ترکی کے قدیم جنگ جُو قبائل میں اوغز قبیلے کی ایک شاخ ایمر ہے۔یہ واحد قبیلہ ہے جس میں حکمران پیدا ہوئے،لیکن اس کا ذِکر تاریخ کی کتب میں بہت بعد میں ملتا ہے۔ایمر قبیلے ہی کے ایک سپوت یونس ایمرے ہیں جنھوں نے تخت و تاج والی حکومت تو نہ کی لیکن اپنی لازوال شاعری تخلیق کرکے نہ صرف دِلوں پہ حکومت کی بلکہ تاریخمیں اپنانام بھی زندہ جاوید کردیا۔
یونس ایمرے کی پیدائش صاری کوئے نامی گاؤں میں ہوئی۔اِس زمانے میں قونیہ پرسلجوق ترکوں کی حکومت تھی۔یونس ایمرے نے چالیس سال اپنے استاد شیخ تابتک ایمرے کی زیر نگرانی قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا اورطریقت کے اسرار و رموز سے شناسا ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں اس الہامی محبت کےعظیم تر پیغام کو ایک تخلیقی اسلوب اور دِلکش پیرائے میں بیان کیا۔
ترکی ادب پر یونس ایمرے کے اثرات ان کے زمانے سے لے کر دورِ حاضر تک دیکھے جا سکتے ہیں۔احمد یسوی اور سلطان ولد کے بعد یونس ایمرے پہلے شاعر تھے جنھوں نے فارسی یا عربی میں شاعری کرنے کی بجائے اپنے زمانے اور خطے میں بولی جانے والی ترکی زبان میں شاعری کی۔اُنھوں نے”قدیم اناطولیائی ترک” کے نام سے بولی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جو کہ ترکی زبان کے تاریخی دور کے پہلے مرحلے کی تشکیل ہے۔اِسی لیےیونس ایمرے کو نہ صرف اناطولیہ میں ترک صوفی ادب کا بانی سمجھا جاتا ہے،بل کہ ان کے عوامی کلام نے اناطولیہ سے بلقان تک پھیلے ہوئے وسیع خطے میں مسلم ترک ثقافت کےمسلسل آثار پر بہت اثر ڈالا ہے۔
اُنھوں نے عوام کے ذوق کو پورا کرنے والے ترک صوفی ادب کو متنوع اور متفرق موضوعات کے ساتھ تخلیق کیا۔یہ الگ بات ہے کہ اُن کا آہنگ فارسی صوفیانہ شعری روایت سے بالکل مختلف ہے۔اُنھوں نے اپنی نظموں میں اِس محبتِ الٰہی کا اظہار کیا جو ہر صاحبِ ایمان کی جستجو ہے۔ان کی شاعری میں روحانی تعلیمات کے مطابق صبر، اطمینان، رواداری، سخاوت، نیکی اور فضیلت کی اقدار کو اپنانے کے لیے افکار متنوع اسالیب میں ملتے ہیں۔
یونس ایمرے ایک سادہ اور غیر معمولی زندگی گزارنے پر زور دیتے ہیں۔ان کا کلام بھی اپنے باطن میں انھی اوصاف کا مظہر ہے۔ان کا تخلیقی سرمایہ انسانیت کے اس عقیدے کا رس ہے جس میں محبت، امید،انصاف اور اتحادِ باہمی کا پیغام زمان و مکاں سے ماورا ہے۔یونس ایمرے کہتے ہیں:
” انسان وہی ہے، جس کی زندگی پاک باطن ہے۔”
٭
"میری روح بیدار ہے، میں زندہ ہوں، دوست کو دیکھنے والا ہوں۔”
٭
"جو مر جائے گا وہ جانور ہے، محبت کرنے والا نہیں مرتا ہے۔”
یونس ایمرے کا یہی وہ جذبۂ محبت ہے کہ جس کی بنیاد پہ وہ صدیاں گزرنےکے باوجود نہ صرف ترک ادب میں زندہ ہیں بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت اور ادبی اہمیت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا گیا ہے۔ان کی سات سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اقوامِ متحدہ نے 1991ء کو یونس ایمرے کے سال کے طور پہ منایا۔
