گڑیا اس چہار دیواری کے ایک طرف کونے میں بیٹھی اپنی کتابوں کو نہار رہی تھی.کھڑکی کے باہر سناٹا پسرا تھا. دبلے کتے اور پتلے بھکاری بھی نظر نہیں آرہے تھے.
چند پولیس والے تھے جو ٹھہاکوں میں مشغول تھے، کبھی کبھی توند سے نیچے جا رہے کمر بند کو توند پر لاتے اور جب بھی کوئی مجبور، پریشان آدمی ان کو دکھ جاتا یہ خوب مستی کرتے کبھی اس کو مرغا بنواتے اور کبھی ڈڈو چال چلواتے، کسی کسی کو تو ایسی لٹھ مارتے کہ اس کا جسم باہر سے کالا ہو جاتا اوراس کی روح بھیتر سے مر جاتی.
گڑیا کی چھوٹی بہن، اس کی ماں اس کا باپ اور اس کابڑا بھائ ، یہی گڑیا کی دنیا تھی. یہ سب کے سب ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے. پرانی دہلی کی یہ جھگی ایک دوسرے کے کام آنے کے لیے مشہور تھی. لیکن جھگی میں رہنے والے سارے لوگ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے. ادھر کچھ دنوں سے پولس والوں نے معمول بنا رکھا تھا ہر رات کو جھگی کے چاروں طرف منڈراتے رہتے تھے اور جو کوئی بھی دودھ یا سبزی لانے کے لیے نکلتا تو اس کو بری طرح مارتےتھے.
ان بچاروں کے خواب بھی کیا، سکون کی زندگی، دو وقت کی روٹی، خوشحال زندگی اور بس.
سب نے طے کیا کہ دیر رات کو پیدل ہی گاوں کی طرف نکل جائینگے.
پیسے تو تھے نہیں. پنکھے، بستر، کپڑے برتن، سب بیچ کر ایک سائکل خرید لی تاکہ ضرورت پڑنے پر بچوں کو اس پر بٹھا کر چلا جا سکے.
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ دہلی سے ایسے جانا پڑے گا. کیسے کیسے خواب آنکھوں میں سجایے، کیا کیا سوچ کر دلی آے تھی. اب سارے خواب سائیکل پر لاد کر، رومال سے آنسو پوچھتے باپ دادا کے گاوں کی طرف نکل پڑے.
رات کے اندھیرے میں چور کی طرح پولس سے آنکھ بچاتے ہوے دھیرے دھیرے نکلے.
وقت کا پہیا بھی کیسے کیسے گھومتا ہے. ایک زمانہ تھا جب پولس سے صرف چور ڈرتے تھے. اب صرف شریف لوگ ڈرتے ہیں. اچانک پولس کی گاڑی سائرن دیتے ہوئے آئ. سب کے سب جھگی کی ایک بند دکان کے پیچھے دبک گئے.
چار پولیس–اہلکار گاڑی سے نیچے اترے، ایک لڑکا ہاتھ میں ایک تھیلی لیے جھومتا گانا گاتا چلا آ رہا تھا. پولس والوں نے کچھ کانا پھوسی کی. گڑیا کی چھوٹی بہن کو چھینک آ گئ. ایک پولس والے نے دکان کی طرف پلٹ کر دیکھا. باپ نے گڑیا کے منہ پر جلدی سے ہاتھ رکھ دیا اور سب کے سب جلدی سے تھوڑا اور دبک گئے. بری طرح دہشت میں تھے. اتنے میں وہ لڑکا گانا گاتا ہوا پولس کے قریب آیا. زوردار آواز میں ایک پولس والے نے اس کا نام پوچھا.
"رنجیت” اس نے بتایا.
"چلو ٹھیک ہے. ہندو ہے. مسلمان ہوتا تو پتہ نہیں اس کا کیا حال کرتے.”
لیکن کوئی فائدہ نہیں. ایک پولس والا ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ دوسرے پولس والے نے پیچھے ایسی لاٹھی ماری کہ وہ اوندھے منہہ زمین پر گر پڑا. اس کے بعد چاروں پولس والوں نے اس پر لاٹھیاں برسائیں. جب بیہوش ہو گیا تو گاڑی میں لاد کر لے گئے.
” چلو جان بچی” گڑیا کی ماں نے کہا.
سڑک وہی تھی. سنسان. مگر بہت ہی خوفناک. رنجیت کے ہاتھ سے چھوٹا تھیلا زمین پر پڑا تھا. جس میں دودھ کی تھیلیاں تھیں. دو کتے. ان کو چیر کردودھ پینے کی کوشش کر رہے تھے. پاس میں رنجیت کے ایک پاوں کی کی ٹوٹی چپل پڑی تھی.
"بات ہندو یا مسلمان ہونے کی نہیں ہے، اگر یہی کسی غریب کا بچہ نہ ہوتا. رنجیت اگر امیر آدمی کا لڑکا ہوتا تو کیا پولس والے اتنی ہمت کر پاتے؟” گڑیا کے ان معصوم سوالوں کا کسی کے پاس کوئ جواب نہ تھا.
یہی غریبی کا کلنک مٹانے تو ہم دلی آیے تھے.
اب کیا چلو واپس گاوں.
جی ہاں وہی گاوں جہاں غریبی اور بھوکمری کا دیو منہ پھارے اس پورے خاندان کا انتظار کر رہا تھا. اور کچھ ہی دنوں میں گڑیا کے پورے خاندان کو اس کے خوابوں سمیت نگلنے ہی والا تھا. لیکن گاؤں کے آس دیو تک پہنچنے کا سفر بھی آسان نہ تھا. راستےمیں الف لیلی کی داستان کے بہت سے چھوٹے چھوٹے دیو کے کردار بھی تھے جن کا مقابلہ اس خاندان کو کرنا تھا. اس الف لیلوی سفر پر نکل پڑے ان مسافروں کو بھی معلوم تھا کہ یہ سفر آسان نہیں. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گاوں والا دیو منہ کھولے بیٹھا رہ جائے اور راستے ہی میں موت یا بھوک کا دیو ان سب کو اس جادوئ داستان کا بھولا بسرا کردار بنا دے.
دھیرے دھیرے سائکل پر ضروری سامان لیے پولیس سے بچتے بچاتے، بھوکے پیاسے آگے بڑھنے لگے، کبھی تھک کر رک جاتے، پھر چلتے. راستے میں بہت سے لوگ اسی طرح سفر میں تھے. ازل سے سفر دنیا کا مقدر ہے. آدم سے لے کر عیسٰی تک، سب سفر ہی میں تو رہے ہیں. سفر نبیوں والا عمل ٹھہرا، سفر کا مقصد کیا ہے؟ آخر اس سفر کا بھی کچھ تو مقصد ہوگا نہ؟ مقصد؟ زندگی سفر ہی تو ہے. مقصد؟
نبیوں نے تو ہجرت بھی کی تھی. ہجرت سے یاد آیا. زمانے سے لوگ ہجرت کر کہ شہر کی طرف جاتے رہے ہیں. زندگی کو بہتر بنانے کا خواب شاید ان کے پیروں کے چھالوں کا مرہم رہا ہو لیکن آج. کوئ ترقی کا خواب نہیں. کاش زندگی کا پہیا واپس جا کر وہیں ٹھہر جائے جہاں اس خواب کے راقم نے کہانی شروع کی تھی.
صبح ہو چکی تھی. دہلی کی سرحد پیچھے چھوٹ چکی تھی.
گڑیا کے پیروں کے چھالے اور پیاس کی شدت نے ایک دوسرے سے بازی لگا لی، کون پہلے پھوٹے پتہ نہیں. آخرکار پیر کے چھالے جیت گئے اور گڑیا زمین پر بیٹھ گئ. اس کی چھوٹی بہن اب تھک چکی تھی.
تھوڑی دیر رک کر پھر چل پڑے. دھوپ اب تیز ہونے لگی تھی. مئی کا مہینہ تھا. دس بجتے بجتے پیر جلنے لگے. گڑیا کے پاپا نے سب کو ایک طرف چھاوں میں بیٹھنے کا اشارہ کیا.
ساڑی کا ایک ٹکڑا بچھایا گیا. بچوں کو بٹھایا گیا. سب رک گئے. گڑیا سو گئی. چھوٹی بچی کو کندھے پر لیے وہ پانی اور کھانے کی تلاش میں سڑک کی دوسری طرف آبادی کی جانب آگے بڑھا. ایک پولس والے کی نظر اس پر پڑ گئ. پھر کیا تھا دوڑا دیا. بچی کندھے پر ہونے کی وجہ سے تیز نہ دوڑسکا. ایک لاٹھی گھٹنے پر پڑی اور دھڑام. دوسرا پولس والا ذرہ رحم دل تھا. اب پولس میں بھرتی ہونے کے لیے انسانیت سے دستبردار ہو جانا کوئی پہلی شرط تو ہے نہیں.
اس دوسرے پولس والے نے اس کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں دیں اور سڑک کے اس پار جانے میں مدد بھی کی.
جب پولس نے لاٹھی چلائ، اور جب وہ گرا، تب اس چھوٹی بچی کے سر پر چوٹ لگی، وہ چیخیں مار مار کر اب چپ ہو گئ تھی.
گڑیا نے جب باپو کو کھانا اور پانی لاتے دیکھا، تو اس کی نیند بھاگ گئ. سب بہت خوش ہوے. گڑیا کی چھوٹی بہن سورہی تھی. لیکن اب بھی سسکیاں لے رہی تھی. تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک ٹرک والے نے گاڑی روکی اور ان کو آگے تک چھوڑ دینے کو کہا. کھانا سامنےہوتے ہوئے بھی کسی نے نہیں کھایا. بغیر کھائے ہوے جلدی جلدی ٹرک پر سوار ہوئے.
ٹرک کا ڈرائیور سردار تھا. کڑی کڑی مونچھیں بڑی بڑی آنکھیں اور کرخت چہرا. لیکن جب وہ بولا تو اس دکھ کی گھڑی میں بھی سب کو ہنسی آ گئ. سردار جی بھی ہنسی کی وجہ سمجھ کر مسکرا دیے. "میری آواز بچپن سے ایسی ہی ہے"
ان کی آواز بچوں کی طرح. ان کے چہرے اور ہاو بھاو کے بر عکس. گڑیا کی چھوٹی بہن کے سر پر بڑے پیار سے ہاتھ رکھا اور چونک کر گاڑی کو بریک لگاتے ہوے بولے. "اویے بچی کو تو تیز بخار ہے؟
کسی اسپتال میں دکھانا ہوگا.”
“گڑیا چیخی، وہاں کورن ٹایٹ کر دینگے.”
"مطلب کورنٹا ئن. یعنی وہ وہاں پندرہ دن تک قید کر دینگے اور بچی سے اس کے ماں باپ کو نہیں ملنے دینگے.”
اسپتال سے یہ پورا خاندان ایسا ڈرتا ہے جیسے کوئ مولوی کسی پولس والے سے.
گڑیا نے تھیلے میں کچھ تلاشنا شروع کیا. ایک پھٹی ہوئ کتاب نکالی اور اس میں کچھ پڑھ کر اپنی ماں کو بتایا.” جب تیز بخار ہو تو سوتی کپڑے کو پانی میں بھگو کر پیشانی پر رکھیں اور پورا بدن پونچھیں. بخار دھیرے دھیرے کم ہو جائے گا.”
یہ پھٹی ہوئ کتاب اس خاندان کے لیے آب حیات بن گیا. جب بخار کم ہوا تو گڑیا فاتحانہ انداز میں اس پھٹی ہوئ کتاب کو ایسے چوم رہی تھی جیسے تعلیم کی اہمیت و افادیت کا علم صرف اسے ہی ہے اور وہ دنیا کو یہ بتا دینا چاہتی تھی کہ تعلیم تمام پریشانیوں کے ازالے کا واحد ذریعہ ہے. چاہے اس کا معیار کچھ بھی ہو. آج اس کو اس پھٹی ہوئ کتاب نے راستہ دکھایا تھا.
“بس اور آگے سے میں دوسری طرف جاو گا. تم لوگ یہیں اتر جاو.” کہہ کر سردار جی نے آنسو پونچھے اور ہوے بچی کو پیار کیا. اور ایک پانچ سوروپیے کا نوٹ نکال کر بچی کے ہاتھ میں تھما دیا.” واہے گرو نے چاہا تو تسی جلدی گھر پہنچ جاوگے. "
اب باقی کی دوری پھر پیدل ہی طے کرنی تھی.
چلتے جاتے اور چلتے جاتے.
آخر وہ کس لیے چل رہے تھے؟ ترقی کے لیے تو ان کا یہ سفر نہیں تھا، کھانے پینے کے لیے بھی نہیں. کیا ان کو اپنے گاوں سے محبت تھی، ایسا بھی نہیں کہ ان کے سفر کی یہی وجہ تھی؟ اگر وہ گاوں پہنچ بھی گئے تو ان کو کیا حاصل ہو جائے گا؟
ان کے اس سفر کی کوئ منزل نہیں تھی. زندگی بے معنی تھی. سفر بے معنی تھا. راستے بے معنی تھے. بچوں کی آنکھوں سے خواب نوچ لیے گئے تھے، اور جن گدھوں نے ان کی آنکھوں کو سنسان کر دیا تھا وہ بھی کہیں دور بیٹھ کر ان کی موت کا انتظار کر رہے تھے. گدھ صرف انتظار نہیں کیا کرتے. ان کا انتظار لایعنی نہیں ہوتا. وہ وہیں انتظار کرتے ہیں جہاں کسے کے مردہ ہو جانے کا امکان قوی ہو. جہاں زندگی ہوتی ہے وہاں گدھ نہیں ہوتے. اب آپ کہینگے کہ گدھ تو عنقا ہو گئے. ارے نہیں، یہ بھی آپ کا وہم ہے. گدھ اس دنیا میں تب تک موجود رہیںگے جب تک زندگی کے موت میں تبدیل ہونے کی امید رہےگی.
فی الحال تو بس ایک بے مقصد سفر اور ایک لمبا راستہ جو کہیں نہیں جاتا…
کئ دن، کئی راتیں، چلتے جانا چلتے جانا… ایک ایسا سفر جس کی منزل تک پہنچنے کی کسی کو کوئ خوشی نہیں تھی. سب کا چہرا اداس تھا.
"سب چھپ جاو، آگے پولس ہے! پولس!”
سب ڈر کر جھاڑی میں چھپ گئے. آخر انہیں کس بات کا ڈر تھا. ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا. لیکن ہاں جان کا ڈر تھا. موت کا ڈر تھا.
پولس والا اچانک سامنے آ گیا. گڑیا سہم کر ماں کے کلیجے سے چپک گئی
پولس والے نے تھیلے سے کھانا نکالا اور بچوں کو بلا کر کھانا دیتے ہوے بولا. "بیٹا ہر پولیس والا ظالم یا جلاد نہیں ہوتا. پولیس والے بھی کسی کے بچے، کسی کے باپ، بھائ یا شوہر ہوتے ہیں. ہمارے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہوتا ہے. لیکن ہاں ہمیں پتہ ہے سب پولیس والے اچھے نہیں ہوتے. خاکی وردی میں کبھی کبھی بھیڑیے بھی ہوتے ہیں.”
اتنا کہہ کر وہ پولیس والا وہاں سے چلا گیا.
اب گاوں یہاں سے صرف اکیس کیلو میٹر دور ہے. یہ سن کر سب کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکان پھیل گئ اس لیے نہیں کہ ان کو منزل نصیب ہونے والا تھا. بلکہ اس لیے کہ اب ان کو چلنا نہیں پڑے گا.
بھوک سے نجات مل چکی تھی، پولیس کا اچھا چہرا بھی دیکھنے کو مل گیا تھا. حالانکہ گزشتہ تجربات کی وجہ سے یقین تو نہیں ہو رہا تھا.
"مارو، مارو یہ دلی سے آئے ہیں. مارو… ہاں مارو… دیکھو کہیں ہمارے گاوں میں کرونا نہ پھیلا دے…مارو"
قریب چالیس پچاس لوگ ہاتھ میں لاٹھی ڈنڈا لیے تیز تیز ان کی طرف بڑھ رہے تھے…
گڑیا نے بستہ میں ہاتھ ڈال کر پھٹی ہوئ کتاب نکالی… مگر کوئ فائدہ نہیں. اس میں ہجوم سے بچنے کا کوئ حل نہیں لکھا تھا…
اچانک بھیڑ بہت قریب آ گئی اور لاٹھی ڈنڈے برسانے لگی. بس دو تین منٹ میں سب خاموش…
سب جا چکے تھے…
گڑیا اور اس کے باپو، بھائ بہن ماں…سب زمین پر پڑے تھے…
اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ زندہ تھے یا نہیں…
بھلے ہی آپ قارئین کو فرق نہ پڑتا ہو لیکن دور پیڑ پر بیٹھ کران سب واقعات پر نظر گڑا کر رکھنے والے سیاسی گدھ کو فرق ضرور پڑتا تھا…گدھ ابھی عنقا نہیں ہوے اب بھی موجود ہیں. بس سامنے نہیں آتے کیمرے کے پیچھے چھپ کر کیمرہ گھماتے ہیں اور آپ وہی دیکھتے ہیں جو گدھ کی آنکھ دیکھتی ہے.
شاید زندہ ہیں… شاید مر چکے ہیں… پتہ کرو… زندہ ہیں یا مر چکے…
"فرق ہی کیا پڑتا ہے… اگر مر چکے تو مر ہی چکے اور اگر زندہ ہیں تب بھی مر چکے…
مرنا تو ان کو تھا ہی،
گھر پہنچ جاتے تو بھی مرتے، دلی میں رہتے تب بھی مرتے… کیونکہ گدھوں کو زندہ لوگوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی…
کبھی سنا ہے کوئ نیتا کسی زندہ انسان کے خاندان والوں سے ملا ہو؟
اب یہ کیا بے تکی سی بات ہوئ… کبھی گدھ ,کبھی نیتا.مطلب کچھ بھی…
کہانی کار ہو تو جو جی میں آےگا لکھ دوگے.
یہ تو بتایا ہی نہیں کہ گڑیا کی پھٹی ہوئ کتاب کہاں گئ
نوٹ: اپنی تخلیقات و تنقیدات ہمیں درج ذیل ای میل آئی ڈی پر ارسال کریں:
adbimiras@gmail.com

