اردوشاعری ہرزمانے میں اپنی روش بدلتی رہی ہے۔ فکری اور فنّی، اسلوبیاتی اور ہیئتی اعتبار سے بھی تغیر وتبدّل ہوتا رہاہے۔ ادبی شعور اور شعری رجحان کو بدلنے کے لیے بھی محرکات کارفرما ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ کسی محرک کے بغیر ادب میں کسی طرح کی بھی تبدیلی ممکن نہیں۔ اردوشاعری کی جوشکل تھی وہ قدرے دھندلی، تھی یایوں کہیں کہ زندہ حقیقت اور زندگی کے تابندہ رموز کم کم تھے۔
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی نے ہندوستان کی سیاسی، تعلیمی، اقتصادی اور سماجی زندگی میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ اس تاریخی واقعے کا اثر زندگی کے ہرگوشے پر پڑا۔ اردو شاعری بھی زندگی کی عکاس بنی۔ ہندوستانی عوام کے ذہنوں کو مہمیز کرنے میں اس تاریخی واقعے کا اہم رول رہاہے۔ پروفیسر احتشام حسین لکھتے ہیں:
’’بنے بنائے راستوں پر چلنا ممکن نہ تھا اور نئے راستے اچھی طرح بنے نہ تھے، پُرانے خیالات سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوا تھا، نئے خیالات نے ذہنوں میں جگہ نہیں بنائی تھی۔‘‘ ۱؎
اِس اتھل پتھل کے بعد ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا تھا جسے انگریزوں کے ساتھ ساتھ انگریزی اور مغربی ادب سے بھی نفرت ہوگئی۔ مگردوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے انگریزی تعلیم اور مغربی ادب سے ذہنی ہم آہنگی کو ضروری قرار دیا۔ اس میں سب سے بڑا نام سرسیّداحمد خان کا ہے جن کا خیال تھا کہ جہاں تک ہم سے ہوسکے یورپین لٹریچر اور سائنس میں ترقی حاصل کریں۔ اس عہد میں اردو ادب میں بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ محمدحسین آزاد نے سب سے پہلے انجمن پنجاب کے تحت ۱۸۶۷ء میں اپنا پہلا لکچر پیش کیا جس میں انگریزی ادب سے استفادے پر زور دیا گیا۔
۳۰؍مئی ۱۸۷۴ء اردوشاعری کی تاریخ میں ہمیشہ یادرکھا جانے والا اہم موڑ تھا۔ ’برسات‘ کے موضوع پر نظمیں کہی گئیں۔ محمدحسین آزاد نے ’شب قدر‘ کے عنوان سے ۱۱۵ اشعار پرمشتمل نظم سنائی۔ پنڈت دتاتریہ کیفی نے اسے نئی شاعری کی پہلی نظم قرار دیا ہے۔ انجمن پنجاب ہی کے مشاعرے میں انھوں نے ’زمستاں‘ کے عنوان سے نظم پڑھی جو ۱۴۴ اشعار پر مشتمل ایک طویل نظم تھی۔ اس میں انھوں نے بڑے ہی فطری انداز میں موسمِ سرما کی عکاسی کی ہے۔ یہ حصّہ دیکھئے:
مارے سردی کے جگر سینوں میں تھرّاتے ہیں
بچے ماں باپ کی بغلوں میں گھُسے جاتے ہیں
ہے کوئی چھینٹ کا اوڑھے ہوئے فرغُل بیٹھا
پر پُھلائے ہوئے جیسے کوئی بُلبُل بیٹھا
اوڑھ بیٹھا کوئی سردی سے لحاف اپنا ہے
کوئی کر بیٹھا بچھونے کو غلاف اپنا ہے
کہیں سوں سوں کہیں سی سی ہے کہیں سیٹھی ہے
گرد سب بیٹھے ہیں اور بیچ میں انگیٹھی ہے
اِسی نظمیہ مشاعرے میں مولانا حالی نے اپنی طویل نظم ’برکھارُت‘ سنائی جس میں خیالات کی وحدت اور ربط وتسلسل ملتاہے۔ اس نظم کا یہ حصّہ ملاحظہ کیجیے جس میں برسات کے موسم کا نقشہ پیش کیا گیا ہے:
