دھوپ میں لت پت تھکا دن، چاکلیٹی شام کی گود میں سر رکھ کر گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔ فضا پر دھندلکا طاری ہورہا تھا اور شہر بھر کے گندے محلے کے سڑتے ہوئے کوڑے کے ڈھیر سے دماغ تک کو گھٹن میں مبتلا کردینے والے تعفن کا بھبھکا شام کی سرد ہوا کے ساتھ دور دور تک پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یوں تو دن بھر اس کوڑے سے تعفن کے جھونکے اٹھتے رہتے تھے لیکن شام ہوتے ہوتے اس کی بدبو میں مزید اضافہ ہوجاتا مگر مُنوا کی زندگی میں ان بدبوؤں کے سونگھتے رہنے اور کچرا بیننے کے سوا اور کچھ نہیں رہ گیا تھا۔ شام ہوتے ہوتے اس کا بوسیدہ بورا کچرے سے بھرجاتا۔ گندی بوتلیں، استعمال شدہ پولوتھین، ٹین کے ڈبے، شیشے کے ٹکڑے اور مختلف بظاہر بے کار چیزوں سے اس کا بورا بھاری نظر آنے لگتا۔ تب وہ سیدھا کباڑی کی دُکان پر پہنچتا۔ اُسے فروخت کرتا اور پیسے لے کر گھر کی طرف چل پڑتا۔ ماں اس کے انتظار میں بیٹھی رہتی کہ کب وہ پیسہ لے کر آئے کہ چولھا گرم ہو۔ منوا بورا کو ایک طرف ڈال کر بنئیے کی دُکان پر پہنچ جاتا، آدھا کیلو آٹا، سو گرام دال، ۵۰ گرام تیل، نمک، مرچ اور ہلدی لاکر ماں کو پکڑا دیتا۔ ٹی۔بی زدہ ماں دن بھر چن کر لائی ہوئی لکڑیوں سے چولھا گرم کرتی اور توا اس پر ڈال دیتی۔ منوا باہر کے ہینڈ پمپ پر ہاتھ منہ دھونے کے لیے چلا جاتا۔ واپس آکر اسی بوسیدہ بورے کو بچھا کر بیٹھ جاتا جس میں سامان بین کرکے رکھتا تھا—‘
مُنوا کا باپ رکشتہ چلاتا تھا اور اپنی کمائی کا آدھا حصہ شراب میں صرف کرتا تھا۔ آدھے پیسے سے پھُلوا کی دوا آتی یا جھونپڑی کا کرایہ ادا ہوتا تھا۔ لالٹین کی مدھم لرزتی ہوئی روشنی میں پھُلوا آدھا کچا آدھا پکا کھانا منوا کو پروس دیتی۔ وہ جلدی جلدی کھانے کو حلق سے نیچے اُتارتا اور اسی بورے پر اپنا تھکا ہوا جسم پھیلا دیتا۔ باپ آدھی رات کو شراب کے نشے میں دُھت، کبھی کبھی سڑی گلی مچھلیاں بازار سے لے کر آتا، انہیں تلنے کے لیے کہتا۔ پھلوا بے دلی سے جیسے تیسے تل کر اسے دیتی۔ وہ کھاتا اور ڈھیر ہوجاتا کبھی دیر رات تک گانا گاتا رہتا، کبھی شور شرابہ کرتا—‘
رات رفتہ رفتہ خاموشیوں کی گود میں آنکھیں بند کرلیتی۔ منوا کی زندگی میں دکھ، دریا کی طرح رواں دواں تھا اور وہ ڈوبتی کشتی کی مانند ہچکولے لیتا رہتا تھا۔ پھر بھی وہ رات بھر خوبصورت اُڑن طشتری میں بیٹھ کر خوابوں کی دنیا میں سیر کو نکل جاتا… سنہرے خواب اس کے اردگرد منڈلاتے رہتے… وہ خوابوں میں کبھی ہنستا، کبھی مسکراتا اور کبھی کبھی رو بھی پڑتا—‘
