’آخری سواریاں‘ سید محمداشرف کا تازہ کار ناول ہے جو 2016 میں شائع ہوا ہے۔ یہ ناول ہندوستانی مشترکہ تہذیب کے زوال کے بیان سے عبارت ہے۔ہندوستان میں مختلف مذاہب کے معتقدین کے مابین آپسی یگانگت کومشترکہ کلچر یا گنگاجمنی تہذیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ناول نگار نے اس تہذیبی امتزاج کو ایک نئے ڈسکورس میں تبدیل کرکے اسے اردو تہذیب سے تعبیر کیا ہے۔
اردو تہذیب کی اساس ہند اسلامی ایرانی کلچر ہے۔ اس میں ہر ہر مذہب اورہر ہر ثقافت کے تمام مظاہر کو ان کی اپنی انفرادیت اورمعنویت کے ساتھ قبول کیا جاتاہے۔ اس کی فکری اساس میں خشت اول کی حیثیت سے وہ تصور عشق مخفی ہے جو تمام کائنات کو ایک کنبہ خیال کرتا ہے۔
آخری سواریاں تہذیبی زوال کا استعاراتی اظہار ہے۔ تکثیری تہذیب کی تشکیل اور اس کے انحطاط کو موثرانداز میں پیش کرنے کے لیے تاریخی تناظرات کو ناول کےCorpus میں شامل کیا گیا ہے۔ تاریخی واقعات کا بیان ان زیر آب ارتعاشات کو احاطہ تحریر میں لانے کی غرض سے کیا گیا ہے جو متعدد رنگوں پرمشتمل اس ثقافتی گلدستے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ناول تاریخ کی ایک نئی تعبیر بھی فراہم کرتا ہے۔ ناول نگار نے مشترکہ تہذیب کے Genesisکی جستجو کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کا سرچشمہ مغلیہ سلطنت ہے۔ناول نگار نے ہندوستان میں قائم ہونے والی متعدد سلطنتوں کے تذکرے کے بعد مغلیہ سلطنت کے امتیازات و خصائص کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’مغل سلطنت سب سے زیادہ موثر سلطنت تھی۔ وہ جیسے اپنے آپ بولی، گنگاجمنی تہذیب کی ماں۔ اس تہذیب نے برسوں اس سلطنت کی چھاتیوں سے لگ کر دودھ پیا۔ کیسے کیسے لباس ایجاد ہوئے۔کیسے کیسے کھانے کیسے کیسے مشروب، کیسا قوس قزح جیسا ادب اور کیسی شیریں،معنی آفریں، سجل اور طاقت ور زبان اورموسیقی اورمروت اور وضع داریاں۔‘‘(ص:200)
ناول نگار ایک جگہ اپنی بیوی کی زبانی جوتاریخ داں ہے اس سے کہلواتا ہے کہ:
’’باقی سلطنتوں نے کسی ایک طرح کی تہذیب کی بناڈالی لیکن مغل تہذیب نے دوبڑی تہذیبوں کو ملاکر ایک گنگاجمنی تہذیب دی۔ مغلوں کو عروج پانے میں ڈیڑھ سو برس لگے اوریہ سلطنت اتنی مستحکم بنیادوں پر تھی کہ اسے زوال پذیر ہونے میں بھی پورے ڈیڑھ سو برس کا عرصہ لگا۔‘‘(ص:190)
آخری سواریاں تہذیبی اضمحلال کا اکہرا اور سپاٹ بیانیہ نہیں ہے بلکہ بہت گھنا اور استعاراتی ہے۔ علامت اور تمثیل کا حامل یہ بیانیہ مصنف کی تخلیقی ہنرمندی پر دال ہے۔اس ناول میں عطرمجموعہ ایک اہم مؤلف کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ناول نگار نے عطرمجموعہ کو تکثیری تہذیب کے علامتی اظہار کے لیے کتنی خوبی سے بروئے کار لایا ہے ملاحظہ کیجئے:
’’اس میں سارے عطروں کی خوشبو ایک ہی عطر میں شامل ہوجاتی ہے اسے استعمال کرو اور اس کی خوشبو کو اپنے حواس پہ ایک لمحے کے لیے طاری کرو تو محسوس ہوگا جیسے تمہارا شامہ مختلف علاقوں کی طرح طرح کی خوشبوؤں سے معمور ہوگیا ہے۔‘‘(ص:158 )
آخری سواریاں صیغہ واحد متکلم میں بیان ہوا ہے۔ تاریخ پرمبنی واقعات کی پیشکش عام طور پر معروضیت کے پیش نظر صیغہ غائب میںہوتی ہے۔ اس ناول میںواحد متکلم کا صیغہ اختیار کیے جانے کے پس پردہ شعوری کوشش محسوس ہوتی ہے۔ اس طرز اظہار سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ راوی نے گنگا جمنی تہذیب کو اپنے حواس اور سائیکی کا حواس بنالیا ہے۔ ہر ہر سطر سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ ثقافتی گلدستے سے راوی کا انگ انگ معطر اور اس کے زوال کے عذاب سے راوی کی روح مضطرب ہے۔ واحدمتکلم کے صیغہ سے ناول نگار نے متعدد فائدے اٹھائے ہیں۔ تہذیب تو بظاہر سطح آب پر تیرتے ہوئے مظاہر ہوتے ہیں اور بہ باطن اس کی تہہ میں کارفرما وہ افکار و عوامل اہم ہوتے ہیں جو ان مظاہر کو ناک نقشہ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرز تکلم سے کثرت میں وحدت کی فکری اساس کو داخلی تجربے کی حیثیت سے پیش کرکے حقیقت کا لباس عطا کرنا آسان ہوگیا ہے۔
آخری سواریاں کا راوی ایک ایسا شخص ہے جس کی پرورش پرداخت مشترکہ کلچر کے ماحول میں ہوئی ہے۔ اس نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اپنی آنکھیں کھولیں۔ راوی کی فکری نشوونما کے پس منظر کے لیے ناول نگار نے اس کے ننیہال کانقشہ بیان کیا۔ راوی کا ننیہال ایسی جگہ دکھایا گیا ہے جس کے پڑوس میں گوری مامی کا گھر ہے، اس کے دو بچے شاردا اور گومتی ہیں۔ ان دونوں گھر کے افراد کے آپسی روابط کا ذکر ناول نگار نے کتنی بصیرت افروزی اور فنی چابکدستی کے ساتھ کیا ہے ملاحظہ کیجئے:
’’نانی امی کے گھر اور پنڈت ماما کے مکان کی دیوار مشترک تھی۔ دیوا رکے دونوں طرف دونوں گھروں کے صحن تھے اوردیوا رکے نیچے وہ ساجھے کا کنواں تھا جوآدھے چاند کی شکل میں دیوا رکے ادھر ادھر دونوں صحنوں میں استعمال ہوتا تھا۔‘‘ (ص:16)
ناول نگار کی تخلیقی بصیرت کی داد دیجئے چاند ایک مخصوص حلقے والوں کے لیے تہذیبی علامت ہے، حسن کا استعارہ ہے۔ چاند آدھا ادھر آدھا ادھر اورکنواں جو سیراب کرتا ہے، دو الگ الگ مکتبہ فکر کے افراد کی سیرابی کے لیے ایک ہی کنواں ہے۔ یعنی دونوں کی فکری سیرابی کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔
راوی کی ذہنی تربیت کے بیان کے لیے اس کے والد کے گھر کاماحول بھی بیان ہوا ہے۔ گاؤں میں راوی کے والد کی منفرد شناخت ہے۔ ہر مسئلہ میں گاؤں کے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ گاؤں والوں ہی کی نظر میں نہیں خدا کے نزدیک بھی ان کا ایک مرتبہ ہے۔وہ کسی مسئلہ میں اگر اپنے خالق سے کچھ گزارش کرتے ہیں تو وہ پوری کی جاتی ہے۔ اپنی اس صفت سے وہ بلا لحاظ مسلک ہر شخص کی فیض رسانی کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ اسکول میں راوی کے ساتھ پڑھنے والی ایک لڑکی انٹرول کے دوران گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کرتی ہے کہ:
’’جنم اشٹمی سے پہلے والی رات میں ہمارے پتاجی بھی تمہارے گھر گئے تھے۔ کئی دنوں سے چرچا تھا کہ سوکھا پڑرہا ہے توکیا جنم اشٹمی کے دن بھی بارش نہیں ہوگی۔ بارش نہیں ہوگی توکرشن للہ کے پوترے کیسے دھلیں گے یہ توبہت بڑا اپ شگن ہوگا۔ پھر ہمارے گھر میں ایک میٹنگ ہوئی۔ پنڈت پیارے لال شرما بھی آئے تھے سراج خلیفہ کوبھی بلایا گیا تھا۔ میں نے ہی چائے اورگلوکوز کے بسکٹ کی ٹرے رکھی تھی۔ سب لوگ دیر تک چرچا کرتے رہے اور پھر یہ طے کیا کہ سب لوگ مل کر تمہارے پتاجی کے پاس جاکر بنتی کریں کہ صبح سورج نکلنے کے بعد وہ والی نماز پڑھادیں جس سے بارش ہوتی ہے۔‘‘ (ص:119)
ناول میں ہندومسلم ،سکھ عیسائی کے تیوہاروں کا ذکر بھی اس طور پر ہوا ہے کہ اس میں ہر عقیدے کے حامل افراد شریک ہوتے ہیں۔ مذہبی رسوم و رواج کو محض مخصوص طبقے کے جشن کے بجائے ایک ایسے سماجی اور تہذیبی مظہر کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جس میں اس علاقے کے رہنے والے تمام افراد اپنی سماجی ذمہ داری سمجھ کر اس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی وہ جوہر اصلی ہے جو مختلف طبقات کے لوگوں کو ایک شیرازے میں باندھے رہنے میں معاون ہوتا ہے۔
راوی کی ذہنی، جذباتی اور فکری تشکیل میں اس کی ماں کوبھی ناول نگار نے ایک اہم کردار کے طورپرجگہ دی ہے۔ وہ عورت زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے لیکن زمانے کے تمام نشیب و فراز سے واقف ہے۔محض چہاردیواری میںمقید نہیں ہے بلکہ ضروریات زندگی کے لیے پردے میں رہ کربازار بھی جاتی ہے۔فرض شناس ہے، اقدامی صلاحیت کی مالک اور آزادی کی قائل ہے۔ ناول نگار نے جہاں راوی کے چچا کے کبوتر پالنے کے شوق کا ذکر کیا ہے ’’وہ طرح طرح کے کبوتر خریدلاتے اور ان کے پرکاٹ کر ڈربے میں بند کردیتے۔‘‘ (60) وہیں آگے ناول نگار نے یہ ذکر کیا ہے کہ نئے کبوتر آنے والی رات میں اماں بہت بے چین ہوتی تھیں… رات کا سناٹا گہرا ہوچکا ہوتا تھا۔ اکا دکا آوازیں نئے کبوتروں کے ڈربے میں سے ہی آتی ہوئی لگتی تھیں۔ اماں خاموشی سے چوروں کی طرح اٹھتیں اور ڈربے کے پاس جاکر دھیرے سے ڈربے کاپٹ ایک طرف سرکاکر دو ایک کبوتر نکال لیتیں پٹ برابر کرتیں اورکھجور کے پاس جاکر انھیں اڑادیتیں… لیٹتے وقت اماں ایک سکون کی سانس لیتیں (64) اس اقتبا س میں کبوتر محض ایک پرندہ کے بجائے مقید عورت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اس طرح کی مثالیں بکثرت ناول میں موجود ہیں۔ سید محمد اشرف کو استعارہ سازی میں اپنے معاصرین میں ممتازمقام حاصل ہے۔
آخری سواریاں کے کرداروں کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی نفسیاتی پیچیدگیوں اور داخلی کوائف کا صناعانہ اظہار ہے۔ راوی کی شخصیت او رارتقا کے لحاظ سے برتاؤ میں تبدیلی کو ناول نگار نے جس فنکاری کے ساتھ پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
راوی کے بچپن کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ اپنے گھر کی کم سن خادمہ سے والہانہ لگاؤ کی مرقع کشی جس فنی چابکدستی کے ساتھ کی گئی ہے وہ فنکار کی تخلیقی صلاحیت کو منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔ ناول کا یہ حصہ نہایت جذباتی اوربیانیہ کے عروج پر ہے۔ اس رشتہ کا انجام المیاتی ہے۔ ہجرراوی کا مقد ربن جاتا ہے۔ راوی کے آتش عشق کو ناول نگار ایک اہم سیاق سے مربوط کرکے ناول کو نئی جہت فراہم کرتا ہے۔ ناول نگار راوی کے چچا کی زبانی ایک جملہ کہلواکر عشق مجازی کوعشق حقیقی کی طرف موڑ دیتا ہے۔وہ کہتا ہے۔’’کیسی باتیں کررہے ہو اکرم میاں یہ رشتہ تو خدا اوربندے کے درمیان ہوتا ہے۔‘‘ (ص98) اس جملہ سے ناول کی تعبیر کا ایک دوسرا تناظر سامنے آجاتا ہے۔
ناول کا ایک اہم مؤلف آخری سواریاں ہے۔آخری سواریاں اشارہ ہے اس سفر کی طرف جب کہ آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو انگریز بیل گاڑی پربٹھاکر رنگون بھیج رہے تھے۔اس سفر کو ناول نگار نے مغلیہ تہذیب اور اردو تہذیب کے زوال کی علامت قرار دیا ہے۔ ناول نگار کی زبانی ملاحظہ کیجئے:
’’دیکھیے وہ دیکھیے سامنے والی سواری میں ٹوٹی ہوئی محرابیں اور کنگورے لدے ہیں۔ ان کے پیچھے والی سواری میں کٹاو دار اور نقشیں دریچے ہیں۔ مینار اور گنبدوں کی سواری پیچھے آرہی ہے اور یہ جو سامنے سے سواری گزررہی ہے اس میںسنگھار دان، سرمہ دانی، خاص دان، پاندان او رعطردانوں کا انبار ہے۔ اس کے ٹھیک پیچھے والی سواری میں عماموں، کلف دارٹوپیوں، خرقوں، جبوں اور عباووں کے گٹھرلدے ہیں۔ ان کے پیچھے طوطوں اورمیناووں کے پنجروں کی سواریاں ہیں۔ وہ جوایک سجی ہوئی سواری ہے اس میں عطر کی شیشیاں بھری ہوئی ہیں۔ اس کے پیچھے جو سواری ہے اس میں منھ سے پھونکنے والے اورہاتھ سے بجانے والے موسیقی کے آلات ہیں اور اُف دیکھو یہ جو بالکل ہمار ے پاس سے سواری گزری اس میں مثنویوں، قصیدوں،مرثیوں، رباعیوں، بارہ ماسوں، قصوں، کتھاؤں اور داستانوں کے دفتر کے دفتر کتنے پھوہڑ انداز میں لاد رکھے ہیں۔ خطاطی کے بیش قیمت نمونے قدم قدم پر زمیں پرگرتے جارہے ہیں۔‘‘ (ص:۲۰۷)
ناول نگار نے اردو تہذیب کی زبوں حالی اور خستہ حالی کے اسباب کا بھی تجزیہ تمثیلی انداز میں کیا ہے۔ تہذیبی زوال کے بیانیہ کی شدت میں اضافہ کے لیے گہرے طنز کا فن کارانہ استعمال قاری کو سوچنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:
’’باذوق سامعین سے بھرے ہوئے اس خوبصورت ہال میں لفظوں کے جادوگر اپنا فن دکھارہے تھے اورمیں سوچ رہا تھا کہ جس زبان کے الفاظ اس ہال میں گونج رہے تھے اس زبان کا کوئی لفظ اس ہال میں کہیں لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔‘‘ (ص:152)
استاد ولایت علی خاں کے انتقال کی خبردریافت کرنے کے لیے جب راوی نے اپنے دوست کو بمبئی فون کیا اور پوچھا کہ:
’’ خاں صاحب کے بارے میں کچھ خبر ہے، تو راوی کے دوست نے جواب دیا کہ خاں صاحب ارے انھوں نے ہی تویہ کمال کیا ہے آج کے تمام اخبار انھیں کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔ سب سے زیادہ وکٹ اسی نے چٹخائے پاکستان کا بھرتا بنادیا ظہیرخاں نے۔تم نے اخبار نہیں پڑھا۔‘‘(ص152)
فکشن میں حقیقت کا التباس پیدا کرنے کے عمل میں روداد نگاری (Description) بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ سید محمداشرف کی روداد نگاری ان کی لسانی دسترس کی غماز ہے۔ ان کے موے قلم سے ہر منظر زندہ اورنامیاتی معلوم ہونے لگتا ہے۔
ناول نگار کو Unsaidبیانیہ تخلیق کرنے میں کمال حاصل ہے۔ کچھ چھپاکر سب کچھ کہہ دینے کا نام فن ہے۔ غیاب و حضور کے درمیان رشتہ تلاش کرنے میں قاری لطف اندوز ہوتا ہے۔
’’چچاکہہ رہے تھے بھلا یہ کیسے ممکن ہے لوگ کیا کہیں گے۔والد صاحب انھیں ٹھہرٹھہر کر سمجھاسمجھا کر کچھ بتارہے تھے جس میں مشکل الفاظ کا استعمال زیادہ تھا اور پھر ایسا کبھی ہو ابھی نہیں۔ میں نے اپنے بزرگوں سے بھی کبھی نہیں سنا۔ ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ شرطیں ہوتی ہیں کچھ دیر خاموشی رہی۔ اب ماساب کی آواز آئی۔‘‘(ص:145)
ستر کی دہائی کے بعد فکشن تخلیق کرنے والوں میں سید محمداشرف کا فکشن اسلوب اپنے تمثیلی انداز، استعارہ سازی، علامتی طرز، قول محال، طنزیہ لہجہ اورداستانی رنگ کے سبب نمایاں طور پر اپنا حوالہ آپ بن جاتا ہے۔
سید محمداشرف کا یہ ناول مشترکہ تہذیب کو اردو تہذیب کے ایک نئے ڈسکورس میں منقلب کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ناول نگار نے تاریخی تناظر میں مغلیہ سلطنت کو تکثیری تہذیب کو فروغ دینے والی سلطنت اور فکری اساس کے طورپر الخلق عیال اللہ کو مشترکہ کلچر کا مآخذ ٹھہرایا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کو مشترکہ تہذیب کا زوال قرار دیا ہے۔ ناول نگار نے ثقافتی زوال کو متعدد سطحوںاور مختلف شکلوں میںVisualiseکرکے طویل و عریض زمان ومکان کا احاطہ کیا ہے۔ امید ہے کہ تہذیبی زبوں حالی پر مبنی یہ ناول اپنے ہمہ جہت بیانیہ اور تہہ دار اسلوب کے سبب طویل عرصہ تک قاری کے مسرت وبصیرت میں اضافہ کرے گا۔
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں استاد ہیں
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

