ادبی معاشرے میں بعض مفروضات مسلّمات کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں ۔پہلا یہ کہ مقبول شاعر ادبی اعتبار سے لازماً کمزور ہوتا ہے۔اگر شہرت مشاعرے کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے تو یہ ادبی شناخت کے لیے اعتبار کے درجے سے گرنے کا ضامن ہے ۔مشاعروں کو بنیاد بنائیں تو یہاں ایک اصول پہلے سے موجود ہے کہ جو شاعر ترنّم اور نغمگی کے ساتھ آگے بڑھا، وہ مشاعرے کے دیگر شعرا کے مقابلے میں ادبی پہچان کے حوالے سے کم تر قرار دیا جائے گا ۔ایک اصول یہ بھی رائج ہے کہ سر گرم سیاست میں جو شخص پہنچے گا ،وہ ادبی پیمانۂ صفات میں پستی کی طرف گرتا جائے گا ۔اگر کسی کو سیاست یا سماج کا اونچا منصب حاصل ہو گیا تو اس شخص کو فوری طور پر ادب کے تمام معاملات اور معیارسے دور مانا جائے گا ۔ یہ بھی اصول کہیں کہیں کام کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ جس شخص نے مسلّمہ ادبی اسکولوں کی زبان سے روگردانی کی اور عوامی زبان یا بولی ٹھولی کے علاقے کی سیّاحی شروع کر دی تو سمجھ جائیے کہ وہ بھی طبقۂ ملامتیہ میں شامل ہو جائے گا۔
بیکل اتساہی کی طویل ادبی زندگی پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالیے تو یہ تمام ادبی اصول ایک ساتھ ان پر کچھ اس طرح ضربِ مسلسل کی طرح معلوم ہوتے ہیں جیسے ہم کسی ادبی مجرم کی شناخت میں سر گرداں ہوں۔ ادب اور قبولِ عام، ادب اور معاشرتی ذمہ داریاں،ادب اور سیاست کا رشتہ، ادب اور منصبِ اعلا،ادب اور عوامی زبانیں جیسے ہر مورچے پر ہمارے پاس ایسے بنے بنائے اصول اور سوالوں کے جواب موجود ہیں کہ ادبی تاریخ نویسوں کو کسی شخصیت یا امر کی جانچ پرکھ کے لیے نئے سرے سے غور و فکر کی اکثر ضرورت نہیں ہوتی ۔اسی مرحلے میں مفروضات بھی حقائق یا اصولیات کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں اور نہ جانے کتنے سچّے خدمت گاروں یا ادبی نسلوں کا اس دائرے میں خون ہوتا ہے ۔کمال تو یہ ہے کہ ہمیں افسوس بھی نہیں ہوتا کہ کتنوں کے ساتھ انصاف سے پَرے جا کر کام کیا گیا ۔اکثر ان مسلّمات کا ایسا جبر ہوتا ہے کہ نئے سرے سے چیزوں کی جانچ کرنے اور ادبی سرمائے کا بالاستیعاب مطالعے کی توفیق بہت کم لوگوں کے حصّے میں آتی ہے ۔اس سے ایک بڑا ادبی طبقہ بار بار نقصان اٹھانے کے لیے مجبور ہوتا ہے ۔
ہمارے ادبی معاشرے میں جس طرح غیر ضروری طور پر قبولیت کے لیے بعض اصول قائم ہیں، اسی طرح ادبی دائرے سے باہر رکھنے کے بھی کچھ اصول بنے بنائے ہوئے موجود ہیں ۔اصولوں کی موزونیت پر بحث کم سے کم ہوتی ہے مگر ان پر بھینٹ چڑھانے کے لیے ہم زیادہ مستعد نظر آتے ہیں ۔ادبی تنقید کی ناانصافیوں اور خاص طور سے نام نہاد مسلّمات کی بَلی چڑھانے کا کچھ ایسا سلسلہ قائم ہے کہ اس میں عام لکھنے والوں کی تو کچھ آبرو رہ جاتی ہو گی مگر وہ لوگ جن کے یہاں کچھ نیا تجربہ سامنے آیا اور جنھوں نے اپنے ادب یا زندگی کو شعر میں کچھ اس طرح سے فروغ دیا جو اُن اصولوں سے مخالف سمت میں راستہ پا گئے؛ اب ان کی شامت آ گئی اور انھیں ادب کے نقاد یا مورخ نے ہمیشہ کے لیے بھلانے کی مہم شروع کر دی ۔
بیکل اتساہی ہمارے ادبی معاشرے کے قتیل ہیں ۔وہ سر گرم سیاست کا حصّہ رہے ،وہ مشاعروں میں بڑے شاعر کی حیثیت سے نمایاں رہے ،انھوں نے سکّہ بند ادبی زبان کے مقابلے علاقائی بولیوں کو اپنی زبان کا حصّہ بنائے رکھا ۔حد تو یہ ہے کہ بیکل اتساہی کو غزل کے مقابلے میں گیت کی فضا زیادہ راس آئی ۔یہ بھی کہ جو غزلیں کہیں یا نظمیں پیش کیں،ان پر بھی گیتوں کا سایہ قائم رہا ۔مشاعروں کی مقبولیت کے باوجود انھوں نے وقتاً فوقتاً رسائل کی طرف بھی توجہ کی مگر وہ رسائل کے صفحات پر اس طرح روشن نہ ہوئے جیسے ان کے مقابلے کم مشہور شعرا کے یہاں معمول کے ساتھ یہ بات نظر آ رہی تھی ۔وقفے وقفے سے ان کی کتابیں بھی آتی رہیں مگر ان میں سے کئی کتابوں کے نام تو ایسے ہیں جن سے ہمارے بڑے ادبی نقادوں کو’ اردو باہر‘ کا گمان گزرے گا۔ اس وجہ سے ادبی مباحث میں بالعموم بیکل اتساہی کی شاعری اور ان کی کتابوں کو بہ مشکل جگہ ملی ۔اس قدر شہرت اور اچھے خاصے ادبی سرمائے کے باوجود وہ کم وبیش اب تک unevaluatedہی رہے اور دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ان کی شخصیت اور شہرت پر جیسے جیسے وقت کی گرد چڑھتی جائے گی،ان کی شناخت کے لیے یہ توقّع کی جاتی ہے کہ ایک سازگار فضا قائم ہوگی اور ان کے ادبی سرمائے کا انصاف پسندانہ احتساب ممکن ہو سکے گا ۔
ادبی تنقید نے کئی صدیوں سے بہت سارے معقول لکھنے والوں کے کاموں پر بے سر پیر کے غیر معقول اصولوں کی بنیاد پر خطِ تنسیخ کھینچنے کا کام کیا ہے ۔یہ حلقہ اتنا طاقتور رہا ہے کہ ان کے جبر سے ادبی تاریخ کے نہاں خانے میں کیسے کیسے جواہر پارے گم ہو گئے اور ہمیں خبر ہی نہ ہوسکی۔ کمال یہ ہے کہ جب جسے چاہا،ایک الگ منطق پیدا کر دی اور انھیں حاشیے تک پہنچا دیا ۔تھوڑے سے ایسے فن کار ہوئے جنھوں نے ادبی تنقید کے ظلم وستم کے باوجود اپنی شناخت تسلیم کرانے میں بالآخر کامیابی حاصل کی ۔بیکل اتساہی ایسے ہی خوش نصیب شعرا میں شامل ہیں جنھیں ادبی تنقید کی بے اعتنائی کے باوجود اپنے ادبی شناخت نامے کے لیے مقابلہ کرنے میں کامیابی ملی ۔ان کی شاعری پر گاہے بہ گاہے چند نقادوں نے مضامین لکھے ۔ایک رسالے نے اچھا خاصا خصوصی شمارہ شایع کیا اور تھوڑے بہت متفرقات کا سلسلہ چلتا رہا مگر یہ بات تو کہنے کی ہے ہی کہ انھیں Mainstream writingمیں وہ اہمیت نہ حاصل ہو سکی جس کے وہ حق دار تھے ۔بہت سارے معمولی شعر،ا ترقی پسند اور جدیدیت کے مبلّغ اور کرتب باز فن کاروں کو معمولی کاموں کے باوجود تنقیدی پھول مالائیں بہت ملیں مگر مشاعروں کی مقبولیت اور سیاسی سر گرمیوں کی وجہ سے بیکل اتساہی بالعموم راندۂ درگاہ ہی رہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں شکیل اعظمی کی بن واسی شاعری- ڈاکٹر صفدر امام قادری )
