Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
گوشہ خواتین و اطفال

تعلیمِ نسواں:تاریخ اور عصری تقاضے – ڈاکٹرعبدا لرزاق زیادی

by adbimiras ستمبر 29, 2020
by adbimiras ستمبر 29, 2020 0 comment

کسی بھی سماج کی تعمیر و تشکیل میں افراد کی حیثیت انسانی جسم میں دل کی سی ہوتی ہے۔اگر افراد صحیح ہوں تو سماج کاصحیح اور درست ہونا لازمی ہے۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برخلاف ہو یعنی افراد سماج ہی ناکارہ و نا درست ہوں تو پھر سماج کی کیا صورت حال ہو سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سماج کی تعمیرو ترقی کادارو مدار اس کے افراد پر رکھا جاتا ہے۔افراد سماج جس قدر کامیاب و کامراں ہوں گے وہ سماج اتنا ہی کامیاب اور ترقی یا فتہ تصور کیا جائے گا ۔عام طور پر جب بھی سماج اور سماجیات کی بات ہوتی ہے تو اس کے افراد کو ہم صنف قوی اور صنف نازک دو حیثیتوں میں تقسیم کر کے دیکھتے ہیں اور یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ مردو زن ہی اس کے دو ایسے عناصر ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی اگر کمزور پڑ گیا تو سماج کی تعمیر و تشکیل نا مکمل رہے گی۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ پورے سماج کی کامیابی و کامرانی کا انحصار در اصل انھیں دونوں عناصر کی فوز و فلاح اور تعمیرو ترقی پرہے۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی اساس اور بنیادیں ہیں جن پر سماج اور افراد سماج کی تعمیر و تشکیل ممکن ہو سکتی ہے؟ وہ کونسی راہیں ہیں جن پر گامزن ہو کر سماج اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟وہ کون سا نسخہء کیمیہ ہے جس کو اپنا کر افرادسماج ہر طرح کی ترقیوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں؟ ۔۔۔؟۔۔۔؟ظاہر سی بات ہے کہ ان تمام سوالوں کا جواب آج بھی وہی ہے جو چو دہ سو سال پہلے تھا اور وہ ہے صرف اور صرف تعلیم ۔یعنی حصولِ تعلیم ہی میں ان تمام سوالوں کا جواب مضمر ہے۔

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ہر دور میں وہی قومیں سب سے زیادہ کامیاب و کامراں اور ترقی یافتہ رہیں جو تعلیم میں سب سے زیادہ آگے تھیں۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پوری انسانیت کی تعلیم کے لیے اسلام نے بھی جو طریقہ اختیار کیا وہ یہی تعلیمی طریقہ تھا۔ اسلام کا سورج جب طلوع ہوا اور اس کی ضیا پاش کرنیں پوری دنیا کو روشن کرنے لگیں تو اس نے اپنے ماننے والوں پر سب سے پہلے جو امر نافذ کیا وہ تھا تعلیم یعنی علم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ تاکہ امت مسلمہ جہالت کی تاریکیوں سے آزاد ہو سکے اور علم کی روشنی میں نہ صرف سانس لے سکے بلکہ پوری دنیا میں ایک کامیاب اور ترقی یافتہ قوم کی شکل میںابھر سکے۔اسلام کا یہ خواب شر مندہء تعبیر بھی ہوا اور وہ قوم جو ’’بدو‘‘ تھی اور بدوئیت جس کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہی تھی اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے کے بعد نہ صرف ایک پاکیزہ اور مقدس قوم کی حیثیت سے سامنے آئی بلکہ پوری دنیا کے لیے ہمیشہ ہمیش کے لیے نظیر اور نمونہ بن گئی۔ اللہ کے رسول ، صحابہء کرام ، تابعین عظام، تبع تابعین اور ا ن کے بعد کے ادوار کی روشن اور تابناک تا ریخ ہمارے سامنے موجود ہے۔

