اپنی ننگی پیٹھ پر سورج اٹهاے.گئو رکهشک کا سنہری خواب آنکهوں میں سجائےاپنا ناتواں جسم گھسیٹتے ہوئے دور تک پهیلی ہوئ سڑک پر چلتے ہوئے دفعتاً منجو نے پوچها
"ہمارے محافظ کہاں ہیں”
تو چپ چاپ،گم سم اپنے آپ میں ڈوبی ہوئی انجو چونک پڑی”پتہ نہیں "اسکے لہجے میں صدیوں کی تهکن تهی”ہونگے کہیں نہ کہیں ”
"پر ہم انہیں ڈهونڈیں گے کس طرح”
"وہ خود ہمیں ڈهونڈلیں گے'”
” کیا یہ ممکن ہے” منجو نے بے اختیار سوچا”
(ڈاکٹر ذاکر فیضی کا افسانہ ٹوٹے گملے کا پودا ملاحظہ کریں)
کہاں وہ گئوشالہ کا پرکیف ماحول اور کہاں یہ شہر کی ٹیڑهی میڑهی سڑکیں یہ گاڑیوں کا بےپناہ ہجوم، ہارن کا شور’آدمیوں کی چیخ و پکار زندگی اتنی جان لیوا تو کبهی نہ تهی گئو شالہ میں ان کا جنم ہواتها اور وہی گهسی پٹی زندگی رہی تهی کسی معنی و مفہوم کی ضرورت انہیں کبهی محسوس ہوئی نہ آگہی کی تمنا ہی کبهی دل میں جاگی.حتی کہ وہ دونوں بوڑهی ہوگئیں..امید قوی تهی کہ کسی دن ذبح ہوجائیں گی دفعتاً انہوں نےسنا کوئی سرکار آئ ہے جس نےگئو ہتهیا کو قانونی جرم قرار دیا ہے.اور انہیں گئو سے گئوماتا بنادیا ہے
گئوشالہ میں خوشی کی لہر دوڑگئی.وہاں ہر کوئی اترانے لگا.لہرانے لگا.گنگنانے لگا
"اب ہماری گردنوں پر چهری نہیں چلے گی”
"ہم طبعی موت مریں گے”
"بس کهاؤ پیو خوش رہو”
"مالک اب ہماری بہت دیکھ بهال کریں گے”
"نہیں بلکہ ہماری پوجا کریں گے ہم گئو ماتا جو ہیں”
مگر ایسا کچهہ نہ ہوا کوئی ان کی پوجا نہ ہوئی زندگی اس طرح چلتی رہی البتہ ان دونوں کے وجود پر ایک دلخراش حیرانی حاوی ہوگئ جب سے وہ گئو سے گئو ماتا بن گئی تهیں انہیں پیٹ بهر چارا نہ ملا تها کیوں ؟؟
"تم دونوں بوڑهی ہو اس لئے” تمام نوجوان گائیں کهلکهلا کر ہنس پڑیں” بوڑهوں کی دیکھ بهال کوئی کیوں کریں ”
"کیا تم پر بڑهاپا نہ آےء گا”انجو سلگ اٹهی
"پهر تمہارا حشر بهی ہم جیسا ہوگا” منجو کو بهی غصہ آگیا
"ارے تو فکر کس بات کی”کوئ منچلی چٹک کر بولی”سنا ہے سرکار ایک گئو سنچری بنارہی ہے جس میں بوڑهی گائیوں کو رکها جائےگا”
"اچها”
"جب ہم بوڑهی ہوجائیں گی تو وہاں رہیں گی”
"تو پهر”
"تو پهر کیا ہے بس کهاؤ پیو خوش رہو”
وہ سب آپس میں کهلکهلانے لگیں..ہنسی مذاق کرنے لگیں
اور ان دونوں کے دل میں کچهہ ٹوٹ سا گیا.آنکهوں میں کوئی انجانا سا کرب ٹھہر گیا پهر وہ سدا کهونٹے سے بندهی ہوئیں.اپنی امنڈتی ہوئی بهوک پیاس سے الجهتی ہوئیں.اداس خالی آنکهوں میں اکتاہٹ لئے لمحہ لمحہ یہی سوچتی رہیں کہ کوئی تغیر ہو کچهہ ہو مگر کوئی انقلاب آیا نہ کوئی ہلچل ہوئی.دن گزرتے رہے اور وقت کے ساتهہ ان کی بے زبان خواہشیں.گنگ خواب غمناک اذیتوں مخں بدلنے لگے.ایسے میں کسی دن انہوں نے سنا کہ شہر میں گئو رکهشک آےء ہیں جو ان کا مان بڑها رہے ہیں ان کی پوجا کر رہے ہیں
"گئو رکهشک” انجو کا دل دهڑک اٹها
"میرے محافظ”.منجو کی آنکهوں میں چمک آگئی
پهر انہوں نے طئے کیا کہ گئو شالہ میں بهوکوں مرنے سے بہتر ہے اپنے محافظوں کے پاس چلتے ہیں اور کسی دن وہ ان کی تلاش میں نکل پڑیں اور تب ہی سے وہ در در بهٹک رہی تهیں.شہر کی اس ٹیڑهی میڑهی سڑکوں پر آوارہ گهوم رہی تهیں اور نارسائی کی چلچلاتی دهوپ ان کا مقدر بن گئی تهی.
"بہن اور نہیں” چلتے چلتے تهک کر منجو رک گئی،مجھ سے آگے چلا نہیں جاتا”
وہ وہیں بیچ سڑک پر براجمان ہوگئی
"ٹهیک ہے بیٹھتے ہیں”
انجو بهی اس کی تائید میں وہیں بیٹھ گئی.مگر انہیں کیا پتہ تها کہ انہوں نے ٹریفک میں کتنی بادها ڈالی ہے.چند ہی لمحوں میں چاروں طرف سے ہارن کا وہ شور اٹها کہ انہیں لگا آسمان گر رہا ہے وہ گھبرا کر اٹهیں اور دوبارا چلنے پر مجبور ہوگئیں
"بہن ” منجو نے ایک زوردار آواز نکالی "میں تهک گئی ہوں”
"چلو ان دکانوں کے سائے میں بیٹهتے ہیں”انجو نے سڑک کے دو رویہ لگے دکانوں کی جانب اشارہ کیا جہاں انواع قسم کی اشیا فروخت ہورہی تهیں.دونوں نے ادهر کا رخ کیا.مگر یہ کیا؟ وہ دونوں ششدر رہ گئیں.دکانداروں نے انہیں اپنی دکانوں کی جانب آتے دیکها تو فورا وہاں سے بهگا دیا۔
پهر وہی بےنام سفر تها.صحرا کی سلگتی ہواؤں کی طرح جس کی کوئی سمت تهی نہ منزل۔پهر وہ دونوں مختلف سمتوں میں چلتی ہوئیں.بهٹکتی ہوئیں.بکهرتی ہوئیں بالاخر کسی گلی میں آنکلیں جہاں چاروں طرف رہائشی مکانات تهے۔
” شاید وہ یہاں ہو” انجو کے دل میں موہوم سی امید جاگی۔
"میرے محافظ” منجو نے فلک شگاف آواز نکالی۔
مگر وہ جانے کہاں تهے.کہاں چھپ کر بیٹھے تهے کہ ڈهو نڈنے سے بهی نظر نہ آئے.تنگ سی گلیوں میں کہیں اکا دکا گائیں چارا کهاتی نظر آئیں.وہ بے تحاشہ ان کی جانب لپکیں ایک ایک سے دریافت کیا۔
"گئو رکهشک کہاں ہیں ”
"ہمارے مالک ہمارے محافظ ہیں ” ہر ایک کا جواب یہی تها۔
"کیا مالک ہی محافظ ہوتا ہے ” منجو حیران ہوئی
” پهر یہ گئو رکهشک کون ہیں جن کے قصے ہم نے گئو شالہ میں سنے تهے”
انجو نے بے یقینی سے انہیں دیکها۔
"کیا پتہ کون ہیں ”
” ہمیں پیٹ بهر چارا ملتا ہے ہمیں کوئی فکر کیوں؟”
"ارے محافظوں کی چهوڑو آو تم بهی کچهہ کهاو”انہوں نے دعوت دی
انجو منجو نے چند لقمے لئے لیکن طمانیت کا کوئی احساس جاگا نہ صدیوں کی بهوک مٹی کہ دفعتاً کہیں سے مالک آنکلے اور انہیں ڈنڈوں سے مار بهگایا۔
یہ گئو رکهشک نہیں تهے یہ محافظ نہیں تهے پهر وہ کہاں تهے؟خدارا کوئی بتاتا کہ وہ کہاں تهے؟
چلتے چلتے ان کے تلوے لہولہان ہوگئے ان کے حوصلوں کی دهجیاں اڑنے لگیں ان کی جرأتیں بکهرنے لگیں اور خود کو یکجا کرنے کی دهن میں وہ اور بهی بکهرنے لگیں۔
پتہ نہیں گئو رکهشک کا سنہری خواب لے کرکب تک انہیں ان تیڑهی میڑهی راہوں پر چلنا تها.بھٹکنا تها..سفر طویل تها مگر ان کے ناتواں جسم میں اتنی قوت کہاں تهی.چلتے چلتے دونوں نڈهال ہو کر گر پڑیں
وہ جانے کون تها کہ اس نے پانی پلایا تو ان کی جان میں جان آئی وہ یہ ڈهیر سارا چارا لا رہا تها۔
” گئو رکهشک” انجو کا دل دهڑک اٹها۔
"میرے محافظ” منجو کی آنکهوں میں چمک آگئی۔
اور پیٹ بهر چارا کهاتے ہوئے ان دونوں کا وجود روحانی مسرت و طمانیت کے احساس سے مغلوب ہوگیا انہوں نے چاہا کہ اس احساس کو اپنے رگ وپے میں سمو لیں کہ دفعتاً وہ عورت جانے کہاں سے آنکلی
” ارے یہ کیا کر رہے ہو” وہ چلائی۔
"ذ را بهر خوف نہیں تمہیں ”
وہ اس آدمی پر برس پڑی۔
” گایوں کو چارا کهلا رہے ہو.جانتے ہو شہر کے حالات کتنے خراب ہیں.گئو رکھکشکوں نے جینا حرام کر رکها ہے”
"جانتا ہوں ساجدہ مگر مجھ سے ان بےزبان جانوروں کی بیچارگی نہ دیکهی گئی بوڑهی ہیں دونوں اور بهوکی بهی”
” پیٹ بهر کهانا تو ہمیں بهی نہیں ملتا ” وہ بولی ” جب سے سرکار نے گائے کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی لگائی ہے تم تو پورے بے کار ہوگئے ہو”
"گائے قصاب ہوں اور کوئی دهندا نہیں آتا”
گائے قصاب ..انجو منجو نے سہم کر ایک دوسرے کی جانب دیکها تو کیا اب ان کی گردنوں پر چهری چلنے والی تهی..یہ.شخص گئو رکهشک نہیں تها تو پهر گئو رکهشک کہاں تهے؟؟
” تم سدا سے کام چور تو ہو ہی اب یہ رحم کا ناٹک بند کرو رحیم خان”
وہ عورت دہاڑی”کهلا پلا چکے نا..اب دفع کرو ان موذی جانوروں کو”
"رات سر پر ہے کہاں جائیں گی”
"تم اپنی خیر مناؤ ان پر رحم کرنا چهوڑو گئو رکهشک ہیں اس شہر میں وہ ان کی حفاظت کر لیں گے”
پهر رحیم خان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ساجدہ نے دونوں کو ہانک دیا پهر وہ شہر کی بے جہت راہوں پر دوبارا چل نکلیں.یکا و تنہا گئو رکهشکوں کی تلاش میں مگر انہیں کیا پتہ تها وہ ان کے محافظ جن کی تلاش میں وہ گلی گلی بھٹکتی پهر رہی ہیں. صبح ہوتے ہی انہوں نے رحیم خان کے گهر پر ہلہ بول دیا تها انہیں خبر ملی تهی کہ رات رحیم خان کے گهر دو گائیں دیکهی گئی تهیں جن کو دن کے اجالوں میں نہ پا کر انہوں نے سمجھا کہ رحیم خان نے انہیں ذبح کر ڈالا ہے ان گئو رکهشکوں نے رحیم خان کو زدوکوب کیا اور گئو ہتهیا کے جرم میں اس کے گهر کو آگ لگادی۔
—-؛—-:—-؛—-:—:–:
سلمی صنم
بنگلور. انڈیا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ ادارہ |