برسات کا بج رہا ہے ڈنکا
اک شور ہے آسماں پہ برپا
ہے ابر کی فوج آگے آگے
اور پیچھے ہیں دَل کے دَل ہوا کے
ہیں رنگ برنگ کے رسالے
گورے ہیں کہیں ہیں کالے
ہے چرخ پہ چھاونی سی چھاتی
ایک آتی ہے فوج تو ایک جاتی
اس طرح حالی کی شاعری پر غور کریں تو محمدحسین آزاد کی اس تحریک کے زیراثر حالیؔ نے انجمن پنجاب کے دس مشاعروں میں سے چار میں شرکت کی اور برکھارت، نشاط امید، حبّ وطن اور مناظرہ رحم وانصاف کے عنوان سے نظمیں پیش کیں۔ موضوعات پر نظمیں کہنے کا رواج اس سے پہلے بھی تھا۔ نظیراکبرآبادی کی نظمیہ شاعری ہمارے سامنے پہلے سے موجود تھی۔ لیکن حالی کی آواز نے طویل نظم نگاری اور اردوشاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ پروفیسر آل احمدسرور نے بجاطور پر لکھاہے:
’’برکھا رُت اورحب وطن سے اردوشاعری میں ایک نئے راگ کا اضافہ ہوتاہے۔ حالیؔ نے جب یہ نغمہ چھیڑا تو اس کا اثر ہوا اوران کی اور آزاد کی کوششوں سے مقامی رنگ، منظرنگاری، وطن کی محبت اردو شاعری میں اپنی بہار دکھانے لگی۔‘‘ ۲؎
حالی کی نظمیہ شاعری میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’مدّوجزر اسلام‘ یعنی مسدس حالی ہے۔ اس نظم کے بارے میں مجنوں گورکھ پوری نے کہا تھا کہ مسدس جتنی پڑھی گئی ہے شاید ہی اس قسم کی کوئی دوسری طویل نظم پڑھی گئی ہو۔ ظہور اسلام، عظمت رفتہ اور قومی، ملی اورتہذیبی نقوش کو اس طویل نظم میں دیکھا جاسکتاہے۔ اس مسدس کے بارے میں سرسیّد نے کہا تھا:
’’بے شک میں اس کا محرک ہوا ہوں اور اس کو میں اپنے اعمال حسنہ میں سے سمجھتا ہوں کہ جب خدا پوچھے گا تو دنیا سے کیا لایا؟ میں کہوں گا میں حالی سے مسدس لکھوا لایاہوں اورکچھ نہیں۔‘‘
(ب) اس مسدس کے دوبند سماعت فرمائیں:
کوئی ان سے پوچھو کہ اے ہوش والو!
کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو
بُرا وقت بیڑے پر آنے کو ہے جو
نہ چھوڑے گا سوتوں کو اور جاگتوں کو
بچو گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے
اگر نائو ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے
گھٹا سر پہ اِدبار کی چھا رہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے
چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سوگئے تم
دورِ انحطاط اورتہذیبی وتعلیمی تنزّل کے زمانے میں سرسیّد کی تحریک چل رہی تھی۔ معاشرے پر علی گڑھ تحریک کا اثر مرتب ہورہا تھا۔ حالیؔ ہی کی طرح علاّمہ شبلیؔ کے اندر بھی قومی وملّی جذبہ کارفرما تھا۔ انھوں نے بھی ’صبح امید‘ کے عنوان سے مثنوی کی ہیئت میں ۳۵۳ اشعار پر مشتمل طویل نظم کہی۔ کلیم الدین احمد نے اس نظم کو ’مسدس حالی‘ پر فوقیت دی ہے۔ یہ ایک بحث طلب بیان ہے۔ شبلی نے ’قومی مسدس‘،’شہرآشوب اسلام‘ اور ’اہلیانِ بلقان‘ جیسی نظمیں بھی کہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مظہرامام کانظمیہ متن – پروفیسر کوثر مظہری )