مگر اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اس کا حکم پہلی وحی کے ساتھ دیا گیا بلکہ مذہب اسلام کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ صرف تعلیم و تعلم سے ہی متعلق ہے اور اس میں حصول علم اور علم والے کی قدرو قیمت جگہ جگہ اجاگر کی گئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ کتب ا حادیث میں سے شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو گی جس میں باب العلم کے نام سے کوئی باب موجود نہ ہو اور جس میں تعلیم و تعلم اور معلم و متعلم کی اہمیت و فضیلت نہ بیان کی گئی ہو۔بلکہ بعض بعض حدیثوں میں تو تعلیم حاصل کرنے کو عبادات پرترجیح دیا گیا ہے اور ان تمام احکام وفضائل میں مرد دوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام میں حصول علم کا حکم مرودوں کے لیے ہی ہے اورصرف مرد ہی تعلیم حاصل کر لے تو یہ سب کے لیے کفایت کر جائے گا تو میرے خیال سے اس کا یہ خیال درست نہیں۔کیونکہ اسلام کے جو بھی احکامات ہیں ان پر عمل پیرا ہونا عورتوں کے لیے بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے جتنا کہ مردو ں کے لیے ،سوائے اس کے کہ ان میں سے کسی کے لیے کوئی تخصیصی حکم الگ سے نہ آگیا ہو۔حصول علم کے حوالے سے بھی یہی بات ہے یعنی اس کے حصول کے جو احکام ہیں وہ صرف مردوں کے لیے نہیں بلکہ مردو خواتین دونوں ہی کے لیے یکساں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ کے رسول ﷺنے صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ اپنی تمام تر ازواج مطہرات کو زیور علم سے اس حد تک آراستہ و پیراستہ کیاکہ ہجرت مدینہ کے بعد ایک طرف جہاں اصحاب صفہ تھے تو وہیں دوسری جانب خواتین کی پہلی مرکزی درسگاہ حضرت عائشہ صدیقہ کی تعلیم گاہ قرار پائی اور جہاں سے مردو زن دونوںہی نے یکساں طور پر اپنی علمی تشنگی بجھا ئی اور مسائل کا حل تلاش کیے۔

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ خلفائے راشدین کا زمانہ ہو یا عہد بنی امیہ یا پھر دورِ عباسی، ہر ایک میں تعلیم مرداں کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں پر بھی توجہ دی گئی اور دونوں ہی کی علمی صلاحیتوںکو تسلیم کیاگیا ۔ یہاں تک کہ ان ادوار میں مردوںوخواتین کے علاوہ غلام اور کنیزوں کو بھی کسی سے پیچھے نہیں رکھا گیا ۔خود ہندوستان میں جب مسلمان آئے اور یہاں ان کی حکومت قائم ہو ئی تو مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین نے بھی تحصیل علم کی جانب توجہ دی اور اس کی بدولت وہ نہ صرف ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں بلکہ بہت سی دینی و غیر دینی در سگاہیں بھی قائم کیں ، انھیں اپنے خون جگر سے سینچا اور مسلمانوں کی کامیابی کے لیے راہیں ہموار کیں۔سلطانہ رضیہ کے معزیہ و ناصریہ مدرسے، بی بی رضیہ بیگم کا اپنا ذاتی مدرسہ اور ہمایو ں کی بہن گل بدن کے علمی کارنامے اس کی واضح مثالیں کہی جا سکتی ہیں جو ہماری تاریخ کا حصہ ہی نہیں بلکہ یاد گار بھی ہیں۔

لیکن 1857ء کے بعد ہندوستان کی سطح پر جو حالات رونما ہوئے اس نے نہ صرف یہ کہ پوری انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ اس کے اثرات تمام علوم و فنون پر بھی مرتب ہوئے اور ہرمیدان میں تعمیرو تشکیل کے ایک نئے دور کاآغاز ہوگیا۔ کشمکش کے اس دور میں،دیگر مسائل سے قطعِ نظر، جدید تعلیم کے جھنڈے تلے جس مسئلے کو سب سے زیادہ مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ یہی تعلیم نسواں تھی۔بہت سے لوگوں نے جدید تعلیم اور بالخصوص تعلیم نسواں کی نہ صرف کھل کرمخالفتیں کیں بلکہ ان کے حصول پر کفر کے فتوے تک صادر کر دیے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عہد کے سب سے بڑے انسان اور دانشور سر سیدبھی تعلیم نسواں کی اس طرح وکالت و حمایت نہیں کر سکے جس طرح کہ انھوں نے لڑکوں کے لیے کی تھی اور انھیں ہر طرح کی تعلیمات سے مزین کرنے کے لیے اپنا سب کچھ لُٹا کر مدرسہ ، کالج اور یونیور سٹی تک قائم کر ڈالا تھا۔شایدیہ اس وقت کے حالات کا جبر ہی تھا جس سے وہ بھی باہر نہیں نکل سکے ۔ لیکن باوجود اس کے اس عہد میں بھی کچھ لو گ ایسے تھے جو ہر حال میں لڑکیوں کی تعلیم چاہتے تھے اور ان کی خواہش کے بقدر لڑکیاں بھی اعلی تعلیم کے حصول کی راہ پر گامزن تھیں۔ میرے خیال سے لڑکیوں کا یہی وہ تعلیمی رجحان اور جدید تعلیم کی طرف ان کی پیش قدمی تھی جس کو دیکھ کر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