ترکی میں ہر سال مئی کے شروع میں "یونس ایمرےہفتۂ فن وثقافت”منایا جاتا ہےاور اس کے دوران ہونے والی رنگارنگ تقریبات میں ان کے فکر و فن کو سوغاتِ تحسین پیش کی جاتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں میراجی کی غزل کی کیفیات -شبانہ پروین )
یہ امر بھی لائقِ ذکر ہے کہ ترکی نے دنیا بھر میں اپنی تہذیب کے فروغ کے لیے جو مراکزِ ثقافت قائم کیے ہیں، انھیں یونس ایمرے کے نام سے موسوم کیا ہے۔پاکستان میں ان مراکز کا قیام لاہور اور کراچی میں عمل میں لایا گیا ہے۔
کلیم الٰہی امجد ہمارے تازہ کار محققین اور مولفین میں بہت صاحبِ اعتبار ہیں۔یونس ایمرے کے فکر و فن پر ان کییہ کتاب محض تعارفی نہیں بلکہ بہت جامع حیثیت رکھتی ہے۔اس کے صفحات میں یونس ایمرے کے حالاتِ زندگی، ان کے افکارو نظریات کے بارے میں نہایت وقیع سرمائے کو ایک دستاویز کی شکل دی گئی ہے۔اس کے علاوہ ان کے کلام کے اُردو تراجم بھی پیش کیے گئے ہیں، جس سے قارئین ان کے کلام میں موجود پیغام سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ان کے فن کی قدروقیمت کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔یہ کتاب ہر اعتبار سے یونس ایمرے کے تخلیقی تعارف کا جامع حوالہ ہے۔
کلیم الٰہی امجد نے یونس ایمرے کے بارے میں تحقیقی سرمائے کی جمع آوری میں جاں فشانی اور ذہانت سے کام لیا ہے۔یہ کتاب ان کی سابقہ تحقیقی کاوشوں کی طرح ایک بھرپور مواد پر مبنی ہے۔اس سلسلے میں کتب، اخبارات، جرائد سے لے کر انٹرنیٹ پر موجود مضامین اور دیگر تحقیقی دستاویزات بڑے سلیقے سے جائزہ لے کر اس کی تسوید کا اہتمام کیا گیا ہے جو یقیناً ایک خوش آیند پہلو ہےجس سے ان کییہ تالیف اعتبار، وقار اور اہمیت کی حامل ہو گئی ہے۔
یونس ایمرے پر کلیم الٰہی امجد کییہ کتاب عالمی ادب کے دِلدادگان، اساتذہ، طلبا اور عام قارئین کے لیے استفادے کے متنوع پہلو رکھتی ہے۔اس کتاب کے صفحات میں یونس ایمرے کے فکرو فن کے بارے میں جتنا تحقیقی مواد شامل کیا گیا ہے، وہ قابلِ قدر بھی ہے اور سنجیدہ قارئین کے لیے لائقِ توجہ بھی۔
2008ء میں ترکی کے سفر کے دوران مجھے یونس ایمرے کے بارے میں بعض نوادرات کو ملاحظہ کرنے کا موقع ملا۔میرے لیےیہ سفر دو پہلوؤں سے بہت یادگا ر رہا۔ایک قونیہ میں مولانا جلال الدین رومی ؒکے مزار پہ حاضری اور دوسرا یونس ایمرے کے بارے میں مذکورہ نوادرات سے آگاہی۔کلیم الٰہی امجدؔ کی زیرِ نظر تصنیف ترکی کے اس سفر کی علمی بازیافت کا سبب بھی بنی اور ایک تخلیقی حِظ بھی نصیب ہوا۔
ڈاکٹر طارق ہاشمیؔ
شعبۂ اُردو
جی سییونی ورسٹی، فیصل آباد
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