طویل نظم نگاری میں اسماعیل میرٹھی کا نام بھی اہم ہے۔ اسماعیل میرٹھی صرف بچوں کے شاعر نہیں تھے جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے۔ انھوں نے کئی خوب صورت اور طویل نظمیں کہی ہیں جن میں قومی وملّی درد اور عظمت رفتہ کی پیش کش ہوئی ہے۔ دو طویل نظموں کا ذکر ضروری ہے۔ ’جریدئہ عبرت‘ ۲۴۷ اشعار پر مشتمل ہے جب کہ دوسری طویل نظم ’آثار سلف‘ مثمن کے فورم میں ہے جس میں ۷۰ بند ہیں۔ ’جریدئہ عبرت‘ سے چند اشعار سنیے:
رسوم بد نے ترے ہاتھ پاؤں جکڑے ہیں
فضولیوں نے ترا کر دیا ہے سینہ فگار
میں کیا کہوں کہ وہ بھرتے ہیں کس کی چلمیں آج
یہ کل جو پھرتے تھے چھیلا بنے سر بازار
نہ کوئی علم نہ صنعت نہ کچھ ہنر نہ کمال
تمام قوم کے سر پر سوار ہے اِدبار
مناسب ہوگا کہ اسماعیل میرٹھی کی نظم ’آثار سلف‘ سے بھی ایک بندآپ ملاحظہ فرمالیں:
یارب یہ کسی مشعل کُشتہ کا دھواں ہے
یا گلشن برباد کی یہ فصل خزاں ہے
یا برہمیٔ بزم کی فریاد و فغاں ہے
یا قافلۂ رفتہ کا بس خیمہ رواں ہے
ہاں دور گزشتہ کی مہابت کا نشاں ہے
بانیٔ عمارت کا جلال اس سے عیاں ہے
اڑتا تھا یہاں پرچمِ جم جا ہیِ اکبر
بجتا تھا یہاں کوسِ شہنشاہیِ اکبر
اردوشاعری میں نظم کے میدان میں سرورجہان آبادی، عظمت اللہ خاں، چکبست اور تلوک چند محروم کے نام بھی اہم ہیں۔ لیکن ان کے یہاں بہت طویل نظمیں نہیں ملتیں۔ اسی زمانے میں البتہ علامہ اقبال کے یہاں کچھ طویل نظمیں مل جاتی ہیں۔اقبال کی دوطویل نظمیں جوسب سے زیادہ شہرت کی حامل ہیں وہ شکوہ اور جواب شکوہ ہیں۔ اس کے علاوہ خضرراہ، طلوع اسلام، تصویردرد اور ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ ان کی طویل نظمیں ہیں۔اقبال نے مثنوی یا قصیدے کے فورم کی قید نہیں رکھی ہے۔ یہ ساری نظمیں بانگ درا کی ہیں۔ بال جبریل میں مسجدقرطبہ اور ساقی نامہ دوطویل نظمیں ہیں اور ارمغان حجاز میں صرف ایک طویل نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ ہے۔ ضرب ِ کلیم میں ایک بھی طویل نظم موجود نہیں۔
علامہ اقبال کے ذہنی ارتقا کوسمجھنے کے لیے طویل نظموں کا یہ گھٹتا ہوا تناسب بھی معاون ہوسکتا ہے۔ آخر کچھ تو اسباب ہوں گے۔ بہرحال یہاں اس پر بحث کی گنجائش نہیں۔ آئیے ان کی نظموں کے کچھ بند اور اشعار آپ کی خدمت میں پیش کریں۔ نظم ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ سے یہ اشعار :
کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی
یا پھر ’ساقی نامہ‘ کے یہ اشعار جن میں تازگی اورشعری آہنگ کے ساتھ ساتھ فلسفۂ حیات کی خوب صورت پیش کش ہوئی ہے:
ہوا خیمہ زن کاروانِ بہار
اِرم بن گیا دامن کوہسار
گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن
فضا نیلی نیلی ہوا میں سرور
ٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور
وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئی
اٹکتی لچکتی سرکتی ہوئی
رکے جب تو سِل چیر دیتی ہے یہ
پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ
ذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام
سناتی ہے یہ زندگی کا پیام
اردوشاعری میں حفیظ جالندھری نے چارجلدوں پر مشتمل طویل نظم شاہنامۂ اسلام لکھ کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ رقاصہ، ابھی تومیں جوان ہوں۔ تصویر کشمیر وغیرہ نظمیں بھی مشہور ہیں۔ طویل نظموں کے لیے موضوع کا انتخاب بھی اہم ہوتا ہے پھر بحر اور رکن کا۔ابلیس کی نفسیات کو پیش کرنے والے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:
زمیں کو چار جانب سے مری ظلمت نے گھیرا ہے
مرے دامن کے نیچے اب اندھیرا ہی اندھیرا ہے
یہی انسان ہے کیا وہ اسی انسان کا ڈر تھا
ازل میں سامنے جن کے مرا جھکنا مقدر تھا
مرے قدموں میں ہے اب جو مرے سجدے کا طالب تھا
ابد تک میں ہی غالب ہوں ازل کے دن بھی غالب تھا
اگر میں راندۂ درگاہِ باری ہوں، تو یہ بھی ہے
اگر میں قابل دوزخ ہوں، ناری ہوں، تو یہ بھی ہے
ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعروں میں کم وبیش ہر ایک شاعر نے نظمیں کہیں۔
فیض احمدفیض، مخدوم محی الدین، مجاز، سردارجعفری، ساحر لدھیانوی، سلام مچھلی شہری اور کیفی اعظمی وغیرہ۔ طویل نظم نگاری میں جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، جمیل مظہری اور احسان دانش کے نام بھی لیے جاسکتے ہیں۔ جمیل مظہری کی طویل اور مشہور نظمیں ’فریاد جواب فریاد‘ جن پر علامہ اقبال کی نظم شکوہ کا پورا اثر ہے۔ جوش کی طویل نظمیں مناجات اور آوازۂ حق بہت مشہور ہیں۔ جمیل مظہری یا جوش کے یہاں نظم میں ہیئتی تبدیلی نہیں ملتی۔ مثنوی یامسدس کے فورم میں نظمیں کہی گئی ہیں۔
ترقی پسندوں نے ہیئت کے تجربے کھلے طور پر کیے۔ طویل نظموں کے ذیل میں ساحرلدھیانوی، کیفی اعظمی، سردار جعفری کے نام اہم ہیں۔ کیفی کے آوارہ سجدے، ساحر کی پرچھائیاں، مجاز کی ’آوارہ‘ اور سردارجعفری کی نئی دنیا کوسلام اہم نظمیں ہیں۔ ہیئت میں تجربہ کرنے کے اعتبار سے ان میں سب سے اہم نام سردار جعفری کا ہے۔ انھوں نے’ نئی دنیا کو سلام‘ میں کئی بحروں کا التزام کیا۔ اس طرح پابند، معرّا اور آزاد تینوں طرح کی نظموں کا لطف اس میں موجود ہے۔ نظم شروع ہوتی ہے:
سیہ دوپٹوں کے آنچل سیہ جبینوں پر
سیہ لباس سیہ جسم کو چھپائے ہوئے
سیاہ دودھ ہے ماں کے سیاہ سینے میں
سیاہ بچوں کو آغوش میں سلائے ہوئے
اس نظم میں دومرکزی کردار جاوید اورمریم ہیں۔ جاوید مریم سے درد بھرے انداز میں یوں گویا ہوتاہے:
تو بھی بنگال کی سیکڑوں عورتوں کی طرح اپنے روتے ہوئے
لال کو،دل کے ٹکڑے کو، سنسان راہوں کی چلتی
ہوئی خاک پر ڈال کر بھاگ جائے گی ان قحبہ خانوں
میں، جن میں روٹی کے سوکھے ہوئے ایک ٹکڑے
کی خاطر جواں عصمتیں گوشت کے لوتھڑوں کی طرح
بک رہی ہیں
ساحر کی نظم ’پرچھائیاں‘ میں بھی دوتین بحروں کا استعمال ہواہے مگر سردار کی ’نئی دنیا کو سلام‘ کی طرح آزادانہ نہیں۔ دیہی زندگی اوراس کے استحصال کا رنگ اس بند میں دیکھئے:
چرواہیاں رستہ بھول گئیں پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
کتنی ہی کنواری ابلائیں ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکے
جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے ہی کے سب سامان بکے
اخترالایمان کا زمانہ ترقی پسند تحریک کا ہی رہاہے مگران کی شاعری کو پڑھتے ہوئے اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی وابستگی اس تحریک سے باضابطہ رہی ہوگی۔ یہ سچ بھی ہے کہ انھوں نے فنی اور تخلیقی سطح پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے طویل منظوم تمثیل ’سب رنگ‘ لکھی۔ باضابطہ طویل نظم جیونی کے عنوان سے ہے جو ناتمام رہ گئی۔ اس کے علاوہ کچھ نظمیں ایسی ہیں جو طویل تونہیں لیکن پھر بھی قدرے طویل ضرور ہیں جیسے میرناصر حسین، میرا نام، اپاہج گاڑی کا آدمی، ایک لڑکا، کالے سفید پروں والا پرندہ، سبزئہ بیگانہ، جنگ، پرانی فصیل وغیرہ۔ اخترالایمان نے معرا اور آزاد نظمیں زیادہ کہی ہیں۔ ایک ہی نظم میں وہ بحروں کوتبدیل بھی کردیتے ہیں۔ نظم ’جیونی‘ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے:
اس جہانِ گل وبلبل و زاغ میں/اتّری ہند کے چھوٹے سے گائوں میں
ایک کاتک کی ٹھٹھری ہوئی رات میں/شب کے پچھلے پہر تاروں کی چھائوں میں
پھونس کے ایک چھپّر میں پیدا ہوا/حسب دستور کچھ دیر رویا کیا
اورپھر جیسے جی کوقرار آگیا/جیسے دارالمحن سازگار آگیا
اردو میں نظم نگاری کا یہی وہ زمانہ ہے جو روشن کہا جاسکتاہے۔ ترقی پسند تحریک سے ہی کچھ شاعر وادیب الگ ہوگئے اور پھر حلقۂ اربابِ ذوق کے نام سے ایک الگ ادبی تنظیم بنالی۔ اس میں جوسب سے اہم نام ابھر کر سامنے آئے ان میں ن م راشد اور میراجی کے نام کثرت سے لیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ دونوں اس حلقے میں بعد میں شامل ہوئے تھے۔ یوں تو اس حلقے میں قیوم نظر، ضیاجالندھری، مختار صدیقی اور یوسف ظفر کے نام بھی ہیں۔ ضیاجالندھری نے کئی طویل نظمیں بھی کہی ہیں جن میں ’ساملی‘ زیادہ مشہور ہے۔ یہاں بھی پابند نظم کی قیدختم ہوچکی ہے۔ نظم ’ساملی‘ کا ایک ٹکڑا ملاحظہ کیجیے:
خوشی کہ جس کی تلاش میں یہ ہجوم دیوانہ وار شعلوں
میں ناچتا ہے
خوشی سے خالی ہیں نگاہیں
خوشی سے خالی ہیں روزوشب،صبح وشام ان کے
مگر یہ انساں، خوشی کے رسیا، غموں سے خوشیاں نچوڑتے ہیں
بھڑکتے شعلے گلوں کے ہم رنگ ہیں یہ انساں
فریب کھاکھا کے جی رہے ہیں
حلقہ ٔ ارباب ذوق کے شاعروں میں میراجی کی نظموں کوبہت اعتبار حاصل ہے لیکن انھوں نے ایسی کوئی طویل نظم نہیں کہی جس کا ذکرکیا جائے البتہ ن م راشد کی گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں،دل،میرے صحرا نوردپیردل، ہم کہ عشاق نہیں، شہر وجود اور مزار، حسن کوزہ گر وغیرہ طویل نظمیں ہیں۔ ان میں بھی اگرحسن کوزہ گرایک سے حسن کوزہ گر۔ چار تک کو ایک ساتھ پڑھیں تو یہ ان کی سب سے طویل نظم ہوگی۔ یوں بھی ان کی طویل نظموں میں اسی کی شہرت بھی رہی ہے۔