قوم نے ڈھونڈ لی فلاح کی راہ

یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین

پر دہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

ان اشعار سے ہر گز یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اکبر الہ آبادی بذات خود جدید تعلیم اور تعلیم نسواں کے مخالف تھے۔اگر ایسا ہوتا تو وہ خود مغربی تعلیم سے آراستہ ہوکر بیرسٹری کے پیشے سے منسلک نہ ہوتے اور ان کی اولاد جدید تعلیمی میدان میں اس قدر آگے نہ ہوتیں۔یہ تو ان کا شاعرانہ لب و لہجہ ہے جس میں کہ انھو ں نے اس عہد کی بھر پور تصویر کشی کی ہے۔بہر حال غدر کے بعد ہندوستان کی سطح پر جو حالات رونما ہوئے اور جدید تعلیم اور تعلیم نسواں کو لے کر جو مخالفتیں ہوئیں اس کی وجہ سے آنے والے ادوار میں اچھے برے اثرات بھی مرتب ہوئے اور بعد کے لوگوں میں بھی دونوں ہی ذہن کے لو گ سامنے آئے۔ مگر جب وقت کچھ اوربدلا اور لوگوں کو جدید تعلیم کی اہمیت وافادیت کا اندازہ ہو گیا تو انھوں نے لڑکوں کے لیے جدید تعلیم تو قبول کر لی مگر لڑکیوں کے لیے اب بھی وہ شجر ممنوعہ ہی بنی رہی ۔ لیکن لوگ اپنے اس موقف پر بھی زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکے اوروہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی جدید تعلیم کی حمایت کرنے لگے اور بیسویں صدی کے نصف اول تک آتے آتے تو ہندوستان کا تعلیمی نقشہ ہی بدل گیا۔ اس وقت کے جو زمیندار اور پڑھے لکھے لوگ تھے ،جنھیں آج ہم طبقہء اشرافیہ کے نام سے مو سوم کرتے ہیں، ان کا رجحان غیر معمولی حد تک جدید تعلیم اورنسواں کی طرف ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاںمردوخواتین دونوںہی میں حصول علم کا رجحان ملتا ہے ۔ پھر طبقہء اشرافیہ کی دیکھا دیکھی دیگر طبقات کے لوگ بھی جدید تعلیم اور تعلیم نسواں کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس طرح بدلتے ہو ئے حالات نے جدید تعلیم اور تعلیم نسواں کے مخالفین کو بہت زیادہ دنوں تک اپنے موقف پر قائم نہیں ر ہنے دیا اور نتیجتاً وہ بھی تعلیم نسواں کے قائل ہوگئے اور پھر لڑکوں کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ لڑکیاں بھی اسکول پہنچ گئیں اور تعلیم نسواں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔

لیکن باوجود اس کے تعلیم نسواں کی طرف اس نوع سے پیش رفت نہیں کی گئی جس طرح سے کہ ہونی چاہئے تھی۔ آج ملک کے آزاد ہوئے کوئی نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر پھر بھی ہماری تعلیمی حالت میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آج بھی ہم تعلیمی پسماندگی کے شکار ہیں۔جب ہم اپنے علاقے کے تعلیمی منظر نامے اور بالخصوص مسلمانوں کی شرح تعلیم پر نظر ڈالتے ہیں توبڑی مایوسی ہوتی ہے بلکہ سر جو ڑ کر رو لینے کا دل کرتا ہے کیونکہ ابھی بھی تعلیم نسواں کی نہ صرف کمی ہے بلکہ سرے سے فقدان ہے۔ وقت اور زمانے کی تمام تر ترقیوںکے باوجود ہمارے یہاں وہ تعلیمی نظام اور تعلیمی ماحول نہیں بن پایا ہے جس کی اس دور میں حد درجہ ضرورت ہے۔ دنیا کہاں تھی اور کہاں نکل گئی ہمیں اس کا اندازہ تک نہیں ہے اور ہو بھی کیسے جب کہ ہم نے اپنی پرانی روایتوں کو نہ چھوڑنے کی قسم کھا رہی ہے۔ ہمارے آباء و اجداد اگر کسان اور مزدور پیشہ تھے تو ہماری بھی یہی کو شش ہوتی ہے کہ ہم بھی انھیں پر قائم رہیں۔ ہم نے تو پہلے سے ہی یہ طے کر لیا ہے کہ ہم اپنے آبائی پیشہ و کام کو چھوڑ کر کچھ اور کام یا نو کری پیشہ نہیں اختیار کریں گے اور نہ ہی ہمیں کوئی نوکری و ملازمت مل سکتی ہے۔گویا ہم نے پہلے سے ہی سوچنے سمجھنے اور غور وفکر کرنے کے تمام تر دروازے اپنے لیے بند کر رکھے ہیں اور اسی لمحہ فکریہ نے ہم کو ناکامی و نامرادی کے اس دہانے پر پہنچا دیا ہے جہاں سے ہمیں کامیابی و کامرانی اور ترقی و عروج کی کوئی راہ نہیں دکھائی دیتی ہے اور ہم کولہو کے بیل بنے بیٹھے ہیں۔