بیکل اتساہی کے نام کا غیر اردو پن بھی بہت سارے لوگوں کے لیے نا پسندیدہ رہا ہو گا ۔فصاحت کے دربار میں تو یوں بھی ایسے الفاظ، تراکیب یا مشتقات کے لیے ناموںمیں روایتاً بہت محدودجگہ تھی ۔پھر وہ ٹھہرے دو آبۂ گنگ و جمن کے پورب کے رہنے والے ۔لفظیات بھی ایسی گڑھی جس میں پوربی بولیوں کا فیضان صاف صاف جھلکتا ہو ۔اصنافِ سخن کے انتخاب میں بھی گیت اور نعت یا غزل نما گیت یا گیت نما نظمیں پیش کر کے بیکل اتساہی نے ہماری ادبی تنقید کو کھلے بندوں شعور کی آنکھیں کھولنے اور نئے اصول گڑھنے کی دعوت دے رکھی تھی ۔اگر ان کی شخصیت کی نفاست اور شعر میں کلاسیکی رچاو کی بنیاد یں مضبوط نہیں ہو تیں تو انھیں کوئی پہچان شاید ہی ملتی ۔رفتہ رفتہ ان کی طرف ادبی نقادوں نے بھی توجہ کی تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اجتہادات کے باوجود وہ اپنے روایتی آداب کی وجہ سے قابلِ غور سمجھے گئے ۔
بیکل اتساہی کی مقبولیت اورعام و خاص میں پہچان کے لیے بالعموم اُن کی سریلی آواز اور مشاعروں کی طاقت کا تذکرہ ہو تا ہے مگر یہ بات قابلِ غور ہے کہ بیکل کے علاوہ اس زمانے میں درجنوں ایسے اصحابِ ترنم موجود تھے جو اُن پر سبقت لے جا سکتے تھے۔کئی شعر ا طرح طرح کے تجر بے کر کے بھی اپنی جانب سب کو متوجہ کررہے تھے مگر بیکل کا یہ کارنا مہ ہے کہ انھوں نے ہماری شاعری کی ایک نئی زبان خلق کرنے کی کوشش کی ۔اس نئی زبان میں انھوں نے دو آبے کی پوربی بولیوں کا لہو شامل کیا اور دوآبہ کے سکّہ بند مغربی لہجے کو زائل نہیں ہو نے دیا ۔یہ کا م ان کے بزرگوں میں نہ میراجی سے ہوا تھا اور نہ جمیل الدین عالی سے ممکن ہوسکا۔ہماری شاعری کی زبان تاریخ کے عظیم کرداروں کے فیضان سے کچھ اتنی مستحکم ہو گئی تھی جسے وقت کے عمومی زور سے بدلنا مشکل تھا۔میرؔ کی غزل کے بعد ہماری شاعری میں ایسا کو ن سا فرد سامنے آیا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ وہ شعر کی حاصل شدہ زبان میں کوئی بنیادی تبدیلی کر رہا ۔غالب ،اقبال ، فیض، ظفر اقبال سے لے کر عرفان صدیقی تک؛ سب کے یہاں فارسی اور عربی وراثتوں کا عرفانِ عظیم ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔جب ایک ہی شاعر دو صنفوں کی طرف بڑھتا ہے تو کبھی کبھی نئی صنف کے تقاضوں میں خود کو نئے سرے سے ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ایسی حاشیائی پیش رفت سے شاعری کی زبان بدلنے کا یا اس میں اپنی سطح پر بنیادی تبدیلی پیش کرنے کا نہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بڑا کا م لیا جا سکتا ہے۔
بیکل اتساہی نے اپنی شعرگو ئی میں یہ بنیادی تجربہ کیا کہ غزل ہو یا نظم ، گیت ہو یا نعت گوئی ؛ہر کا م میں زبان کے حاصل شدہ سرمائے پر اکتفا کرنے کے بجائے نئے وسائلِ زبان اور ان میں بنیادی تبدیلیوں کی کو شش ہونی چاہیے۔زبان نئی ہو یا پرانی با کمال تخلیق کار اسے اپنی تخلیقات کے لیے نئے سرے سے گڑھتا ہے۔ بیکل اتساہی نے جن تین بنیادی صنفوں میں کا م کیا ،ان کے لسانی تقاضے الگ تھے۔غزل کی زبان،نظم کا انداز اور گیت یا نعتوں کی لسانی بنیادیں یکساں نہیں ہیں ۔بیکل اتساہی نے ان میں اپنے اجتہاد سے کچھ مختلف رنگ واضح کرنے کی کوشش کی ۔وہ ایک نئی زبان اور نئے انداز کو ہماری شاعری کا حصّہ بنا رہے تھے ۔اس بات کے وہ خود آشنا بھی تھے۔اپنی چند غزلوں میں انھوں نے جو اپنا شناخت نامہ پیش کیا ہے، وہ کچھ اس طرح ہے:
سنا ہے مومن و غالب، نہ میر جیسا تھا
ہمارے گاؤں کا شاعر نظیر جیسا تھا
بساطِ شعرو سخن دسترس میں تھی اس کے
وہ بادشاہ مگر مجھ فقیر جیسا تھا
حصارِ قید و سزا توڑ کے نکل آیا
مگر وہ بعدِ رہائی اسیر جیسا تھا
چھڑے گی دیر و حرم میں یہ بحث میرے بعد
کہیں گے لوگ کہ بیکل کبیر جیسا تھا
خود کو نظیر اور کبیر سے جوڑنا یہ بتاتا ہے کہ وہ کس انداز کی زبان اور مضمون کے خواب دیکھنے میں شاداں ہیں۔کبیر داس کا ابتدائی دور ہو یا اٹھارھویں صدی میں نظیر کے اجتہادات؛ اتنا تو طے ہے کہ بیکل اتساہی اردو زبان کے سکّہ بند انداز و اسلوب کے پیرو کا ر نہیں ہیں ۔ماہرینِ لسانیات یہ بات ہمیں اَزبر کر ا چکے ہیں کہ دو چار زبانوں کے الفاظ ایک دوسرے میں جوڑ کر کسی نئی زبان کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا ہوتا تو نئی نئی زبانیں گڑھنے والے قدم چار قدم پر با ٓسانی مل جاتے۔زبان کا نیا مزاج اس کے پس منظرسے ابھر کر سا منے آتا ہے جسے حقیقت میں تہذیب و ثقافت کی بنیاد پر کوئی فنکا ر کھڑا کرتا ہے۔ بیکل اتساہی نے اپنے پہلے مجموعے سے ہی اس بات کے ثبوت فراہم کر دیے تھے کہ وہ ایک مختلف اندازکی شاعری پیش کرنے کے تمنّائی ہیں۔یہ شاعری نفسِ مضمون کے اعتبار سے الگ تو تھی مگر اُ ن کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ تھا کہ وہ اپنے مضامین کے لیے اردو شاعری کی آزمائی ہوئی زبان پر قناعت نہ کریںاور ایک نئے لسانی ڈھانچے کی ترتیب و تزئین میں اپنی مشقّت لگائیں۔بیکل نے شاعری سے باہر قرار دیے گئے الفاظ ،اصطلاحات،تراکیب ، استعارے اور علامتیں شامل کر کے کچھ ایسا رنگِ شعر وضع کیا جسے پرانی اور ہم عصر شاعری سے مختلف ماننے میں کوئی تردد نہیں تھا ۔ممکن ہے، ادبی معیا ر کے اعتبار سے اُسے پچھلی شاعری سے بر تر شعری نمونہ قرار دینے میں بعض افراد کے لیے مشکل ہو مگر اس بات میں کسے پریشانی ہو سکتی ہے کہ یہ شاعری زبان کی سطح پر مختلف معلوم ہو تی ہے۔
