مستشرقینِ یورپ کے ساتھ بعض عرب ناقدین بھی یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں شاعری کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اس دورمیں شاعری ماند پڑگئی تھی۔مثلاًمحمد بن سلام الجمحی نے اپنی کتاب ’’طبقات فحول الشعرا‘‘ میں لکھاہے کہ عربوں کی توجہ شعر کہنے سے ہٹ گئی تھی۔ ابن خلدون نے کہا کہ’’ شعرعربوںکا دیوان تھا جس میں حکمت وفلسفہ محفوظ تھا،پھر عرب اس سے ابتدائے اسلام میں پھر گئے۔نبوت، وحی اور دین کی باتوںنے ان کی توجہ کو اس طرف سے ہٹادیا اور انھوں نے شعر سے اپنی زبان بندکرلی۔‘‘ عبدالرب نے اپنی کتاب ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں مشہور نقاد صمعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس نے کہا:’’ شعر بڑی گھٹیا چیز ہے جو برائی میں خوب پھیلتا ہے اور بھلائی میں کمزور ولاغر ہوجاتاہے۔‘‘وہ دلیل کے طورپر حسان بن ثابت کی شاعری کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’حسان کا شمار جاہلی دور کے صفِ اول کے شاعروںمیں ہوتا تھا لیکن جب اسلام آیا تو ان کا شعر گرگیا۔‘‘اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے کہ حسان کی شاعری جس طرح عہد جاہلیت میں مقبول ہوئی ،اسی طرح دورِ اسلام میں بھی خوب پھلی پھولی۔اس خیال سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ شعر برائی میں پھیلتا ہے اور اچھائی میں کمزور ہوجاتاہے ۔اُردومیں ڈاکٹر اقبال نے ایسے دورمیں شاعری کی جو مغربی طاقتوں کے عروج کا زمانہ تھا اور ہرطرف مادیت کے سائے پھیل رہے تھے،لیکن اس دورمیں بھی ان کی شاعری کو زبردست شہرت ملی ۔صدرِ اسلام کی شاعری کی حقیقی صورتِ حال کا اندازہ اس دور کے شعراکے کلام کا جائزہ لینے سے بخوبی ہوجاتاہے۔
حسان ؓبن ثابت
حسان بن ثابت ہجرت نبویؐ سے ساٹھ ۶۰ سال پہلے پیدا ہوئے اور ۶۰سال کے بعد ۱۲۰برس کی عمر پاکر ۶۷۴ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ان کی کنیت ابوالولید تھی اور باپ کا نام ثابت تھا۔اس کے علاوہ ان کی ایک کنیت ابوعبدالرحمن اور ایک ابوالحسام بھی تھی، ان کا نسبی سلسلہ مدینہ کے دومشہور انصاری قبیلوں’’ نجّار‘‘ اور’’ خزرج‘‘ سے جاملتا ہے۔ان کی ماں کا سلسلۂ نسب بھی انصار کے خزرج کے دوسرے قبیلہ تک پہنچتا ہے۔حسان کے والد اور داد اممتازکا شمار ممتاز شخصیات میں ہوتا تھا۔ان کے دادا صلح پسند اور امن جوتھے۔ انھوں نے اوس وخزرج کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے زبردست کوششیں بھی کی تھیں۔حسان کا وطن مدینہ تھا ، وہیں ولادت ہوئی اور وہیں پرورش بھی پائی، شعروشاعری کا آغاز بھی مدینہ کے ماحول میں کیا۔اپنے کلام کی وجہ سے جلد مشہور ہوگئے اور پورے قبیلۂ ’خزرج‘ کے چہیتے قرار پائے۔ان کی جاہلی زندگی آسودگی کے ساتھ بسرہوئی۔ کیوں کہ ان کا تعلق غسان اورمنذری بادشاہو ں سے تھا،وہ ان کی شان میں مدحیہ قصائد لکھ کر لے جاتے تھے، اور صلے کے طورپر انعامات سے نوازتے۔
