کہاں کا ٹکٹ دیا گیا ہے، کہ دیا گیا بھی ہے یا نہیں ـ’
کئی سوال مگر سادھو کا ایک ہی جواب،’میں نہیں جانتا، میں کچھ نہیں جانتا ـ ‘
‘یہ جانتا ہے تبھی تو کہتا ہے کہ سامان باندھ لو ـ ‘
‘ بول نہیں تو دبا دوں گا ـ ‘ ”
افسانے میں سادھو انھی مذہبی رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے ـ مذہبی پابندیوں، قدامت پرستی اور اندھی تقلید سے برہم ہو کر معاشرے کا عام طبقہ کبھی کبھی اس وقت تشدد پر اتر آتا ہے جب اسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے مذہبی رہنماؤں کو بھی پتا نہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، ان کی سمت کیا ہے!
اسی طرح چشمہ جو تعلیم یافتہ لوگوں کا ترجمان ہے اسے بھی پتا نہیں کہ یہ ٹرین کہاں جا رہی ہے ـ ایک پورا معاشرہ جو زندگی کے گوناگوں شعبہ جات میں بڑی حد تک انھی پر انحصار کرتا ہے، مگر افسوس کہ یہ بھی گمراہیوں کے دلدل میں دھنسے جا رہے ہیں ـ
ملاحظہ فرمائیں :
"چشمہ کتاب پڑھ رہا ہے ـ
‘ ایکسکیوزمی، کیا اس کتاب میں کہیں لکھا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں’ : ساڑی
‘میں وہی تلاش کر رہا ہوں ـ’ ”
اس افسانے کا یہ پہلو بڑا فکر انگیز ہے ـ علم جہالت کے اندھیروں کو چیرتا ہے، ترقی کا زینہ ہے، علم ایک نور ہے ،لازوال دولت ہے، وغیرہ وغیرہ سلوگن، اقوال علم کی عملی تقدیم کے طرف دار ہیں ـ ایک بے مقصد زندگی کو صرف کرنے سے کیا فائدہ ـ علم کا تعلق عمل سے ہے ، عملی طور پر اپنے علم کا اظہار کرنے والا مقصدِ حیات کو پا لیتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا بلکہ رہنما بن کر بہت سو کو اپنے ساتھ لیے چلتا ہے ـ تاہم کہانی کا چشمہ کیوں نہیں جانتا کہ ٹرین کہاں جا رہی ہے، حالانکہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم و تدبر کی توسط سب کچھ جانتا ہے، لیکن اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ٹرین کو کون اور کہاں لیے جا رہا ہے ـ
دوسری طرف ریلی والے بھی بے خبر ہیں کہ وہ کس سمت کو دوڑے جا رہے ہیں؟ ریلی والوں کا ذکر کہانی کا ایک خاص پہلو وا کرتا ہے ـ واقعہ یہ ہے کہ احتجاج دراصل متوسط طبقے ہی کی پہل ہوتا ہے ـ غریب اپنی مفلسی اور بے بضاعتی میں، اور امیر اپنی عیاشی میں غرق ہے، لہٰذا اب حالات کی حدت کا اندازہ متوسط طبقے کو ان دونوں طبقوں سے زیادہ ہے، بلکہ اسی طبقے ہی کو حالات کا درست انداز ہے ـ اسی لیے یہ طبقہ احتجاج کی راہ میں پیش پیش نظر آتا ہے ـ لیکن نا انصافی، ظلم و استبداد اور منافرت و استحصال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والا یہ گروہ بھی گمراہی کا شکار ہے ! انھیں گمراہ کیا گیا یا وہ خود اپنی تام جھام سے لیس انقلابی سرگرمیوں میں کھو کر گمراہی کے دہانے پر آ پہنچے ہیں ـ اور انھیں گمراہ کیا تو کس نے کیا؟ ان مقتدر لوگوں نے جو اپنی مملکت اور حکومتوں میں بد امنی، بدعنوانی اور نا انصافی کے خلاف اٹھنے والی ہر مٹھی کو کاٹ دیتے ہیں؟ کیا یہ وہی ڈاکو ہیں جنھوں نے اس ٹرین کو یرغمال بنا لیا ہے؟
