آج کے موضوع کی تفہیم ایک بڑے علمی چیلنج کا درجہ رکھتی ہے ۔ عالمی سیاست میں مسلسل مد و جزر نے جو ارتعاش پیدا کر رکھا ہے، اس کا ایک پہلو وہ خطرناک جنگی صورت حال ہے جس نے تہذیبوں کی شکست و ریخت میں عالمی سکون کو برباد کر دیا ہے۔ دنیا کی مجموعی آمدنی کا ایک بڑا حصہ انسانی قدروں میں احترام باہمی کی فضا پیدا کرنے والے اسباب کی دریافت کی نسبت ایسے حربی آلات کی تیاری میں صرف ہو رہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو کیسے ختم کیا جا سکے اور کس طرح لوگوں کے عالمی امن میں دخل اندازی کرکے بد امنی پیدا کی جا سکے۔بالفاظ دیگر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی برادری کے لوگ آپس میںصلح و آشتی اور مذاکرات کے بجائے طاقت کے زور سے مسائل کا حل نکالنا چاہتے ہیں جو انسانی تاریخ میں ممکن نہیں ہے۔اگر طاقت کے زور پر مسائل کے حل کرنے کے امکان کو صحیح قرار دے بھی دیا جائے تواس کا اثر اس وقت تک رہے گاجب تک طاقت ہے۔
ارسطو سے لے کر آج تک شعراء پر طرح طرح کے الزامات عائد ہوتے آئے ہیں اور کیوں نہ عائد ہوں ،در اصل زیادہ تر شعراء نے اپنے درون میں پناہ لی اور محض حسن و عشق کی سربراہی میں مضامین کو مشاعرہ کا حصہ جانا ،شاعری جو کہ صدی کا پیغمبر ایست کی مترادف ہے۔ اس کا مفہوم ہی بدل کر رکھا دیا۔یہی وجہ ہے کہ ارسطو سے لے کر حالی تک بہت سے تقاضوں نے شعراء کو کچھ تعمیری مشوروں سے نوازا۔ان لوگوں کے نزدیک علامہ نے شاعری کی فلسفیانہ انداز میں توضیح کی۔ اپنی نظم’’خضراوات‘‘کے ایک بند میں اقبال نے مغربی تہذیب اور اس کے جمہوری نظام کے علاوہ اس کے اداروں پر برمحل تنقید کی ہے۔ جس سے اقبال کی شعور کی ترنگ اور اس کی سطح اور تجربے کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ہے وہی ساز کہن ، مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیراز نوائے قیصری
گرمئی گفتار اعضائے مجالس الامان
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زر گری
(بانگ درا)
اکیسویں صدی عیسوی میں تہذیبوں کی کش مکش نے جو عالمی صورت حال پیدا کر دی ہے وہ کئی اعتبار سے تشویش ناک ہے ، پورے عالم میں مفادات کی جنگ میں بد امنی کی قبیح صورت اختیار کر رکھی ہے۔ فکر اقبال کا گہرائی سے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ تہذیبوں کے اس کشمکش میں امن و سلامتی کا پیغام کلامِ اقبال میں موجود ہے ، اقبال احترام آدمیت کے شاعر ہیں، وہ عالم انسانیت کے مستقبل کا ایک واضح مشن رکھتے ہیں۔
عالمی امن کے لیے افغانستان ، شام، عراق، فلسطین بلکہ پورا مشرق وسطی ٰمیں امن کا قیام ایک چیلنچ ہے ، شاعر مشرق ، علامہ اقبال صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک مفکر اور دانشور بھی تھے۔ مختلف قومی، بین الاقوامی معاملات پر ان کی آفاقی نظر تھی، ان کی دورس نگاہیں عالمی حالات سے باخبر تھیں، انہوں نے اپنی شاعری کا میدان عام شاعروں سے ہٹ کر اور روایتی شاعری سے الگ انتخاب کیا۔ اپنی اردو، فارسی شاعری میں بہت سے ایسے گوشے کی نشاندہی کی ہے جو عام آدمی کی رسائی سے باہر تھی۔
۱۹۰۵میں’’ بانگ درا‘‘شائع ہوئی۔ پوری کتاب حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہے۔ ترانہ ہندی، نیاشوالہ اور ہندوستانی بچوں کے قومی گیت کے علاوہ فطری مناظر پر جو نظمیں ہیں ان میں حب الوطنی کے ساتھ امن کا بھی درس ہے کہ جنت جیسی خوبصورت اور عظیم ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بناؤ۔اقبال نے ۱۹۰۴ میں ’’سارے جہاں سے اچھا ‘‘لکھا جو کہ بانگ درا کا ہی حصہ ہے۔ اس میں ملک کی عظمت کے ساتھ ساتھ اخوت و محبت کا بھی درس ہے۔امن و محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے ہی کہا تھا:
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہے
علامہ صالح فکر کے طلب گار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال ایسی شاعری کوپسند کرتے تھے جس میں انسانیت کی تعمیر ہو۔ ان کے نزدیک وہ فن زہر کے مانند ہے جو روح کو خوابیدہ بنا دے۔ اقبال کی شاعری کے دو اہم پہلو ہیں ، ان کا کلام عصری واقعات و حادثات کا جام جہاں نما ہے ، جس میں انسانوں کا درد چھپا ہوا ہے ، لوگوں کا ہنس مکھ چہرہ کا آئینہ دار ہے ، کلام اقبال میں جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ ان میں عالمی مسائل کی آگہی موجود ہے۔ اپنے شاعری کے ذریعہ ناصرف ہندوپاک بلکہ امریکہ ،اندلس ،جرمنی، ہسپانیہ ، فرانس، جاپان، مصر، انگلستان، یوروپ اور یونان وغیرہ کی تاریخ ، وہاں کی تہذیبی روایات ، مسلمانوں کی شان و شوکت اور پھر مسلمانوں کی پرشکوہ عمارات کا کھنڈروں میں تبدیل ہو جانا ، جیسے اہم نکات کا ذکر کیا ہے۔ وہ زندگی بھر انسانیت کی آفاقی قدروں نیزامن و محبت کی تبلیغ کرتے رہے اور مغرب کی عقلیت پسندی کی مخالفت کرتے رہے۔ مغرب کی مادی ترقی کو روحانی بنجر پن قرار دیا۔ اقبال نے مغربی تہذیب کے منفی پہلوؤں اور مضراثرات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے ، کیوں کہ اقبال کو مغربی تہذیب کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کا شدت سے احساس تھا، جس کا ذکر انہوں نے’’ ضربِ کلیم‘‘کی ایک مختصر نظم بعنوان’’مغربی تہذیب‘‘ میں اس طرح کیا ہے :
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیال بلند ذوقِ لطیف
مغرب سے اقبال کو جہاں یہ فائدہ ہوا کہ انہوں نے وہاں کی تہذیب بچشم خود دیکھی ، وہیں اقبال کی شاعری میں پختگی بھی آئی۔ اب ــاقبال ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ سے وہ شاعر نہیں رہے بلکہ وہ ایک عالمی شاعر بن گئے۔چونکہ اقبال نے یوروپ کاخود وہاں رہ کر مطالعہ کیا تھا اس لیے وہ وہاں کے حالات سے بخوبی واقف تھے چنانچہ سفر یوروپ کے اثرات ان کی شاعری پر مرتب ہوئے جو شاعری کے افق پر ہمیشہ آب زر سے لکھے جائیں گے۔ ( یہ بھی پڑھیں زندوں کے لیے ایک تعزیت نامہ – ڈاکٹر خالد جاوید )
