بیسویں صدی کے اخیر میں اردو کے اہم فکشن نگاروں میں جو نام ابھر کا سامنے آئے ان میں رام لعل، جوگندر پال، سریندر پرکاش ، اقبال متین، بلراج مینرا، انتظار حسین اور غیاث احمد گدی وغیرہ کا نام سرفہرست ہے۔ ان کے یہاں جدید افسانہ نگاروں کی طرح شروع میں علامتی افسانے بھی ملتے ہیں اور بعد میں ان افسانہ نگاروں نے روایتی کہانی پن ، کردار نگاری مکالمہ نگاری ، پلاٹ اور موضوعات کی اہمیت کو سمجھا اور بڑی ندرت اور جدّت کے ساتھ برتا بھی۔ یہ تمام نام اردو افسانے کے حوالے سے کافی اہم اور معتبر ہیں ،انہیں اہم ناموں میں ایک اہم نام جمیلہ ہاشمی کا بھی آتاہے۔
جمیلہ ہاشمی کا پہلا افسانہ ’’دوخط‘‘1957 ہفت روزہ ’’لیل ونہار‘‘ لاہور میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد مسلسل ان کی کئی کہانیاں دیگر ادبی رسالوں میں شائع ہوتی رہیں۔ ’’دو خط‘‘ ایک مختصر کہانی ہے جس کا موضوع وقت کی اہمیت وافادیت ہے۔
جمیلہ ہاشمی نے زیادہ طویل عمر نہیں پائی تھی اور نہ انہوں نے افسانہ، ناولٹ اور ناول سے زیادہ کچھ لکھا ۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے کم لکھا مگرجو لکھا بہت خوب لکھا۔
ادبی دنیا میں جمیلہ ہاشمی کے اب تک تین افسانوی مجموعے اول’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ دوم ’’اپنا اپنا جہنّم‘ ‘ اور سوم’’ رنگ بھوم‘‘ ہے اس کے علاوہ جمیلہ ہاشمی کے پانچ ناولت ایک ’’آتش رفتہ‘‘ دوم’’چہر بہ چہرہ روبہ رو‘‘ سوم ’’داغ فراق‘‘ چہارم’’روہی‘‘ اور پانچواں’’یادوں کے الائو‘‘ ہیں ۔ اور دو ناول ’’تلاش بہاراں‘‘ اور آخری ناول ’’ دشت سوس‘‘ہے۔ ان کے علاوہ جمیلہ ہاشمی کے کچھ افسانے ایسے بھی ہیں جو مختلف رسالوں میں تو شائع ہوئے ہیں مگر ان کے افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہیں۔
جمیلہ ہاشمی کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ آپ بیتی جگ بیتی ‘‘ 1969میں شائع ہوا۔ اس میں کل 15افسانے شامل ہیں۔ تقریباً سارے افسانوں کی پیش کش میں آپ بیتی کا طریقۂ کار اختیار کیاگیا ہے۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس طرح کے لوگ ہر دور اور ہرسماج میں پائے جاتے ہیں اور یہی خصوصیت ان افسانوں کوآفاقی بنادیتی ہے۔
اس مجموعے میں آپ بیتی جگ بیتی، کیسری، پُرانے گیت، دوخط ، بجھے دیے ، بن باس، برہا کی رات، رات کی ماں وغیرہ افسانے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی نے تقریباً سبھی افسانوں میں پنجاب کی سر زمین وہاں کے لوگوں کی انا، وہاں کا رہن سہن، گائوں کی مٹی اور اس مٹی کی خوشبو ماں کی محبت کو بہ خوبی پیش کیا ہے جیسے چند اقتباس پیش ہیں:
(۱)’’کیسری کی حیرت سے کھلی آنکھیں ہر گھڑی میری راہ میں ہیں، میری طرف غور سے دیکھتی ہوئی ، مگر ان آنکھوں میں رحم کی التجا نہیں ہے خوف نہیں ہے، افسوس نہیں ہے، صرف حیرت ہے۔‘‘
(افسانہ کیسری ص 264)
(۲)’’مگر گوبندی کو میں نے مار دیااس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے میں نے اسے اناج کی کوٹھیوں سے بھرے کمرے میں دبادیا۔‘‘
(افسانہ آپ بیتی جگ بیتی ۔ ص26)
دیہات کی منظر کشی جمیلہ ہاشمی کے فن کی ایک مخصوص جہت ہے۔ ایک طویل عرصے تک وہ مشرقی پنجاب کے اضلاع جالندھری اور ہوشیار پور کے دیہات اور اس کے علاقے میں بسنے والے سکھوں کے مزاج کی عکاسی اردو افسانے میں کرتی رہی ہیں۔ جمیلہ ہاشمی نے دیہات کو بالعموم ماضی کے حوالے سے پیش کیا ہے اور افسانہ ان یادوں کے حوالے سے آگے بڑھتا پروان چڑھتا اور نقطۂ عروج پراچانک خم پید ا کر کے اختتام کی طرف مراجعت کرجاتاہے جوان کے بطون میں قیمتی خزینے کی طرح محفوظ ہے۔
جمیلہ ہاشمی کو فطرت نے عورت کا دل اور مرد کا مزاج عطا کیا ہے۔چنانچہ ان کے یہاں لطافت اور سفاکی بیک آن پرورش پاتی ہوئی نظرآتی ہے۔ وہ افسانے کا تارو پود بڑی مضبوطی سے بُنتی ہیں اور نہ صرف صورتِ واقعہ کو ابھارتی ہیں بلکہ تاثیر میں گہرائی اور گیرائی پیدا کرنے کے لیے اسی ماحول کی تصویر کشی سے بھی پورافائدہ اٹھاتی ہیں۔
جمیلہ ہاشمی کے ہاں انسانی زندگی عزت کے تحفظ کا نام ہے۔ قول کا پالن ان کے دیہاتی کرداروں کے ضمیر میں رچا بسا ہواہے۔ انتقام ان کے خون میں ملا ہوا ہے اوریہ سلسلہ در سلسلہ وراثت میں منتقل ہوتا چلا جاتاہے۔ یہ ایسا بیئر ہے جو دشمن کی موت کے بعد دل کوٹھنڈک دیتاہے ۔ درج بالا اقتباسات اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
جمیلہ ہاشمی کادوسرا افسانوی مجموعہ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ ہے ۔ جسے بعض ناقدین نے ناولٹ میں شمار کیاہے۔ یہ مجموعہ جولائی 1973میں شائع ہوا۔ اس میں صرف طویل افسانے ہیں۔ اوّل ’’زہر کا رنگ‘‘ دوسرا’’ لہو کا رنگ‘‘ اور تیسرا وآخری افسانہ ’’شب تار کا رنگ‘‘ ہے۔ اس مجموعے کے افسانوں کا شمار ان کے ابتدائی افسانوں میں کیا جاتاہے۔
جمیلہ ہاشمی کا رجحان ابتدا سے ہی طوالت کی جانب ہے۔ اس لیے ناول اور ناولٹ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر ناولٹ لکھے جنھیں کوئی ضرورت مندنقاد طویل مختصر افسانے بھی کہہ سکتا ہے۔ جمیلہ ہاشمی نے ابتدا میں قرۃ العین حیدر کی طرح لکھنے کی کوشش کی ہے مگر فرق صاف ظاہر ہے۔
’’کسی بچے کے رونے کی آواز آئی، تیز اوردکھ بھری۔ میں نے درخت سے پرے جھانکا ایک تختی پر گوتم لکھا تھا تو میری تلاش سپھل ہوئی۔‘‘
(’’زہر کا رنگ‘‘ ص15افسانوی مجموعہ اپنا اپنا جہنم)
جمیلہ ہاشمی کے سیاسی وسماجی شعور کے ترجمان ان کے دوافسانے ’’لہو کا رنگ‘‘ اور ’’شب تارکا رنگ‘‘ ہیں جن میں مصلحتاً کرداروں کے نام ہندو نہ رکھ کے اپنی دانست میں سرکاری ایجنسیوں کے عتاب سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’’لہو کا رنگ ‘‘ میں اساتذہ کی ایسی ہڑتال کا ذکر ہے جس میں بار بار گولی جلتی ہے اور معصوم بچے ہلاک ہوتے ہیں۔
اس مجموعے کو جمیلہ ہاشمی نے قرۃ العین حیدر کے نام پر لکھا ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے اولین افسانوں میں دیش بھکتی کاجذبہ نمایا تھا۔ نئے افسانوں میں نہ صرف منظر بدل گئے بلکہ کرداربھی نئے ابھرے ہیں۔ ان کا اپنا ایک فنی نظام ہے ایک ضابطہ ہے اور یہ سب کچھ کردار ، فضا، پلاٹ اور اسلوب جب باہم مدغم ہوجاتے ہیں تو جمیلہ ہاشمی کا افسانہ جنم لیتاہے ان کے بیشتر افسانے بیانیا اسلوب میں ہیں۔
جمیلہ ہاشمی جذبات کی مالاتیار کرتی ہیں اور پھر اسے کردار کے گلے میں ڈال دیتی ہیں۔ اردو افسانے میں دیہات کو اس باریک بینی سے پیش کرنا جمیلہ ہاشمی کی انفرادی خوبی ہے ان کے افسانوں کے پیچیدہ پلاٹوں کی گتھیاں بڑی آسانی سے سلجھ جاتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہمیں ہندوکلچر اور قدیم دیومالائی اثانے بھی ملتے ہیں جو اپنے پیچھے ایک گہری فکر اور فلسفیانہ احساس چھوڑتے ہیں’’ترمورتی‘‘ ،’’چندن کی چتا‘‘، ’’بھسم‘‘اور ’’بن باس‘‘ جمیلہ ہاشمی کی ایسی کہانیاں ہیں جس میں انھوں نے دیومالائی اثاثے کو بہت ہی خوبصورتی سے بنا کسی الجھائوکے پیش کیاہے۔
جمیلہ ہاشمی کی کہانیوں میں کئی ایسی کہانیاں بھی ہیں جسے ہندی انگریزی اور پنجابی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیاہے لیکن خاص طورپر ’’آتش رفتہ‘‘ (ناولٹ) کو بہت شہرت ملی۔ ’’آتش رفتہ‘‘ پہلی مرتبہ ’’دستان گو‘‘ لاہور سے چھپنے کے بعد ہندوستان کے موقر رسالہ ’’شاہکار ‘‘ میں ناولٹ نمبر سے شائع ہوا۔ اس کے بعد کتابی صورت میں عام ہوا یہی نہیں بلکہ اشفاق حسین نے اس پر سیریل بھی بنایا۔ اور ہندی کے مشہور کہانی کار امرتا پریتم نے اس ناولٹ کاہندی میں ’’سلگتی آگ‘‘ نام سے ترجمہ بھی کیا۔
جمیلہ ہاشمی کے دوسرے شاہکار افسانوں میں ’’بن باس‘‘ اور ’’شیریں‘‘ ہیں۔ افسانہ ’’بن باس‘‘ کو ہندی ساہتیہ کار سمبھو یادو نے بن باس نام سے ہی اس کا ہندی میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ اس کہانی کا انگریزی میں "Banichedنام سے انگریزی تخلیق کار عمر میمن نے اپنے کتاب "Short Stories abut the Partition”میں ترجمہ کر کے شامل کیا۔ اورسمبھو یادوں نے اپنی کتاب’’کتھا جگت کی باغی مسلم عورتیں‘‘ کہانیوں کے مجموعے میں شامل کیا۔
جمیلہ ہاشمی کا مشہور افسانہ’’شیریں‘‘ ایسے افسانوں میں سے ہے جو ان کے کسی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہے ’’شیریں‘‘ جدید طرز پر لکھا گیا ایک بہت ہی خوبصورت افسانہ ہے۔ اس افسانے پر پاکستان کی مشہور ڈراما نگار شیما کرمانی نے لاہو ر میں ’’تحریک نسواں‘‘ کے زریعے کرائے جانے والے 50منٹ کے اسٹیج ڈراما میں ہر جمعرات کو پلے کیا 2016میں جسے دیکھنے بڑے بڑے ادیب ،تخلیق کار،مصنف ، شعرا اور آرٹسٹ وغیرہ ہمیشہ پہنچتے تھے اس پورے Eventکو جمیلہ ہاشمی کی بیٹی عائشہ صدیقہ خودOrganiseکرتی ہیں۔
جمیلہ ہاشمی کے بہت سے افسانے ایسے ہیں جو ان کے کسی مجموعے میں شامل نہیں ہیں صر ف رسالوں میں درج ہیں۔ان میں’’شدّت‘‘،’’بلا مقصد سفر‘‘ ،’’ ناول کا ایک باب ’جوگ کی رات‘‘ جمیلہ ہاشمی کا آخری ناول ہوسکتا تھا اگر مکمل ہو جاتا ۔ جسے جمیلہ ہاشمی نے اسپین کی سرزمین پر لکھا ہے۔ اس کے علاوہ ’’آتما کی شانتی‘‘ ،’’چراغ لالہ‘‘، ’’اکیلا پھول‘‘، ’’ہوائے دل‘‘، ’’ناستک‘‘ وغیرہ ہیں۔
ان افسانوں میں مصنفہ نے معاشرت کے جیتے جاگتے عوامل کو کہانی کا موضوع بناکر اس صنف ادب کو خاص تاب وتوانائی عطا کی۔ جمیلہ ہاشمی ان افسانوں میں ہمارے ارد گرد کے ماحول کو اس حسن وخوبی کے ساتھ اپنی شگفتہ وعام فہم زبان میں تحریر کرتی ہیں کہ ہر افسانہ اپنے دور کا موجودہ آئینہ نظرآتا ہے۔
جمیلہ ہاشمی کا تیسرا اور آخری افسانوی مجموعہ ’’رنگ بھوم‘‘ 1987میں شائع ہوا ۔ اس میں (10)دس افسانے شامل ہیں۔جیسے بسنت رت ، میر اگنی دا، چندن کی چتا، نگارِ وطن، ترمورتی، آہوئے آوارہ اور امر بیل وغیرہ ہیں ۔ا س میں آہوئے آوارہ بھی ایک طویل افسانہ ہے جسے الگ سے ناولٹ کی شکل میں بھی شائع کیا گیاہے۔
کسی بھی بڑے تخلیق کار کے لیے یہ ضروری ہوتاہے کہ اپنے عہد کی طاقت ور تخلیقی آوازوں کے بھنور سے خود کو جلد از جلد آزاد کرالے یہ یاتو کسی بڑے تجربے کی بدولت ہوتاہے یا کسی نظرئے کو فنی ریاضت میں ڈھالنے سے اور یا پھر فطرت کی ایسی عنایت کہ نہ صرف تخیل الہامی میں سر شاری لیے ہوئے ہو اور زبان کے تمام تر امکانات کا لمس ہمہ وقت محسوس ہوتاہو۔ لہٰذا جمیلہ ہاشمی نے خود کو بہت جلد اس بھنور سے آزاد کراکر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔
جمیلہ ہاشمی کا پہلا ناول ’’تلاش بہاراں‘‘ 1956-57کے دوران لکھا گیا۔ لیکن 1961میں اس کی اشاعت عمل میں آئی۔ اوراسی سال اس ناول کو آد م جی انعام سے نوازا گیا۔ اپنی پہلی ہی تخلیق کی بدولت انہوں نے شہرتِ دوام حاصل کر لی۔ یہ ان کی فنکارانہ صلاحیت کی دلیل ہے۔ تلاش بہاراں میں وہ سارے عناصر موجود ہیں جواسے کامیاب اور یادگار ناول بنادیتے ہیں۔ اس ناول میں جتنے بھی اہم کردار پیش کئے گئے ہیں ان سب کی کہانی ہندوستانی عورت کی زندگی کے علمناک پہلو کو پیش کرتی ہے۔ ان کرداروں کے حوالے سے ناول کا موضوع ہندوستانی عورت کا مقدر پاتاہے۔ یہ ایک کرداری ناول ہے ۔ اس ناول کا مرکزی کردار کنول کماری ٹھاکر ہے۔ کنول کماری ٹھاکر کے علاوہ اور بھی بہت سے کرداراس سے وابستہ ہیں۔ اس ناول کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس ناول ’’تلاش بہاراں‘‘ کو یادداشتوں کے سہارے پیش کیاگیا ہے اور خطوط کی تکنیک بھی استعمال کی گئی ہے۔
جمیلہ ہاشمی کی انفرادی خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے مسلمان ہوکر سکھوں کے کلچر کو ان کی عادات وخصائل سے اخذ کیا اور بہت ہی چابک دستی سے کہانی کے بطن میں شامل کردیا۔ ان میں پوشیدہ مشاہدے اور اظہار کی بے پنا ہ قدرت نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔
سکھ گھرانے پر جمیلہ ہاشمی کے دوناولٹ ’’آتش رفتہ‘‘ اور ’’داغِ فراق‘‘ شائع ہوئے۔
آتش رفتہ :یہ جمیلہ ہاشمی کا ایک نفسیاتی ناول ہے جس کا شمار اردو کے چند اچھے ناولٹو ں میں ہوتاہے جو مشرقی پنجاب کی سکھ معاشرت کے پس منظر میں لکھا گیاہے یہ مختصر ناول ہے جو محض ایک سو سڑسٹھ (167) صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بھی جمیلہ ہاشمی نے فلیش بیک تکنیک کا استعمال کر کے دلوار سنگھ کی کہانی کو پیش کیاہے۔ قصہ کی روانی اور بیان کی سادگی قاری کو اپنی جانب کھینچتی ہے ۔ مصنفہ نے مشرقی پنجاب کے سکھ کلچر کو جس خوبصورتی اور سچائی کے ساتھ اپنے لفظوں میں مصور کیاہے اس سے ان کی وسعت مشاہدہ اور تخلیقی ذہانت کا پتہ چلتا ہے ۔آتش رفتہ کے سبھی کردار قاری پر اپنا انفرادی تاثر چھوڑتے ہیں۔
جمیلہ ہاشمی نے اپنے مشاہدے کے لیے ایک اورمیدان منتخب کیا۔ بیانیہ اسلوب کی ایک نئی راہ دریافت کر لی۔ اور انہوں نے ’’روحی‘‘جو چولستان کے صحرا میں رہ رہے قبائلی لوگوں کی کہانی ہے اس میں جمیلہ ہاشمی کی تحریرکی تین خصوصیات ہیں ۔ خوبصورت تحریر، فطرت کی جذئیات کاگہر ا مطالعہ اور عمیق جذبات واحساسات کی سچی ترجمانی۔ لیکن ان تینوں خصوصیات کا منبع ایک ہے۔ روحی تقریباً (اسّی) 80صفحات پر مشتمل ہے ۔ یہ بھی ایک کرداری ناولٹ ہے اس کا اہم کردار مریم ہے۔ اس کی شخصیت میں معصومیت کے ساتھ ایک انوکھا بانکپن ہے جواس کے کردار کو منفرد اورپرکشش بناتاہے۔
روحی میں ماحول کی پیش کش خوبصورت ہے ۔ جمیلہ ہاشمی نے جس ماحول کو پیش کیاہے وہ کردار نگاری اور مختلف مناظر کے جذبات کے ذریعے ابھر کر سامنے آگیا ہے ۔ پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے گاؤں کی پوری تصویر ابھر کرسامنے آگئی ہے۔
اس ناولٹ میں دوطرح کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ جہاں مناظراور صورت حال کی تصویر کشی کی گئی ہے زبان سادہ اور بیانیہ اندازاختیار کیاگیاہے اس کے برعکس جہاں احساسات وجذبات کی عکاسی کی گئی ہے وہاں جمیلہ ہاشمی نے اپنے مخصوص شاعرانہ اسلوب کا سہارالیاہے۔ اس کے علاوہ تشبیہات بھی ماحول کی مناسبت سے خوبصورت استعمال کی گئی ہیں۔ جمیلہ ہاشمی کہانی کا تانا بانا بڑی چابک دستی اور فنکاری سے بُنتی ہیں اور یہ صرف واقعات کو ابھارتی نہیں ہیں بلکہ تاثر میں گیرائی اور گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے لیے اس ماحول کی تصویر کشی سے بھی پورافائدہ اٹھاتی ہیں اور اکثر اوقات قاری کو انسانی فطرت کے لیے خوفناک زاویوں سے بھی آشنا کرتی ہیں جن کا تصور تہذیب کے اس ترقی یافتہ دور میں ناممکن ہے۔
سکھ گھرانے پر لکھا گیا دوسرا ناولٹ ’’داغ فراق‘‘ ہے۔ اس میں بھی جمیلہ ہاشمی نے فلیش بیک کی تکنیک کا ایک بہت ہی خوبصورت استعمال کیاہے۔ اس کہانی میں بھی راوی خود ہی ناول کا مرکزی کردار ہے ۔ یہ کہانی ہے بھادو کی جس نے غلط فہمی اورشک میں مبتلا ہوکر اپنے چھوٹے بھائی کا جس کو وہ اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے غصے اور نفرت کی آگ میں جُھلس کر اپنے ہی ہاتھوں قتل کرڈالتا ہے ۔ اور پھر تمام عمر اپنے کیے پر پچھتاوے میں سلگتا رہتاہے مگر چیتن تو ’’داغ فراق‘‘ دے کر جا چکا ہے جس کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔ اس ناولٹ کا پلاٹ بہت کسا ہواہے ۔ ناول کے سارے واقعات کڑی کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ منظر نگاری جمیلہ ہاشمی کی کمزوری ہے جس کی وجہ سے واقعات کی وحدت متاثر ہوتی ہے۔ اس ناول میں تین نسلوں سے متعلق واقعات کے احاطے کو ممکن بنادیا ہے۔ اس ناول میں جمیلہ ہاشمی کا اسلوب بہت دلکش ہے۔ زبان فصیح ہے اور پنجاب کے پس منظر کے سبب پنجابی الفاظ بھی بہت خوبصورتی کے ساتھ استعمال کئے گئے ہیں۔
’’داغ فراق‘‘ کے بعد جمیلہ ہاشمی نے ایک نیا ناول ’’چہرہبہ چہرہ روبہ رو‘‘ کے نام سے لکھا۔ جمیلہ ہاشمی کا یہ ناول ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم سب کو پڑھنا چاہیے۔ جمیلہ ہاشمی نے اپنے اس ناول ’’چہرہ بہ چہرہ روبہ رو‘‘ میں ایک ایسی متنازعہ لیکن عظیم ہستی کو موضوع بنایاہے جس کا نام آج تک خود ایک افسانہ ہے۔ ’’چہرہ بہ چہرہ روبہ رو‘‘ ایران کی بابی تحریک جو بے حد مشہور رہی ۔ اور اب بھی دنیا کے کئی کونوں میں اس کے آثار ملتے ہی۔ اس تحریک کا مرکز ومحور ’’قرۃ العین طاہرہ‘‘ ہے جو اپنے والہانہ جوش اپنے ساحرانہ حسن وجمال اور غیر معمولی عزم وثبات کے لحاظ سے میرابائی اورجون آف آرک کی صف میں آتی ہے ۔ قرۃ العین کی تاریخ ولادت صحیح طورپر نہیں معلوم اور نہ ان کی زندگی کے مسلسل واقعات کہیں ملتے ہیں لیکن دو باتیں بالکل یقینی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حد درجہ حسین تھی اور دوسرے یہ کہ بابی تحریک پر قربان ہوگئیں۔ ام سلمیٰ جسے ہم قرۃ العین طاہرہ کے نام سے جانتے ہیں ایک ایسی بے قرار روح کی مالک تھی جس کے پاس دل بھی بڑا تھا اور دماغ بھی ، جو حق کی تلاش میں ساری زندگی سرگرداں رہی اور حق کی تلاش ہی میں جان دے دی۔ اس نے رسم پرست عورت ہوتے ہوئے بھی وہ کام کیا جو ایرانی معاشرے میں اس وقت دشوار ہی نہیں ناممکن تھا۔ اس نے فرسودہ قدروں کو تشکیک کی نظر سے دیکھا اور انہیں سوال بناکر معاشرے کے شعور کو بیدار کر دیا۔
جمیلہ ہاشمی نے اس عظیم عورت کی زندگی اور فکر وفلسفہ کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے جو اُمِّ سلمیٰ سے قرۃ العین بنی ،قرۃ العین سے طاہرہ بنی ،طاہرہ سے زرین تاج بنی اور پھر ام العالمین بن گئی۔ اس موضوع پر اردو زبان میں پہلا افسانہ عزیز احمد نے قرۃ العین طاہر کو موضوع بناکر ’’زریں تاج‘‘ نام کا ایک افسانہ لکھا تھا جو آج بھی اردو کے بہترین افسانوں میں شمار ہوتاہے۔ جمیلہ ہاشمی ہمارے لکھنے والوں میں وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے تاریخ کے حوالے سے اس سفر کا آغاز کر کے ذہنِ انسانی کے نہاں خانوں میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں وہ لگن ہے جو لکھنے والوں کو ہر دم نئے سفر کے لیے آمادہ رکھتی ہے۔ سفر حرکت کی علامت ہے انجانی دنیا کو جاننے کی خواہش کا نام ہے اور انجانی چیزوں کو جاننا جمیلہ ہاشمی کا مزاج ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے لکھنے کااپنا انداز ہے ایک اچھے فنکار کی طرح انسان اور انسانی رشتوں اور چیزوں کو دیکھنے کا ان کا اپنا ڈھنگ ہے۔ بقول جمیل جالبی ’’ان کے اسلوب پر جوزف کونر‘‘ کا گہر ا اثر نظر آتاہے۔‘‘
’’چہر بہ چہرہ روبہ رو‘‘ کے بعد جمیلہ ہاشمی نے ایک اور تاریخی ناول ’’دشت سوس‘‘ لکھا یہ جمیلہ ہاشمی کا شائع ہونے والا آخری ناول ہے۔ حسین بن منصور حلاج کی زندگی پر مبنی ہے ۔ اس میں جمیلہ ہاشمی نے حسین بن منصور کی فکر اورروحانیت کو اپنا موضوع بنایاہے۔
حسین بن منصور حلّاج کا تصوف کی تاریخ میں نمایاں مقام ہے ۔ عباسی خلیفہ کے عہد میں اور قدیم بغداد کی فکری وروحانی دنیا میں حلاج کی ولادت 858میں ہوئی اس کے باغیانہ نظریات وقلمات نے امر وسلاطین کی نگاہ میں اسے واجب تعزیر بنادیا۔
یہ ناول حسین بن منصور حلاج کا مطالعہ بھی اور اس دور کی سیاسی ، مذہبی اورمعاشرتی زندگی کا عکاس بھی ۔ حسین بن منصور حلاج وہ متنازعہ صوفی ہے جس نے خو دمحبت میں ’’اناالحق‘‘ کہا اور تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا۔ لیکن وہ اپنے عشق کی بدولت لازوال ہوگیا۔ مصنفہ نے اس ناول میں حسین بن منصور حلّاج کے عہد کو تاریخی حقائق کے آئینہ میں دکھایا اس کے علاوہ اس کے نعرہ’’اناالحق‘‘ کی جذباتی تصویر کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ موضوع بے حد مشکل بھی تھا اور پُر خطر بھی مگر جمیلہ ہاشمی نے بڑی کامیابی سے حلّاج کی داستان کو اپنی دلکش اسلوب کے سہارے اعلیٰ درجہ کا ادبی ناول بنادیا ہے اور حلّاج کی پراسرار شخصیت کو اس عہد کے منظر میں بڑی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیاہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ جمیلہ ہاشمی نے بعد از تحقیق اس عہد کی مخصوص فضا کو بھی زندہ کر دیاہے۔ اور اس سلسلے میں ان کی جذباتی اورکسی حد تک شاعرانہ اسلوب نگاری بھی بے حد کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ اسلامی دنیا کی شاید ہی کوئی زبان ہوگی جس میں حسین بن منصور حلّاج کی حریت فکر گوئی اور تصوف کا ذکر نہ کیا گیاہو۔ وہ بعض لوک کہانیوں کا موضوع بھی بنے ہیں لیکن جمیلہ ہاشمی نے دشت سوس میں ا س عظیم کردار کو بڑے نادر انداز میں پیش کیاہے۔ تاریخی واقعات اورمذہبی عقائد پر ناول لکھنا ایک مشکل ترین کام ہے لیکن جمیلہ ہاشمی نے منصور حلّاج جیسے گہری اور تہہ در تہہ شخصیت کو بڑی فنکاری سے ناول کا موضوع بنایا ہے۔ مصنفہ نے کردار کو اس طرح پیش کیاہے کہ حلّاج تک پہنچنے کاراستہ تاریخ جغرافیہ تصوف اور معاشرت وتہذیب سے گذرتا ہواایک تاریخی عہد کی مکمل صورت پیش کرتاہے۔
حسین بن منصور حلّاج کا تعلق تیسری صدی ہجری کے عہد سے ہے جسے بجا طورپر خلافت بنو عباس کا عہد زریں کہا جاسکتا ہے۔ اس صدی کی دوسری چیز ان کے (بنو عباس) کے زوال کی داستان ہے۔
جمیلہ ہاشمی نے حلّاج کے روحانی سفر کی داستان کو تین حصوں میں تقسیم کیاہے ’’صدائے ساز‘‘ ،’’نغمۂ شوق‘‘ اور ’’زمذمۂ موت‘‘ پہلے دوحصوں میں ابن منصور کے روحانی ارتقا کی داستان بیان کی گئی ہے جس سے ابن منصور کے بارے میں دوباتوں کاعلم ہوتاہے۔
ایک تو یہ کہ وہ بچپن سے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کامالک ہے دوسرے یہ کہ حسین بن منصور کے دادا ’’محمی‘‘ مذہب سے زرتشتی اور والد منصور اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے حصے میں حلّاج کے بچپن کا زمانہ ’ابتدائی تعلیم، تُستَر کی خانقاہ میں حضرت سُہیل بن عبداللہ تُستری کی تعلیم اور پھر بصریٰ میں قیام، اس کی شادی، شیعہ مسلک سے انسیت وغیرہ کا بیان ہے۔
دوسرا حصہ ’’نغمۂ شوق‘‘ نہایت طویل ہے یہ حلّاج کے بغداد واپسی کے ساتھ شروع ہوتاہے اس میں حلّاج کی تجلی سامنے آتی ہے اورمختلف کشف وکرامات اس سے منسلک ہوجاتے ہیں۔مگر اس کی شخصیت کی ہر جہت سامنے نہیں آپاتی۔ وہ راز کاراز بنا رہتاہے اور عوام کی سمجھ سے باہر ہے اس کو لوگ مخفی طاقت کا سرچشمہ ماننے لگتے ہیں۔ اس سماجی اورمذہبی انتشار کے دور میں جب ہر شخص کو کسی روحانی رہنما کی تلاش تھی جس کی صفات وکرامات سے وہ مستفیض ہو سکیں ۔ بڑی تعداد میں لوگ حسین بن منصور کی ارادت میں داخل ہونے لگے۔ منصور حلّاج کے تئیں لوگوں کی عقیدت کا حال جمیلہ ہاشمی نے جس طرح بیان کیاہے، اس سے منصور کی روحانیت کا اظہار ہوتاہے اور قاری کی ذہن میں ایک روحانی فضاسے معطر ہوجاتاہے:
’’وہ حاجتوں کا رواں کرنے والا ، دعاکرنے والا، رازوں کا جاننے والا کہلا یا جانے لگا تھا۔ وہ جس کی طرف دیکھ لیتا اس کا مقدر بدل جاتا تھا ، محلوں اور عمارتوں میں پیدل سواریوں پر عمر رسیدہ اورجوان دوشیزائیں اور ازدواج ، بیمار اور تندرست ، مغموم اور خوش شہزادوں اور گداگر، اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی دلوں کا بھید جان لیتا ۔ پوشیدہ چہروں کے ٹھکانے بتادیتے۔ لوگ اس کی پرستش کرنے لگے تھے۔‘‘
( دشت سوس ۔ ص 263)
یہ سب کچھ حسین بن منصورحلّاج کے دور کا تاریخی پس منظرہے۔ مصنہ نے اس ناول میں حسین بن منصور حلّاج کی متصوفانہ شخصیت کو جوں کا توں قبول کیاہے اور اس کے روحانی سفر کو تخلیقی اور تاثراتی اسلوب میں پیش کیاہے۔ جمیلہ ہاشمی کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے متلاطم جذبات پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے اور ناول کا بیانیہ اس خوبصورتی سے مرتب کیاہے کہ منصور حلاج اپنی تمام تر معنویتوں کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتاہے اور اس کی شخصیت کے گرد پھیلا ہوا اسرار مذید پُر اسرار ہوتا چلا جاتاہے۔ ناول کا تاروپود کچھ اس فن کاری سے بناہے کہ صداقت کی سادگی نے ناول کے فطری بہائومیں رکاوٹ پیدا نہیں کی حتیٰ کہ وجدانی کیفیت بھی عقلی توازن قائم رکھنے میں مناسب معاونت کرتی نظر آتی ہے۔
’’دشت سوس‘‘ کا تیسرا حصہ ’’زمزمۂ موت‘‘ ہے جس میں کہانی منصور کی موت کے ساتھ کلائیمکس پر پہنچتی ہے۔اس میں ابنِ منصور کے جنون کی کیفیت کا بیان ہے جب وہ خود کواناالحق کہنے لگتاہے اس پر شعبدہ بازی کاالزام لگتاہے اسکے خدائی دعوے پراہل شریعت اوراہل طریقت کے حلقوں میں زبر دست غم پیداہوجاتاہے۔ یہاں تک کہ طریقت کے اعلیٰ منصب پر فائز عبداللہ تستری جو حلّاج کے استاد بھی تھے اورحضرت جنیدبغدادی رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے اس کو دیوانہ قرار دے کر اپنے حلقے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اوردوسرے بزرگوں نے ہمدردی رکھنے کے باوجود شرعی عالموں کی طرح اناالحق کا دعویٰ کرنے پر موت کی سزاسے اتفاق کیاتھا۔ یہ ایک واضح حقیقت تھی جس کا فائدہ وزیر مملکت اٹھا لیتاہے اور اپنی سیاسی طاقت کو استعمال کرکے اپنی رقابت کا بدلہ لیتاہے۔ یہ رقابت اس حقیقت کے انکشاف سے شروع ہوتی ہے کہ حامد کی منظورنظر کنیز ’’اغول‘‘ جسے اس نے اپنے حرم میں شامل کر لیا تھا حسین بن منصور کے عشق میں گرفتار تھی اوراپنی موت کے وقت ابن منصور کے قریب تھی۔ خلیفۂ وقت اس انکشاف کو برداشت نہیں کر پاتا اور ابن منصور کی ہلاکت کے لیے اپنی تمام ریشہ دوانیوں کو کام میں لاتاہے اور بالآخر حسین ابن منصور کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
’’دشت سوس‘‘ ایک دلچسپ ناول ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حسین ابن منصور کی ذات اردو ادب میں اور شاعری کے لیے نئی نہیں ہے ۔ لہٰذا اس شخصیت کو موضوع بناکر لکھا گیا ناول فطری طورپر ہماری توجہ مبذول کرتاہے۔ دوسرے یہ کہ اس ناول کی دلچسپی کی نوعیت داستانوں کی دلچسپی سے ملتی جلتی ہے جس میں ہم ایک ایسی کائنات میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں سب کچھ ممکن ہے ۔ ابن منصور ابتدا سے انتہا تک کسی غیر معمولی طاقت کا مالک یا اسیر نظرآتاہے۔ ابتدا سے ہی کہانی کا ایک پیٹرن بن جاتاہے جسے بہت حد تک داستانی پیٹرن کہہ سکتے ہیں۔ اس ناول سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمیں ابن منصور کے عشق کی ماہیت یا نوعیت کوعقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر اس کے ذہنی اور روحانی اضطراب اور مابعد الطبیعاتی تجربات کی صداقت پر یقین کرنا پڑتاہے۔
جمیلہ ہاشمی کے پہلے ناول’’تلاش بہاراں‘‘ کے برخلاف ’’چہرہ بہ چہرہ روبہ رو‘‘ اور ’’دشت سوس‘‘کی پیش کش میں ایک سنبھلی ہوئی کیفیت ملتی ہے۔’’تلاش بہاراں‘‘ کی طرح شرّیت بجائے خود مقصد نہیں ہے بلکہ موضوع کی مناسبت سے یہ اسلوب اختیار کیا گیاہے ۔ قرۃ العین طاہر ہ اور حسین ابن منصور کے نیم فلسفیانہ اور شاعرانہ کردار کی تجسیم اوران کے سحر انگیز ماحول کی تعبیر کے لیے اسی طرز کی ضرورت تھی۔
بحیثیت مجموعی ’’چہرہ بہ چہرہ روبہ رو‘‘ اور ’’دشت سوس ‘‘ تلاش بہاراں‘‘ کے مقابلے میں زیادہ اہم تخلیق ہیں۔
حسین ابن منصور حلّاج ، اور قرۃ العین طاہرہ سے جمیلہ ہاشمی کے روماحانی بصیرت نے وہ کردار منتخب کیے ہیں جو سراسر آگ ہیں جن کی سوانح اورشخصیت ایسے استعاروں میں ڈھل گئی ہے جن کی ہر سطح پر آگ کی چمک اورحرارت موجود ہے۔ جمیلہ ہاشمی نے اسے اپنے مخصوص زاویے نظر سے اور زیادہ چمکادیاہے۔
جمیلہ ہاشمی نے کبھی مایوسیوں ، ناکامیوں ، خوشیوں اور مسرتوں کی لا شیں جمع نہیں کیں۔ بلکہ ان کے یہاں زمین سے وابستگی کا ایک فلسفیانہ زاویہ پیدا ہوا۔ انہوں نے دیہات کے ماحول گائوں کی فطرت کا گہرا مشاہدہ کیا توان کا اولین احساس یہ تھا کہ زمین بے جان نہیں ہوتی بلکہ ذی روح ہے۔ یہ احساس جمیلہ ہاشمی کی کہانیوں میں ایک بڑی انقلابی کروٹ کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے سکھ کلچر کا ابتدائی افسانوں ، ناولٹ کا مقابلہ ’’روحی ‘‘ اور آخری ناولوں سے کریں تو اس میں نمایاں فرق نظرآتاہے ۔ کیوں کہ چہر ہ بہ چہرہ روبہ رو سے جمیلہ ہاشمی ایک ایسی ناول نگار کی شکل میں سامنے آتی ہیں جو داخلی اور خارجی طورپر ایک توانا فن کار ہیں جو نثر میں اس طرح شاعری کرتی ہیں کہ برسوں پرانی بھولی روکھی، پھیکی سی حقیقت آج بہترین کہانی بن کر ہمارے دلوں میں بس گئی ہے یعنی جمیلہ ہاشمی کے مطالعے کی حدیں اس قدر وسعت اختیار کر چکی ہیں کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ان کے پاس سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر ہے جوانہیں اپنے عہد کے باقی سبھی ناول نگاروں سے مختلف اور ادب کے میدان میں اہم مقام عطا کرتاہے تو غلط نہ ہوگا۔
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت اعلی جناب