بیکل اتساہی نے اپنی پہچان کے لیے نظیر اکبر آبادی کو یوں ہی حوالہ نہیں بنایا۔ان کی شاعری میں موسموں کے احوال از اوّل تا آخر بھرے پڑے ہیں ۔نظیر نے جاڑا ،گرمی ،برسات سے لے کر اُمس تک نظمیں کہیں ۔کیا بیکل اتساہی کی موسموں سے متعلق نظمیں نظیر اکبر آبادی کی نقّالی میں سامنے آئی ہیں؟اُن کی غزلوں میں بھی موسموں سے متعلق اشعار بھرے پڑے ہیں۔اگر بیکل اتساہی نے نظیر کے دو سو برس بعد ایسے مضامین کو عرضِ ہنر کا حصّہ بنا یا تو یہ بات غور سے سمجھ لینے کی ہے کہ یہ منظرنگاری یا انداز نظیر کے دہراو کے لیے نہیں ہے۔بیکل موسم اور فطرت کو اپنے بزرگوں کی طرح کم اور عصرِ حاضر یا آنے والی نسلوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں ۔عصرِحاضر کے مسائل جو صرف مقامی اور قومی نہیں،بین الاقوامی بھی ہیں؛ان پر بھی بیکل کی نگا ہ ہے۔جب اپنی پہچان وہ ہمارے گاؤں کے شاعر کے طور پر کرتے ہیں تو اسی کے ساتھ مسائل کی وہ سطح بھی سامنے آتی ہے جن کا سلسلہ گاؤں سے لے کر نیویارک ،واشنگٹن تک سے بھی ملتا ہے۔اس اعتبار سے یہ قابلِ غور بات ہے کہ بیکل اتساہی کے یہاں جدید ماحولیاتی تصوّر کی جھلکیاں ملنے لگتی ہیں۔بارش ،کھیتی ،سردی اور گرمی،غربت اور افلاس کو کیسے ایک دوسرے سے متعلق اور مربوط کیا جا ئے جس سے انسانی زندگی اور اپنے سماج یا ملک کی بہتری ممکن ہو سکے؛بیکل اتساہی کا یہ خاص موضوع ہے:
گھٹائیں جھوم کے برسیں، جھلس گئی کھیتی
یہ حادثہ ہے، بہ صد احترام لکھتا ہوں
زمین پیاسی ہے، بوڑھاگگن بھی بھوکا ہے
میں اپنے عہد کے قصّے تمام لکھتا ہوں
صحرا کی آگ پی کے سمندر سفر میں تھا
جب گاؤں جل رہا تھا، میں اپنے گھر میں تھا
نیم کی چھاؤں میں رہے بیکل
جیٹھ کی دھوپ بہترین لگی
خامشی: کرشن کے بنسی کے الاپوں کا سکوت
گفتگو ایسی کہ جمنا کی روانی کہیے
سیلاب کے دھاروں پر گھر اپنا بنایا تھا
میں ڈوب گیا لیکن ٹھہرے ہوئے پانی میں
بیکل اتساہی نے دنیا جہان کے سفر کیے۔سیاست ،ادب اور سماج کی ضرورتوں کے تحت بہت دور دراز کا سفر اور بڑے حلقے تلک پہنچے کے وسائل اختیار کیے مگر عام ترقی پسند مزاجِ شعر کے مطابق انھوں نے خود کو بین الا قوامی موضوعات کا مشّاق نہیں بنا یا بلکہ سارا زور مقامیت پر رہا ہے۔اس سے ان کے شعری مزاج کو صلابت اور پختگی حاصل ہوئی ۔یہ اس دور کے گاؤں کی شاعری ہے جس زمانے میں ہمارے فن کار شہری زندگی میں خود کو وقف کر چکے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں کہانیوں سے بھی گاؤں اور ا س تہذیب کے مظاہر ختم ہو رہے تھے۔مگر جب بیکل خو د کو گاؤں کا شاعر کہتے ہیں تو یہ صرف ایک فیشن پرست اور رومان زدہ تصوّر نہیں تھابلکہ یہاں گاؤں ایک طرزِرہائش اور زندگی کے وقار کا آئینہ ہے۔سماجی زندگی کا رتبہ بھی بالا تررہے۔بیکل کے یہاں گاؤں اسی سماجی فکر کے تابع نظر آتا ہے۔بہت سارے فنکاروں کے یہاں محض برائے تذکرہ یہ ملتا ہے مگر بیکل نے گاؤں کی پیش کش کے مرحلے میں شہر کاری کے دباو ٔ اور ترقی یافتگی کے کھیل تماشے اور جبر کے حوالے کو مرکزی موضوع بنایا ہے۔اسی لیے یہاں ایک ذہنی دباؤ اور ملک و قوم کی رفتارِ ترقی پر کچھ سوالات بھی نظر آتے ہیں ۔گاؤں کے لوگوں کی زندگی کی مشکل ڈگر اور رفتہ رفتہ ان کے لیے عرصہ ٔحیات کے تنگ ہوتے جانے کی پُرسوز کیفیت بھی بیان کے مرحلے میں ازخود چلی آئی ہے۔یہاں وہ نظیراکبر آبادی سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں ۔نظیر کے یہاں گاؤں کی ہر تہذیبی نشانی جشن میںبدل جاتی ہے مگر بیکل کے لیے تو صبر آزما کیفیت یہ ہے کہ گاؤں تہذیبی اکائی کے طور پر کس طرح بچے رہیں۔بیکل یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہ گاؤں بچے رہیں گے تب ملک کی تہذیب اور اسکی مشترکہ شناخت اور اس کے اطوار بھی ہماری مٹھی میں محفوظ رہیں گے ورنہ قدریں مٹّی میں مل جائیں گی یا شہروں میں ہم ایسے کھو جا ئیں گے جہاں سے ہمیں پاناکچھ نہیں ہے اور کھونے کے لیے اپنی شناخت تک داؤں پر لگی ہوئی ہے۔1950 کے بعد ابھرنے والی اردو شاعری میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر نظر آئے جس کا ذہن دیہی سماج کو اس قدر بڑے دائرۂ کا ر میں سمجھنے کے لیے آمادہ ہو۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
خاک ہی اپنا گھر آنگن ہے شہر ہو یا ویرانہ ہو
بنجاروںکو چل دینا ہے،چلنے کی تیاری کیا
محلوں کو جب توڑگرایا آندھی کے اک جھونکے نے
جانے کتنا یاد آیاہے گھر کچّی دیواروں کا
گلیوں ،سڑکوں ،لان کو تج کر چورا ہے پر بیٹھ نہ گوری
میں نے سنا ہے اخباروں میں لوگ تجھے جوگن لکھ دیں گے
آسودہ لوگوں کی چھت پر دھن دولت برسانے والے
بھوکے کنگالوں کے گھر بھی آٹا کچھ چاول برسے