حسن کوزہ گر۔ ایک کا یہ پہلا ٹکڑا ملاحظہ کیجیے:
جہاں زاد، تیری گلی میں ترے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
کی دکّان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی
تھی میں جس کی حسرت میں نوسال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
جہاں زاد، نوسال دیوانہ پھرتا رہاہوں
ترقی پسندتحریک اورحلقہ اربابِ ذوق سے متعلق شعرائے نظم کے بعد جدیدیت سے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ طویل نظم نگاری کے میدان میں کن شعرا نے اہم رول ادا کیے۔ ہیئت اورموضوع کی پیش کش کا ایک اچھا سرمایہ سردارجعفری، اخترالایمان، ن م راشد، ضیاجالندھری وغیرہ کے یہاں موجود تھا۔ لہٰذا بعد کی نسل کے شعراء کے سامنے معرّا اورآزاد نظموں کے لیے راستے ہموار تھے۔
۱۹۶۰ء کے بعدجن شاعروں کے نام ابھر کر سامنے آئے اورجنھوں نے کشت نظم میں اپنے تجربے اوراحساس کی فصل اُگائی ان میں کچھ اہم نام اس طرح لیے جاسکتے ہیں۔ وحیداختر، عمیق حنفی، عبدالعزیز خالد، حرمت الاکرام، کمارپاشی، سلیم احمد، زبیررضوی، قاضی سلیم، وزیرآغا،جعفر طاہر، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید وغیرہ۔ ان میں زبیررضوی کی طویل نظم ’پرانی بات ہے‘ کو خوب شہرت حاصل ہوئی۔ اِس کے ساتھ ہی ایک نسل ابھررہی تھی جن میں شجاع خاور، صلاح الدین پرویز،چندربھان خیال، پروین شاکر، صبا اکرام وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شبلی اور ان کی نظمیہ اردو شاعری – پروفیسر خالد محمود )
۱۹۶۰ء کے بعد والی نسل میں وحیداختر، کی طویل نظم شہرہوس کی صدائیں اور عمیق حنفی کی طویل نظمیں صوت الناقوس، سندباد، سرگجا اور صلصلۃ الجرس بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ عمیق حنفی کی نظم صلصلۃ الجرس اسلوب وآہنگ کے لحاظ سے اردو نظم میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔ یہ نظم بالخصوص نعتیہ شاعری کا ایک اہم موڑ تصور کی جاتی ہے۔ میں یہاں ان کی نظم صوت الناقوس کا ذکر کرناچاہتاہوں جس میں انھوں نے الگ الگ ارکان وبحور کا استعمال کیاہے۔ اس نظم کے چارحصّے ہیں اور چاروں کے مختلف ارکان ہیں:
پہلا حصّہ فاعلن رکن پرمشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ فعولن پر۔اسی طرح تیسرا حصہ مفعولٌ پر ہے جبکہ چوتھاحصہ پھر فاعلن پر آجاتا ہے۔ اس نظم کا نام صوت الناقوس بھی بحرمتدارک کی ایک قسم کے نام پرہے جو سب سے زیادہ مشہور ہے۔ مختلف ارکان میں یہ آزاد نظم بہت ہی رواں اور پُراثر ہے۔
پہلے حصّے کا یہ ٹکڑا دیکھئے:
صبح کا وقت ہے/سوچتا ہوں یہ کس طرح کی صبح کا وقت ہے
آسماں پر کہیں/تازہ کرنوں کا سنگار کرتی ہوئی/شوخ گورج نہیں
پھوسڑا پھوسڑا گرد کالے دھوئیں سے بغلگیر ہے
دوسرے رکن پرمشتمل اسی نظم کا یہ ٹکڑا دیکھیے:
مشینیں سوالی
مجھے صبح کیوں اجنبی لگ رہی ہے
