قصیدہ، بہ زبان حالی ایک نہایت ہی ضروری صنف ہے اگر اس کی بنیاد محض تقلیدی مضامین پر نہیں بلکہ شاعر کے سچے جوش اور ولولے پر ہو۔ حالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ زندوں کی تعریف کو قصیدہ بولتے ہیں اور مردوں کی تعریف کو جس میں تاسف اور افسوس شامل ہوتا ہے مرثیہ کہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں اچھوں کی خوبیوں اور ہنر اور فضائل اور اخلاق اس طرح بیان کیے جائیں کہ دماغ معطر ہوجائے، ساتھ ہی برائیوں اور عیبوں پر جہاں تک ہو گرفت کی جائے تاکہ حال اور استقبال دونوں زمانوں کے لوگ برائی کی سزا اور اس کے نتائج سے ہوشیار اور چوکنّے رہیں۔ یہ وتیرہ بالکل سنت الٰہی کے مطابق ہوگا کیوں کہ کلام الٰہی میں بھی ہمیشہ بروں کو برائی کے ساتھ اور بھلوں کو بھلائی کے ساتھ یا دکیا جاتا ہے۔ (ص 177,78)
یہ سب مذکورہ باتیں وہ ہیں جن کا اطلاق قصیدے کے موضوع اور Content پر ہوتا ہے۔ اس کا ذکر یہاں اس لیے ہوا کہ قصیدے کی صنفی شناخت کے ذیل میں موضوع کا حوالہ بھی گاہے گاہے آنا ناگزیر ہے۔
ہم ادب کے طالب علم ہیں اور یہاں قصیدے کے سب سے بڑے شاعر سودا اور اس کے بعد ذوق جیسے شاعر کے کلام کی روشنی میں ہی اس کی موضوعاتی یا ہیئتی شناخت کی بات کی جائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی بات کی یا اپنے قائم کردہ تھیسس کی توثیق کے لیے دوسرے شعرا اور ان کے کلام کے حوالے بھی آسکتے ہیں۔ لیکن آپ خاطر جمع رکھیں کہ شعری حوالے کم ہی آئیں گے۔
قصیدے کا پہلا شعر ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح کسی غزل کا مطلع ہوتا ہے۔ پھر یہ غزل کیوں نہیں؟ شاید اس لیے نہیں کہ غزل کا ہر شعر اکائی کی صورت میں مکمل معنی کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر اترتا ہے جبکہ قصیدے کا ہر شعر مدح و ذم کے ساتھ یا ان میں سے کسی ایک صفت کے ساتھ کسی کی مکمل شخصیت کے وجود کا تتمہ ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تشبیب کے اشعار کی کیا ضرورت ہے یا یہ کہ اس میں موقع ملتے ہی شاعر کا میلان طبع غزل کی طرف کیوں رواں ہوجاتا ہے؟ ممکن ہے کہ شاعر کو یہ احساس ہوتا ہو کہ کسی بھی شخص کی صرف اور صرف مدح طرازی سے قاری کوفت سی محسوس کرنے لگے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاعر تشبیب میں جب اپنے غزل رنگ میلان سے کام لے چکا ہوتا ہے، پھر غزل کی پیوند کاری چہ معنی دارد؟ بلکہ کبھی کبھی تو دو دو تین چار چار غزلیں مطلعوں کے ساتھ ایک ہی قصیدے میں نمودار ہوتی ہیں، جنھیں الگ کرکے انفرادی طور پر غزلوں سے موسوم کرنے میں بہ استثنائے چند، تردد بھی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی غزلوں میں بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب کا استعمال ہوتا ہے جو کہ اردو غزل کے نرم شانوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اگر پرشکوہ الفاظ و تراکیب قصیدے کی ضرورت ہیں تو غزل کے لیے یہ عیب بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے قصیدے میں جہاں بھی غزل آجاتی ہے، اس پر غزل کا محض دھوکا ہوسکتا ہے۔ اس بات کی توثیق میں سودا کے قصائد سے غزلوں کے چند اشعار ملاحظہ کرلیجیے اور بتائیے کہ ان پر غزل ہونے کا واقعی اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جہاں کی خاک کو ہے یہ شرف، عجب کیا ہے
کہ فخر عرش ہے، گر ہوئے اس کے قرب و جوار
جہاں کی مرگ کو کہتا ہے خضر، عمر ابد
خدا نصیب کرے مجھ کو زندگی اک بار
خدا نخواستہ گر آسماں کی گردش سے
قضا طبیب ہوئی ہو، مسیح ہو بیمار
فلک سے اس کو ملائک لے آکے واں، ہوویں
جب اس دیار کے جاروب کش سے منت دار
اگر وہ خاک دے اس کو شفاکی نیت سے
قضا، قضا ہی کرے، ٹک اگر کرے تکرار
(قصیدہ در منقبت سید الشہدا حضرت امام حسینؑ)
——
ہو سکیں نازک دلاں کب روکشِ حرف دُرشت
عکس بال طوطی، اپنے آئینے پر سنگ ہے
ہر مکاں میں مسند و ہر ایک جا فرشِ سمور
ہر طرف مطرب پسر، ہر سو رباب و چنگ ہے
(قصیدہ در منقبت امام عسکری)
یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قصیدے میں غزل کا در آنا کوئی فطری عمل نہیں ہوتا بلکہ کسی حد تک غیرضروری بھی ہوتا ہے۔ اوپر کے اشعار پر اگر غور کیجیے تو غزل مسلسل کا دھوکا ہوتا ہے۔ قصیدے میں مطلع اوّل، دوم سے لے کر مطلع رابع تک کا وظیفہ بھی محض استادانہ مسلک اور ز یب داستان کے طور پر ہوتا ہے۔ کچھ قصیدے ایسے بھی ہیں جن میں نہ مطلع اول و دوم ہوتا ہے اور نہ غزل اور وہ اچھے قصیدے بھی ہوتے ہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ خارجی طور پر بھی مطلع اول و دوم یا غزل، قصیدے کا ناگزیر حصہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ غزل قصیدے کے بطن سے آئی ہے۔ کچھ قصیدے ایسے ضرور ملتے ہیں جن میں غزل بطور غزل نظر آتی ہے جیسے غالب کے قصیدے ’ہاں مہِ نوسنیں ہم اس کا نام- جس کو تو جھک کے کرتا ہے سلام‘ سے یہ اشعار:
پھر غزل کی روش پہ چل نکلا
توسنِ طبع چاہتا تھا لگام
مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
غم سے جب ہوگئی ہو زیست حرام
بوسہ کیسا؟ یہی غنیمت ہے
کہ نہ سمجھیں وہ لذتِ دشنام
غالب کے دوسرے قصیدے : ’صبحدم دروازۂ خاور کھُلا‘ میں جو غزل ہے اس کے دو شعر ملاحظہ کیجیے:
کُنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھُلا
کاش کہ ہوتا قفس کا در کُھلا
واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
ہاتھ سے رکھ دی کب ابرو نے کماں
کب کمر سے غمزے کی، خنجر کھلا
عرض یہ کرنا ہے کہ قصیدے میں غزل ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لہٰذا اسے قصیدے کے صنفی امتیازات کے ذیل میں رکھا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اگر نعتیہ قصیدے میں یا منقبتی قصیدے میں بھی درمیان میں غزل آجائے تو پھر اسے غیرمنطقی ہی کہا جائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں مومن کی قصیدہ نگاری – پروفیسر کوثر مظہری )
اب ذرا قصیدے کی صنفی شناخت کے لیے موضوع اور نفس مضمون پر غور کیجیے۔ موضوع تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی کی مدح سرائی قصیدے کا خاص موضوع ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے کہ قصائد ہجویہ بھی لکھے گئے ہیں۔ لہٰذا مدحیہ اور ہجویہ دونوں لحاظ سے قصائد کے نمونے موجود ہیں۔ ہجو میں کسی شخص کی برائی کے ساتھ ساتھ زمانے کی زبوں حالی اور ایام روزگار کے نشیب و فراز کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ سودا کا مشہور زمانہ قصیدہ ‘تضحیک روزگار‘ پیش کیا جاسکتا ہے:
ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار
رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک قرار
جن کے طویلے بیچ، کوئی دن کی بات ہے
ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار
اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے
موچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ اُدھار
یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ قافیے کے آخری حرف کی مناسبت سے قصیدے کو موسوم کردیا جاتا ہے۔ جیسے لامیہ، میمیہ، کافیہ، تائیہ وغیرہ۔ لامیہ قصیدے کے ذیل میں سودا اور محسن کاکوروی کے قصیدے سے ایک ایک مطلع پیش کیا جاتا ہے:
اٹھ گیا بہمن ودے کا چمنستاں سے عمل
تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل
(سودا)
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل
(محسن)
لیکن قصیدے کی صنفی شناخت سے اس تخصیصی صورت حال کا کوئی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس سے تو اس کی شناخت میں خلط مبحث کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بات یہ کی جائے کہ عام بول چال میں جب ہم قصیدے کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے کسی کی تعریف و توصیف ہی مراد ہوتی ہے۔ جیسے ہم یہ کہیں کہ تم تو فلاں شخص کی قصیدہ خوانی کررہے تھے یا تم فلاں کا قصیدہ پڑھتے رہتے ہو، تو ایسے میں کہیں سے بھی کسی کی برائی کا پہلو نہیں نکلتا جبکہ ہجویہ قصائد کا بڑا سرمایہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی کی تعریف غزل کی ہیئت کے بجائے دوسری ہیئت میں کی جائے تو اُسے قصیدہ کیوں نہیں کہہ سکتے۔
اب جب ہیئت کی بات نکل آئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کی مداحی ترجیع بند اور ترکیب بند میں ہے تو اُسے قصیدہ کیوں نہیں کہا جاتا۔ جناب شمیم احمد نے اپنی کتاب ’اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں‘ میں ولی کی دو تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے سوال قائم کیا ہے۔ دونوں تخلیقات حضرت شاہ وجیہ الدین کی مدح میں ہیں۔ پہلے ترجیع بند کے حصے:
فیض تیرا ہے ابر نیسانی
دوجہاں پر کیا دُرافشانی
دل ترا مظہر تجلّیٔ حق
مکھ ترا رونقِ مسلمانی
سجدہ کرنے کو روز آتا ہے
چاند سر تا قدم ہو پیشانی
زندگی بخش ہے خیال ترا
یاد تیری ہے آب حیوانی
جن نے دیکھا ہے پاک مرقد کوں
اُن نے پایا ہے قربِ حقانی
اے امام جمیع اہلِ یقیں
قبلۂ راستاں وجیہ الدیں
اب اسی موضوع پر لکھے گئے قصیدے کے اشعار:
ہوا ہے خلق اُپر پھر کے فضل سبحانی
کیا ہے ابر نے رحمت سوں گوہر افشانی
تجھ آستاں پہ سُرج تاکہ آکرے سجدہ
ہوا ہے سرسوں قدم تک تمام پیشانی
تری جناب سوں ہے فیض طالباں کوں مدام
ترے کرم سوں ہے اکثر کوں قُرب حقانی
یو دین پاک میں بے شک ہے تو وجیہ الدیں
عدم ہے آج زمیں کے اُپر ترا ثانی
اگر ان شعری نمونوں کی روشنی میں بات کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلا نمونہ چوں کہ غزل کی ہیئت میں نہیں ہے اس لیے نفس مضمون دوسرے شعری نمونے کے مماثل ہونے کے باوجود قصیدہ نہیں۔ لیکن ذوق نے چند قصائد مخمس کی ہیئت میں کہے ہیں۔ اگر ہم نے یہ تہیہ کرلیا کہ قصیدہ صرف اور صرف غزل کی مروج ہیئت میں ہی لکھا جاتا ہے تو اس نوع کے مخمس والے قصائدکا کیا بنے گا؟ ملاحظہ کیجیے ذوق کے قصیدے سے ایک بند:
بخشش کے روبرو تری، اے خسروِ زماں
کمتر ہے، نیم قطرے سے، دریائے بے کراں
تیرا سحاب ابر اگر ہو گہر فشاں
یہ موج زن ہو آبِ گہر، تا بہ آسماں
کشتی میںاپنی ڈال دے لنگر، ہلالِ عید
(سات بند ہیں، کلیاتِ ذوق، ص 339)
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نفس مضمون پر قصیدے کی غزل والی ہیئت فوقیت رکھتی ہے۔ اگر قصیدے کو ہجویہ کلام سے الگ کرکے دیکھیں تو مضمون کادائرہ محدود ہوجاتا ہے۔ یعنی صرف مدح طرازی خواہ وہ مذہبی اشخاص کی ہو یا بادشاہوں اور امرا کی۔ کسی کی ہجو کے لیے کسی بھی ہیئت کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر قصیدے کے اجزائے ترکیبی کو پیش نظر رکھا جائے تو سوال قائم ہوتا ہے کہ ہجویہ قصائد میں تشبیب، گریز، مدح اور دعاکی پاسداری تو ہوتی نہیں اور اگر یہ عناصر ترکیبی قصیدے کے لیے ناگزیر ہیں تو پھر تمام ہجویہ قصائد اس قصیدے کے دائرے سے ازخود خارج ہوجائیں گے اور اگر ہجویہ قصائد واقعی قصائد ہیں تو پھر ان عناصر ترکیبی کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ابھی اوپر ’قصیدہ در تضحیک روزگار‘ کا ذکر آیا جو کہ ‘شہرآشوب‘ ہے۔ اس پر شمس الرحمن فاروقی نے اپنی رائے اس طرح پیش کی ہے:
’’ایرانی طرز پر شہر آشوب لکھ کر سودا نے اسے ’قصیدہ در تضحیک روزگار‘ کا نام دے دیا تو کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بھی اس کو قصیدہ کہیں۔‘‘
(تنقیدی افکار، ص 160)
اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ شاعر اپنی تخلیق کی صنفی شناحت کے لیے کس درجہ حساس ہوتا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ مثنوی اور مرثیے کی شناخت بھی ہیئت یعنی دو دو مصرعوں والی اور چھ چھ مصرعوں والے بند کی صورت میں کی جاتی ہے۔ لیکن جب ہم انجمن پنجاب کی نظم جدید کی تحریک پر گفتگو کرتے ہیں تو مثنوی اور مسدس کی ہیئت میں کہی گئی نظمیں محض نظمیں ہوتی ہیں۔ ان نظموں میں جیسا کہ ہم جانتے ہیں مناظر قدرت کی عکاسی اور نیچر پرستی کا رنگ نظر آتا ہے۔ اصلاح اور ’پیغام انسانیت‘ بھی ان شعرا کے پیش نظر ہے۔ اسی طرح اگر ہم دکنی شعرا کے قصائد کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی فضا مروّج قصیدوں کی عام فضا سے کسی قدر مختلف ہے۔ دکنی قصائد کے حوالے سے محمد حسن لکھتے ہیں:
’’ان قصیدوں میں اصلیت اور واقعیت کی تہہ اتنی موہوم نہیں۔ ان میں محض جوش بیان، شوکت الفاظ اور مضمون آفرینی کا جوش نہیں ہے نہ ان کی بنیاد محض تخیل پر ہے۔ کہیں رزم کی منظر کشی ہے، کہیں فطری مناظر کی تصویرکشی ہے تو کہیں حکیمانہ مضامین ہیں۔‘‘
(قدیم اردو ادب کی تنقیدی تاریخ، اترپردیش اردو اکادمی، 2004، ص 234)
اگر محمد حسن کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں دیکھیں تو شوکت الفاظ، پرواز تخیل اور حددرجہ مبالغہ آرائی مروج اردو قصائد کی رو سے ضروری اوصافِ قصیدہ ٹھہرتے ہیں۔ کیا یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ قصیدہ بھی صرف نظم ہے، جس میں کسی شخص یا اشیائے کائنات میں سے کسی بھی شے کی تعریف ہوسکتی ہے۔ جس طرح مختلف ہیئتوں میں مراثی کہے گئے اور مرثیے کا اطلاق ہر اُس نظم پارے پر ہوتا ہے جس میں کسی مردہ شخصیت کی تعریف و توصیف ہوتی ہے جس کی طرف حالی نے بھی اپنے مقدمے میں اشارہ کیا تھا۔ لیکن دکنی شعرا میں قلی قطب شاہ اور دیگر شعرا کے قصائد میں رموزِ حیات اور حقائق پر مبنی تصورات ملتے ہیں یہاں تک کہ منظرنگاری بھی قصیدے کے باب میں ملتی ہے۔ حالاں کہ مروج اردو قصیدے میں بھی کہیں کہیں تشبیب میں منظر نگاری کے نقوش اور نمونے مل جاتے ہیں لیکن پورا قصیدہ ہی مناظر قدرت پر مبنی ہو، ایسا دکنی شعرا کا اختصاص رہا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں قصیدہ اور غزل: صنفی امتیازات و افتراقات کے پہلو – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )
اوپر کی گفتگو سے الگ اگر حالی اور کاشف الحقائق کے مصنف امداد امام اثر کے تصورات پر غور کریں تو دکنی شعرا نے جس طرح بقول محمد حسن اصلیت، واقعیت اور حکیمانہ مضمون کو اپنے قصائد میں شامل کیا ہے، وہی مرکز نگاہ ٹھہرتے ہیں۔ کیوں کہ حالی اور اثر دونوں قصیدے سے بھی اصلاح اور اخلاق آموزی کا کام لینا چاہتے ہیں۔اثر لکھتے ہیں:
’’جاننا چاہیے کہ قصیدہ کی اصل غرض یہ ہے کہ شاعری کے پیرایہ میں مسائل اخلاق و معاشرت و تمدن و معاش و معاد وغیرہ کی تعلیمِ دینی و دنیوی بنی آدم کو نصیب ہو، یا حمدِ خداو نعت محمد مصطفی و منقبتِ علی مرتضیٰ وائمہ باصفا سے شاعر کو ثواب عقبیٰ حاصل ہو۔‘‘
(کاشف الحقائق، ترقی اردو بیورو، 1982، ص 476)
مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں دیکھا جائے تو مجھے یہ کہنے دیجیے کہ قصیدہ بھی صنف نہیں، محض ایک ہیئت کا نام ہوکر رہ جاتا ہے۔ یعنی، قصیدے کی ہیئت میں اصلاح معاشرہ اور ثواب عقبیٰ کا حصول ہی اہمیت کا حامل ٹھہرتا ہے۔ اس لحاظ سے تو پھر امرا اور بادشاہو ںکی مداحی میں کہے گئے قصائد یا سودا کے سارے ہجویہ قصائد بے معنی ٹھہرتے ہیں۔ حالی نے بھی اچھے لوگوں کی خوبیوں، ہنر اور اخلاق حسنہ کی پیش کش کی بات کہی تھی کہ جسے سن کر یا پڑھ کر دماغ معطر ہوجائے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ برائیوں اور عیبوں کی گرفت بھی اس طرح ہو کہ سن کر یا پڑھ کر لوگ اس کی سزا اور برے نتائج سے چوکنے ہوجائیں۔ لیکن، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو نظم کی مختلف ہیئتوں میں ممکن ہے پھر صنف قصیدہ پر یہ بھاری بوجھ کیوں؟ ہاں، اگر یہ مقاصد بھی بطور مضامین کے در آئیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن ان مقاصد کو قصیدے کے لیے ناگزیر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حالی اور امداد امام اثر کی باتوں کو تسلیم کرلیں تو پھر قصیدہ صنف نہیں بلکہ صرف نظم کے ذیل میں آئے گا۔ یعنی قصیدہ ایسی صنف نہیں ٹھہرے گا جس کا اپنا ایک انفرادی وجود بھی ہو۔ یعنی جس طرح مغرب میں Poem کہا جائے تو اس کا ترجمہ بقول فاروقی وہ تحریر جو نثر نہیں ہے۔ ( مضمون نظم کیا ہے، تنقیدی افکار،ص168) یعنی نظم نثر کی نقیض ٹھہرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے دامن میں اردو کا سارا شعری سرمایہ سما جاتا ہے خواہ وہ مثنوی ہو کہ مرثیہ، رباعی ہو کہ قصیدہ، غزل ہو کہ شہر آشوب وغیرہ۔ لیکن پھر اردو نظم کا کیا ہوگا جس کا اپنا انفرادی وجود ہے اور جو پابند، معرا، آزاد اور نثری ہیئتوں میں کہی جاتی ہے؟ اب اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
اتنی بات تو ہم سب مانتے ہیں کہ نظم پابند،معرا، آزاد اور نثری ہیئتوں میں کہی جاتی ہے جبکہ قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، غزل جو کہ اردو کی بڑی اصناف سخن ہیں، صرف پابند ہیئتوں میں کہی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو مرثیہ مضمون کے لحاظ سے قصیدے سے الگ ہوجاتا ہے۔ا سی طرح مثنوی ہیئت کے اعتبار سے اور ہر شعر میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہ کرنے کے سبب قصیدے سے الگ ہوجاتی ہے۔ جہاں تک غزل کی بات ہے تو غزل میں مداحی امرا یا بادشاہوں کی نہیں ہوتی، اس لیے قصیدے ہی کی ہیئت میں قوافی کی پابندی ہونے کے باوجود غزل قصیدے سے الگ ہوجاتی ہے۔ ہاں، اگر غزل میں محبوب اور اس کے متعلقات کی مداحی ہوتی ہے تو اس لیے کہ یہ صنف بھی قصیدے کے بطن سے آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جدید غزل نے اس مروجہ مضامین غزل کو بھی تقریباً بدل دیا ہے۔ بلکہ Subvertکیا ہے جو کہ بدلتے ہوئے زمانے کا تقاضہ بھی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالبؔ کی قصیدہ گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر یوسف رامپوری )
آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ ’قصیدہ‘ بطور صنف کے جیسا تھا، اُسے ہمیں اسی طرح قبول کرنا ہوگا۔ غزل کی ہیئت میں ’قصیدہ‘ ایک ایسا نظم پارہ ہے جس میں بادشاہوں اور امرا و رؤسا کی مداحی کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی اب تک کی تنقید نے ہجویہ قصائد کو بھی قصائد ہی کے زمرے میں رکھا ہے، سو نہیں چاہتے ہوئے بھی ہمیں اس نوع کے قصائد کو اسی زمرے میں رکھنا ہوگا۔یوں بھی میر کا ’مخمس در ہجو کاما‘ موجود ہے تو کیا یہ مخمس بھی کوئی صنف ہے؟ جیسا کہ سودا کا مخمس در ویرانیِ شاہ جہاں آباد۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جب ہم لکھتے یا پڑھتے ہیں: قصیدہ در ہجو اسپ تو کس قدر مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ سودا نے بہت سی ہجویہ مثنویاں بھی لکھی ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہجو کے لیے کسی ہیئت کی قید نہیں جبکہ قصیدہ کے لیے غزل کی ہیئت مروّج ہے۔ اسی طرح جب ہم ’قصیدۂ شہر آشوب‘ (اب سامنے میرے جو کوئی پیرو جواں ہے) کہتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شہر آشوب کے لیے بھی کوئی ہیئت متعین نہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ اردو اصناف میں سے بہت سی ہیئتوں کا تعین اب بھی باقی ہے۔ لیکن قصیدہ ایک کلاسکی اور فرسودہ صنف ہونے کے باوجود اپنی ہیئت پاچکا ہے یعنی وہی جو غزل کی ہیئت بھی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