ہیں اندھیروں کے بھی تن بدن دیکھیے،دیکھیے کچھ اجالوں کا فن دیکھیے
جھونپڑوں سے کہیں جو اٹھے گادھواں ،شیش محلوں کی دہلیز تک جائے گا
تپتے سورج کے سائے میں گاؤں کا روپ سجایا تھا
چاند کی شیتل چھاؤں ملی تو کھیت بکے کھلیان بکے
ہندستانی تہذیب و ثقافت کی پیش کش میں بیکل کے یہاں نظیر کی روایت سے استفادہ کی صورت میں جشن کی ذرا سی کیفیت سامنے آتی ہے۔نظیرؔ کے یہاں بنیاد ثقافت ہے اور افتاد رومانی ۔بیکل اتساہی کی طبیعت نظیر اکبر آبادی سے مختلف ہے۔اس لیے ہر وقت رومان کا ذوق ان پہ حاوی نہیں ہوتا۔بیکل کے یہاں رومانی اشارے اور زندگی کی عمومی کیفیت کی پیش کش تک ضرور موجود ہیں مگر ان کا استعمال وہ تہذیبی شیرازہ بندی کے لیے زیادہ کرتے ہیں ۔گاؤں میں عشق و عاشقی کے اب نئے دستور ہیں اور پرانی شاعری کے انداز سے ہمیشہ معشوق ہرجائی نہیں ۔عشق و عاشقی کے نئے موضوعات بھی اب معلوم ہیں۔دو سو سال میں زندگی اس قدر بدل چکی ہے کہ اسے گذشتہ اصولوں سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے یہاں رومانی کیفیت میں نظیر ؔ کی جشن پسندی نظر نہیں آتی بلکہ اس سے بڑھ کر یہاں زندگی کا وہ سوز ابھرتا ہے جس سے نئے تقاضوں کے ساتھ ہمارے لیے جینا اک طرف اگر مقابلہ آرائی ہے تو دوسری طرف جبر بھی ہے۔انھی دونوں دھاراؤں کی مبارزت میں بیکل اتساہی کی شاعری میں ایک انسانی سوز ابھرتا ہے جس کے بغیر دنیا میں کوئی بڑا فنّی نمونہ سامنے نہیں آسکتا۔محبت کے ان لطیف لمحوں کو بیکل ان لفظوں میں قید کرنا پسند کرتے ہیں :
نہ رابطہ نہ کوئی ربط ہی رہا بے کل
اس اجنبی کو مگر مَیں سلام لکھتا ہوں
کچھ ایسی ترے روپ کی چاندنی ہے
ستارے گھٹاؤں تلے چل رہے ہیں
لکھیں جاڑے کی سوندھی دھوپ ،اس کے روپ کا سایہ
پھر اس کی زلف میں کجرارے بادل لکھ دیا جائے
آج جو لمحہ ملے، پیار کی باتیں کر لے
وقت بے رحم ہے ،کل تیرا نہ میرا ہو گا
عشق ہے وہ دیوار کہ جس کی چھانو ملے تو دھوپ لگے
آنچ جلے اس پار مگر کچھ دل والے اُس پار جلے
بیکل اتساہی کے مزاجِ شعر کو اگر اصطلاحِ قدیم کا سہارا لے کر پیش کیاجائے تو کہا جا سکتا ہے کہ سادگی ان کامخصوص ہنر ہے۔غالب نے سادگی کے سا تھ پُرکا ری اور بے خودی کے ساتھ ہشیاری کی قدغنیں لگا رکھی تھیں۔بیکل سادگی کو ان مشکل جزیروں تک لے جانے کے قائل ہی نہیں ہیں۔بیان میں دلائل بھی سادہ لو حی کے غمّاز ہیں ۔زبان کو کسی مشکل راستے کا مسافر تو بیکل نے بنایا ہی نہیں۔گفتگو کے دوران موضوعات بھی سادگی سے بھرے ہوتے ہیں ۔عشق و عاشقی کے مضامین میں بہت پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔محبت میں ہا ر جیت تو یہاں بھی ہوتی ہے مگر زخم پانے میں بھی اور جان دینے میں بھی وہی سادگی ہے۔زندگی کے مسئلوں میں گتھے ہوئے کردار تو یہاں ملتے ہیں مگر ان کے حالات اور ان کی زندگی میں پیچیدہ اور ناگفتہ دیاروں اور تک پہنچ کر کوئی صورتِ حال نتیجہ خیز ہو، بیکل اتساہی وہاں تک ہمیں پہنچنے ہی نہیں دیتے۔گاؤں اگر سادگی کا نمونہ ہے تو بیکل اتساہی کی شاعری میں ہر اعتبار سے ویسے ہی کردار اور ویسی ہی زبان حاصل ہو گی ۔بیان اور طریقۂ کار کی سادگی آخر تک نبھا لینا اس بات کی دلیل ہے کہ بیکل اتساہی نے اپنے مزاج ِ شعرپہ کچھ ایسی قدرت پائی ہے جہاں زندگی اور فن دونوں انداز انھی کے رنگ میں رنگ کرپُر کیف اور مؤثر بن جاتے ہیں ۔اس سلسلے سے چند اشعار ملا حظہ ہوں:
پہلے میرے گیت وہ سُن کے شرماتے رہے
پھر انھی گیتوں کو تنہائی میں دہراتے رہے
اونچی اونچی بلڈنگیں نہیں
لوگ بے مکان ہو گئے
گانو میں غزل کو دیکھ کر
گیت سب کسان ہوگئے
بیان کی سادگی سے ہمیں سادگیِ نظر کا دھوکا نہیں ہو نا چاہیے۔بیکل سیا ست پیشہ رہے اور انھیں معلوم تھا کہ سیاست دانوں نے ہی ہمیں زندگی کے مختلف مورچوں پر بار بار ہرا یا ہے۔ملک اور قوم کے مسئلوں میں سیاست دان ایمان اور انصاف کے پہلو سے داغدار ثابت ہوئے ۔بیکل نے اپنی شاعری میں محبوب سے کم مگر سیاست دانوں سے زیادہ شکوہ و شکایت کے مواقع پیدا کیے۔بیکل کی شاعری کا طنزیہ اسلوب اکثر و بیشتر سیاست دانوں کے کاموں کے ارد گرد گھومتا ہے۔یہاں صرف لطیف انداز نہیں بلکہ کبھی کبھی مضمون کی شعلگی بھی ابھر آتی ہے۔مگر اکثر و بیشتر گفتار کے اسلوب پر قابو رہتا ہے اور بیکل اتساہی عام نرمی بھرا لہجہ اپنی بنیادی پہچان سے زیادہ دور نہیں جاتا۔کہنا چاہیے کہ بیکل نے طنز کا اک ایسا اسلو ب پیدا کیا جس میں بر افروختگی نہیں ہے،برہنگی نہیں ہے۔مگر فصیلِ وقت پہ وہ اپنا مخصوص بیان درج کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ذیل کے اشعار سے بیکل اتساہی کی شاعری میں موجود طنزیہ کیفیت سمجھی جا سکتی ہے:
ہر اختیار وقف تھا صیّاد کے لیے
لیکن خلوصِ ضبط مرے بال وپَر میں تھا
میں جشنِ خانہ خرابی کے اہتمام میں ہوں
یہ دیکھنا ہے مرے ہم خیال کتنے ہیں
پھول کچھ ایسے ملے جن کے جگر پتھّر کے تھے
اور کچھ قاتل ملے جو جانِ عالم ہی ملے
تشنگی کس کو کہا جائے ،یہی پوچھا تھا
بس اسی بات پہ روٹھے ہیں سمندر والے
ہم تو لفظوں کے خطاوا ررہے ہیں بیکل
جرم لہجے کا بتاتے رہے دفتر والے
میں تھا حق پر ،حق تھا مجھ میں،بس اسی ا ک بات پر
مفتیانِ وقت میری کھال کھنچواتے رہے
خود جلا ،گھر کو جلایا، پھر جلا یا گاؤں کو
اک دیے کے جلنے بجھنے کا یہ فن اچھا لگا