تجھے صبح نظّارگی کی نہیں نقش محفوظ کی دھن لگی ہے
تصور میں گائتری جپ چل رہاہے
تری ماں کی آواز میں سورئہ فجر کی آیتیں
تجھے اصل میں صبح کے اس تصور کے دیدار کی آرزو ہے
جسے تیری نظروں پہ تصویر کی طرح صدیوں کی عادت نے چپکا دیاہے
شب و روز صبح و مسا کے زمینے بدلوائے کس نے
درختوں کو کس نے گرایا
ستوں تار ِ برقی کے کس نے لگائے
زمیں دوز دھاتوں کو کس نے جگایا
چمکتے ہوئے سانولے راستے فرش صحرا پہ کس نے بچھائے
کچھ اسی طرح کا ہیئتی اورموضوعاتی تجربہ کمارپاشی کی طویل نظم ’ولاس یاترا‘ میں ملتا ہے۔ آزاد اورمعرا کے ساتھ ساتھ نثری نظم کے پیٹرن پر اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ ڈرامائی عناصر کو تکنیکی نظم وضبط کے ساتھ کمار پاشی نے اپنی اس نظم میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے موضوع میں انسانی زندگی کا کرب شامل ہے۔ نظم کا آغاز ملاحظہ کیجیے:
وشیلے، خوب صورت، بوڑھے، لجلجے ناگ راج سے
میں چھتیس برس سے الگ ہوں/ ہری، بھری، بنجر، گنجان، اجاڑ
صدیوں لانبی دھرتیوں پر/ مرا ذانب مرا عکس دگر
تلاش ذُغاف میں رینگ رہاہے
اس نظم میں ایک حصّہ معرا بھی ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے:
بولو اتنے روز کہاں رہے؟/چپ چپ کیا تکتے ہو مجھ کو
میں کُروناہوں سُمرن بن کی/نہیں میں کُنٹھاہوں کُنٹھاہوں
ناں،ناں،شاید کوشل ہوں میں/دیکھو کتنی بدل گئی ہوں
نام بھی اپنا بھول گئی ہوں/ہاں یادآیا—سچ کہتی ہوں
میں اکھشرمٹھ کی کیرتی ہوں/راج بھون کی دیواروں میں
تم جسے تنہا چھوڑگئے تھے
یاد ہے تم کو ایک کوی نے
مہا کاویّہ لکھا تھا مجھ پر
وزیرآغا نے بھی کئی طویل نظمیں کہی ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں ایک خواب، ۱۹۷۴ء میں ازل سے ابدتک، ۱۹۸۰ء میں آدھی صدی کے بعد اور ۱۹۸۲ء میں ٹرمینس جیسی طویل نظمیں کہیں۔ ان کی نظم ’آدھی صدی کے بعد‘ اور ٹرمینس میں سوانحی کوائف کے عناصر ملتے ہیں۔ وزیرآغا نے اپنی نظم ’آدھی صدی کے بعد‘ میں اپنے باطن میں پراسرار طریقے سے سفر کیاہے۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس نظم میں ان کا تصورِحیات بھی سمٹ آیاہے۔ حالانکہ یہ بتانا مشکل ہے کہ اس تصورِ حیات کو وزیرآغا نے اہتمام کے ساتھ پیش کیا ہے یا یہ تصور اور نظریہ دونوں خود بخود مرکز میں آگئے ہیں۔
اس نظریہ حیات کو اس نظم کے آخری حصے میں ملاحظہ کیجیے:
مرا اس سے/کوئی تعارف نہیں ہے/مجھے تو فقط /اپنے ہونے کا عرفان ہے
میں تو بس اس قدر چاہتاہوں/پروں کو ہلاتی/ حسیں قوس بن کر
مری سمت آتی ہوئی/فاختہ/پھڑپھڑاتے ستارے
گھنی گھاس کی نوک پرآسماں/سے اترتی نمی/اور پورب کے ماتھے پہ/ قشقے کا مدھم نشاں
تیرگی کی گپھا سے نکلتا ہوا/روشنی کاجہاں/سبزشبدوں کی بہتی ہوئی آبجو
اک انوکھی پُراسرار معنی کے/گھائوسے رستا لہو/مسکراتے ہوئے لب
یہ سب/میرے اوتار ہیں/میری آنکھیں ہیں/مجھ کو ہمیشہ سے تکتی رہی ہیں
سدا مجھ کو تکتی رہی ہیں