فرنگیوں نے جو راستہ اختیار کیا وہ انسانی تباہی کا راستہ تھا۔ اس کا باعث بالا دستوں کی ہوس ہے جو اپنے ماتحتوں کا معاشی استحصال کرتی ہے اور اس استحصال کے لیے جنگ کا سامان مہیا کرتی ہے اور اپنی رہزنی کو جہاں بانی کا نام دیتی ہے۔ اس سے وجود پذیر ہونے والی تہذیب بے حیائی سکھاتی ہے۔اسی لیے اقبال نے فرنگیوں کوہدف ملامت بنایا اور کوئی ایسا گوشہ نہیں چھوڑا جس کا نشانہ وہ نہ بنے ہوں، خواہ سیاست ہو یا معیشت و معاشرت، تہذیب و تمدن ہو یا کوئی اور چیز۔ اقبال کی شاعری میں یہ نیا آہنگ جس کا اعتراف روایتی غزل کے پہلوان کبھی نہیں کر سکتے۔ اقبال نے یہ نیا رنگ و آہنگ اپنی شاعری کے تیس سال سے زیادہ اس کی فکری اور جذباتی بنیادیں استوار کرنے کے بعد حاصل کی ہیں۔
بیسویں صدی اس ازدھے کی مانند تھی جو اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب اقبال نے اپنی آنکھوں سے یوروپ کے حالات کا مشاہدہ کیا تھا۔ محکوم قومیں جب کسی کی ماتحتی قبول کر لیتی ہیں تو اس پر نہ صرف قومی اور انتظامی حملہ ہوتا ہے بلکہ تہذیبی اور فکری سطح پر بھی یلغار ہونے لگتی ہے۔ حکمراں قوم ہر وقت اس کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسی صورت میں محکوم قوم کے سامنے سوائے ماضی کے تہہ خانوں سے تہذیب کے ہیرے موتی چننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اقبال کے زمانے تک ہندوستان میں عقلاء کا طبقہ اسی بحران کاشکار تھا جو اپنے ماضی کے بوسیدہ ذخیرے سے ہیرے موتی چن رہا تھا۔
سامراجی طاقت کے سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں دو مخالف طاقتیں وجود میں آئیں۔ قومی اور ملکی سطح پر مزدور تحریک اور بین الاقوامی سطح پر غلام ممالک کی تحریک آزادی، جس کی تکمیل انیسویں صدی کے آخر میں ہوئی۔غلام اور سامراجی ممالک کے باہمی ٹکراؤ نے بیسویں صدی کو ایک عظیم رزمیہ صدی بنا دیا۔ اقبال کی شاعری کابلند آہنگ قبلِ جنگ کا رزمیہ ہے۔اقبال نے اپنی شاعری میں تین لفظ فرنگ، مغرب اور یوروپ کو ایک معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد مغرب کے وہ ممالک جن میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دارانہ نظام اپنی ترقی کی آخری منزلیں طے کر رہا تھا۔یوروپ کی جنگ عظیم ایک قیامت سے کم نہ تھی جس نے پوری دنیا کے نظام پر اثر ڈالا۔ یوروپ نے اخلاقی اور اقتصادی نصب العین کے خوف ناک نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ( یہ بھی پڑھیں جامعہ میں بچوں کی شاعری – ڈاکٹرعادل حیات)
ہندوستان کی عظمت پارینہ کی جستجو میںسب سے زیادہ تاب ناک پہلو روحانیت کاتھا کہ مذہب کا سر چشمہ یہی سرزمین رہی ہے۔ اس لیے اقبال نے دوسرے متعدد مفکرین کی طرح مذہب کے پیرایہ اظہار کو اپنایا۔ کیوں کہ ماضی کی صلیبی جنگ اور حال کی مظلومی نے اقبال کے سامنے کئی سوال کھڑے کر دیے تھے۔ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کیا ہیں؟ کیا اس کے پیچھے اسباب وعلل کا کوئی سلسلہ ہے؟ اس طرح کے سوال کا جواب انہیں علم انسانی اور مذہبی افکار کے تعاون سے تلاش کرنا تھا۔ چونکہ اقبال کے نزدیک شاعری صرف اپنی تفہیم ہی نہیں بلکہ کائنات کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری محض ان کی پانی ذات کا سیاق و سباق نہیں تھی بلکہ ایک طرف پوری کائنات کے سرگرم میں انسانی ذات کاAffirmationتھی تو دوسری طرف دور حاضر کی مکمل بصیرت بھی تھی۔ بقول حالی شاعر کاکام محض اظہار نہیںبلکہ اپنے دور کی بصیرت میںتبدیل کرنا ہے۔ اقبال کی شاعری میں امید کی نئی کرن، پہاڑ سے ٹکرانے کا حوصلہ، مشکل وقت میں امن کا پیغام دینے کا جذبہ ملتا ہے اور انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ حساس شعبوں کے دریچوں کو کھولا ہے اور کائنات میں اپنی شاعری سے امن کے پیغام کا درس دیا ہے۔ اقبال شاید ہمارے پہلے شاعر ہیں جن کی شاعری انسانوں کے باہمی رشتوں کے بجائے فطرت اور انسان کے باہمی رشتے کو معرض وجود میں لائی ہے۔ اس لیے اقبال کی شاعری میں بڑے اور گہرے مسائل در آئے ہیں۔
انسان فطرتاََ آزاد ہے ، کسی کی غلامی قبول نہیںاور نہ ہی زندگی کو پابند سلاسل رکھنا چاہتا ہے۔ اگر کسی ایسے ماحول میں زندگی گزارنی پڑے جہاں اس کی آزادی پر کمندیں ڈالی جائیں تو ہر گز ایسی زندگی قبول نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں عالمی امن میں خلل پڑتا ہے اور حاکم قوم اپنے حکومت کے نشے میں چور ہو کر اس کی آزادی سلب کر کے جبر و اسبداد کا شکار بناتا ہے۔ جگہ جگہ فساد برپا ہوتے ہیں، اس لیے انسان کی دلی تمنا اس بات پر ہوتی ہے کہ اس کو فطرتاََ آزاد رکھا جائے اور ایسی فضا میں وہ سانس لے سکیں جس میں کسی طرح کی غلامی یامحکومی کی بو نہ ہو۔ انسان پیدائشی طور پر اسی فکر پر فائزہے۔ اقبال کا پیغام اسی سوچ کی عکاسی کرتاہے، کیوں کہ وہ انسان کی سوچ کے تہہ خانوں میں جاکر پتہ لگاتا ہے کہ جب تک انسان کو مکمل آزادی نصیب نہ ہوگی ، عالمی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے انہوں نے آزادی پر کافی زور دیا ہے۔ وہ معاشرے کو غلامی کے طوق سے نکلتاہوا دیکھنا چاہتا ہے تاکہ کائنات میں امن برقرار رہے۔ انسان کی فکر میں آزادی نہ ہو تو اس کے عمل میں وہ جوش پیدا نہیں ہو سکتا جو تقدیر کے اسرار کا انکشاف کر سکے۔اسی لیے جگہ جگہ اقبال کے کلام میں آزادیٔ فکر، آزادی عمل اور آزادی گفتار کی اہمیت واضح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں خدا کی جانب سے انعام ہیں۔ جب فطرت کے یہ تقاضے پورے ہوتے ہیں انسانی زندگی میںخوشحالی و امن باقی رہتا ہے لیکن جب کبھی تاریخ نے انسان کی آزادی فکر کے راستے مسدور کرنے کی کوشش کی ہے ، تب عالمی امن متاثر ہوا ہے۔ اس لیے اقبا ل کو باربار اپنی شاعری میں یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اجتہاد و فکر کا عمل جو انہیں ازل سے ملا ہوا ہے اسے کوئی چھین نہ لے اور عالمی امن متاثر ہو جائے۔ بسا اوقات اقبال جب انسان کی آزادی میں بیڑیاں پڑی دیکھتے ہیں تو شاعرانہ انداز چھوڑ کر نہ صرف واعظانہ طریقہ اختیار کرتے ہیں بلکہ ضربِ کلیمی پر اتر آتے ہیں۔ چونکہ انسان نائب الٰہی یعنی اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا گیا ہے اور تسخیر فطرت کا دشوار سنگلاخ حلقہ اس کے سپرد کیا گیا ہے ، لیکن انسا ن کے اپنے اس بلند رتبے اور اپنا اعلیٰ مقام کو فراموش کر دیا ہے ، جس کے نتیجہ میں انسان کی زندگی انحطاط پذیر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو پہچان لے اور اس منصب کو پورا کرنے کا ارادہ کر لے جو بحیثیت اشرف المخلوقات اس کے سپرد کیا گیا ہے تو انسانی زندگی کا سارا انتشار اضطراب اور عدم رواداری ختم ہو جائے۔ انسان کی صدیوں کی خواب غفلت اور بے خبری سے آگاہ کرنے کے لیے اقبال نے خودی کے مفہوم کی جو وضاحت کی ہے اس میں فکر اور تخیل کا گہر ا ربط ہے۔ اس تخیل کو اقبال کے شاعرانہ جوش نے حقیقت سے زیادہ قابل قبول اور مستحکم بنا دیا ہے۔
اقبال کی شاعری کا فرد مومن وہ انسان کامل ہے جس کی آرزو مختلف زبانوں میںہوتی رہی ہے اور جس کا تصور مفکرین اپنے اپنے زمانے اور ماحول کے اعتبار سے متاثر ہو کر پیش کرتے رہے ہیں۔ ایسے بندوں کو اقبال کس سے تشبیہ دیتے ہیں ملاحظہ ہو!
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفریں، کارکشا، کارساز
یہی وجہ ہے کہ مرد مومن کی زندگی میں اس جذبۂ متحرک کو سب سے زیادہ جگہ دی گئی ہے اور اسے اس کے سرمایۂ حیات کا سب سے پیش بہا قیمتی موتی کہا گیا ہے۔ مرد مومن اپنے کردارسے منظم ، مرتب، پرسکون اور پر مسرت ماحول اور صاف و شفاف معاشرے کو جنم دیتا ہے ، پوری قوت کے ساتھ بد امنی اور بدی کا ڈٹ کر مقابلہ کر تا ہے۔ جس سے پھر اس کی وہی پر امن زندگی شروع ہو جاتی ہے جس کا انسان خواہاں ہوتا ہے۔ اقبال نے اپنے کلام میں مرد مومن کی صفات اس طرح یکجا کر دی ہے کہ پڑھنے والے کی نگاہ میں ایک ایسا معاشرہ گردش کرتا ہے جس کے اخلاق اور سیرت کی کمال اور جس سماج کی پر امن فضا کی تعریف آسمانوں میں ہوتی ہے۔ اقبال نے اپنی مثالی دنیا کے لیے جس مرد کامل کا تصور کیا ہے اس کی صفات وہی ہیں جو مرد مومن کی ہیں۔ در اصل یہ صرف اقبال کے اصطلاح کا فرق ہے ورنہ مرد مومن سے مراد انسان کامل ہے ، ایک پر امن معاشرے کے وجود کے لیے پر امن انسان کا وجود ضروری ہے کیوں کہ ایک اچھے معاشرے کے تخیل سے قبل اچھے انسان کا تخیل اشد ہے۔ اقبال کی نظر میں انسانی زندگی کی اس منزل کا ایک واضح تصور ہے جس پر پہنچ کر انسان انسان کامل کے لقب کا حق دار بنتا ہے۔ ظاہر ہے جب سماج میں ایسے افراد ہوں گے تو معاشرہ پر امن ہوگا۔ اس لیے ہم یہ دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کی شاعری میں عالمی امن کا گوشہ کہیں نہ کہیں بالواسطہ موجود ہے۔
اقبال نے اپنی فکر کا ایوان قرآن کریم کی اساس پر کیا ہے اور اسی کی تعلیم کی روشنی میں ملت اسلامیہ اور اس کے ذریعہ تمام مسائل کا حل تلاش کر نے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض مفکرین سے وہ متاثر بھی ہوئے لیکن اصل مرجع و منبع اسلامی تعلیمات ہی رہی ہے۔ لہٰذا اقبال کی فکر کو اسلامی فکر نام دیا جا سکتا ہے۔ در حقیقت ان کا پیغام قرآن حکیم ہی کا پیغام تھا۔ کیوں کہ خود ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے کلام کا ایک حرف بھی قرآن سے باہر نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کے علاوہ فکر اقبال بزرگان دین سے بھی سیراب ہوتی رہی ہے۔ مجدد الف ثانی شیح احمد سرہندی سے اقبال کو ایسی عقیدت تھی کہ وہ ان کو ’’ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان‘‘کہہ کر یاد کیا ہے۔ اسی طرح جلال الدین رومی کی عظمت کا اعتراف اقبال نے اپنے کلام میں جا بجا کیا ہے۔ ایک جگہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس مرد بزرگ کے فیض سے علم کے سربستہ راز ان پر فاش ہوتے ہیں۔ اقبال کسی اور مفکر سے اتنا متاثر نہیں ہوئے جتنا رومی سے۔میں نے ان دونوں حضرات کا نام اس لیے ذکر کیا ہے کہ ان کی بنیادی تعلیمات کی جڑیں اسلام اور بزرگان دین سے ملتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اقبال جب سفر یورپ پر روانہ ہوتے ہیں توسب سے پہلے مصلح ملت نظام الدین اولیاء کے حضور التجائے مسافر پیش کرتے ہیں۔ چونکہ حضرت بھی انسانیت کے عظیم محسن ہیں اس لیے اقبال کو ان سے خاصی عقیدت ہے۔اسی لیے اقبال ان سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ :
تیری دعاء سے عطاہو وہ زبان مجھ کو
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو
میری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی سے شکوہ نہ ہو زیرِ آسمان مجھ کو
اقبال دیگر دعاؤں کے ساتھ نوکِ قلم سے کسی کے دل نہ دکھانے مزیدزیرِ آسمان شکوہ گر نہ ہونے کی بات کر رہے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ ایک انسانیت نواز سے یہی انسانیت نوازی کی دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے ، اس سے بخوبی اقبال کی انسانیت دوستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ویسے تو اقبال کی شاعری میںانگنت موضوعات ملتے ہیں لیکن فضیلت انسانی اور مخلوقات عالم پر عظمت ا نسان کا سکہ بٹھانے پر جتنا زور دیا ہے وہ کسی اور موضوع پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواہ ان کا اردو کلام ہو یا فارسی، شاعری ہو یا نثر ، بڑی دلکش قالب میں عظمت انسان کا علم لہراتا نظر آتاہے۔ چونکہ اس وسیع موضوع کا سرچشمہ قرآن کریم کی وہ آیات ہیں جن میں ایک طرف آدم کی تخلیق اور زمین پر ان کا نائب بنا کر مبعوث کرنا، ساتھ ہی ساتھ فضیلت علم کی بنیاد پر آدم کے سامنے ابلیس کو سجدے کا حکم اور دوسری طرف وہ آیتیں جن میں اس کی فطرت کو فطرت الٰہی ٹھہرایا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال نے ایرانی قدیم تصوف سے اختلاف کیا کیوں کے اس سے انسان بے عملی کا شکار ہو سکتا ہے ، ایرانی تصوف جوکہ وحدت الوجود کے اِرد گِرد گھومنا ہے جو انسان کو بے عمل بناتا ہے ، انسان گوشہ نشینی اور رہبانیت میں مست ہو کر اجتہاد عمل کھو بیٹھتا ہے جس سے انسان کی انقلابی فکر اور امن کی ارتقاپر قدغن لگ جاتاہے۔ اسی صورت میں انسان اعلیٰ مدنیت کی طرف سفر ہی نہیں کر سکتا توبہتر معاشرہ کو کس طرح تشکیل دے سکتا ہے یہاں سے مقصدِ انسانیت فوت ہوتا نظر آتا ہے ، چنانچہ اقبال نے اس روایتی فلسفہ کی سخت مخالفت کی ہے۔ جس کے نتیجہ میں اسرار خودی اور رموز بے خودی جیسا فلسفہ وجود میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے مسئلہ ٔ تقدیر پر ایک نئی بحث کا آغاز کیا، جس سے انسانی تقدیر خود انسان کے قبضۂ قدرت میں قرار پائی۔چونکہ انسان نے ان بے عمل ناکامیوں کو تقدیر کا نام دے رکھا تھا۔ اسی لیے اقبال نے انسان کو درس اجتہاد دیا، یقین محکم اور عمل پیہم محبت فاتح عالم ، محبت و بھائی چارگی سے ہی عالم انسانیت پر اپنے اعلیٰ نقوش چھوڑ سکتا ہے۔ وہ نقوش جو انسانیت اور عالم میں امن پیدا کر لیتے ہیں ، انسان تو ویسے بھی انس و محبت کاماخذ ہے ، اسی لیے حضرت انسان سے امن کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کے اندر اشرف المخلوقات ہونے کاا حساس ہونا بھی ضروری ہے ، نیز اس کو فطرت کو مسخر کرنے کی خو سے آگاہی ضروری ہے۔ دراصل اقبال نے اپنی شاعری میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ان ہی انسانی جواہرات کو آشکار اکیا ہے۔
اقبال کادل محبت و عقیدت کا سرچشمہ اور سوزودردمندی کی دولت خداداد کا خزینہ ہے۔ اس دل میں انسانی محبت کے شعلے اٹھتے اور ہر درد مند دل کو اپنے نور سے گرماتے ہیں۔ اقبال شاعر فطرت بھی ہیں، شاعر وطن بھی اور شاعر حسن و محبت بھی لیکن ان سب سے زیادہ وہ شاعرآدم یعنی شاعر انسان ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حسن فطرت کے نغمے کو سیراب کیا ہے۔ وطن کے گیت حسن و محبت اور امن و امان کے پیغام کو بھی جگہ دی ہے۔ویسے تو اقبال کی شاعری ایک ایسے نظام فکر کی مظہر ہے ، جس میں شاعر نے عمل، یقین، محبت اور امن وآشتی نیز اخلاقی قدروں کی تعلیم کے علاوہ مشرق و مغرب کی زندگی اور ان کی تہذیب و معیشت کے رخ سے نقاب اٹھاکر ان کی حقیقت آشکار کی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی شاعری کامرکز و محور انسان ہے۔ اقبال اس انسان کو جسے اپنے مرتبے اپنی حیثیت کا احساس نہیں ہے ایک بار پھر خود شناسی کا سبق دینا چاہتے ہیں۔ اقبال نے انسان کے ہر اس وصف کو سراہا ہے جو انسان کو اوج ثریا کی سیر کراتا ہے اور ہر اس چیز کو مذموم نگاہوں سے دیکھا ہے جو اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اقبال کی نظر میں انسانی زندگی کا اصل درجہ وہاں ہے جہاں اس کو انسان کامل کا لقب دیا جاتا ہے اور اس کی تلاش میں ان کی ساری کوششیں جاری رہتی ہیں۔
الحاصل اقبال انسانیت کے شاعر ہیںوہ اپنے تمام فکر و فلسفہ کی روشنی میں ایک صحت مند انسان کو پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے صحت مند معاشرہ جنم لیتا ہے اور صحت مند معاشرہ سے ایک خوبصورت عالم کا قیام ہوتاہے جہاں امن و محبت ہے ، صلح و آشتی و بھائی چارگی ہے۔ اقبال کا صحت مند انسان پیدا کرنے کا مقصد ایک صحت مند عالم وجود میں لانا ہے۔ وہ مظروف کی کوالٹی سے ظرف کی کوالٹی منوانا چاہتے ہیںاور اسی طرح امن عالم ممکن ہے۔
٭٭٭
ریسرچ اسسٹنٹ،
قومی اردو کونسل، نئی دہلی
Mob. No. 8826080282
ٔ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