بیکل اتساہی کی زبان کی ایک خاص صفت ان کے خلق کردہ وہ خاص پیکر ہیں جن کی وجہ سے اُن کی شاعری کو الگ انداز کا محور مانا گیا۔ روایت سے ہمیں تشبیہات و استعارات، روز مرّہ اور پیکر تراشی کے ہزار ہا خزینے دستیاب ہیں۔ہر شاعری اپنی بساط بھر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جگہ جگہ اختراعات کی گنجا ئشیں پیدا کرتا ہے۔بیکل اتساہی نے اس سرمائے کو استعمال کرتے ہو ئے یہ کوشش کی کہ کچھ ایسی ترکیبیں اور کچھ ایسے پیکر بنا لیں جن کے بارے میں یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ انھیں کے خلق کردہ ہیں۔اپنی مخصوص علامتیں وضع کرنا،تشبیہات و استعارات کا ذاتی طور پیدا کرنا اور پیکر تراشی کے انوکھے نمونے تیار کرنا جیسے ادبی مرچوں پر بیکل اتساہی نے خود کو لکیر کا فقیر نہیں بنا یا۔ان کے پاس عوامی زندگی ،قصباتی پس منظر اور علاقائی بولیوں کا ایک سہہ رُخا ایساجادو گر تھا جس کے باہر انھیں اس کام کے لیے جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ انھوں نے جی لگا کر اسی پسندیدہ زمین میں ایسی فصل اگائی جس کی بدولت یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ بیکل اتساہی نے اپنی شاعری میںپیکر تراشی کے ذاتی پیمانے وضع کیے ہیںجنھیںپڑھتے ہو ئے بیان کا یہ ڈھب بار بار یہ ا علان کرتا ہے کہ یہ صرف اورصرف بیکل اتساہی کا ہی خلق کردہ ہو سکتا ہے۔اس لیے چند ایسے اشعار کو مطالعے کا حصّہ ہونا چاہیے جن میں زبان کا ایک زندہ ٔجاویدطور دیکھنے کو ملتا ہے:
بدن کی آنچ سے سنو لا گئے ہیں پیراہن
میں پھربھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں
ایسی کچھ تھی درِ مقتل پہ جھُکی شاخِ گلاب
ہاتھ باندھے ہی کھڑے رہ گئے خنجر والے
چٹّانوں کی ہتھیلی پر اُبھرآئی ہیں ریکھائیں
جبیں تک شیش محلوں کی یہی تحریر پہنچا دو
بیکل اتساہی کی پیکر تراشی کے امتیازی پہلوؤں پرگفتگو ادھری رہے گی جب تک ہم وہاں موجود حَرکی عناصر پر غور نہ کرلیں۔تصویر یا مجسمہ سازی کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے حسن کا جامد طورابھرتا ہے۔تاج محل ہو یا چاند ستاروں کی محفل ،جھیل کے کنارے سیم تن محبوبہ ہو یا آسمان اور بادل ہر تصویر اپنے جمود میں حسین معلوم ہو تی ہے۔وہ تصویر اگر آنکھوں میں بسی ہے تب بھی اس کی ہر آہٹ ایک منظر ہے۔بیکل اتساہی نے ایسی جامد تصویرں تو ہزاروں کی تعداد میں پیش کیں مگر اسی کے ساتھ ایسے دوڑتے بھاگتے اور چلتے پھرتے منظر نامے بھی بار بار ابھرتے ہیں ،جنھیں دیکھتے ہوئے رواں کیمرے کا تصوّر ابھرتا ہے۔جس انداز سے کائنات کی ہر شئے مدار پر رقص کنا ہے۔اسی طرح بیکل اتساہی کی شاعری میں قدرت کے مظاہر اپنے آپ میں ایک جلوۂ صد رنگ پیش کرتی ہے۔یہ حَرکی کیفیت کبھی کبھی ہمارے پچھلے مطالعے اور مشاہداتِ گذشتہ کو چیلینج کرتے ہوئے ہمارے امتحان پے در پے ہو تی ہے۔گذشتہ نصف صدی کی اردو شاعری میں فیض کے بعد بہت کم ایسے شعرا ہیں جن کے یہاں دوڑتے بھاگتے ایسے پیکر نظر آئیں۔یہ جب اتفاق ہے کہ یہاں اس شاعرانہ صفت کو زیادہ قابلِ غور نہیں سمجھا گیا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی مقبولیت نے ان کی شناخت پر پردہ ڈال دیا ہو۔
ہر ایک موڑ پر سادھوؤں کے بسیر،ہر اک راہ میں دیوتاؤں کے ڈیرے
ہر اک سمت دھونی رمائے اندھرے،کہاں جا رہے ہو سفر میں اکیلے
کھیت جلتے ہوئے جہاں دیکھے
وہ مرے گاؤں کی زمین لگی
دھوپ منڈیروں پر بیٹھی تھی ،سائے ہمارے ساتھ رہے
چاندنی جب آنگن میں اتری ،وہ بھی پسِ دیوار گئے
ہر مسافر میں تھی رہبری کی لَلک،کا رواں خود ہی لٹتا رہا بے جھجھک
راہ کی دھول گونگی بنی رہ گئی،کوئی آتا رہا ،کوئی جاتا رہا
چاندنی اپنی باہیں پسارے ہوئے ،لوریاں پر بتوں کو سناتی رہی
جھیل کی آنکھ میں نیند الجھی رہی ،اک کنول کا دیا جھلملا تا رہا
بجھا پائے نہ ہوں گے تشنگی جب چاند سورج کی
ستارے آکے دھرتی پر سمندر ہو گئے ہوں گے
میری جانب اجالے بڑھے،مرمریں بازؤں کی طرح
شہر میں بات پھیلی مری چمپئی خوشبوں کی طرح
بیکل اتساہی کے یہاں شعر میں قصّہ گوئی کے عنا صر بھرے پڑے ہیں۔ماضی کی یا د اور بھولی بسری کھوئی ہوئی زندگی کی طرف ان کا ایک رومانوی تعلق بار بار جھلکتا رہتاہے۔عام طور سے غزل نظم میں اکثر شعرا کے لیے قصّہ کہنا ممکن نہیں ہوتا مگر بیکل اتساہی نے اپنے مخصوص مضامین اور شعری کرداروں کی بدولت چھوٹے بڑے قصّے اپنے اشعار میں ڈھالنے میں کامیابی پائی ہے۔یہ آسان کام نہیں ہے کہ کوئی شاعر نثری روایتوں کو شعر میں شامل کر کے فتح یاب ہوسکے۔خطرہ یہ ہے کہ قصّہ حاصل ہو یا نہ ہو، شعر نا مرادی کے باب تک پہنچ جائے گا۔بیکل اتساہی نے اس وصف کا حسبِ ضرورت استعمال کیا اور اس توازن کو ہاتھ سے جانے نہ دیاجس سے شعر اور قصّے کے امتزاج کوگزند پہنچے۔گاؤں کی روایت سے بھی یہاں فیض اٹھا یا گیا ہے جہاں ہماری قصّہ گوئی کے زندہ کردار اپنا وجود رکھتے ہیں ۔زمانۂ حال کے ا حوال کے پہلو بہ پہلو ماضی کے قصّے شامل کرتے ہوئے پڑھنے والوں کو بیکل اتساہی نے ایک نیا ذائقہ فراہم کیا ہے۔
