Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

شموئل احمد کا ناولٹ’’ندی‘‘:تجزیاتی مطالعہ- ڈاکٹر محمد غالب نشتر

by adbimiras ستمبر 16, 2020
by adbimiras ستمبر 16, 2020 0 comment

ہم عصر اردو فکشن میں شموئل احمد کا نام اہمیت کا حامل ہے۔فکشن کے حوالے سے اردو افسانے کی بات کریں یا ناول نگاری کا جائزہ لیں تو ایسی صورت میں شموئل احمد کا شمار اہم ترین فن کاروں میں ہوتا ہے۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً:شموئل احمد نے ناول اور افسانہ ،دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی ہے،شموئل احمد کا اسلوب ،انہیں دوسرے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے،شموئل احمدنے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر قارئین کے سامنے اس طرح سے بیان کیا ہے گویا وہ شخص کا ذاتی مسئلہ بن گیا ہو،شموئل احمد نے موضوع کے انتخاب میں محتاط رویّہ اختیار کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ شموئل احمد نے اکثر اپنی تحریروں میں موضوع کی مناسبت سے جنس کی ہلکی چھینٹیں ماری ہیں جو اُن کی اصل شناخت ہے۔جنس کو بروئے کار لانے کے لیے ہوسکتا ہے وہ ایسے ہی موضوعات کا انتخاب کرتے ہوںیا ایسے سماجی،سیاسی و معاشرتی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوں جن میں جنس کا ذکر ناگزیر ہوجائے۔یہ فن کار کا اپنا رویّہ ہوتا ہے،اپنی آزادی ہوتی ہے۔ایسے معاملات میں وہ ناقدین حضرات کی آرا نہ سنیں تو بہتر ہے۔

تمام اصناف میں بالعموم اور فکشن میں بالخصوص جنس کا ذکر پُل صراط عبور کرنے کے مترادف ہے۔فن کار کی ذرا سی چٗوک اُس کے فن پارے کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال سکتی ہے اور محتاط رویّہ بلندیوںتک پہنچا دیتا ہے۔اگر فکشن رائٹر،فکشن کی فنی باریکیوں سے ناآشنا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ پل صراط پر قدم نہ رکھے ورنہ ساری محنت خاک میں مل جائے گی۔اردو افسانے میں چند ہی فن کار ایسے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ،اس مضمون کو پوری کام یابی کے ساتھ برتا اور پل صراط پر ڈگمگائے بغیر اس منزل کو عبور کیا ہے بہر کیف یہ بات بلا تامّل کہی جاسکتی ہے کہ شموئل احمد نے اس معرکے کو نہ صرف بہ آسانی سر کیا ہے بل کہ داد تحسین بھی وصول کی ہے۔

(یہ بھی پڑھیں انتظار حسین کے افسانوں کا اسطوری بیانیہ-ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی )

منٹو کے بعد کوئی بھی فن کار اگر جنس کے موضوع پر خامہ فرسائی کرتا ہے تو اُس پر بلا چوں و چرا منٹو کی نقالی کا الزام لگ جاتا ہے اور جب ایک بار غلط تاثٔر افسانہ نگار کے تیئںقاری کے ذہن میں قائم ہوگیا تو ہمیشہ اس کے فن اور شخصیت سے وہ تأثرچمٹا رہتا ہے۔یہ غلطی اکثرناقدین حضرات سے سرزد ہو جاتی ہے ۔ہمارے ادب کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ فن پارے کی باگ ڈور ناقدین کے ہاتھ میں ہے۔جن فن کاروں کو اپنے فن پارے سے تسلی نہیں ہوتی، وہ ناقدین کا سہارا لے کر سستی شہرت کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔سردست ایک بات صاف طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ناقد،فن کار کی تمام تحریروں کو بالاستیعاب نہیں پڑھ سکتاجب کہ فن کار کی تخلیقات کی کئی منزلیں آتی ہیںاوراُن کے فن میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے خواہ زبان و بیان کے اعتبار سے ہو یا موضوع وہیئت کے حوالے سے۔ہم عصر فن کاروں کی طرح شموئل احمد بھی جنسیت اور منٹو کی نقالی کے الزام سے نہ بچ سکے لیکن ان کے افسانوں اور ناولوں کا بالا ستیعاب مطالعہ کیا جائے تو قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دونوں کے موضوعات الگ ہیں ۔یوں بھی اردو زبان میں لفظ ’’جنس‘‘ کا استعمال محدود معنوں میں ہوتا رہاہے۔شموئل احمد نے ایک عام انسان کی جنسی جبلت کو موضوع خاص بنایا ہے جہاں پورا سماج اس رنگ میں رنگا ہوا نظر آتا ہے ۔ان کے خیال میں جنس ایسی انسانی جبلت ہے جس سے نظریں چرانا یا صَرف نظر کر نا انسان کے بس کی بات نہیں ۔ایک فن کار تو اس سے صرف نظر کر ہی نہیں سکتا ۔

شموئل احمد کے تا ہنوزچار افسانوی مجموعے،ایک خود نوشت سوانح اور تین ناول منظر عام پر آچکے ہیں۔اس مضمون میں ان کے ناولٹ سے بحث کی گئی ہے۔ اس ناولٹ کا بیانیہ مربوط ہے،موضوع الگ ہے ،ساتھ ہی ناولٹ کی اجزائے ترکیبی میں پوری طرح پیوست ہے ۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ناولٹ پر سیر حاصل گفت گو کی جائے تاکہ تفہیم کی راہیں ممکن ہوسکیں ۔اس ’’ندی‘‘کو خاص اہمیت حاصل ہے جسے انہوں نے 1993میں لکھا اورداد تحسین وصول کی۔اس ناولٹ کو شموئل احمد نے چار اَبواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلے باب میں اردو کے اکثر ناولٹ اور افسانوں کی طرح کہانی کو فلیش بیک کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔یہ تکنیک اردو اور دوسری زبانوں میں اس لیے بھی زیادہ مروّج ہے کہ اس تکنیک کے ذریعہ پلاٹ کو بہ آسانی تیار کیا جا سکتا ہے ۔اس تکنیک میں فکشن رائٹر کسی بھی واقعے سے اپنی کہانی کی ابتدا کرتا ہے اور رفتہ رفتہ ماضی کی یادوں میں گم ہوکر کہانی بیان کرتا ہے اور اخیر میں اسی نکتہ پر کہانی کو ختم کردیتا ہے۔بہ ہر حال شموئل احمد کے ناولٹ ’’ندی ‘‘ کے ابتدائی سطور حالیہ بیانات سے متعلق ہیں جو کردار کو ماضی کی یادوں میں لے جاتے ہیں۔ملا حظہ ہو:

’’وہ حسب معمول پیٹھ گھما کر لیٹ گیا تھا اور وہ اُسی طرح چت لیٹی چھت کو گھورنے لگی تھی۔۔۔۔دفعتاً اس کو اپنا اس طرح چت لیٹے رہنا انتہائی ذلت آمیز لگا ۔۔۔۔کسی شکست خوردہ آدمی کی طرح چاروں خانے چت لیٹ جانا جیسے اُس کا مقدر ہے۔۔۔۔اور خود وہ کسی فاتح کی طرح۔۔۔۔۔

ناولٹ کے ابتدائی جملے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ شوہر،اپنی بیوی سے عدم توجہی کا شکار ہے جس کا شکوہ عورت کرکے پریشان ہے اور ماضی کی یادوں میں گم ہو جاتی ہے ۔شوہر کے اندر جس جمالیاتی حسّ کا فقدان ہے ،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بل کہ پہلی دوسری ملاقات ہی میںہی اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا جب اُن دونوں کی غیر رسمی ملاقات کسی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی تب میزبان یعنی اس لڑکے نے ارادتاً یا غیر ارادی طور پر لڑکی کی ٹیبل کی جانب بڑھا تھا اور مزید کھانے کے لیے اصرا ر کر رہا تھا ۔تبھی لڑکی کے پاپا نے اس کا تعارف یہ کہہ کر کرایا تھا کہ میری بیٹی یوجی سی اسکالر ہے۔لڑکے نے مسکراتے ہوئے آہستہ سے سر کو خم کیا تھا تو وہ بھی جواباً مسکرائی تھی ۔اس دوران وہ اُس کو اچھی طرح دیکھ لینے میں کام یاب بھی ہوگئی تھی۔آنکھیں گول گول اور چھوٹی تھیں ،رنگ سرخی مائل تھا،بھنویں گھنی اور لمبی تھیں،چہرے کے بانکپن میں ہلکا سا روکھا پن بھی شامل تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ گیمنس انڈیا میں انسپکشن انجنٔر تھا۔تقریب سے رخصت ہونے سے قبل اُس نے اپنا پتا بھی بتا دیا تھا کہ وہ فریزر روڈکے گرینڈ اپارٹمنٹ میں رہتا ہے۔وہ گھر پہنچ کر خوش گوا رموڈ میں تھی اور رات کی تنہائی میں دن کی باتوں کو سوچ سوچ کر فرحت و انبساط کی کیفیت سے گذر رہی تھی۔دوسری صبح بھی وہ فرحت و انبساط کی کیفیت سے سرشار تھی۔اس نے یونی ورسٹی سے لوٹتے ہوئے برٹش کاؤنسل لائبریری سے کچھ کتابیں لیں اور کچھ رسائل خریدنے کے لیے چوک تک آئی تھی تو اُس کے قدم خود بہ خود فریزر روڈ کی جانب بڑھ گئے ،شاید وہ غیر ارادی طور پر اپارٹمنٹ دیکھنا چاہتی تھی کہ رو بہ رو اُسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ۔باتیں ہوا کیں اور اس طرح باتوں کا سلسلہ اور گھر آنے جانے کا سلسلہ چل پڑا ۔تنہائی کے لمحات میں یوجی سی اسکالر نے محسوس کیا کہ وہ لاشعوری طور پر اس کی منتظر رہتی ہے خصوصاً اس وقت جب وہ لان میں تنہا ہوتی ہے۔ایک دن اچانک وہ لان پہ آدھمکتا ہے جب کہ پا پا گھر پر موجود نہیں ہوتے ہیں ۔تب دونوں لان کا چکر لگا کر انواع واقسام کے پھول دیکھتے ہیں جس سے لڑکے کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ لڑکی گلاب کی قسمیں یوں بیان کرتی ہے:

’’گلاب کی قسمیں تو آپ نے دیکھی ہی نہیں ۔۔۔۔یہ دیکھیے کرشچن ڈائر،ورگو پیس فرسٹ پرائز،پیرا ڈائز ، ایفل ٹاور،سینچوری ٹو،لیڈی ایکس،ڈبل ڈی لائٹ۔۔۔۔یہ رہا مسٹر لنکن‘‘۔

اس کے جواب میں وہ فقط ’’بھئی کمال ہے!‘‘ پر ہی اکتفا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔کچھ دن گذر جانے کے بعد پا پا کی ملاقات ،اس شخص سے اسی چوراہے پر ہوتی ہے تو وہ گھر پر لنچ پر دعوت دیتا ہے۔جب پاپا بیٹی جاتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ گھر قرینے سے سجا ہوا ہے گویا تمام اشیا اپنے صحیح جگہ پر ہونے کی گواہی پیش کر رہی ہوں۔وہاں سے گھر واپسی پر وہ کچھ پریشانی محسوس کرتی ہے اور اُسے ایسا لگتاہے اس کے پا پا نے اسی گاودی شخص کے ساتھ اُس کے ہاتھ پیلے کرنے کا عزم مصصم کرہی لیا ہے تو وہ پا پا کی تنہائی اور اُن کی پریشانی سے ڈر سی جاتی ہے لیکن خوف و دہشت کااب کوئی فائدہ نہیں ۔جدائی کا تو ایک دن معین ہے۔

ناولٹ کے دوسرے باب میں شموئل احمد نے نکاح ،شب زفاف اور ہنی مون کا ذکر تفصیلی طور پر کیا ہے ۔یہ ناولٹ کا اصل حصہ تو نہیں البتہ دوسرے ابواب کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس باب کا ذکر غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا۔اس باب کے تحت ناولٹ نگار نے ہنی مون کا ذکر تفصیلی طور پر کرتے ہوئے نیپال میں پھیلے قدرتی مناظر اور ہندو دیو مالا ئی عناصر کو بیان کر کے وسیع مطالعے کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ بھی کہ ناولٹ نگار نے اس سرزمین کو بہت قریب سے دیکھا اور اُن کی تہذیب و ثقافت کے بنیادی عناصر کو محسوس کیا ہے۔ان تمام باتوں سے قبل ناول نگار نے شب زفاف کا ذکر اختصار سے کیا ہے تاکہ تمام واقعات ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں۔شب زفاف کے مو قع پر بیوی یہ سوچ کر حیرت زدہ رہ جاتی ہے کہ اس کا شوہر کس قدر جلد باز ہے اور ساری رات بات کرنے کے بہ جائے فوراً دست درازی پر اتر آتاہے۔یہ بات اس کے مزاج کے خلاف ہے۔اسی ادھیڑ بن میں ایک دو دن گذر جاتے ہیں کہ لڑکی کے پاپا نے ہنی مون کے موقع پر کٹھمنڈو کے لیے دو ٹکٹ بُک کرادیے ہیں ۔کٹھمنڈو کے خیال سے وہ پھڑک اٹھتی ہے کیوں کہ بچپن میں وہ وہا ں جا چکی ہے۔وہاں کے سر سبز وادیوں کی یادیں اس کے ذہن میں اب تک محفوظ ہیں ۔ہنی مون کے دورانِ قیام وہ سمجھتی ہے کہ اس کا شوہر اُس سے بے اعتنائی برت رہا ہے اور حد درجہ خود غرض بھی ہے اور اس رویّے نے اُسے جھنجھلا کر رکھ دیا ہے ۔وہ ایسا محسوس کرتی ہے کہ وہ ہنی مون کے لیے نہیں آئی ہے بلکہ ذہنی اذیت سے جھوجھ رہی ہے اور قید بامشقت کی زندگی گزار رہی ہے۔یہیں سے اُن دونوں کی مخالفت شروع ہوتی ہے۔ان دونوں کے مزاج میںکافی فرق ہے۔ ایک مناظر فطرت کی دلدادہ ہے تو دوسرے کو ان چیزوں سے کوئی دل چسپی نہیں۔ایک میں فنون لطیفہ کی ساری خوبیاں بھری پڑی ہیں تو دوسرا ان سب چیزوں سے ماورا۔

ناولٹ کے تیسرے باب تک آتے آتے دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی متضاد شخصیت کو صاف طور پر محسوس کر تے ہیں ۔ ساتھ ہی قاری بھی اس الجھن میں ہے کہ آئندہ وہ کون سے اقدام اٹھائے جائیں گے جن سے دونوں کی زندگی میں اعتدال کی صورت پیدا ہو سکے گویا اب ناول اس مقام پر آپہنچا ہے کہ تجسس کی کیفیت پیدا ہو۔کٹھمنڈو سے گھر پہنچ کر بیوی کا موڈ یوں تو آف رہتا ہی ہے لیکن پاپا کا فون آتے ہی اس کے اندر خوش گواری کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔پاپا نے فون کرکے لنچ پہ دعوت دی ہے ۔شادی کے بعد پا پا سے پہلی ہی ملاقات میں اسے احساس ہوتا ہے کہ پاپا کی صحت خراب رہنے لگی ہے ۔اسے اپنا کمرہ اور اس کی تمام اشیا اداسی اور دھند میں ڈوبی نظر آتی ہے ۔لنچ کے بعد بیوی کی اصرار پر وہ ریستوراں میں بے دلی سے جاتا ہے جہاں شوہر اور بیوی نے صاف طور پر محسوس کیا کہ دونوں کے مابین کائی زدہ دیوار حائل ہوگئی ہے۔وہ کبھی یہ سوچتی کہ جان بوجھ کر شادی کر کے اس نے یہ غلط قدم اٹھایا ہے جب کہ شادی سے قبل ہی اُسے معلوم تھاکہ وہ ایک گاودی شخص ہے،زندگی جینے کاحسن اس کے اندر نہیں کے برابر ہے۔اس کے بعد بھی وہ شادی کے لیے راضی ہوگئی۔آخر کیوں؟شاید اس لیے کہ اس نے ایک بار مردوں کی طرح جست لگا کر اُسے حادثے سے بچایا تھا اور اسی تحفظ کے احساس نے اسے شادی کے لیے راضی بھی کر لیا تھا لیکن شادی کے بعد یہ راز کھلتا ہے کہ کہ وہ ایک انسان نہیں بل کہ روبوٹ ہے جسے عورت کی پاسداری کا ذرا بھی خیال نہیں۔اسی لیے دونوں کے مابین بحث و تکرار کی صورت حال پیدا ہوتی رہتی ہے گویا یہ ان کی زندگی کی معمولات میں شامل ہو۔شوہر فقط اصول و قوانین کی باتیں کرتا ہے اور انہی اصولوں پر چل کر سکون محسوس کرتا ہے جب کہ بیوی ان اصولوں کی مخالفت کرتی ہے۔اس کے بہ قول:

’’اصول۔۔۔۔اصول کا مطلب ایک محدود دائرے میں جینا ہے جب کہ زندگی اپنے دامن میں ایک وسیع کائنات رکھتی ہے ۔اصول کی عینک سے ہم زندگی کا حسن نہیں دیکھ سکتے ۔اصول کی عینک سے ہم صرف اپنے عقائد کا حسن دیکھتے ہیں ۔۔۔۔اصول اور روایت میں ہم اپنے کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔۔۔تحفظ کا یہ احساس دراصل ہمارے عدم تحفظ کا ہی احساس ہے جس سے لا شعوری طور پر گزرتے رہتے ہیں‘‘۔

ایک کو موسیقی ،مصوری ،مناظر فطرت اور سیر وتفریح سے حد درجہ دل چسپی ہے اور اپنی زندگی سے کوئی Compromise نہیں کرنا چاہتی تو دوسرا اصول کا پابند ہے اور اپنے بنائے ہوئے حصار سے باہر نکلنا ہتک ومعیوب سمجھتا ہے ۔دونوں کو ایک دوسرے کے اصول سے حد درجہ چڑ ہے ۔کبھی کبھی دونوں ایک دوسرے کا دل رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے کام تو آجاتے ہیں لیکن بے دلی کی دیوار ہمیشہ اُن کے ما بین حائل رہتی ہے۔

ناولٹ کے آخری حصے میںیوجی سی اسکالر اپنے ماحول کے ارد گرد گھٹن محسوس کر تی ہے اور اب اس کے لیے جینا اس لیے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ اس کا شوہر اور ساتھ ہی اس کے معمولات زندگی ،اس کی زندگی سے چمٹ گئی ہے ۔اب وہ تنہائی میں رہنا زیادہ پسند کرتی ہے ۔اس کے خیال میںاحتجاج کی یہی ایک صورت ہے ۔جب وہ غصے میں چور ہوتی ہے تب بھی اس کے شوہر کو توفیق نہیں ہوتی کہ اس کی خیریت دریافت کرے کیوں کہ اس کے پاس جذبات اور جمالیاتی حسّ کا فقدان ہے ۔اب اسے یہ بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ اس سے فاصلہ چاہتی ہے اور یہ راحت اُسے تب محسوس ہوتی ہے جب اُس کا شوہر آفس سے گھر پر لنچ پر نہیں آتا۔ایسی صورت میں ایک لمبے وقفے کے لیے تما م طرح کی جھنجھٹوں سے آزاد ہوتی ہے،کھل کر جیتی ہے ،حتیٰ کہ اُسے سانس لینے میں بھی کسی طرح کی دشواری نہیں ہوتی ۔کبھی اسے یہ بھی لگتا کہ وہ اڈجسٹ کر رہی ہے اور وہ سوچتی کہ اس کا شوہر بھی اڈجسٹ کرے تو جینے کا لطف دو بالا ہوجائے۔کبھی سوچتی:

’’یہ اڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔۔۔۔یہ موت کا عمل ہے۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ مر رہی ہے۔۔۔۔وہ اپنی داخلیت میں مر رہی ہے ۔۔۔۔اس کے اندر پڑی ہوئی کوئی چیز مرجھانے لگی ہے۔۔۔۔آہستہ آہستہ اس کی آزادی سلب ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ اب حصار میں جی رہی ہے‘‘۔

اس کا شوہر اصولوں کے خول میں مقید ہے اور کولہو کے بیل کی طرح عقیدے کی رسّی میں بندھا ایک محدود دائرے میں چکر کاٹ رہا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ہر عورت اپنے جسم میں الگ مرکز رکھتی ہے اور مرد کے سینے سے لگ کر سونے کی دیرینہ خواہش عورت کی جبلت میں ہے۔آتشیں لمحوں میں عورت کی آنکھیں اندھیرے میں بھی بند رہتی ہیں کیوں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل بے تعلق ہو جانا چاہتی ہے۔یہ سب ہوتے ہوئے اس کے شوہر کو ان تمام چیزوں کا مطلق علم نہیں ۔اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ ،اسے استعمال کر رہا ہے اور اس کام کے لیے سنیچر کی رات کا انتخاب کیا ہے جب کہ عورت کے مزاج کے خلاف یہ بات ہے کہ وہ استعمال ہو۔وہ استعمال ہونا نہیں چاہتی اور مرد فقط اسے استعمال ہونے کی چیز سمجھتا ہے۔یہی سب سوچ کر اُسے لگتا ہے کہ ریسرچ کا کام کرنے سے ہی اس کا ذہن دوسرے کاموں میں بٹا رہے گا اِسی لیے وہ تمام کتابیں سوٹ کیس میں پیک کرکے پاپا کے پاس جانے کا حتمی فیصلہ کرتی ہے اور عملی جامہ بھی پہناتی ہے ۔

شموئل احمد کا یہ ناولٹ انسانی رشتوں کی پاسداری،شادی کے بعد عورتوں کی زندگی کا دوسرا پہلو اور مَردوں کی جانب سے ہونے والی بے اعتنائی کے خلاف احتجاج ہے۔یہاں عورت کھلے طور پر مزاحمت تو نہیں کرتی البتہ اس کے اندر مزاحمتی رویّہ ضرور ہے لیکن شوہر پرستی کا خیال کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتی ہے گویا وہ ایک مکمل مشرقی عورت ہے جس کے لیے معاشرے نے ایک حد مقرر کیا ہوا ہے۔مزاحمت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ عورت سب کچھ سہہ کرخاموش رہنا اور اپنے شوہر سے دور دور رہنا زیادہ پسند کرتی ہے اور دوسری یہ کہ وہ گھر کا تالا بند کرکے،چابی پڑوسی کے حوالے کر کے ،اپنے شوہر کو بنا کچھ بتائے اپنے پا پا کے پاس چلی جاتی ہے۔ناولٹ نگار نے عورت کے متلی ہونے کے ساتھ کہانی کو اختتام تک پہنچایا ہے کہ عورت کو اپنا ماضی اور حال سوچ کر متلی آتی ہے اوروہ باتھ روم کی طرف بھاگتی ہے،ساتھ ہی وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا شوہر جگ چکا ہے جو کہ خلاف قیا س ہے۔شوہر کے بارہا پوچھنے پر وہ کچھ بھی جواب دینا گوارا نہیں کرتی ہے۔قے آنا یا متلی آنا اس بات کی بھی علا مت ہے کہ اس کے پیٹ میں بچہ پرورش پا ر ہا ہے اور وہ حاملہ ہے۔عورت یہ سوچ کر بھی پریشان ہے کہ کیا آنے والے بچے کو اپنے قالب میں ڈھال پائے گی یا وہ بھی باپ کی طرح مشینی زندگی گذارے گا اور اپنی ماں کی قدروں کا احترام نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہوا تو عورت کی حیثیت کیا رہ جائے گی۔یہاں ناولٹ نگار نے ایک سوالیہ نشان قائم کیا ہے ۔ناولٹ نگار کا یوں ناول کو اختتام تک پہنچا نا ابسن کے ڈرامے ’’دی ڈالس ہاؤس‘‘ کی یاد دلاتا ہے جہاں نُورا بھی مزاحمت کرتی ہے اور شوہر سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے گھر کا دروازہ زور سے بند کرتی ہے۔

شموئل احمد کے اس ناولٹ کا بنیادی حوالہ ازدواجی رشتے سے ہے۔یہ ناولٹ در اصل ایک مشینی زندگی کے تحت مرداورعورت کے ختم ہوتے رشتے کااستعارہ ہے ۔دومتضاد کیفیت کاباہمی تصادم اوراس کے ذریعے ختم ہوتی ،بکھرتی اورٹوٹتی ازدواجی زندگی کاالمیہ ہے ۔ مردجومشینی زندگی کی علامت ہے ،وہ اسی خوش فہمی میںمبتلاہے کہ یہ رویّہ اس کی زندگی میں شادمانی وکامرانی عطاکرے گاجب کہ عورت اس کرب کوبری طرح جھیل رہی ہے ۔دیویندراسرنے اس حوالے سے نہایت موزوں بات کہی ہے ۔ ان کے بہ قول:’’ندی ایک مرداورایک عورت کے انٹی میٹ رشتے کی داستان ہے جوجنسی کشش سے شروع ہوتی ہے اورروحانی کرب میں ختم ہوتی ہے ۔‘‘

لڑکی کوشادی سے قبل ہی اس بات کااحساس ہوچکاتھاکہ اس کے ہونے والے شوہر کے بانکپن میں کہیں ہلکاساروکھاپن بھی شامل ہے اورپے درپے ملاقاتوں کے بعدپورے طورپراس طرح کاتأثرابھراتھاکہ وہ ایک دم گاودی قسم کاآدمی ہے ۔اسی لیے وہ بات بات پر گھڑی کوتکتارہتاہے اوراپنی مشغولیت کاپتابتاکررعب جماناچاہتاہے ۔چوبیس گھنٹے میں صرف ایک بارچائے پیتاہے اوروقت کی پابندی کاہمیشہ تذکرہ کرتاہے جب کہ لڑکی بارباریہی کہتی ہے کہ پابندی حسّ کوختم کردیتی ہے ،آدمی آہستہ آہستہ کنڈیشنڈ ہونے لگتاہے اورپابندی آدمی کوکھل کرجینے نہیں دیتی ۔وہ ہمیشہ یہی محسوس کرتی ہے کہ وہ شخص عجیب گاودی قسم کاہے ۔باربارگھڑی دیکھتارہتاہے ۔ گھر آنے سے قبل فیصلہ کرلیتاہے کہ کتنی دیربیٹھے گا۔ بات کرنے کااس کے پاس کوئی موضوع نہیں ہے۔ موسم کالطف اٹھانے سے بھی قاصرہے ۔ اسی طرح مہاماری کامنظرنامہ بالکل سیاسی ہے ۔ سیاستی ہتھ کنڈے ،سیاست دانوں کی پالیسیاں اوربی جے پی کی اقلیتوں کے تئیں شدت پسندی کواس ناول میں موضوع بنایاہے ۔ ساتھ ہی ایسے شخص کے لیے جس کاماضی بالکل سپاٹ ہے جواس میدان میں کود پڑنے کے بعدبے داغ نہیں نکل سکتاہے ۔ اس کی واضح مثال فہیم الدین شیروانی ہے جسے شروع میں تویوں محسوس ہوتاہے کہ وہ جس ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہے اُس میں سرتاپاعیاری ، مکاری اوردھوکے بازی عام ہے اورہرشخص ایک دوسرے کے پٹّے سے بندھاہواہے ۔ اگر اوپروالاآفیسرپٹّہ کستاہے تواس کااثردوسرے کار کنان پربھی پڑتاہے اورپوری ٹیم متحرک ہوجاتی ہے ۔ شیروانی کوان تمام اصولوں سے ابتدامیں چڑتھی لیکن رفتہ رفتہ وہ اس کاعادی ہوجاتاہے اوریہی وجہ ہے کہ وہ اونچے مقام پرفائز ہے ۔ناول’’گرداب‘‘کی بات کریں تو یہ ناول ساجی کی داستان عشق پر محیط ہے۔ساجی ایک خوش حال زندگی گزار رہی ہے لیکن سپنوں کے راجکمار کے کرایہ دار کی صورت میں آنے سے اس کی زندگی تہس نہس ہوجاتی ہے۔وہ نئی زندگی کی چاہ میں کرائے دار سے شادی رچاتی ہے،گھر بار چھوڑتی ہے اور بالآخر موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتی ہے۔وہ کمار کو دیکھ کر ایسی ایسی حرکتیں کرنے لگتی ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ساجی نے اپنی حالت خود ہی ایسی بنائی ہے۔وہ صرف مسٹر کمار سے ملنے کی حیلے تلاش کرتی ہے۔اس کردار کے ذریعہ شموئل احمد نے نفسیاتی حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ جن عورتوں کی شادیاں پسند کی نہیں ہوتی ہیں،اُن میں مَن کے بھیتر ایک خوابوں کا شہزادہ بسا ہوتا ہے اور زندگی کے کسی موڑ پر اُن کے آجانے سے عورتوں کا نفس صدق و کذب کے مابین پستا رہتا ہے۔

ناولٹ کے اجزائے ترکیبی کی بات کریں توشموئل احمدنے ناولٹ کے اجزائے ترکیبی کابھی خاص خیال رکھاہے خواہ وہ منظرنگاری ہو، واقعہ نگاری یاجزئیات نگاری۔ منظرنگاری کی بات کریں توشموئل احمدنے ’’ندی ‘‘کے لیے ایل ٹی سی گھاٹ کے منظرکواپنے اندازمیں بیان کیا ہے جہاں پرندے چہچہارہے ہیں ،کھجورکی ڈالیاں ہوامیں زورزورسے جھوم رہی ہیں ،مچھوارے جال پھینک رہے ہیں اورنائو مسافروں کولے کر گھاٹ سے کھل رہی ہے ۔ اس منظرکوبیان کرکے ناول نگارنے ندی کے استعاراتی مفہوم کووسیع تناظرمیں بیان کرنے کی سعی کی ہے اورمکمل طورپرکامیاب بھی ہوئے ہیں ۔منظرنگاری کے ماسواجزئیات نگاری کی بات کریں توانھوںنے ناولٹ کے مروّجہ اصول کی پاسداری کرتے ہوئے کام یابی سے برتاہے ۔باپ بیٹی جب، اس کی دعوت قبول کرتے ہوئے جب گھرجاتے ہیں تولڑکی ہرایک حصہ کوبہ غور دیکھتی ہے جیسے اس کویقین ہوکہ وہ آئندہ اسی گھرمیں رہنے والی ہے ۔ملاحظہ ہوں جزئیات نگاری کے چند جملے:

’’وہ گھوم گھوم کرفلیٹ دکھانے لگا۔ ڈرائنگ روم اِل کی شکل کاتھاجس کے کنارے کاحصہ ڈائننگ اسپیس کاکام کررہاتھا، دوبیڈ روم ایک راہ داری سے جڑے تھے ۔ بیڈروم کادروازہ بالکنی میں بھی کھلتاتھا۔بیڈروم صاف ستھراتھا۔ پلنگ پرہلکے آسمانی رنگ کی خوب صورت پرنٹ والی چادربچھی ہوئی تھی ۔ ایک طرف شیلف پرکتابیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔نیچے کے خانے میں چارپانچ جوڑے جوتے ترتیب واررکھے ہوئے تھے جس پرپالش چمک رہی تھی ‘‘۔

مجموعی طورپریہ بات صاف طورپرکہی جاسکتی ہے کہ شموئل احمدنے افسانوں کے علاوہ ناولٹ نگاری میں فنی ہنرمندی کاثبوت پیش کیاہے اورموضوعات کی سطح پرایسے موضوعات کاانتخاب کیاہے جس پردوسروں کی نظرنہیں جاتی یااگرجاتی بھی ہے تووہ اس کے بیان سے قاصرہے کیوں کہ شموئل احمدنے اس کرب کوبہ ذات خودجھیلاہے اوریہی وجہ ہے کہ انھوںنے ذاتی کرب کولافانی شاہکاربنادیاہے۔

٭٭٭

 

نوٹ: مضمون نگار آر کے ہائ اسکول، چندوا، لاتیہار(جھارکھنڈ) میں اردو کے استاد ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثشموئل احمدندی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں