ریاست جموں و کشمیر کو اپنی ابتداء سے ہی یہ شرف و امتیاز حاصل رہا ہے کہ زندگی کے ہر ایک شعبے میں وقت وقت پر یہاں کے ذہین و فطین اذہان نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو نہ صرف قابل ستائش ہیں بلکہ نسلِ نو کے لیے قابلِ تقلید بھی۔اردو زبان و ادب کی تعمیر و تشکیل اور ترقی و ترسیل کے حوالے سے بھی جو تعمیری رول اس ریاست سے جنمے تجربہ یافت لکھاریوں نے سرانجام دیا ہے وہ ادبی تاریخ کا ایک یادگار باب ہے ۔ہمارے حق میں یہ ایک خوش آئند اور باعثِ فخر امر ہے کہ یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس ریاست کا معاصر ادبی منظر نامہ مستقبل کے حوالے سے مزید تابناکی اور پختگی کا عندیہ فراہم کرتا ہے۔
چیل ، چوزے اور چنار وادیٔ کشمیر کی ہم عصر ادبی روایت سے وابستہ ایک فعال اور اور سرگرم عمل افسانہ نگار’’راجہ یوسف‘‘ کا ایک بہترین افسانہ ہے ۔اس فن پارے میں کم و بیش وہ تمام عناصر یکجا دکھائی دیتے ہیں جو ایک افسانہ بلکہ فکری و فنی اعتبار سے کامیاب افسانہ کے ضامن قرار دیے جاسکتے ہیں۔پلاٹ کی بہترین پیش کش ، حسبِ موقع و واقع کرداروں کی عمل و حرکت ، برمحل مقالمہ نگاری ، موزوں منظر کشی و جزئیات نگاری ، زماں و مکاں کا حسین سنگم اور الفاظ و جملوں کی تخلیقی بنت کاری وغیرہ وغیرہ۔
افسانہ چیل ، چوزے اور چنار کا پلاٹ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے جس واقعے یا حادثے کو محیط ہے اس کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ معصوم و شریف النفس لوگوں سے بھرے ایک گاؤں کے بیچ و بیچ ایک تناور چنارکا درخت اپنی شاخیں دراز کیے ہواہے ۔اس چنار کو پہلے پہل دو چیلیں اپنا مسکن بناتی ہیں۔ ان دو چیلوں نے اپنی شاطرانہ سازشوں اور مکارانہ چالوں سے پورے گاؤں کے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے کہ موقع پاتے ہی یہ نوزائید اور ننھے منھے چوزوں پر اپنا داؤ بول کر انہیں بے دریغ نوچ لیتی ہیں۔چوزوں کے محافظ(لوگ) اپنی تمام تر ہوشیاریوں کے باوجود بھی ان چیلوں کو ایسا کر گزرنے سے باز نہیں رکھ سکتے ہیں۔جوں جوںوقت گزرتا ہے چیلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ خصلت میں چیلوں سے کئی گنا زیادہ خونخوار اور غلیظ گدھ بھی ان کے صف میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح چوزوں کے ساتھ ساتھ اب زندہ انسان بھی ان کے شکنجے میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔لوگ ان وحشی درندوں سے چھٹکارا پانے اور اس چنار کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکنے کی ہرممکن کوشش اور تدبیر آزماتے ہیں لیکن ناکام و نامراد ہی لوٹتے ہیں۔
موصوف کا یہ افسانہ بظاہر یوں تو ایک سیدھا سادا واقعہ معلوم ہوتا ہے ۔ایک ایسا واقعہ جو ہمارے سماج اور معاشرے میں اس طرح اپنی جگہ بنا چکا ہے کہ ہمارے دل و دماغ اس کی الم انگیزی سے ذرہ برابر بھی چونک نہیں کھاتے۔ اس افسانے میں انسانی سماج اور معاشرہ کے ان حالات و حادثات پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کاسامنا ایک سادہ لوح انسان شاید ازل سے ہی کرتا آیا ہے اور جو آج بھی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔اس لیے اس افسانے کی سرسری قرأت قاری کے دل و دماغ کو کسی دیراور دور پا اثر سے لبریز کرتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ہے۔لیکن ایک ادبی تحریرچوں کہ قاری کو بار بار پڑھنے اور غور و فکر کرنے پر اکساتی رہتی ہے اور متواتر قرأت کے بعد ہی اس میں پیش کیے گئے فکری میلانات کی تہہ تک پہنچنے کی گنجائش نکلتی ہے۔ اس تناظر میں جب ہم زیرِ بحث افسانے کی مسلسل قرأت کے بعداس کی تہہ میں چھپے معنوی ابعاد اور تاریخی و سماجی حوالہ جات کو کھنگالنے کی کماحقہ سعی کرتے ہیں تو ہمارا سروکار کہیں سارے ایسے سوالات سے پڑتا ہے جو یقینا اپنی سرشت میں تلخ بھی ہیں اور غور و فکر کے لائق بھی۔مثال کے طور پر:
۱۔ ایک انسان جسے اشرف المخلوقات کے عظیم شرف سے مشرف کیا گیا ہے کیونکر ایک حقیر اور غلیظ حیوانی مخلوق کے ظلم و استحصال کا شکار ہوچکا ہے؟
۲۔ کیا انسانی آبادی کا کوئی مخصوص خطہ اس جبر کے شکنجے میں گرفتار ہے یا اس کی کوئی حد متعین نہیں ہے؟
۳۔ چیلوں اور گدھوں کی یہ آدم خوریت کبھی ختم بھی ہوسکتی ہے یا اس کے امکانات مزید وسعت اور گہرائی ہی کا اندیشہ فراہم کرتے ہیں ؟وغیرہ
یہ اور اس نوع کے کئی سارے سوالات ایسے ہیں جو ہمارے ذہن کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتے ہیں اور جن کے جوابات کسی حد تک اس افسانے کی گہری اور تہہ دار قرأت کے بعد ازخود ازبر ہوجاتے ہیں ۔مثال کے لیے مذکورہ افسانے سے یہ مختصر اقتباس پیش کیا جاتا ہے:
’’ تب نیلوفر بہت چھوٹی تھی جب ماں نے اس کو چوزوں کی رکھ والی پر رکھ دیا تھا ۔ساتھ ہی چاق چوبند رہنے کے لیے اکثر اسے جھڑکتی بھی رہتی تھی ۔لیکن پھر بھی چنار سے دو چیلیں اتر آتیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے دوچوزیں اٹھا کر لے جاتیں۔‘‘
اس اقتباس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا شاید زیادہ دشوار نہیں ہے کہ چیلوں کا معصوم چوزوں کو اپنا شکار بنا نا کوئی اتفاقی یا وقتی عمل نہیں ہے بلکہ اس روایت کی جڑیں بہت پہلے بلکہ اپنی ابتدا سے ہی ہموار ہونا شروع ہوئی ہیں ۔ نیلوفر کی والدہ ، جو اب عمر رسیدہ ہوچکی ہے ،جس کی رگوں میں اب وہ حرارت باقی نہیں رہی ہے کہ اپنے صحن میں پل بڑھ رہے چوزوں کی بھر پور دیکھ بال کرسکے ، اپنی کم سن بیٹی کو اب یہ ذمہ داری سونپ دیتی ہے لیکن اس کی موجودگی میں بھی دو چوزے بہ آسانی چیلوں کی غذا بن جاتے ہیں ۔گویا انسان کی وہ عظمت ، جاہ و جلال ، بہادری و دلیری وغیرہ جیسی خداداد صلاحیتیں اب اپنی کشش و تازگی کھو چکی ہیں جن کی بدولت اسے تمام مخلوقِ عالم پر فوقیت عطا کی گئی تھی اور جن کی سا لمیت سے بقیہٖ جملہ مخلوقات اس کے تابع اور اس سے لزرہ کھا جاتی تھیں۔لیکن اب ایک کمزور اور کم تر مخلوق بہ آسانی اس کے سامنے سے اپنا شکار مارتی ہے اور انسان بے بس و لاچار محض کف افسوس ملتا رہتا ہے۔
یہاں اس سوال کا پیدا ہونا فطری معلوم ہوتا ہے کہ آیا ایک انسان سے ایسی کون سی خطا سرزد ہوئی ہے یا یہ کہ وہ ایسی کس روگردانی کا مرتکب ہوا ہے کہ جس کے نتیجے میں عتاب الہٰی کی یہ قہرسامانیاں اس پر مسلط ہوئی ہیں؟کیا یہ واقعی قوانینِ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا ہی صلہ ہے یا پھر کچھ اور؟ افسانے سے لیے گئے درج ذیل اقتباس سے اس سب کی کسی حد تک گرہ کشائی کے امکانات واضح ہوجاتے ہیں:
’’اس نے کئی بار اپنے بابا سے کہہ بھی دیا تھا۔‘‘
’’بابا اس چنار کو جڑ سے ہی کاٹ ڈالو۔یہ چیل یہاں سے دفع ہوجائے ۔یہ ہمارے چوزوں کی دشمن ہے۔‘‘
بابا حسرت بھری آنکھوں سے چنار کی طرف دیکھتا تھا اور چپ ہوجاتا تھا۔نیلوفر حیران و پریشان اس کا منھ تکتی رہتی تھی۔وہ اکثر سوچتی تھی بابا تو روز کاندھے پر کلہاڑا لے کر پیڑ کاٹنے جاتا ہے وہ یہ چنار کیوں نہیں کاٹتا۔شاید بابا اتنے موٹے چنار کو کاٹ نہیں پائے گا بس میں بڑی ہوجاؤں تو اسے خود کاٹ دوں گی۔‘‘
چنار اپنی اصل میں ایک ایسا پیڑ ہے جس کی آبیاری و آبپاشی میں تمام لوگ بلاتمیز رنگ و نسل ، ذات پات اور مذہب و طبقہ کے اپنا بھر پور تعاون فراہم کرتے ہیں کہ چنار کے وجود سے زندگی کی خوشحالی اور رونقی مزید دوبالا رہتی ہے ۔ اس کے فائدے بے شمار رہتے ہیں اور نقصانات کم ۔ موسمی تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ چنار کی البیلی رنگ و روگن میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے اور ہر بدلتا منظر پہلے کی نسبت بہرحال زیادہ دلکش اور موہ لینے والا ہی ہوتا ہے ۔لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے ۔ان تمام اوصاف کے باوجود چنار لوگوں کے مصائب و مشکلات کا گہوارہ بن چکا ہے ۔گویا چنار یہاں ایک ایسے نظام(System)کی علامت کے بطور سامنے آیاہے جو خود اپنی مرضی سے لوگوں نے اپنی خوش حالی اور ہریالی کے لیے گاڑا توہے لیکن اس سے برآمد ہونے والے نتائج ہر دو اعتبار سے انسانیت سوز اور غیرمتوقع ثابت ہوتے ہیں۔یہ نظام کوئی بھی ہوسکتا ہے سیاسی بھی اور سماجی بھی ، حاکمیت کا بھی اور اقتدار کا بھی ، محافظ کا بھی اور جدید جنگی ساز و سامان سے لیس افراد کا بھی اور معاشرتی بھی یا پھر مذہبی و طبقاتی بھی۔اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کس تناظر اور کس انداز سے مکالمہ قائم کرتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں فاروقی کی افسانہ نگاری کے خلاف- رحمٰن عباس)
نیلوفر اپنے بابا سے بار بار چنار کو جڑ سے اکھاڑنے پھینکنے کی تلقین کرتی ہے ۔وہ جانتی ہے کہ بابا کلہاڑا چلانے اور بڑے سے بڑے درختوں کو کاٹ دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بابا چنار کو کاٹ دینے اور لوگوں کو ان تمام مصائب سے مفتی عطا کرنے میں معذوری اور بے بسی کا ہی مظاہرہ کرتے ہیں ۔نیلو فر چوں کہ ایک کم سن اور جذباتی لڑکی ہے ۔اس کی رگوں میں گرم خون محوگردش ہے۔وہ اس چنار(صدیوں سے قائم غاضبانہ نظام)کی وسعت و گہرائی سے ناواقف ہے اس لیے نہایت کم و قلیل وقت میں اس کا نام و نشان مٹانے کی خواہاں ہے۔ نیلوفر کے برعکس بابا کا کردار ایک پختہ عمر اور تجربہ یافت فرد کا کردار ہے ۔ بابا معاملات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے ہرایک گُر سے بخوبی واقف ہیں۔انہیں اس نظام کی سفاکی ، بدلتی صورتوں ، جاہ و حشمت ، وحشیانہ سازشوں اور منافقانہ کارستانیوں کا بھر پور اندازہ ہے ۔وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ یہ درخت اس قدر تناور اور پائیدار ہوچکا ہے کہ اسے بہ آسانی زمین بوس کرنا کوئی بچوں والا کھیل نہیں ہے۔ بابا کا کردار خلق کرکے افسانہ نگار نے جس متناسب اور متوازن طرزبیان اور طریقۂ کار کو روا رکھا ہے وہ قابلِ ستائش ہے ۔حالاں کہ ایسا بھی متوقع (ہوسکتا)تھا کہ بابا ، نیلوفر کی ہاں میں ہاں ملاکر چنار کو کلہاڑا سے ریزہ ریزہ کرنے پر اپنی رضامندی ظاہرکر دیتا اور ایسا کرنے سے یقینا یہ فن پارہ انتہاپسندی اور جذباتیت کے خول میں سمٹ کر رہ جاتا ۔اس اقتباس سے ایک دوسرا نکتہ یہ بھی ابھر کر سامنے آتا ہے کہ افسانہ نگار ادبی دائرے میں رہتے ہوئے سماج کے مظلوم و بے بس طبقے کو ایک انوکھے انداز میں اس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ ایک اکیلا فردِ، خواہ وہ کتنا ہی ذہین ، معامل فہم ، تجربہ کار اور بہادرہی کیوں نہ ہو، تنِ تنہاصدیوں سے قائم اس ظالمانہ نظام کی بیخ کنی نہیں کرسکتا ہے بلکہ بے جا ہنگامہ آرائی اور فوری ردّعمل کے برعکس ایک دانش ورانہ اور متوازن طریقۂ کار کے تحت ہی اس نوع کے نظامات سے انسانیت اپنا دامن چھڑا سکتی ہے ۔افسانے سے ایک اور اقتباس پیش کیا جاتا ہے:
’’چیلوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا اور ان کی من مانیاں بھی بڑھتی جارہی تھیں۔پھر اچانک کہیں سے گدھ بھی نمودار ہوگئے ۔وہ آنکھوں سے اندھے لگ رہے تھے ۔ان کے سامنے جو بھی آتا تھا اسے نوچ ڈالتے تھے ۔ان گدھوں کے آتے ہی چیلوں کا حوصلہ اور بڑھ گیا ۔یہ گدھ چیلوں سے زیادہ آدم خور تھے ۔مردار کے ساتھ ساتھ زندہ انسانوں پر بھی حملہ کرتے تھے ۔جب بھی جھپٹا مارلیتے تھے ، دوچار جانوں پر ہاتھ صاف کرجاتے تھے۔‘‘
یعنی یہ کہ اس جابرانہ نظام کے کارندے روزوں بڑھتے ہی جاتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس قافلے میں ایک ایسی مخلوق(گدھ) بھی شامل ہوجاتی ہے جو چیلوں سے زیادہ خطرناک اور بے رحم ہے۔چیلوں کی پہنچ تومحض چوزوں کے ہڑپنے اور ان کی بے دریغ قتل و غارت گری تک ہی محدود تھی لیکن گدھ زندہ انسانوں کی چیر پھاڑ میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔وہ بنا دیکھے بالے کسی کو بھی اپنا نشانہ بنادیتے ہیں ۔ان کے یہاں رحم و انصاف کی کوئی بو تک نہیں ہے۔افسانے کا یہ مذکورہ اقتباس کئی سارے مخفی حقائق کی پردہ کشائی کے لیے قارئین کو دعوتِ فکر دیتا ہے اور اسے اپنی سماجی و معاشرتی تاریخ میں جھانک کر ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے پر اُکساتا ہے کہ ، گدھ کے روپ میں یہ کون لوگ ہیں جن کی من مانیوں سے چیلوں کا حوصلہ اور بلند ہوجاتا ہے اور وہ ان کے ساتھ ہوکر انسانوں کا ببانگ دھل خون بہانے پر اُتر آتے ہیں؟گدھوں کے بھینس میں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے پیٹھ پیچھے خنجر سے وار کرتے ہیں یا کوئی ایسی طاقت جو چیلوں کی بداعمالیوں پر سے پردہ ڈال کر اپنی خودغرضیوں کو مزید مستحکم و کامیاب بنانے میں کوشاں ہے؟ وغیرہ ۔
انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کمزور و معصوم رعایا اپنی ابتدا سے ہی نہایت دلدوز اور دل دہلادینے والے حالات و حادثات کا شکار رہی ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ آج کے اس ترقی یافتہ اور تیز رفتار زمانے میں بھی ، جب کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر تمام عالمِ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی و تحفظ کے بڑے بڑے دعوے دہرائے جاتے ہیں ، زمینی سطح پر حالات کچھ زیادہ تبدیل ہوتے ہوئے محسوس نہیں ہوتے ہیں ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’’چیل ، چوزے اور چنار‘‘ایک ایسا فن پارہ ہے جو ان حالات و واقعات کی ترجمانی کے حوالے سے قابلِ ستائش کارنامہ گردانے کے مستحق ہے ۔
ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو ، کشمیر یونیورسٹی
فون:9622543998
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