جدید اردو شاعری کی تاریخ میں بیکل اتساہی کی ایک خاص پہچان گیت کار کی بھی ہے۔صنفی اعتبار سے گیت کو اردو کی ادبی تاریخ میں قبولِ عام اور علمی وقار تو اب تک نہیں ملا ۔ مگر بیکل ایسے شعرا میں ہیں جنھوں نے عصرِحاضر میں اردو گیت نگاری کے امکانات تلاش کرنے میں دوسرے تمام کگیت کاروں کے مقابلے زیادہ کوششیں کیں۔بیکل کے گیت مشاعروں کے توسط سے عوام و خواص تک پہنچے۔گیت کی نئی فضا سازی کاکا م بیکل نے کچھ اس سلیقے اور اہتمام کے ساتھ کیاجس سے بیکل کی ایک خاص شناخت قئم ہوئی ہی ،اسی کے ساتھ اردو میں گیت نگاری کا نیا دور بھی ابھر کر سامنے آیا۔نئے پرانے گیتوں کے موضوعات پر بیکل نے اپنی دیوار ضرور کھڑی کی ،مگر اس پر نقش و نگار اور گُل بو ٹے کچھ اس انداز سے آویزاں کیے جس سے انھیں صنفی تصرّفات کے مواقعے ملنے لگیں۔جب ان کا مشہور گیت ’’آتجھے گیت کا اندازِ ترنّم دے دوں ‘‘پڑھتے اور سنتے وقت ایک سا تھ غزل نظم اور گیت کی کیفیات سامنے آجاتی ہیں۔صنفی حد بندیوں کو توڑنا عام شاعر کے لیے ناممکن ہو تا ہے۔اسی لیے بیکل اتساہی کے ادبی کاموں پر غور وفکر کرتے ہوئے اس مخصوص صنف ِسخن میں ان کے اختراعات پر خصوصی توجّہ لازم ہے۔
گیت ہندستانی زبانوں میں عوامی روایت سے حاصل شدہ وہ غنّائیہ ہے جس کے بطن میں صرف عشق و عاشقی کے فیضان اور شکست و ریخت کے منا ظر نہیں ۔محبوب کے دور چلے جانے اور بِرہن کے الاپ تک اس کی دنیا رہی۔اس صنف میں عہدِ قدیم سے ہی زندگی کے ہر طور کو شامل کرنے اور انسانی زندگی کی تمام کروٹوں کو، ایک ایک سانس اور دھڑکن کو شامل کرنے کا انداز موجود رہا۔عشق،ہوس ،شکوۂ محبوب،شکوۂ دہر اور دیر سب کے سب ہمارے گیتوں میں موجود ہیں۔یہ ایک ایسی بے پرو رہی ہے جس میں گیت کا کردار زندگی اور سماج کے ہر مورچے پر لڑ سکتا ہے اور ہار جیت سے بے خبر اپنی زندگی کی عام لَے سے بڑھتا جاتا ہے۔بیکل اتساہی گیت کی تاریخ اور تہذیب کے ایسے سچّے امین ہیں کہ انھوں نے آزمائے ہوئے کسی ایک مضمون کو بھی چھوڑا نہیں ۔کمال یہ ہے کہ درجنوں نئے موضوعات اور احوال اسی رنگ اور لہجے میں شامل کرتے چلے گئے۔اب اس میں کالی داس بھی ہیں اور میرا بھی ،سورداس بھی ہیں اور کبیر داس بھی، رسخان سے لے کر نظیر اکبر آبادی اور میر سے لے کر ابن انشا تک ؛تمام روایتوں کا لہو اور پھر بیکل کا اپنے تصرّفات ،بیکل کی اپنی دنیا ان کا اپنا عہد ،نئے نئے بنتے اور بگڑتے ؛بدلتا ہو ا ہندستان اور بھاگتی ہوئی دنیا، بیکل نے پوری چابک دستی کے ساتھ اس صنفِ سخن کو وسعتیں بخشیں اور اس کی تشکیل ِنو سے ہماری شاعری میں اضافے کیے ۔آج ہمارے لیے یہ ناممکن ہے کہ نئی گیت نگاری کا کوئی بھی تذکرہ بیکل اتساہی کے کلا م کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔چند مثالوں سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے۔
جیون کا ہر روپ بھیانک ہر دستور اندھیرا
عہد کا سلطاں قتل کا مجرم قاضی شہر لٹیرا
آنکھوں کا ہر دوار کشادہ دل کا آنگن تنگ
میں کس کے گیت لکھوں
چھوڑ ہمارا چھوٹ گیا ہے
لنگر کا گر ٹوٹ گیا ہے
جیسے مقدر پھوٹ گیا ہے
ہمّت خود گئی ہار رے مانجھی
جیون ہے اس پار رے مانجھی
گیت ہمارے سب کے لیے ہیں کیا اپنے کیا غیر
کبیرا سب کی مانگے خیر
ایک ہاتھ لکا ٹھا،ایک ہاتھ میں پانی
سورگ جلادے نرکھ بجھا سے اس میں کایا حیرانی
ڈر لالچ ہیں ایسے پتلے جن کے ہاتھ نہ پیر
کبیر ا سب کی مانگے خیر
اِک اِک کر کے چھوڑ گئے سب ہاتھ مرا ہم رہی
بیکلؔ !تنہا من اُتساہی
سنگھی ساتھی ناتے رشتے سب نے کیا کنارا
ٹوٹ گئیں سمبندھ کی کڑیاںجھوٹا ہر اک سہارا
جانے کیا ہو گئی سفر میں ،جیون سے کوتاہی
بیکلؔ !تنہامن اُتساہی
ندیاں کھا گئیں گانو
بادل پی گئے چھپّر چھانو
گیت سب ڈوب گئے
ہم نے گیہوں کے کھیتوں میں بو ڈالی شمشیر
نتیجہ جانیں سنت فقیر
ہم ہیں ستیہ اَہنسا والے گوتم کی سنتان
اپنے ہاتھ گنوائی ہم نے اپنے پتا کی جان
چہروں پر لٹکادی ہم نے نفرت کی تصویر
نتیجہ جانے سنت فقیر
میں کہا ں ہوں مرے ہم سفر
اونچے اونچے محل
سونے سونے سے دیوارودر
کتنے کچّے مکانوں کو توڑا گیا
گیتوں کے یہ بول نفسِ مضمون میں اپنے عہد کا رزمیہ ہے۔بیکل اتساہی کو یہ بات معلوم تھی کہ گیت کی ناؤ پرانے پانی پر نہیں چلے گی اس لیے ان کے گیت میں جو مرکزی کردار ابھرتا ہے وہ ایک ایسا شہری ہے جسے عشق کا کاری تیر لگاہوا ہے مگر اس کے مسائل اور مصائب اب اس کا مقابلہ صرف دقیانوسی سماج اور جاگردارانہ تہذیب کے نام نہاد اصولوں سے نہیں ہو اگر وہ یہاں جیت بھی جانا ہے تو اگلے موڑ پر اس کی ہار طے ہے۔ نہ اب قدرتی موسم قابو میں ہے اور نہ سیاست کی دوڑ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ایسے میں زندگی کیسے بچے گی اور اپنی بچ بھی گئی تو کس کس کی بچائی جاسکے گی۔’ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں‘اسی لیے بیکل کی گیت بالآخر اپنے عہد کا ایسا رزمیہ بن جاتے ہیں جہا ں قریب قیامت کی دھمک صاف صاف سنی جا سکتی ہے۔