ٹرین کے ڈاکو دراصل اقتدار میں بیٹھے ہمارے لیڈر اور قومی رہنماؤں کا واضح اشاریہ ہے، جنھوں نے اس ٹرین کو اپنے قابو میں کر لیا ہے ـ مگر وہ کہاں سے آئے؟
دیکھیں :
” ‘یہ ڈاکو کہاں سے آگئے؟ ٹرین تو کہیں رکی نہیں، پھر یہ ڈاکو کہاں سے آگئے؟’
‘یہ ہمارے ساتھ ہی چلے تھے یہ ہمارے ہم سفر ہیں ـ یہ ہمارے جان و مال کی حفاظت کریں گے ـ یہ کہیں باہر سے نہیں آئے ہیں، کیا سمجھے، نہیں سمجھے ـ’ ”
سیاسی پس منظر میں افسانے کا یہ نکتہ آفاقی ہے ـ تقریباً ہر دور کے مقتدر اور سیاسی رہنماؤں نے اپنی انا، سیاسی مفادات اور ناجائز خواہشات کی تکمیل میں مونو پالی، فاشزم جیسا سفاک رویہ اپنایا ـ خاطر نشان رہے کہ یہ لوگ بھی ہم ہی میں سے ہیں ـ دنیا کے بیشتر ممالک میں جمہوری طرز کی حکومتیں قائم ہیں جو عوام کی جانب ہی سے منتخب ہوتی ہیں ـ مگر اپنے مفادات کے لیے فسطائیت اور بربریت کے مرتکب ہونے میں پہلے والوں پر سبقت لے جاتے ہیں ـ اپنے اس فعل میں وہ ہمیشہ سے اقتدار کے مختلف چھوٹے بڑے عہدے داروں کو اپنے تصرف میں لیتے رہے ہیں ـ کہانی میں کنڈکٹر اور شاید کالا کوٹ کا کردار اسی طرف اشارہ کرتا ہے ـ اس کے علاوہ ہیرہ لگی انگوٹھی، سونے کی زنجیر، کالی ٹوپی اور کڑے والا غالباً امیر طبقہ ہے ـ جو براہ راست یا بالواسطہ اور شعوری طور پر یا کبھی کبھی لا شعوری طور پر ڈاکوؤں کو یعنی بدعنوان مقتدر، لیڈروں اور نیتاؤں کو اپنا ناجائز تعاون پیش کرتے ہیں ـ ہمارے یہ اشرافیہ طبقے اپنی حکومتی مراعات، سوغات یا چھوٹ حاصل کرنے یا پھر دیگر مقاصد کے تحت خود کو اقتدار کی منشا کے حوالے کر دیتے ہیں، لیکن وہ دھوکے میں ہیں، وہ بھول رہے ہیں کہ وہ بھی اسی نا معلوم منزل کی طرف دوڑتی ہوئی ٹرین میں سوار ہیں جو کب تک چلتے رہے گی، پتا نہیں، رکے گی بھی کہ نہیں پتا نہیں ، رکے گی تو کب اور کہاں؟
بہر حال مجموعی طور پر یہ سب انسان دشمن عناصر آپس میں مل کر عام اور غریب آدمی کی زندگی اس درجے دشوار کر دیتے ہیں کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں :
۔” ‘جی سرکار، ہم تو کب سے منتظر تھے کہ آپ آئیں اور ہمیں لوٹ لیں ـ ہماری عزت، دھن دولت……. ہم تو کب سے منتظر تھے ….. .. مگر ہماری منزل ضرور طے کر دو!’ ”
یہاں ایک بات یہ بھی توجہ طلب ہے کہ شلوار، ساڑی، دھوتی، تلک والی پیشانی،چشمہ، کنڈکٹر، سونے کی زنجیر، سادھو اور کڑے والے ہاتھ وغیرہ ؛ سبھی بلا تفریق قوم و مذہب، حسب و نصب یکساں طور پر بربادی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، یا بس پہنچنے ہی والے ہیں ـ
م ناگ کے افسانوں میں خواہ وہ جنسی فکر کے حامل ہی کیوں نہ ہو ، کسی حقیقت کی حقیقت سے قریب ایک تخیلی تصویر ہوتی ہے جو وہ اس حقیقت کو متعدد پہلوؤں سے دیکھ پرکھ کر کھینچتے ہیں ـ پھر کئی حوالوں سے اس کا تجزیہ پیش کرتے ہیں اور اسے ایک خیال پر منتج کر کے کبھی کبھی اس کے سدباب کی طرف اشارہ کرتے ہیں ـ زیر نظر افسانہ ہمارے سامنے ہی کی ایک بھیانک حقیقت کو پیش کرتا ہے اور بڑی حد تک محتاط رہتے ہوئے اس کے سدباب کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے ـ
ختم شد……
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