تمثیلی پیرائے میں ساغرنظامی کی نظم یوم آزادی، رفعت سروش کی پانی پت، اخترپیامی کی تاریخ، شہاب جعفری کی ’یہ میری دنیا یہ میری جنت‘ اخترالایمان کی ’سب رنگ‘ وغیرہ طویل نظمیں ملتی ہیں۔
اسی طرح اگر رزمیہ کی شکل میں کہی گئی نظموں پر غور کریں تو ہم عصر عہد میں عنبربہرائچی کی ’مہابھنشکرمن‘ اور’ لم یات نظیرک فی نظر‘ ابرارکرت پوری کی ’غزوات‘ چندربھان خیال کی ’لولاک‘ اوربارہ ماسہ کے طور پر صلاح الدین پرویز کی طویل نظم ’پرماتما کے نام آتما کے پتر‘ وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ سلیم شہزاد نے راستہ کہاں ہے، سدوم، رمِ خاک جیسی طویل نظمیں کہی ہیں لیکن یہ نظمیں نقادوں کی نظر سے شاید اوجھل ہیں۔
طویل نظم کہنا بظاہر کچھ لوگوں کو ممکن ہے آسان لگتا ہو کہ اس میں ارتکاز کے بجائے بیانیہ انداز اپنایا جاتاہے لیکن طویل نظم اچھی بھی ہو، اس کے لیے فکری ارتکاز توبہرحال چاہیے ہی اورانداز پیش کش بھی پُر اثر ہو ورنہ نظم محض لفظوں کا ایک گورکھ دھندا بن کر رہ جائے گی۔ طویل نظم میں Intensityکہیں ایک جگہ نہیں بلکہ نظم کے پورے پلاٹ میں کئی مقام پر ہوتی ہے جس کی تلاش کرنا قاری کا کام ہے۔
آج ہمارے عہد میں غزلوں کی تو بھرمار ہے مگر نظمیں کم ہی کہی جاتی ہیں۔ اگر نظمیں ملتی بھی ہیں تو نثری نظموں کی تعداد وافر ہوتی ہے۔ معرا اور آزاد نظمیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مختصر نظمیں پھر بھی رسائل میں نظر آجاتی ہیں لیکن طویل نظموں کا تو جیسے کال پڑ گیا ہے۔ تہذیبی منظرنامہ بدل چکا ہے تو کیا بدلتے ہوئے تہذیبی منظرنامے کو پیش کرنے کے لیے طویل نظمیں ناکافی ہیں، یا ان کی ضرورت نہیں؟
آخر کیا بات ہے کہ سلیم احمد کی نظم ’مشرق‘ عمیق حنفی کی ’سندباد‘ یا ’صلصلۃ الجرس‘ وحید اختر کی ’شہرہوس کی شہید صدائیں‘ کمارپاشی کی ’ولاس یاترا‘ وزیرآغا کی’ آدھی صدی کے بعد‘ ن م راشد کی’ حسن کوزہ گر‘ سردارجعفری کی’ نئی دنیا کو سلام‘ اور’اودھ کی خاک حسیں‘ جیسی طویل نظمیں تخلیق نہیں ہورہی ہیں؟ آج کی نسل کے سامنے بہرحال ایک چیلنج ہے کہ طویل نظم نگاری کی بازیافت کس طرح کی جائے۔ کیا اس چیلنج کو عبدالاحد ساز،فرحت احساس، جمال اویسی، نعمان شوق، عین تابش، جینت پرمار، خالد عبادی، شکیل اعظمی، اشہر ہاشمی یا پھر کوئی اور قبول کرنے کو تیار ہے؟
حواشی
۱۔ عکس اور آئینے: پروفیسر احتشام حسین، ۱۹۶۲، ص: ۱۱۵
۲۔ تنقیدی اشارے: آل احمد سرور، ۱۹۵۵ء، ص:۸۰
(۲۵؍اگست ۲۰۰۵، کو اردو سروس، دہلی سے فیچر کی شکل میں نشر)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
طویل نظموں کا دؤر میرے بھائی ختم سمجھئے۔ ن۔ م۔ راشد کی طویل نظم حسن کوزہ گر چار کینٹوس آخری طویل نظم تھی اؤر عظیم نظم بھی
اس مضمون میں طویل نظم گو شاعر قمر ھاشمی کی لینن دانائی کاافتاب۔ نروان۔ رحمت للعالمین جیسی نظموں کا بھی اضافی اور جوش ملیح آبادی کی طویل نظم اور جمیل الدین عالی کی بھی نظم انسان کاحوالہ ایم ہے