بیکل اتساہی کے گیتوں کی زبان پر غور کریں تو معلو م ہوگا کہ یہ طلسم خانۂ حیرت ہے۔ اردو فارسی کی بنیادی زمین تو قائم ہے ہی مگر اس پر عوامی روایت سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔بھوجپوری ،اودھی ،برج اور کھڑی بولی کے الفاظ اور انداز کو صرف ظاہری طور پر ان گیتوں کا حصّہ بنایاہے۔ان کی لوک روایتوں کے سلسلے سے دلچسپیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بات ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ہے کہ بیکل نے اگر گیت نہ لکھے ہو تے تو ان کی حقیقی شناخت میں کیا کوئی نیا مسئلہ پیدا ہو جا تا؟بیکل نے دہی زندگی کے واقعات اور کردار وں کو اپنے دوسرے ہم عصروں کی طرح فیشن زدہ آنکھوں سے نہیں ملاحظہ کیا تھا۔بہت سارے سریلے گیت کاروں نے اس انداز کو آزماں کر شہرت حاصل کر لی تھی۔بیکل نے اپنے لیے یہ عام راستہ نہیں چنا۔اس لیے ان کی شاعری میں بالخصوص سرمایۂ گیت میں وہ سب موجود ہے جس سے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا ایک دیہی منظر نامہ ابھر تا ہے۔اس میں زبان اور مضمون کی وہ ساری جلوہ سامانیاں موجود ہیں،جن کی بنیاد پر ہماری ملک کو ایک طویل مدّت سے ملک کہا جاتا ہے۔بیکل اس گاؤں کو کھوتے اور اجڑتے ہوئے دیکھتے ہیں،جیتے اور مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔بیکل کے دل میں بھی ایک گاؤں بسا ہو ا ہے۔وہ گاؤں ہمارا ملک ہندستان ہے،پانے اور کھونے ،ہارنے اور جیتنے ،جینے اور مرنے کے سارے منظر نامے یہاں ایک ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔آفخر کوئی تو وجہ ہو گی کے بیکل اتساہی کے گیت آخراصحاب اقدار طبقہ اور دنیا کو دھرتی پر چلانے والے لوگو ں سے عرضداشت میں بدل جاتے ہیں ۔گیت میں بیکل کا جمعیت ِ انسانی کا سوس اور سیوا ہو تا ہے۔آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ بیکل نے غزلیں ،نظمیں بڑی تعداد میں کہیں ،گیتوں سے بڑھ کر مگر ہر جگہ ان پر گیت کی مخصوص فضا یا کم از کم اس کی فسوں کاری چھائی رہی،ان کی شناخت بھی اسی انداز سے قائم ہوئی۔شاید اسی لیے بعض نقّادوں نے بیکل کی غزلوں اور نظموں پر گیت نما انداز کو ہاوی مانا۔
غزل اور گیتوں کے مقابلے بیکل کی نظموں کی تعداد کم ہے ۔ان کے کلّیات سے اس بات کے ثبوت ملتے ہیں ۔انھوں نے نظموں کی طرف کم توجہ کی ۔ان میں بعض رسمی تحریریں بھی ہیں ۔یہ بھی ہے کہ بعض نظمیں گیت کے انداز میں پیش ہوئی ہیں ۔اس کے باوجود ان کے مجموعے ’’اپنی دھرتی چاند کا درپن‘‘،’’رنگ ہزاروں خوشبو ایک‘‘اور ’’مٹی، ریت، چٹّان ‘‘جیسے مجموعوں میں موجود نظمیہ شاعری کو جمع کر دیا جائے تو ان کی نظموں کی مجموعی تعداد ضرور اس قدر ہو جائے گی جن کے بار ے میں اگر غور نہ کیا جائے تو یہ انصاف کا کام نہیں ہوگا ۔ان میں حب الوطنی سے متعلق نظموں کی بڑی تعداد شامل ہیں۔بعض مقامات پر عروضی تجربے بھی ہیں ۔ گیت کا رنگ اگر اَ سّی فیصدی حصّے پر غالب ہے تو اسی کے ساتھ مختلف بحروں میں ایک نظم اور آزاد نظم اور نظمِ معریٰ کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔کبھی شخصیات زیرِ بحث ہیں تو کبھی قومی صورتِ حال کی تصویر کشی جو ملتی ہے ۔معاش کے لیے تارکِ وطن کے سلسلے سے کربِ معاشی ہجرت کا اپنے انداز اور منطق کی وجہ سے توجہ طلب ہے۔ نظموں کا مدار حقیقت اور حقیقی زندگی کے معاملات پر زیادہ ہے ۔اس لیے یہاں تخیل کی آزاد اڑان نظر نہیں آتی ۔واقعات اور قائم موضوعات پر اس قدر دباؤ ہے کہ آسانی سے ان منظومات کا موازنہ بیکل کی غزلوں اور گیتوں سے نہیں کیا جا سکتا ۔پھر گیت نما نظموں کو پڑھنے والے اکثر و بیش تر گیت کے خانے میں ہی رکھ کر دیکھتے ہیں ،شاید اسی لیے بیکل اتساہی کے نظمیہ سرمائے کو ان کے مجموعی سرمائے میں ضمنی حیثیت ہی دی جاتی ہے ۔
بیکل اتساہی کو عصرِ حاضر کے نعت گو شعرا میں خاص اہمیت حاصل ہے ۔وہ ابتدائی زمانے سے لے کر آخری دور تک فنِّ نعت کی طرف خصوصی توجّہ پیش کرنے میں کامیاب رہے ۔ان کی نعتوں کے چھوٹے بڑے آدھ درجن سے زیادہ مجموعے ہیں ۔ان کے علاوہ دیگر مجموعہ ہائے گیت میں بھی ان کا ایک حصّہ شامل ہے ۔بیکل کے کلّیات میں شامل یہ حصّہ ۲۵ فیصدتک پہنچتا ہے ۔بیکل اتساہی حضرت حافظِ ملّت عبدل العزیر صاحب با نی الجامعیہ شرفیہ مبارک پور کے مرید خاص تھے ۔اس اعتبار سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ان کی علمی اور روحانی تربیت ہوئی تھی ۔نعت گوئی کے سلسلے سے بیکل اتساہی کی خدمات کا تعارف علاحدہ مضمون کا متقاضی ہے اس لیے یہاں اجمالی گفتگو پر مرکوز رہنا زیادہ مناسب ہوگا ۔کیوں کہ سینکڑوں نعتوں کا پس منظر اور ان میں علمی اور عقیدت مندانہ عناصر پر غور و فکر لازم ہے ۔بیکل کی نعت گوئی میں وہ سارے شعری تجربے شامل ہیں جس کے لیے بیکل اتساہی کی پہچان قائم ہوئی ۔بیکل نے نظم ،نعت اور گیت تینوں صنفوں کو نعت گوئی کے لیے بہ حسن و خوبی آزمایا ۔ہائیکو ،ماہیے جیسی اصناف کا بھی اس حوالے سے استعمال ہمیں حیرت میں ڈالتا ہے ۔بیکل کا کمال ہے کہ وہ ایک طرف مخصوص بیت اور صنف کا خیال رکھتے ہیں تو دوسری طرف نعت گوئی کے فن کے دائرۂ کا ر اور تمام نزاکتوں کو بہ خوبی نبھاتے ہیں ۔یہ بیکل کی شاعری کا وہ وصف ہے جس سے انھیں اپنے عہد کے سب سے بڑے نعت گو شعرا میں شامل ہونے کا موقع حاصل ہوا۔
بیکل اتساہی نے نعت گوئی میں گیت کا شامل کرتے ہوئے جن صنفی آزادیوں کے حصول کی کوششیں کیں ان میں نعت گوئی میں پوربی زبانوں کے آہنگ کو سمانے کی کوشش کی ہے ۔ابتدائی دور کی نعت گوئی میں اس کا تناسب کافی زیادہ ہے ۔اُس زمانے میں’’ نور کی برکھا‘‘ کے شامل پوربی لہجے کی نعتوں کے باضابطہ کئی مجموعے شایع ہوئے ۔دوسرے شعرا نے بیکل کی تقلید میں پوری زبانوں کو انگیز کرتے ہوئے اپنی نعت گوئی سے ایک نیا ماحول بنایا۔نعت کہنا دو دھاری تلوار پر چلنا ہے ۔اس لیے بولی ٹھولی کے اشعار میں بعض اوقات ایسے خدشات پیدا ہوتے ہیں جن سے ایسے امکانات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں کوئی بے ادبی نہ ہو جائے اور آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے ۔بیکل اتساہی کم و بیش اس سلسلے میں بالکل محتاط گزرے ہیں ۔اس لیے نعت گو کی حیثیت سے انھیں پہچان ملی اور لوک بولیوں میں ان کی بات قابلِ قبول قرار دی گئی ۔اس سے بیکل اتساہی کے اس فنّی قدرت اور مہارت کا پتہ چلتا ہے اور علاقائی بولیوں بالخصوص بھوجپوری ،اودھی اور برج جیسی بولیوں سے استفادہ کرنے کی صلاحیت پر ایمان لانا پڑتا ہے ۔