منوا کے شب و روز میں کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جسے کوئی خوبصورت نام دیا جاسکتا۔ اس کا روزانہ کا معمول تھا کہ صبح سویرے اٹھتا، منہ ہاتھ دھوکر یا بغیر منہ دھوئے اپنا بوسیدہ بورا لے کر سامان بیننے کے لیے نکل جاتا۔ راستے میں اُسے کبھی کبھی کوئی ہینڈبل، پرانا اخبار یا اس کا ٹکرا ملتا وہ اسے اٹھا کر کسی جگہ بیٹھ جاتا۔ اُس میں چھپی تصویروں کو غور سے دیکھتا اور اس میں چھپے حروف کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتا— کبھی کبھی وہ سفید کاغذ اٹھا کر اس پر ایک دائرہ بناتا۔ دائرے کے درمیان کچھ لکھتا مگر تحریر پڑھی نہیں جاسکتی تھی۔ شاید اس کی انگلیوں کی حرکت کوئی نشان بناتی— پھر اس کاغذ کو موڑ کر اپنی جیب میںڈال لیتا۔ ٹوٹے قلم کو جیب میں کھونستا اور اپنے کام میں لگ جاتا—‘
جب تک وہ کچرے کے ڈھیر پر رہتا اور سامان بینتا، اُس کچرے کے ڈھیر سے اٹھنے والا تعفن اس کے نتھنوں سے ہوتا ہوا اس کے احساس میں پیوست ہوتا رہتا۔ وہ بدبو اس کے دماغ میں بالکل بس گئی تھی۔ وہ بدبو کا اس قدر عادی ہوگیا تھا کہ ایک کچرے کے ڈھیر سے ہٹ کر دوسرے کچرے کے ڈھیر تک پہنچنے کے درمیان جو لمحے آتے وہ لمحے اس کے لیے بے کیف اور سیٹھے ہوتے۔ اس کی کوشش یہی ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ دیر تک وہ کچرے کے پاس ہی رہے تاکہ تعفن کا وجود اس کی تنہائی کا ساتھی بنا رہے اور وہ زیادہ سے زیادہ سامان بھی بین سکے—‘
منوا اب سامان کی تلاش میں شہر کے ایک نوآباد علاقے میں بھی جانے لگا تھا۔ اُدھر ابھی دوسرے لڑکے اپنے تھیلوں کے ساتھ نہیں پہنچے تھے۔ یہ علاقہ عام شہری حدود سے ذرا الگ تھلگ تھا اور اس کالونی سے بس تھوڑی ہی دور پر کچرے کا ایک بڑا سا ٹیلہ کھڑا ہوگیا تھا جس مقام پر کچرا ڈالا جاتا تھا اس کے پاس ہی ایک بڑا سا نالا بھی بہتا تھا۔ نالے کی دوسری طرف پندرہ بیس قدم کے فاصلے پر ایک مکان تھا۔ یہ نیا نیا تعمیر ہوا تھا۔ اس میں سمیر ملکانی اور مسز ملکانی رہتے تھے۔ سمیر ملکانی کسی کمپنی میں بڑے عہدے پر فائز تھے، کمپنی نے ایک کار بھی دے رکھی تھی۔ مسز ملکانی کی کوئی خاص مشغولیت نہیں تھی۔ اس لیے ان کا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزرتا۔ آس پاس کے دوسرے مکان ابھی زیر تعمیر تھے، اس لیے پاس پڑوس میں ملنے جلنے والے بھی نہیں تھے—‘
مسزملکانی روز منوا کو سامان بینتے دیکھتی۔ اُسے بہت افسوس ہوتا کہ غربت نے اس بچے کو کہاں لاکر پھینکا ہے۔ اس کی عمر ابھی پڑھنے لکھنے کی تھی لیکن قسمت نے ہاتھوں میں بورا پکڑا دیا ہے۔ منوا پر مسز ملکانی کو بہت ترس آتا۔ ملکانی کی شادی کو کئی سال ہوگئے تھے مگر ابھی تک اس کی گود خالی تھی شاید اس لیے بھی اس کی نگاہیں منوا کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی رہتیں۔