حسان بن ثابت کی وہ شاعری جو انھوں نے دورِاسلام میں کی ،بہترین شاعری ہے ۔ اس شاعری پر اگرچہ اسلام کے اثرات بڑی حد تک نمایاں ہیں،لیکن اس کے باوجود شاعری کی شان وشوکت اور جاہلی رنگ ڈھنگ ان کے قصیدوں میں خوب ملتاہے۔ غزوۂ بدر کے بعد حسان بن ثابت نے ۱۶؍اشعار پر مشتمل قصیدہ کہاجس میں ابوجہل ،عتبہ اور شیبہ کے قتل کا ذکرکیا ہے اور بتایا ہے کہ رسولِؐ خدا کی بات کس طرح سچ ثابت ہوئی۔یہ قصیدہ اسلامی ہے مگر اس کا آغاز اپنی محبوبہ زینب کے دیارکے ذکرسے کیا ہے۔جنگِ بدر میں دشمنانِ اسلام کے بھیانک انجام اور مسلمانوں کی فتح پربھی حسان نے ایک قصیدہ کہا ۔حسان کا وہ قصیدہ جو انھوں نے فتحِ مکہ کے موقع پر کہا ، بہترین قصیدہ ہے ۔اس قصیدے میں کہیں جاہلی رنگ ہے اور کہیں اسلامی رنگ ، آغاز دیارِ محبوب کے ذکر سے کرتے ہیں ، اس کے بعد بزم ہائے طرب اور راگ ورنگ کا تذکرہ کرتے ہیں جوغسانی بادشاہوں کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں،پھر پورے جوش کے ساتھ فتح کا نقشہ کھینچتے ہیں، آنحضرتؐ کی تعریف کرتے ہیں اور ابوسفیان کی ہجو کرتے ہیں۔حسان بن ثابت کے دورِاسلام کے قصائد میں خاصی تعداد ایسے قصائد کی ہے جو ہجویہ اشعار پر مبنی ہیں اور اس نوع کے قصائد کہنے کی تحریک خود پیغمبرِاسلامؐ نے حسان کو دی تھی۔حسان نے ایسے ہجویہ قصائد کہے کہ دشمنوں کی زبانیں بند ہوگئیں۔ کہاجاتاہے کہ حسان نے وہ ہجویہ اشعار جو مخالف شعراکے جواب میں یا آنحضرت ؐ کی مدافعت میں کہے ، وہ ان کی شاعری کابہترین نمونہ ہیں ۔
جو قصائد حسان ؓنے پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہے ہیں، ان کے دل کی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور وارداتِ قلبیہ کا گہرا احساس دلاتے ہیں ، اس لیے ان قصائد کو داخلیت کے زمرے میں رکھنا زیادہ صحیح ہوگا۔جب کہ حیرہ اور غسانی بادشاہوں کی شان میں کہے گئے حسان کے قصائد پرداخلیت کا اطلاق نہیں ہوتاکہ ان میں کہیں نہ کہیں دنیوی انعام واکرام ان کے پیشِ نظر ہوتا تھا۔چنانچہ حسان کے وہ قصائد زیادہ مہتم بالشان اور وقعت وعظمت کے حامل ہیں جو انھوں نے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں کہے ۔حسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ عقیدت ومحبت تھی ، مندرجہ ذیل اشعار سے اندازہ کیا جاسکتاہے ؎
مَابَالَ عینُکُ لَا تَنَامُ کَانَّہا
کحلت ماقیبہا بکحل الأرید
متی یبدفی الدجی البہیم جنبہ
یلح مثل مصباح الدجی المتوقد
فمن کان أو من یکون کاسمائٍ
نظام لحق أورنکال لملحد
’’تیری آنکھ کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ سوتی نہیں گویا اس کی پتلیوں کو آشوب کا سرمہ لگادیا گیا ہے۔سیاہ رات میں جب آپؐ کی جبینِ مبارک نظرآتی ہے تو ایک چمک ہوتی ہے جیسے تاریک رات میں کوئی روشن شمع ہو۔ کون احمدؐ سا ہوا ہے یا ہوگا، حق کا پاسبان ، ملحد کے عبرت ناک انجام کا باعث۔‘‘
کعبؓ بن زہیر
بعض ناقدین نے کعب کا موازنہ طبقۂ اولی کے شاعرنابغہ اورمعلقہ کے شاعر لبید سے کیا ہے ۔خلف الاحمر کا کعب کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اگر زہیر کے وہ خوبصورت الفاظ نہ ہوتے جن کی لوگ بہت قدر و منزلت کرتے ہیں تو کعب زہیر سے بھی بڑا شاعر ہوتا۔ کعب کے بارے میں احمد حسن زیات بھی کچھ اسی طرح کا خیال ظاہرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اگر اس کی شاعری کے الفاظ میں غرابت ، تراکیب میں پے چیدگی اور مطولات میں خامیاں نہ ہوتیں جن عیوب سے اس کے باپ کی شاعری پاک ہے تو وہ شاعری میں تقریباً اپنے باپ کے ہم پلّہ ہوجاتا ۔‘‘ (تاریخ ادب عربی، ص ۱۳۱)
کعب بن زہیر زمانہ ٔ جاہلیت کے شہرہ ٔآفاق شاعر زہیر بن ابی سلمیٰ کے فرزند اور اس خاندان کے چشم وچراغ تھے جو شاعری کا عظیم الشان گہوارہ رہاتھا۔ خود کعب کے والد زہیر بن ابی سلمیٰ نہ صرف معلقہ کے شاعر تھے بلکہ ان کا شمار طبقہ اولی میں ہوتاتھا اور ان کی شاعری سنجیدگی و بردباری اورجاہلی رواج کے ساتھ حکمت و اخلاق اورفلسفے جیسے مختلف موضوعات پر مشتمل ہوتی تھی۔باپ کے اثرات کعب میں بھی آئے اور انھوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر کم عمری ہی میں شاعری میں دلچسپی لینی شروع کردی اور اشعار کہنے لگے۔زہیر بن ابی سلمیٰ نے کعب کے شاعرانہ رجحان کو دیکھتے ہوئے انھیں اشعار کہنے سے باز رکھنے کی کوشش کی، اس لیے کہ انھیں خوف تھا کہ اگر کعب نے غیر معیاری اشعار کہہ ڈالے تو سارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی لیکن کعب نہ مانے اور انھوں نے اپنے شوق کو جاری رکھا۔بیٹے کی ضد کو دیکھتے ہوئے زہیر نے از خود تربیت دی۔ وہ کعب کو بستی سے دور لے جاتے، ان کے اشعار سنتے، شاعری کے اصول ورموز بتاتے ۔گویاکہ کعب نے باضابطہ زہیرکی شاگردی اختیارکی۔اندازہ کیا جاسکتاہے کہ جس شاعر کو زہیر جیسے پختہ اور عظیم استاد سے شاعری سیکھنے کا موقع ملا ہو، اس کی شاعرانہ حیثیت کتنی مستحکم ہوگی ۔
کعب بن زہیر کا وہ قصیدہ جو انھوںنے پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا ، اس میں جاہلی رنگ بھی ہے اور قصیدے کی وہ تمام خصوصیات بھی موجود ہیں جو دوسرے بڑے شعرا کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ اس قصیدے کو کعب بن زہیر نے جاہلی ریت کے مطابق اپنی محبوبہ کے غمِ مفارقت سے شروع کیا ہے۔محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف بھی کی ہے ، اس کے حسن کا سراپا بھی کھینچا ہے ،پھر اکثر زمانۂ جاہلیت کے قصیدہ گو کی طرح اونٹنی کا تذکرہ بھی کیا ہے اور اس میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا ۔اس کے بعد نبی ؐ کی توصیف میں جو اشعارکہے ہیں ،اس میں انھوںنے پوری طاقت جھونک دی ہے۔اس قصیدے کے چند اشعار اس طرح ہیں:
فَقَدْ اَتَیتُ رَسولَ اللّٰہِ مُعْتذرًا
وَالعفوُ عندَ رسولِ اللّٰہِ مَقبولُ
لَقد اَقُومُ مَقامًا لَو یَقوم بِہ
اَری واَسمعُ مَالَوْیَسْمَعُ الفِیلُ
لَظَلَّ یَرعدُ اِلَّا اَن یَّکونَ لَہٗ
مِنَ الرَّسولِ بِاِذنِ اللّٰہِ تَنْوِیْلُ ۔۔۔
’’اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں عذرخواہ ہوکر پہنچا اور معافی ودرگذر اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ میں اس مقام پر کھڑا تھا کہ اگر وہاں ہاتھی بھی کھڑا ہوتا اور ہاتھی وہ دیکھتا اور سنتا جو میں دیکھ اور سن رہا تھا تو یقینا کانپنے لگتا۔اگر اللہ کے حکم سے رسول اللہ کی طرف سے جو دوسخا، اور بخشش وعطا نہ ہوتی ،یہاں تک کہ میں نے اپنا داہنا ہاتھ بغیر کسی مناقشے کے اس ہاتھ میںدے دیا جو کہے کی سزادے سکتا تھا اور جس کا قول قولِ فیصل تھا ۔بے شک رسول اللہ وہ سیف ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی تلواروںمیں سے ایک کھینچی ہوئی تلوار ہیں۔‘‘ (نقوش ، رسول نمر، ۲۳۶، جلد نمبر ۱ ، شمار ۱۳۰، اشاعت ، ۱۹۸۴ء)
اسلامی دورکی شاعر ی میں کعب بن زہیر دورِجاہلی کی شاعری سے الگ نظرآتے ہیں۔وہ اس دور کے قصیدوںمیں شراب وشباب ، حسن وجمال کے بجائے ان مسائل کو موضوعِ شاعری بناتے ہیں جو زندگی سے زیادہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو ’قصیدہ بردہ‘(بہ معروف ’بانت سعاد‘) کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا ہے اس کی تشبیب میں محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف کی گئی ہے۔ اس تشبیب میں پوری طرح سے جاہلی انداز کی غزلیات کارنگ نمایاں ہے تواس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ قصیدہ دورِجاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں کا احاطہ کرتا ہے ۔تشبیب کے اشعار کعب نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کہے تھے ۔کعبؓ نے دورِاسلام میں حسانؓ بن ثابت سے کم شاعری کی ہے ، لیکن جتنی بھی کی ہے وہ بہت عمدہ اور معیاری ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں حسّان ؓبن ثابت اور محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ گوئی :ایک تقابلی مطالعہ- ڈاکٹریوسف رامپوری)
عبداللہؓ بن رواحہ
عبداللہ بن رواحہ بھی دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ا ہم شاعر تھے ۔رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی مخالفینِ اسلام کا جواب دینے کے لیے منتخب کیا تھا۔گویاکہ اس اعتبارسے عبداللہ بن رواحہ حسان بن ثابت اور کعب بن مالک کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا خاندانی تعلق مدینہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھا، عبداللہ بن رواحہ طبعاً شریف الطبع ، باحیا اور بااخلاق تھے۔اسلام لانے کے بعد ان کی شخصیت میں اور زیادہ نکھار آگیا تھا اور وہ ہرنوع کے گناہ سے پرہیز کرتے تھے ۔
عبداللہ بن رواحہ نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد بھی شاعری کے سلسلہ کو جاری رکھا مگر جب یہ آیت ’’وَالشُّعرائُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُوْن ‘‘ نازل ہوئی تو انھیں شاعری سے ہچکچاہٹ محسوس ہوئی لیکن حضوراکرمؐ نے آپ کو شعر کہنے کی ترغیب دی اور جب یہ آیت’’ اِلاَّالَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعملواالصَّالِحَات‘‘ اتری تو انھیں سکون حاصل ہوا اوراپنی شاعری جاری رکھی ۔ ان کے قصائد میں اسلامی رنگ زیادہ نظر آتاہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کا دائرہ وسیع نہیں ہے۔
کعبؓ بن مالک
عہدِ نبویؐ کے شاعروںمیںایک اہم شاعرکعبؓ بن مالک تھے جنھوںنے دورِ جاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں میں قصائد کہے ۔ وہ پُرگوشاعر تھے اور رزمیہ اور وصفیہ قصیدہ گوئی میں انھیں ملکہ حاصل تھا۔انھوں نے ایسے کئی قصائد کہے جن میں غزوات کا نقشہ کھینچا گیاہے۔اسلام میں داخل ہونے کے بعد ان کی شاعری پر اسلام کا رنگ نمایاں نظر آتاہے ۔ان کے قصائد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جاہلی ریت کے مطابق اپنے قصائد تشبیب سے شروع نہیں کرتے ، غزلیہ مضامین کی طرف تو وہ جاتے ہی نہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین وادبا نے کعبؓ بن مالک کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے ، بہت سوں نے ان کے ہلکے پھلکے تذکرے پر اکتفاکی ہے لیکن کعب نے جتنا کلام کہا اور جس معیار کو انھوں نے اپنے قصائد میں قائم کیا ،وہ شاعری میں ان کے مرتبے کو متعین کرنے کے لیے کافی ہے۔کعب نے حسان کی طرح مخالفینِ اسلام کی ہجو بھی کی ہے اور اعتراضات کے جواب بھی دیے ہیں۔ گویاوہ مدح اور ہجو دونوں کے شاعر تھے ، البتہ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع نہیں ہے۔
کعب ؓبن زہیر اور کعبؓ بن مالک کے حالات ِزندگی میں ایک بات یہ مشابہہ ہے کہ حضوراکرمؐ دونوں سے ناراض ہوگئے تھے۔ کعب بن مالک سے ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوۂ تبوک میں بلاعذرِشرعی کے شریک نہ ہوسکے تھے۔آپؐ نے کعب سے قطعِ تعلق کرلیا اور ان کا سماجی بائیکاٹ کردیا۔دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین عرب ان پر تنگ ہوگئی ،تمام دوستوں، رشتہ داروںاور ملنے جلنے والوں نے منہ موڑلیا۔یہاں تک کہ ان کی بیوی کو بھی میکے بھیج دیا گیا۔ اس حال میں پورے ۵۰؍دن گزرگئے ۔اس کے بعد سورہ توبہ کی آیت ۱۱۸ نازل ہوئی جس میں یہ بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ مذکورہ آیت کے نزول کے بعد ان کا سماجی بائیکاٹ ختم کردیاگیا۔کعب نے خاصی عمر پائی ، انھوں نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا زمانہ بھی دیکھا ۔بالآخر ۷۷سال کی عمر میں ۶۷۰ء اور ۶۷۳ء کے درمیان اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
صدرِاسلام میں اوربھی کئی ایسے شعرا گذرے جن کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ، ان میں ایک نام عبا س بن مرداس السّلمی کاہے۔ وہ دورِ اسلام کے بڑے بلیغ اور قادرالاکلام شاعر تھے۔انھوں نے دورِجاہلی میں بھی شاعری کی اور دورِاسلام میں بھی۔ان کے قصائد میں جاہلی شعرا کی طرح فخر وشجاعت کا زبردست اظہار ملتاہے۔جب ان کے بھائی حریم بن مرداس کا قتل ہوا تو انھوں نے بڑے جوشیلے اشعار کہے اور بنی عامر کو قصاص لینے پر ابھارا۔ انھوں نے اپنے اعزا و اقارب کو لعن طعن کی تاکہ وہ شمشیر برہنہ لے کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑیں۔ان کے کلام میں حقائق کا بیان بھی ملتا ہے۔جیساکہ وہ اپنے ایک قصیدے میں کہتے ہیں:
’’ تو ایک کمزور ولاغر سے آدمی کو دیکھتاہے اور اس کو حقیر وکم مقدور سمجھتاہے ۔حالاں کہ اس کے کپڑوں میں اس کے پکے ارادے کا شیر ہے۔ مردوں کا دراز قد ہونا ان کے لیے فخر کی بات نہیں ہے۔اگر ان کے لیے کچھ فخر ہے تو سخاوت و شرافت میں ہے۔‘‘ (عربی ادب کی تاریخ ، جلد اول، ص: ۱۳۷، ازمحمد عبدالاحد)
اسی دور کے نامی شاعروںمیں عمروبن معدیکرب الزبیدی کا بھی شمار ہوتاہے ۔ ان کی کنیت ابوثور تھی،قبیلہ مذحج سے تعلق رکھتے تھے۔وہ اپنی قوم کے سردار تھے اور میدانِ جنگ میں بہادری دکھاتے تھے۔انھوں نے غزوہ ٔ تبوک کے بعد اسلام قبول کیا لیکن جب آپ ؐ دنیا سے رخصت ہوگئے تو اسلام سے پھر گئے۔حضرت ابوبکر ؓ کے عہدِ خلافت میں مسلمانوں سے لڑائی ہوئی اور شکست سے دوچار ہوئے۔قید کرکے حضرت ابوبکر کے پاس لائے گئے۔ آپ نے انھیں معاف کردیا۔اس کے بعد پھر اسلام لے آئے اور آخری دم تک مسلمان رہے۔جنگِ قادسیہ میں شجاعت وبہادری دکھائی۔
صدرِاسلام میں عربی قصائد پر اسلام کا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ چوں کہ اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اس لیے قصائد میں بہت سے ایسے موضوعات داخل ہوگئے جو پہلے قصیدے میں مستعمل نہ تھے ۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قصیدے کو اس دورمیں بھی نقصان نہیں ہوا لیکن جو لوگ قصیدے میں صرف ان موضوعات و مضامین کو دیکھنا چاہتے تھے جو دورِ جاہلی میں منظوم ہوتے تھے ،انھیں اس تبدیلی یا اضافے پرقصیدے کا فائدہ نظر نہیں آیابلکہ انھوں نے اس وسعت کو قصیدے کا خسارہ خیال کیا۔انھوں نے شکوہ کیا کہ قصیدے میں جاہلی شان و شوکت برقرار نہ رہی ، نہ زبان و بیان پر وہ زور ، نہ نادر تشبیہات واستعارات اور عمدہ تراکیب کا استعمال اور نہ وہ وارداتِ قلبیہ کا اظہار ۔لیکن یہ زمانے اور ماحول کی تبدیلی کے اثرات تھے۔کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانۂ اسلام کے شعرا کا مطمحِ نظر صرف شاعری نہ تھا بلکہ آخرت کی کامیابی ان کے پیش نظرتھی۔چنانچہ دورِ اسلام(صدرِاسلام) کے جو بڑے شعرا گزرے ، ان کی زندگیوں پر اسلام کے گہرے اثرات تھے ۔ ظاہرہے کہ شاعر کی شاعری پراس کی زندگی اورماحول کے اثرات ضرور پڑتے ہیں۔ایسے میں ان سے محض جاہلی قصیدے کی ریت کی تقلید کی امید کیسے کی جاسکتی تھی اور نہ ہی ان سے اس بات کی توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ جاہلی دور کے موضوعات پر اپنی شاعری کرتے ۔ انھوں نے نئے دور کے تقاضوں کے مدِّ نظررکھ کر شاعری کی اور روشن خیالی سے کام لیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