غزل،نظم ،گیت اور نعت گوئی کے ساتھ ساتھ بیکل اتساہی کے شعری سفر میں بچوں کے گیت اور نظمیں ،دوہے اور کنڈلیاں ملتی ہیں ۔بعض نقادوں نے بیکل کے دوہوں کو نو دوہا نگاری سے تعبیر کیا ہے ۔کنڈلیوں میں کہتے ہیں کہ وہ جمیل الدین عالی سے استفادہ کرتے ہیں ۔’’مٹی ،ریت ،چٹّان‘‘میں انھوں نے کنڈلیاں پیش کرتے ہوئے جمیل الدین عالی سے استفادے کا اعلان بھی کیا ہے ۔مگر ان سب میں بیکل کا اپنا مخصوص انداز نظر آتا ہے ۔یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ یہ شاعر ہر قابلِ ذکر صنف کے دروازے پر کیوں دستک دیتا ہے ۔جب کہ اسے معلو م ہے کہ ہر صنف سخن کا مزاج اور اسلوب مختلف ہوتا ہے ۔یہ بھی ایک مشکل بات ہے کہ ہر نئے رنگ میں آپ کیوں کر کامیاب ہو سکتے ہیں ۔مگر ہمارے روایتی شعر میں قادر الکلامی کے ثبوت فراہم کرنے کا ایک ایسا سلسلہ ملتا ہے جس سے ہر بڑا شاعر نبرد آزما ئی میں فخر محسوس کرتا ہے ۔بیکل اتساہی نے اس وجہ سے بھی ان صفوں تک دستکیں دیں ۔ایک اور وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے بیکل نے باضابطہ طریقے سے گیت کہی تو اس سے ملتے جلتے ماحول کے لیے انھیں دوہے اور کنڈلیوں تک جانا ہی تھا ۔وہ ان نئی صنفوں کے دروازے تک پہنچے اور دعوۂ مہارت پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ۔مشاعروں نے انھیں مزید قبولیت بخشی اور ایسی فرمائشیں عام ہونے لگیں کہ انھیں کنڈلیوں اور دوہوں کے بھی متفرق اشعار اور رباعیات عوام کے سامنے پیش کرنا ہے ۔اس طرح ان نئی ہیٔتوں میں ادبی سرمایہ جمع ہوتا گیا ۔
بیکل اتساہی کے مکمل ادبی سرمائے کا مطالعہ ایک ساتھ کیا جائے تو ان کی بعض حدود کا بھی اندازہ ہو تا ہے۔عام مضامینِ شاعری میں وہ بہت دور تک روایات کے ساتھ گزر بسر کرنے میں بے چین نہیں ہوتے ۔وہ روایت آشنا ہیں مگر کبھی کبھی روایت پرست اور استعمال شدہ موضوعات کی گردانکرنے سے بھی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتے۔کبھی کبھی ہم آزمائش میں مبتلا ہو نے لگتے ہیں کہ بیکل کو کلاسیکی شاعری کی حیثیت سے قبول کیو ں نہیں کر لیا جائے۔ظاہری طور پر بیکل ایسے ہی ہیں،جنھیں روایت کا پیروکار ہی نہیں اس کی پرستش کرنے وا لا بھی سمجھا جا سکتا ہے۔اگر ایسا قبول کر لیا جائے تو برسرِ عام انصاف کا خون ہو جائے گا ۔بڑا فن کا ر اپنے قارئین اور خاص طور سے نقادوں کا اسی اندا ز سے امتحان لیتا ہے۔بے شک بیکل اتساہی کی شاعری نے ہمارا امتحان لیا ۔ ایک طبقے نے انھیں مشاعرے کا شاعر سمجھااور انھیں ادب میں حاشیے تک پہنچا دیاگیا۔ایک حلقے نہیں انھیں گیت گانے والا سمجھا اور انھیں اردو کی اونچی فصیل کے باہر ہی رہنے پر مجبور کیا گیا۔ جس نے انھیں سیاست داں سمجھا،اسے کیا پڑی تھی کہ وہ ان کے ادبی کارناموں پر ایک تنقیدی نظر ڈالے۔جس نے ان کی ایوانِ شعر میں داخلہ بھی حاصل کیا تو بول چال کی زبان ،ان پڑھ گنوار سے بات چیت کا لہجہ اور زیرِ لب گفتگو یا سرگوشیوں میں سادہ سے بیانیے کی پیش کش کو آخر کوئی کیوں کر ادبی اجتہاد کا درجہ دے؟مگر بیکل اتساہی تو یہی تھے اور کم وبیش نصف صدی تک اسی انداز اور طور کو اپناتے ہوئے شعر کہتے رہے۔رتّی بھر تبدیلی اپنے مزاج ِشعر میں انھوں نے لانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔جس شاعری میں اس سطح پر اعتماد اور لگن ہو ،اس کے پڑھنے والے لازمی طور پر پیدا ہو جائیں گے۔وقت نے سب سے انصاف کیا ہے ۔کبیرؔ،نظیرؔاور میرؔسب و احتسابِ نو کے بعد ان کے حق کے مطابق مقام حاصل ہوا ۔بیکل اتساہی بھی مستقبل کے نقادوں سے اسی انصاف کے طالب ہیں۔ ان کی شکایت ختم ِکلام پر کچھ اس طرح سے سنتے جایئے کہ شاعر کیسے خون کے آنسو رو کر زمانے سے کچھ کہتا ہے:
صاحب بھاو سبھاو نہ پو چھو ،کس کے لیے مولواتے ہو
مجھ سے پہلے اس منڈی میں میرؔ بکے رس کھان بکے
مآخذ
بیکل اتساہی: اپنی دھرتی چاند کا درپن، اے نظام الدین ویسٹ نئی دہلی ۱۹۷۵ء
بچوں کی پھلواری ہریانہ اردو اکادمی پنچکولہ (ہریانہ) ۲۰۰۵ء
پروائیاں انجمن تہذیب الہٰ آباد ۱۹۷۵ء
رنگ ہزاروں خوشبو ایک اردو اکادمی دہلی ۱۹۸۹ء
غزل سانوری فن کار پبلشنگ نئی دہلی ۱۹۸۴ء
کلّیاتِ بیکل اتساہی(فاروق ارگلی) فرید بک ڈپو لمیٹیڈ دہلی ۲۰۱۵ء
کومل مکھڑے بیکل گیت، انجمن تہذیبِ نو الہٰ آباد ۱۹۷۵ء
مٹّی،ریت ،چٹّان ، ہریانہ اردو اکادمی پنچکولہ ہریانہ ۱۹۹۲ء
موتی اُگے دھان کے کھیت ،ایجو کیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی ۲۰۰۲ء
نور کی برکھا، مکتبۂ دین و ادب لکھنؤ سنہ اشاعت ندارد
وَالفَجرِ المَجمَعُ المصباحی اعظم گڑھ (یو پی) ۱۹۹۷ء
رضیہ حامد( ایڈیٹر) فکر و آگہی(رسالہ) پرنٹر پبلشر نئی دہلی ۱۹۹۲ء
DR. SAFDAR IMAM QUADRI,
Head, Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)
Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)
Email: safdarimamquadri@gmail.com Mobile: 09430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت خوب جناب