منوا کو ذرا بھی احساس نہیں ہوسکا تھا کہ کسی کی نظریں اس کا طواف کرتی رہتی ہیں۔ ایک دن اچانک اس کی نظر اس گھر کی طرف اٹھ گئی تو اس نے محسوس کیا کہ ایک عورت مسلسل اُسے ہی گھورے جارہی ہے۔ پھر اس عورت نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے بلایا۔ پہلے تو منوا ادھر اُدھر دیکھنے لگا کہ شاید کسی اور کو بلا رہی ہے لیکن جب مسز ملکانی نے اس کی طرف اشارہ کیا تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف چل پڑا۔ سامان سے بھرا بورا باہر ہی چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھا۔ مسز ملکانی پہلے ہی دروازہ کھول کر کھڑی تھیں۔
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’مُنوا۔‘‘
’’کہاں رہتے ہو؟‘‘
’’پشتہ پر— جمنا کے پاس جو ہے۔‘‘
’’کھانا کھایا ہے؟‘‘
منوا نے ’’نا‘‘ میں سر ہلایا۔
’’یہیں ٹھہرو، ابھی لے کر آتی ہوں۔‘‘
مسز ملکانی اندر گئیں اور ایک اخبار میں چند روٹیاں اور سبزی لے کر آگئیں۔ منوا کھانا لے کر دور ہٹ گیا۔ مسز ملکانی اُسے دیکھتی رہیں۔ منوا نے بھی مڑ کر ایک بار مسز ملکانی کو غور سے دیکھا۔ پھر ایک جگہ بیٹھ کر روٹی کھانے لگا—‘
یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا۔ وقتاً فوقتاً رحم دل عورتیں اس کی غریبی پر ترس کھاکر اُسے کھانا کھلا دیتی تھیں لیکن یہاں یہ معمول میں داخل ہوتا چلا گیا۔ مسز ملکانی روزانہ اُسے بلا کر کھانا دینے لگیں۔ کبھی کبھی وہ منوا کے پہنچنے سے پہلے ہی کھڑکی کھولے کھڑی رہتیں اور جب منوا آتا تو اُسے کھانا دے کر جیسے انہیں اطمینان ہوجاتا—‘
رفتہ رفتہ اس معمول میں ایک تبدیلی یہ بھی آئی کہ اب اخبار میں کھانا دینے کے بجائے پلیٹ میں دینے لگی تھیں اور اُسے وہیں اپنی آنکھوں کے سامنے کھانے کو کہتیں۔ پھر پانی کی ایک بوتل بھی لاکر دیتیں۔ اب کھانا بھی بہتر اور تازہ ہوتا جو گھر میں پکتا وہ منوا کو بھی مل جاتا یا یہ کہئے کہ منوا کے حصے کا بھی کھانا پکنے لگا تھا۔
منوا کی زندگی میں ایک جگنو چمکا تھا۔ سالہا سال سے اس کی زندگی جو ایک ڈگر پر رینگ رہی تھی۔ اُس میں تھوڑی تروتازگی آگئی تھی— چند حسین لمحے اس میں شامل ہوگئے تھے… اندھیروں کی یورش سے نبرد آزما رہنے والا منوا اب خود کو اجالے کا ایک حصہ تصور کرنے لگا تھا مگر… مگر وہ اس روشنی کو خود کو کھپا نہیں پارہا تھا کہ وہ جس زندگی کا عادی تھا وہ اُسی میں جینا چاہتا تھا۔ نرم و نازک اور لطیف جذبوں کو اُس نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ اس نے باپ کی جھڑکیاں سنی تھیں۔ اس کی لات کھائی تھی۔ ماں کی گالیاں بھی اُسے برداشت کرنی پڑتی تھیں۔ محبت کے گیت سے اس کے کان بالکل ناآشنا تھے۔ اتنی معصوم بھولی بھالی صورت اس نے اپنی ماں کی بھی کبھی نہیں دیکھی تھی—‘
منوا اکثر سوچتا—اس عورت سے کیا رشتہ ہے میرا—‘
یہ عورت مجھ پر اس قدر مہربان کیوں ہے؟— اس دنیا میں مجھ جیسے چہرے تو بہت سے ہوں گے لیکن مجھ جیسوں کے لیے تو سب بیگانے ہیں۔ سب انجانے ہیں۔ چہروں کے اس جھرمٹ میں اس عورت کا چہرہ منوا کے ذہن کے آئینہ خانے میں رفتہ رفتہ اپنا عکس بناتا جارہا تھا— خوابوں کے سانچوں میں ڈھل کر کئی رنگ کئی روپ بدل کر اسے گھیرے میں لیے جارہا تھا— وہ حیران تھا…‘
کیا نام ہے اس رشتے کا— بس بے نام سا ایک رشتہ— وہ بے نام سا رشتہ اور اس عورت کا چہرہ یاد آتے ہی اس کے اندر تازگی آجاتی— اور منوا سرشاری کے عالم میں اس عورت کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کے سحر میں کھوجاتا— وہ عورت کتنی شفیق ہے— اُسے روز کھانا کھلاتی ہے— شفقت سے پیش آتی ہے— اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھتی ہے— جب تک وہ کھانا ختم نہیں کرلیتا اُسے نہارتی رہتی ہے اور جب کھانے سے فارغ ہوجاتا ہے تو پھر اطمینان کی سانس لیتی ہے—‘
’’اور کچھ چاہیے؟‘‘— مسز ملکانی محبت بھری نظروں سے سوال کرتیں۔ منوا نفی میں سر ہلا دیتا۔ پھر بھی مسز ملکانی اس کی ہتھیلی پر دس کا ایک نوٹ رکھ دیتیں—
’’راستے میں تمہیں جو چیز پسند آئے خرید کر کھالینا‘‘—
منوا کبھی ہتھیلی میں پڑے نوٹ کو دیکھتا اور کبھی مسز ملکانی کو— پھر وہ اٹھتا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا گھر کی جانب بڑھتا۔ جب تک وہ مسز ملکانی کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتا۔ وہ اسے دیکھتی رہتیں۔
زندگی صبح سے شام تک دوڑاتی ہے… پھر رات آتی ہے… اور راتوں کو خوابوں کے سمندر میں غوطہ کھلاتی ہے— منوا کو ایسا لگتا جیسے وہ طوفان کی زد میں ہے اور اس کا وجود اس طوفان کے حصار میں پھنس گیا ہے۔ وہ ہاتھ پیر مار کر طوفان سے بچنا چاہتا ہے لیکن لاحاصل۔ اب اس کے اختیار میں کچھ نہیں ہے— اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے—
اب وہ سنہرے خوابوں کی جگہ مسز ملکانی کو دیکھنے لگا تھا۔ جو دھیرے دھیرے ممتا کے حصار میں اُسے قید کرتی جارہی تھیں اور وہ ان کی محبت کے سحر میں ڈوبتا جارہا تھا۔ وہ سوچتا— مسز ملکانی کے ساتھ گزارے ہوئے پل بس خواب ہی تو ہیں… فقط چند دنوں کا تماشہ جسے ایک دن ختم ہوجانا ہے—‘
وہ محسوس کرتا کہ مسز ملکانی کو دیکھ کر وہ کمزور پڑ جاتا ہے، اس کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے… کیا اسے لذیذ کھانا کھینچ کر لے جاتا ہے یا دس روپیہ یا پھر کوئی اور شے— حالانکہ اُسے یہ سب بالکل اچھا نہیںلگتا۔ وہ ہر روز یہ سوچ کر گھر سے نکلتا کہ آج مسز ملکانی سے وہ انکار کردے گا لیکن اس پر نظر پڑتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتا۔ وقت کی بوند میں جذب ہوتی آواز اس کے پیروں کی زنجیر بن جاتی۔ پھر اس وقت اس کا دل دھک دھک کرنے لگتا جیسے وہ کوئی جادوگرنی ہو جس نے اپنے جادو سے منوا کو اپنے بس میں کرلیا ہو اور وہ اس کی طرف کھنچتا چلا جارہا ہو…
منوا کے معمول میں جو تبدیلی آئی تھی اُسے ذرا بھی نہ سہاتا… وہ اپنی اصل حالت میں ہی جینا چاہتا تھا مگر نہ جانے کیا تھا کہ وہ بے بس ہوکر مسز ملکانی کے ایک اشارے پر اس کے پاس پہنچ جاتا— لیکن یہ قربت چند ساعتوں کی ہوتی۔ منوا کے جانے کے بعد مسز ملکانی کو پھر سے تنہائی کا ناگ ڈسنے لگتا۔ ہر طرف ایک سکوت طاری ہوجاتا۔ خاموشیاں سسکیاں بھرنے لگتیں اور ایسے گزرتے لمحوں کی بے اماں وسعتوں میں وہ اپنے وجود کو بے یار و مددگار محسوس کرتی… وقت تو بہتا ہوا دھارا ہے… بہتا جائے گا… وقت یوں ہی لمحہ، سال و صدی میں تبدیل ہورہا ہے لیکن وقت کے بہتے ہوئے تیز دھارے میں کہیں وہ گم ہوگئی تو؟… اور تب منوا اس کے حواس پر پوری طرح چھا جاتا۔ کاش منوا میرے ساتھ رہ جاتا تو اسے خوب پیار کرتی… اُسے اچھے اچھے کپڑے پہناتی اور کسی اچھے اسکول میں داخلہ کروا دیتی…
آخر ایک دن مسز ملکانی نے ایک فیصلہ کرہی لیا۔ اس دن اس نے منوا کو گھر کے اندر بلایا۔ اُسے غسل خانہ میں لے گئی اور شاور کھول کر نہانے کے لیے کہہ کر باہر چلی آئی۔ منوا اچھی طرح نہا کر جب باہر نکلا تو اس کا رنگ نکھر آیا تھا۔ مسز ملکانی اسے اپنے بیڈ روم میں لے گئی اور نیا سلا ہوا کپڑا اُسے پہننے کو دیا۔ منوا کو عجیب سا لگ رہا تھا۔ یہ عورت کیا کررہی ہے— کپڑے پہنانے کے بعد اس کے بال سنوارتی ہے اور ڈھیر سارا پرفیوم اس کے کپڑے پر چھڑک دیتی ہے۔ چاروں طرف تیز خوشبو چکرانے لگتی ہے۔ منوا کو اس خوشبو میں عجیب سی گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں کا وہ قطعی عادی نہیںتھا۔ وہ اس ماحول اور ان سب چیزوں کی لذت سے بالکل ناآشنا تھا۔ اس کی ناک میں تو کچڑے کی سڑانڈ بسی ہوئی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں ایک حبس کا عالم طاری ہونے لگتا ہے، ایک ہیجانی کیفیت سے وہ دوچار ہونے لگتا ہے۔ خود کو معمول پر لانے کے لیے اسی سڑانڈ کی طرف بھاگنا چاہتا تھا لیکن مسز ملکانی اس کا راستہ روک کر اسے ڈائننگ ٹیبل پر بٹھا دیتی ہیں۔ آج ملکانی نے اس کے لیے بہت ہی لذیذ کھانے خاص طور پر تیار کئے تھے۔ منوا ایک نظر پکوان پر ڈالتا تو ایک نظر مسز ملکانی پر اور کبھی خود کو دیکھنے لگتا۔ قاب اور پیالوں سے، خود اس کے کپڑوں سے، ملکانی کے لباس سے یہاں تک کہ آس پاس کی فضا سے بس خوشبو ہی خوشبو چاروں طرف پھیل رہی تھی جس نے منوا کو پسینہ پسینہ کردیا تھا۔ اس کے پیٹ میں سانس نہیں سما رہی تھی اور بالآخر مسز ملکانی نے جیسے ہی اسے خود اپنے ہاتھوں سے کھلانا چاہا۔ وہ چکرا کر کرسی سے نیچے گرگیا اور بے ہوش ہوگیا—!