مگر یہ اور اس طرح کی سطحی و گھٹیا سوچ دیگر اقوام میں کم ہے ۔ بلکہ ان کا تو یہ نعرہ ہے کہ ’’آدھی روٹی کھائیں گے پھر بھی اسکول جائیں گے‘‘ یعنی ان کے پاس اگر کچھ بھی کھانے پینے کا نہ ہوتب بھی وہ اسکول جائیں گے اور تعلیم حاصل کریںگے۔کیا یہ امت مسلمہ کے لیے لمحہء فکریہ نہیں ہے؟ کیا اسے اپنے افکار و اعمال پر دو بارہ غور و فکر نہیں کرنا چاہئے ؟کیا علاقے کے ذی علم حضرات اور دانشوران کو ا ن مسائل و معاملات پر غور وخوض نہیں کرنا چاہئے؟کیا علماء و خطباء کو اپنی تقاریر میں اس طرح کے مباحث کو موضوع بحث نہیں بنا نا چاہئے؟کیا جمعہ و نماز کے بعد ہونے والی تقاریر و مواعظ میں عوام کو ان امور کی طرف نشاندھی نہیں ہونی چاہئے؟ ۔۔۔؟۔۔۔؟  یقینا ہونی چاہئے اور خوب ہونی چاہئے ۔ کیونکہ اگرنہیں ہوتی ہے تو علاقے کی تباہی و بر بادی اور پسمناندگی و گھٹیاپن کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم ہیں۔ آج ہمیں نہ صرف اپنے افکار نظریات پر نظرثانی کرنے یعنی اپنی ThinkingپرRethinking کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں اپنے تعلیمی رویے کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ آج بھی اگر ہم اپنی قدیم روش پر قائم رہے تو یقین جانئے کہ ہمیں کبھی بھی کوئی کامیابی ہاتھ نہیں آسکتی ہے اور ہماری آئندہ نسلیں ان سے بھی بد ترحالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو ںگی جن سے آج ہم گزر رہے ہیں۔ لیکن اس کے بر خلاف اگرہم نے اپنا رویہ بدل لیا اور ہم نے بھی زمانے کے شانہ بشانہ چلنا سیکھ لیا تو یقین مانئے کہ ہمارے لیے بھی وہی مواقع ، کامیابیاں و کامرانیاں اور عزت و اقتدارہیں جو ہم دیگرلوگوں ، دیگر جماتوں، دیگر تنظیموںاور دیگر قوموں کے یہاں رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذر ا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی

اس تعلق سے بہت ساری مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن اس کی سب سے عمدہ مثال ہندوستان ہی کے وہ علاقے اور مسلم خانوادے ہیں جن میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کیاجاتا ہے اور ان کے بچے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہندوستان کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں بالخصوص جامعہ ملیہ اسلامیہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد، الہ آباد یونیور سٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی ،مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی یا پھر اس جیسی دیگر اعلیٰ تعلیم گاہوں کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں اور اپنے عزائم میں کامیاب ہو رہے ہیں او ر پھر وہاں سے نکلنے کے بعد وہ مختلف مدرسوں، اسکولو ں،کالجوں ، یونیورسٹیوں، دفتروں، اوراسپتالوںوغیرہ میں اپنے اپنے اعتبار سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور دیگر اقوام کی طرح وہ بھی ایک باعزت سماجی زندگی گزار ر ہے ہیں ۔

