صرف ہم دو تھے کوئی نہ تھا تیسرا
جو اذیت کی مہکار میں بھیگتا
میں محبت کو بے فیض لکھتا رہا، بے
بسی مجھ پہ آنسو بہاتی رہی
زندگی اور مشاہدات کا ایک ایسا تعلق ہے جس کا تعلق لا ثانی ہے کچھ لوگ چلتے ہوئے سوچتے ہیں اور آس پاس کے حالات معاشرے سماج سوسائٹی کو اپنی نگاہوں میں ہر وقت رکھتے ہیں تو زندگی کبھی خوشگوار مشاہدات سے ہمکنار کرتی ہے تو کبھی تلخ حقائق سے آشنائی یہ سب ہماری زندگی کا حصہ ہے اور انہیں کے ساتھ ہم زندگی کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہوتے ہوئے گزر جاتے ہیں پھر یا تو غور و فکر کرکے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں یا پھر انہیں مسائل میں الجھ کر خود کو لاچار سمجھ کر اپنی زندگی میں موت کے منتظر بن کر رہ جاتے ہیں اللہ تعالی قرآنی اسباق میں سکھاتا ہے کہ غور و فکر کریں یا کیا آپ فہم والے نہیں یا کیا تم جانتے نہیں تم سمجھ نہیں رکھتے ایسے الفاظ کی تکرار کا منشی ہی یہی ہے کہ انسان غور و فکر کیا کرے اس کائنات میں جو اس انسان کے لئے ضروریات زندگی کی ہر چیز میسر رکھے ہوئے ہے آج سے کچھ ایام قبل ایک کتاب ملی بنام ورق ورق زندگی ساتھ میں ایک اور کتاب تھی کرب ریزے کتاب کے مصنف صابر حسین وانی قلمی نام ایثار کشمیری ترال کے مکین اور پیشے سے ایک استاد ہیں ان کی یہ دو کتابیں پیارے بھائی ارشاد احمد کار کے ذریعہ سے وصول ہوئی جن کی محبت کا میں ہمیشہ مقروض ہی رہوں گا .
ان دو بہترین تخلیقات کا تبصرہ میرے لئے انتہائی مشکل ہے کیونکہ میں جس جہاں کا طالب علم ہوں وہاں اب ادب کا نشان ظاہر نہیں ہورہا ہے بس وہ پرانے میرے اسلاف جن کی کاوشوں کے سہارے ہم اس ادب کی صنف کے کچھ قریب ہوئے پر اظہار رائے کی اجازت لے کر ہم جو اظہار خیال کریں گئے لازم نہیں کہ وہ من و عن اعلی ہو یا حق ادائی ہوگی ہو پر میری کوشش رہے گی کہ کم وقت میں زیادہ تعارف ہوجائے دونوں کتابوں کا ورق ورق زندگی مشاہدات زندگی پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں کل اکتیس اسباق ہے جو زندگی کے تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ صفحہ قرطاس پر مصنف نے بکھیر دے ہیں انتساب کتاب بھی اسی زندگی کے نام کرتے ہوئے انتساب کے مندرجہ ذیل میں مصنف رقم طراز ہیں.
(یہ بھی پڑھیں اقبال تیری ملت کا اقبال کھو گیا- الطاف جمیل ندوی)
اس زندگی کے نام ۔۔۔
جس کے لوگوں نے مول طے کئے لیکن وہ نہ بکنے کی قسم کھا کر انمول ہوگئی
اس کتاب کے اسباق کے بارے میں مصنف مذکورہ کتاب تمہید میں کہتے ہیں آپ کے ہاتھوں میں یہ کتاب ورق ورق زندگی میرے ان مشاہدات کا مجموعہ ہے جو میں نے زندگی کو بہت قریب سے جی کے حاصل کئے ہیں میں نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار موت کے قریب جاکر زندگی کی قدر و قیمت جانی ہے لہذا زندگی کے تئیں میرا نظریہ لوگوں سے مختلف ہونا لازم ہے جو ایسی رونگھٹے کھڑے کردینے والی صورت حال سے دوچار نہ ہوئے ہوں ہر انسان زندگی کو اپنے اپنے زاویہ سے لیتا ہے اور زاویہ کے مطابق اسے جینے کی کوشش کرتا ہے میرا بھی اپنا ایک زاویہ نگاہ ہے اور میں نے زندگی کو جب اس زاویہ دے دیکھا تو یکایک قلم میرے ہاتھ میں آگیا اور وہ سب کچھ صفحہ قرطاس پر بکھرنے لگا
ہم کہہ سکتے ہیں کہ استاد اکثر سماج کے حساس طبیعت مالک لوگ ہی ہوتے ہیں جن کی نگاہیں ہر صورت اردگرد کی جانچ پڑتال کرتی ہی رہتی ہیں اور اسی سے متاثر ہوکر وہ معاشرے کے بارے میں کام کرنے کی راہ کا تعین کرلیتا ہے
پر یہ میرے لئے ایک الگ تجربہ تھا کہ ایک استاد اپنے ذاتی مشاہدات کے ساتھ ایک تخلیق کو منصئہ شہود پر لاکر افادہ عام کے لئے بازار میں پہنچا رہا ہے میں نے اس استاد کے مشاہدات کا جس قدر مطالعہ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہر اس ذی شعور انسان کے مشاہدات ہوسکتے ہیں جو عقل و دانش کے ساتھ سماج سوسائٹی میں جی رہا ہو یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ تجربات حاصل کرکے انہیں آزماتے ہیں اور کچھ لوگ تلخ و شیریں سے لاتعلق ہوکر صرف جیئے جاتے ہیں پر مصنف مذکور ازخود مسائل کھڑے کرکے ان سے نکلنے کی تدابیر بھی بیان کر رہا ہے یا مشکلات کے بھنور سے کیسے نکلا جاسکتا ہے یہ سیکھا رہا ہے بس کتاب مطالعے سے تعلق رکھتی ہے
دوسری کتاب کرب ریزے ہے
اس کتاب کا تعارف کرنے کی پہل اس شعر سے کرتا ہوں
لکھ کر ورق ورق پہ مصائب کی داستان
گمنام زندگی کے نشان چھوڑ جاؤں گا
جو ایک افسانوی مجموعہ ہے کتاب میں کل ملا کر ۳۳ افسانے ہیں ۱۵۳ صفحات پر مشتمل یہ کتاب بھی افسانوں سے زیادہ تجربات و مشاہدات کی عکاس ہے مطلب مصنف مذکور سماج سوسائٹی معاشرے سے بنا واقفیت یا لاتعلقی کے ایسی رونگھٹے کھڑی کرنے والی کہانیاں یا داستانیں نہیں بیان کرسکتا یہ حقیقت ہے کہ آج کے زمانے میں ہم جس ادب سے مانوس ہیں وہ اکثر خیالی ہی ہوتا ہے پر ہمارا جس وادی سے تعلق ہے یہاں کے اہل ادب اکثر حقیقی واقعات کو افسانوی بناکر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جیسے کہ کرب ریزے کے مصنف نے اپنی کتاب کے ابتدائی صفحات پر دل کی بات کے ذیل میں لکھا ہے
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وادی کشمیر پچھلی کئی دہائیوں سے کرب ناک حالات سے گزر رہی ہے کہیں یتیم بچوں کی سسکیاں تو کہیں بے بس ماؤں کی کہیں کہیں جواں سال بیواؤں کی اشک ریلیاں تو کہیں بزرگوں کی ٹوٹی لاٹھیاں کہیں خود جنت کشمیر کی لٹی خوبصورتی کے بد صورت افسانے ہیں تو کہیں گھٹن بھری فضائیں انہیں اور ان جیسی بے شمار کربناکیون کو میں نے کرب ریزے کا نام دے دیا۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ مزاحمتی ادب ہے جس میں دل میں لگی آگ کا اظہار کرنے کے لئے افسانے کا سہارا لیا جاتا ہے کرب ریزے میں شامل اکثر افسانے چلتے پھرتے اور آس پاس ہورہے حالات کی عکاسی کر رہے ہیں جو دور پرشعوب کی وہ ان کہی داستانیں ہیں جو ہم کہنے سے بلا نہیں سکتے ہم گھر گھر نکڑ نکڑ پر ایسی ہزاروں کہانیاں تلاش کرسکتے ہیں جو ہمارے لئے کرب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ادب کی یہ صنف ایک بہترین ذریعہ ہے لوگوں تک پہنچنے اور انہیں حقائق کے ادراک کی راہ دکھانے کے لئے اس کتاب کے ابتدائی الفاظ وادی کشمیر کے معروف مصنف و افسانہ نگار نور شاہ صاحب نے لکھئے ہیں جنہوں نے افسانوں کے مطالعہ کے بعد ایک خوبصورت سا تعارف کرایا ہے کہ اس مجموعے کا کرب ریزے سے بہتر کوئی عنوان نہیں ہوسکتا کیونکہ افسانوی مجموعہ میں شامل اکثر افسانوں کا پس منظر کشمیر کا پر شعوب دور ہے خون آلود فضائیں ہیں دکھ بھری صبحیں ہیں جگر خراش خاموشی میں ڈوبی شامیں ہیں —– ان کرب ریزوں میں وہ مسکراہٹیں بھی نظر آتی ہیں جو کشمیر کے لوگوں کے ہونٹوں پر رینگتی ہیں رینگتی دھیرے دھیرے پھیلتی جارہی ہیں میں کشمیر ہوں نامی ایک افسانے کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں
آہ میں کشمیر ہوں اور چنار کے پہلو میں بے حس و حرکت پڑا رہا
کرب ریزے نامی اس کربناک افسانوی مجموعہ کے مطالعہ کے دوران میں کہہ سکتا ہوں کہ مسکراہٹ میرے لبوں سے بچتی ہی رہی اور میں پوری توجہ سے صرف دل میں اٹھتے ہوئے درد کو محسوس کرتا رہا کیوں کہ مصنف کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اس افسانوی مجموعہ کو اس کمال سے ترتیب دیا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آدمی کھو جاتا ہے اس کے سحر کے اندر میری تمنا ہے کہ یہ کرب ریزے اس کشمیر کے آخری کرب ریزے ہی ثابت ہوجائیں اور اب ہر اور خوشیوں ہی خوشیوں کی پر مسرت اور دل آویز صدائین سنائی دیں مولا مصنف مذکور کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی آنے والی تصنیفات کو بھی ہمارے لئے ایک بہتر پیغام بنائے ہوئے کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