لیکن غیر مسلمین کے مقابلے میں ابھی بھی ان مسلم لڑکیوں اور خواتین کی تعداد گنی چنی ہے اور گاؤں دیہات میں تو ان کا  معاملہ ہی کچھ اور ہے بلکہ اب بھی وہ مدرسوں سے باہر نہیں نکل پا رہی ہیں۔ایک وقت تھا جب کہ گاؤں دیہات میں ناظرہ قران تک کی تعلیم حاصل کرلینے پرلڑکیوںکوتعلیم یافتہ تصور کیا جاتا تھا مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ان کے تئیں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ انھیں کسی طرح مدرسوں تک بھیج دینا ہی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی خیال کیا جاتا ہے ۔یہ معاملہ بھی پورے ہندوستان کے گاؤں ودیہات کا نہیں ہے بلکہ یہ تو محض اس علاقے اور صوبے کی داستان پارینہ ہے جہاں سے ہمار ا اور آپ کا تعلق ہے اور جہاں کے لوگ ہمہ وقت ہر طرح کے جائز و ناجائز کام انجام دینے کے لیے تیار رہتے ہیں مگر جب بچوں کو اسکول بھیجنے کی بات آتی ہے تو اس کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ دیگر صوبوں کے دیہی علاقوں میں بھی تعلیم کے تعلق سے کم و بیش شہروں جیسا ہی حال دیکھنے کو ملتا ہے۔ بلکہ ایک اعدادوشمار کے مطابق صوبۂ  کیرالہ کا تعلیمی تناسب صد فی صد ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس صوبے میں بڑے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں ودیہات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح وہاں تعلیم کے باد ل لڑکے اور لڑکیا ں دونوں ہی پر یکساں طور پر برستے ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف شمالی ہندوستان میں صرف چار سے چھ فی صد ہی خواتین خواندہ ہیں۔ اس تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم اپنے علاقے کو دیکھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے یہاں تعلیم نسواں کو کس قدر فروغ حاصل ہے اور ہماری مسلم خواتین تعلیمی ، سماجی اور رفاہی کاموں میں کس حد تک کار گر و کا ر آمد ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج ہم جس وقت اور زمانے میں سانس لے رہے ہیں وہ پہلے کے مقابلے میں بہت بدل چکا ہے اور اس بدلے ہوئے زمانے اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم جدید تعلیم اور تعلیم نسواں کی اہمیت وافادیت کو سمجھیں اور کتاب و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انھیں بھی دنیاوی ا ور اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کریں ۔ آج اگر ہم اپنے سماج کو ظلمت وجہالت اور غلط رسم ورواج سے پاک و صاف کرناچاہتے ہیں تواس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم مرَداں کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کی طرف توجہ دیں اور لڑکوں کے شانہ بہ شانہ لڑکیوںکو بھی ہرطر ح کے علوم و فنون سے روشناس کرائیں خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی اورپیشہ ورانہ ہو یا غیر پیشہ ورانہ،تاکہ وہ بھی ہر طرح کے علوم وفنون کے میدان میں آگے بڑھ سکیں او ر خود کو لڑکوں کی طرح ہمارے سماج و معاشرہ کے لیے مفید اور کار آمد ثابت کرسکیںاوراپنے گھروخاندان کے اوپر ایک بوجہ نہ بن کے اپنے آپ کو اقبال کے اس شعر کے مصداق ٹھرا سکیں   ؎

وجود  زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی میں سوز دروں

اور بقول اکبر الہ آبادی   ؎

تعلیم عورتوں کو بھی دینی ضرور ہے

لڑکی جو بے پڑھی ہو وہ بے شعور ہے

 

 

 

                                                       جواہر لعل نہرو یو نیورسٹی، نئی دہلی۔67

     Mob.No.:09911589715

E-mail: arziyadi@gmail.com,

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثتعلیم نسواں
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
آئینہ خانے کے قیدی سے – عمیق حنفی

یہ بھی پڑھیں

مضبوط اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل میں ماں...

جون 6, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

ہندوستانی معاشرے میں دین کے نام پر خواتین...

جنوری 3, 2026

بچوں کو تعطیلات میں مشغول رکھنے اور شخصیت...

جولائی 9, 2024

ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم کردار’بیگم سمرو‘...

دسمبر 16, 2023

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی آواز اور...

دسمبر 5, 2023

بھارت میں ماحولیاتی تبدیلی: بحران کے” "تخفیف میں...

اکتوبر 20, 2023

چلو جنگل سے باتیں کرتے ہیں !! –...

جولائی 2, 2023

عالمی یوم خواتین اور خواتین کی قدر شناسی...

مارچ 7, 2023

مسلمانوں میں عورتوں کی تعلیم کا آغاز- حدیثہ...

جنوری 21, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,055)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (540)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (207)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,143)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں