حسین فطرت پر جوش کے یہاں بہت سی خوبصورت نظمیں ملتی ہیں لیکن فطرت پر اقبال کے یہاں جو شاہکار نظمیں ہیں ان کے مقابلہ کی جوش کے پاس ایک بھی نظم نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ خاموشی کا بیان بھی اتنے پرشور طریقہ پر کرتے ہیں اور تشبیہوں اور استعاروں کے ذریعہ حسن سادہ کی ایسی مشاطگی کرتے ہیں کہ فطرت شاعری کے دبیز پردوں میں چھپ جاتی ہے اور اس طرح آرٹ فطرت پر غالب آجاتا ہے۔ اقبال کے یہا ں فطرت کی شاعری اردو میں پہلی بار ذہنی اور روحانی کیفیتوں کی شاعری بنتی ہے جس کی حسین ترین مثال ان کی نظم ’’ ایک شام‘‘ ہے۔ فراق کی نظم ’’ آدھی رات‘‘ بھی ذہنی کیفیت کی شاعری کی بہترین مثال ہے۔ لیکن اس نظم کے علاوہ فراق کے پاس اچھی فطرتی نظموں کا ذخیرہ جوش سے بھی کم ہے گو فراق کو جوش کی طرح کا لفاظی شاعر نہیں مانا جاتا۔ اگر کوئی کمی ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ فراق کا تخیل اس تصویر سازی سے کام نہیں لیتا جو فطرت کی شاعری کے لیے ضروری ہے۔ اعلیٰ ترین فطرتی شاعری میں ذہنی کیفیت کی زائیدہ غنائیت اور تصویر سازی دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں جیسی کہ اقبال اور فراق کی محولہ بالا دونوں نظموں اور فیض کی مثلاً ’’موضوع سخن‘‘ ،’’ صبح آزادی‘ ‘،’’ تنہائی‘‘ وغیر ہ نظموں میں نظر آتی ہیں جب کہ نغمگی تصویر سازی پر غالب آجاتی ہے تو نظم ایک غنائیہ بن جاتی ہے جیسی کہ حفیظ جالندھری کے نغمات۔ فیض کی بہترین نظموں میں آہنگ سنگیت کا جادو جگاتا ہے لیکن شاعری کی قیمت پر نہیں یعنی نظم نغمہ بننے کے باوجود تصویر سازی کرتی ہے۔ استعاروں کے جال بکھیرتی ہے اور استعاروں کے بطن میں معنی کے شفاف موتیوں کے ہار پروتی ہے۔’’ سرود شبانہ ‘‘ ’’ تنہائی ‘‘ ’’ صبح آزادی‘‘ ایسی نظمیں ہیں جن میں نغمگی، تصویر سازی اور فکر و احساس ایک دوسرے میں مدغم ہیں لیکن فیض کی ان نظموں کو خالصتاً فطرت کی نظمیں نہیں کہا جاسکتا۔ ان میں فطرت کی امیجری ذریعہ ہے ایک ایسے شعری تجربہ کے اظہار کا جو بنیادی طور پر حسن فطرت کا زائیدہ نہیں۔ ’’سرود شبانہ‘‘ اس سے مستثنیٰ ہے۔ لیکن فیض نے ایک نئے اسلوب اور نئی غنائیت کے ذریعہ اردو شاعری کا مذاق بدل دیا۔ ان کے مقابلہ میں میر و سودا، میر حسن اور انیس، فراق جوش اور اقبال، بیانیہ انداز کے شاعر نظر آتے ہیں اور فیض کے بعد ہمارا ذہن خوابناک غنائیت کا اس قدر عادی ہوچکا ہے کہ خوش آہنگ بیانیہ شاعری کی کماحقہ داد نہیں دے پاتا۔
جوش کی نظموں میں بھی حسن فطرت کا بیان ہے، وہ خاموش تفکر، وہ شیریں تکلم، وہ نشاط و غم میں ڈوبا ہوا تأثر نہیں ہے جو فطرت کی شاعری کو رومانیت، سریت اور حسن آفرینی سے آشنا کرتی ہے۔ اپنی شاعری میں جوش فطرت کے پرستار کم اور پجاری زیادہ نظر آتے ہیں۔ شاعری کی جوت جلائے وہ فطرت کی آرتی اتارتے ہیں۔ لفظوں کی گھنٹیاں بجاتے ہیں اور سراپا عقیدت بن جاتے ہیں جس میں ظاہر داری اور تکلف زیادہ ہوتا ہے اور حقیقی جذبہ کی آنچ کم۔ یہی سبب ہے کہ جوش کے مناظر فطرت کی اکثر نظموں میں وہ تاثیر نہیں ہے جو نظیر، انیس، حالی اقبال اور فیض کی نظموں میں کہیں تصویر سازی اور مرقع سازی کہیں سادگی بیان اور حقیقت نگاری اور کہیں کیفیت آفرینی کے سبب پیدا ہوئی ہے۔ جہاں تک قادرالکلامی کا تعلق ہے جوش ان تمام شاعروں میں سے کسی سے کم نہیں تھے بلکہ کئی باتوں میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھے۔ مثلاً زبان کی وسعت اور نزاکتوں کا انھیں اقبال سے زیادہ شعور تھا اور ان کے بحر ذخار کے سامنے فیض کے سرمایۂ زبان تو پائیں باغ کے فوارے کی مانند نرم و نازک پھوار جیسا لگتا تھا۔ فطرت سے ان کا لگاؤ گہرا اور پرخلوص تھا۔ ’’ یادوں کی بارات ‘‘ میں ہندوستانی موسموں کے ذکر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر موسم کی دل ربائی کے کیسے شیدا تھے۔ فطرت پر ان کی بعض نظمیں ایسی منفرد مناظر کی حامل ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سکہ بند موضوعات یعنی صبح شام چاند اور سورج دریا اور پہاڑ تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا ہے بلکہ نہایت اچھوتے مناظر پر بھی ان کی نظر پڑی ہے مثلاً برسات کی شفق، بہار کی ایک دوپہر، بدلی کا چاند، لوکی آمد اور برسات کی چاندنی۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر شخصی لگاؤ نہ ہو تو ان پر طبع آزمائی کی لگن نہیں جاگتی۔ ان تمام باتوں کے باوجود جوش کے پاس کوئی ایسی نظم نہیں ہے جسے ہم حسن فطرت کی اعلیٰ ترین تصویر کہہ سکیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ حسن فطرت کو بغیر مشاطگی اور فنکارانہ آراستگی کے ظاہر ہونے نہیں دیتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فطرت کی تصویریں ان کے یہاں گہری جذباتی کیفیتوں میں ڈوبی ہوئی نہیں ہیں۔ ان کیفیتوں میں تنوع بھی نہیں ہے۔ حاوی جذبہ مرحبا کا ہے۔ تفکر جو فطرت کی شاعری کو سریت کا حسن عطا کرتا ہے اس سے بھی جوش محروم ہیں۔
ان کی مشہور نظم ’’ا لبیلی صبح‘‘ ہی کو لیجیے۔ مناظر فطرت پر یہ جوش کی چند بہترین نظموں میں سے ہے۔ لیکن اس میں عروس فطرت کا اتنا تام جھام ہے ’’ ہیرے کی کیل، گلابی شلوکا،سرخ اوڑھنی،پلو افشاں،رسیلی جھپکتی آنکھیں، نگار مہتاب،نشیلی نگاہ، نغمۂ طرب۔ حسین رنگ و بو، غزل خوانی، گنگناہٹ، تھرتھراہٹ، جبین زلفیں، سہیلی، جھولا کا ایسا بیان ہے کہ صبح کی صباحت اور اس کا فطری حسن عروس فطرت کی اس آرائش میں کہیں چھپ گیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جوش کے کسی مصرع میں ایسا شفاف امیج نہیں ہے جیسا کہ مثلاً اقبال کے ان مصرعوں میں ہے۔
انپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سوگئی ہے
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن ہو
پہنا دیا شفق نے سونے کا سارا زیور
جس طرح عکس گل ہو شبنم کی آرسی میں
ہوا کے زور سے ابھرا بڑھا اڑا بادل
لعل بدخشاں کا ڈھیر چھوڑگیا آفتاب
فطرت کی شاعری میں جان ایسے ہی لفظی پیکروں سے پڑتی ہے اور جوش کے یہاں پیکرسازی کم ہے آرائستگی زیادہ ہے۔ لیکن مناظر فطرت پر اقبال کی نظمیں بھی زیادہ تر بیانیہ ہیں۔ لہٰذا محولہ بالا قسم کے پیکروں کے علاوہ اقبال بھی مناظر کے مختلف پہلوؤ ں کے بیان کے لیے تشبیہ، استعارہ،مضمون آفرینی، حسن تعلیل کے وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔ گویا بیان میں فنکاری اور صنعت گری ان کے یہاں بھی ملتی ہے سوائے ان کی نظم ’’ایک شام‘‘ کے جو سکوت و خاموشی کی کیفیت کا بیان ہے اور اس بیان میں اتنی سادگی ہے کہ احساس کو زبان مل گئی ہے اور موضوع اور ہیئت کی ثنویت ختم ہوگئی ہے۔ ایسے معجزے ادب میں کم ہی سرزد ہوتے ہیں لہٰذا زیادہ تر تو ہمیں حسن فطرت کا لطف بیانیہ شاعری کی حدود کے اندر ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ ان حدود میں ’’البیلی صبح‘‘ معجزہ نہ سہی آرائستگی بیان کا کرشمہ ضرور ہے۔ عروس کی رعایت سے ڈکشن کا رنگ ہم نے دیکھا صبح کی رعایت سے سحر کا تارا، افق کی حد، شاخوں پر طیور کی غزل خوانی، ستارۂ صبح کی آنکھوں میں فسانے، نگار مہتاب کی نگاہ کا جادو، طیور لچکتی شاخوں پہ گارہے ہیں، نسیم گلوں کو جھولا جھلارہی ہے، کلی پر شبنم کا موتی ہے اور بلال کے گرد تاروں کی افشاں ہے۔ نظم و ہ تاثیر نہیں ہے جو تخلیقی تخیل کی حسن آفرینی سے پیداہوتی ہے لیکن وہ لطف موجود ہے جس میں تخیل خوبصورت استعاروں کا استعمال مضمون کی آرائش کے لیے کرتا ہے۔ یہ چند شعر دیکھیے ۔
نظرجھکائے عروس فطرت، جبیں سے زلفیں ہٹارہی ہے
سحر کا تارا ہے زلزلے میں، افق کی لو تھرتھرارہی ہے
ستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانے
نگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگارہی ہے
کلی پہ بیلے کی کس ادا سے، پڑا ہے شبنم کا ایک موتی
نہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے، کوئی پری مسکرارہی ہے
کلی پہ شبنم کے موتی کے امیج کا مقابلہ اقبال کے اس امیج سے کیجیے۔
برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح
اور اس موتی کو چمکاتی ہے سورج کی کرن
اور دیکھیے کہ جوش کی نازک خیالی اور اقبال کی حسن آفرینی میں کیا فرق ہے۔
فطرت کی شاعری جس شفاف منظر نگاری اور بیان کی سادگی کی متقاضی ہے وہ جوش کی نظم برسات کی ایک شام میں انھیں حاصل ہوئی ہے۔
خنک ہواؤں میں اٹھتی جوانیوں کا خرام
کنار دشت میں برسات کی گلابی شام
فلک پہ بازیٔ طفلانہ ابرپاروں کی
ندی کے موڑ میں انگڑائیاں نگاروں کی
ہر ایک ذرے میں ہیجان مست ہونے کا
ذرا سال ریل کی پٹری پہ رنگ سونے کا
ہماری نظمیہ شاعری کے دو بڑے نمائندے اقبال اور جوش کے یہاں کچھ باتیں مشترک بھی ہیں اس فرق کے ساتھ کہ اقبال جوش سے زیادہ گہرے اور محتاط شاعر ہیں۔ مشترک عناصر ہیں، خطابت، بلند آہنگی، شوکت الفاظ اور قدرت بیان۔ اردو کا کوئی نظم گوشاعر اس سطح پر ان کے قریب نہیں آتا۔ حقیقت میں حالی کے بعد اردو کی نظمیہ شاعری نے جوش اور اقبال کے علاوہ دوسرے بڑے شاعرپیدا ہی نہیں کیے۔ فیض اور راشد کے بعد نظمیہ شاعری کا سوتا کم آب ہوتے ہوئے تخلیقی بانجھ پن کے صحرا میں آب گم بن رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جدید شاعروں کے پاس فارسی کا کیا ذکر کریں، خود اردو کی کلاسیکی نظمیہ شاعری کے سہارے موجود نہیں ہے۔ سلیم احمد نے اس سلسلہ میں دلچسپ بات کہی ہے وہ لکھتے ہیں۔ ’’اس صورت میں یہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ نظم نگاری کی ناکام تحریک میں اقبال اور جوش کی کامیابی کے اسباب کیا ہیں ۔۔۔۔؟۔۔۔۔ ایک سبب تو مجھے بھی نظر آتا ہے۔ ’’ اقبال اور جوش دونوں شعر کہنے کے علاوہ اردو اور فارسی شاعری کو پڑھ بھی لیتے تھے۔ ‘‘ ( یہ بھی پڑھیں خلیل الرحمن اعظمی کی نظمیں ’’ زندگی اے زندگی‘‘ کے حوالے سے – ڈاکٹر سلمان فیصل)
لہٰذا جوش کو پڑھتے وقت اس تعصب کو ذہن سے نکال دینا چاہیے کہ جو کچھ اقبال کے یہاں ہے وہ جوش کے یہاں نہیں ہے۔ دونوں میں بہت سے عناصر مشترک ہیں اور جوش کی خطابت شوکت الفاظ اور بلند آہنگی اتنا ہی مرعوب و متأثر کرتی ہے جتنی کہ اقبا ل کے یہاں۔
شفق، ہلال، ندی، رنگ، ابر، سبزہ، ہوا
ہوا میں مور کی آواز جھینگروں کی صدا
خفیف زمزمہ امواج کی روانی میں
فلک پہ رنگ درختوں کے سائے پانی میں
صاف ستھرا اور اچھا بیان ہے لیکن فطرت پر جوش کی شاعری اس بیان سے آگے نہیں جاتی۔ اس بیان کے آگے شاعری کا ایک اور مقام ہے جہاں درختوں کے سائے پانی میں کا مشاہدہ ایک محسوس اور حرکی امیج میں بدلتا ہے جب اقبال کہتے ہیں :
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے کھڑے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
’’ خفیف زمزمہ امواج کی روانی میں‘‘ بہت ہی خوبصورت مصرع ہے لیکن ’’ امواج کی روانی ‘‘ بصری پیکر اور ’’ خفیف زمزمہ‘‘ سماعی پیکر میں نہیں بدلتا جیسا کہ ’’ آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی ‘‘ میں سماعی پیکر اور’’ سنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی ‘‘میں بصری پیکر پیدا ہوا ہے۔ فطرت کی شاعری میں یہی ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے جس سے الفاظ خوبصورتی سے منظر تو بیان کردیتے ہیں لیکن لفظی پیکروں کے ذریعہ حواس کو نہیں جگاتے اس لیے منظرلفظوں میں قید رہتا ہے اور اپنے تأثر کے لیے لفظوں کی شیرینی اور خوش آہنگی کا رہین منت ہوتا ہے۔ یعنی اس کی تخلیق میں بصری نہیں بلکہ سماعی تخیل کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اسی لیے منظر ایک بولتی ہوئی تصویر کی صورت ذہن پر نقش نہیں ہوتا، جذبات میں لرزشیں نہیں جگاتا۔ لفظوں کی مصورانہ طاقت سے جوش اتنا کام نہیں لیتے جتنا کہ ایک مصور فطرت کو لینا چاہیے۔ یہ دو شعر دیکھیے :
کھیت جھومے، ابر مچلا، پھول مہکے، دل کھلے
کونپلیں پھوٹیں، ہوائے مشکبار آنے لگی
قمریاں چہکیں، ہلے پودے، چلی ٹھنڈی ہوا
جام کھنکے روئے مینا پر بہار آنے لگی
ان دو شعروں میں زیادہ تر الفاظ ایسے ہیں جن سے حرکی لفظی پیکر تراشے جاسکتے ہیں۔ ان شعروں میں ان کے استعمال کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن پھر لفظوں کی کھنک، ان کی صوتی ادائیں اور لچکیلا پن ان کی تھرک اور تال سے کان زیادہ مسحو ر ہوتے ہیں اور دوسرے حواس خوابیدہ رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ شعروں میں الفاظ ایسے بھی ہیں جو باصرہ شامہ اور لامسہ تینوں حواس کو متأثر کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
’’ برسات کی چاندنی ‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ جوش کا دل کیسے کیسے مناظر کی طرف کھنچتا تھا۔ اس نظم میں تصویریں زیادہ شفاف ہیں۔ گو بھیگے ہوئے موسم کا تأثر اتنا نہیں ابھرا جتنا کہ چاندنی کا۔ یہ تین شعر دیکھیے :
چرخ پر برسے ہوئے بادل کے ٹکڑے جابجا
چاندنی تالاب، سناٹا، پپیہے کی صدا
سینۂ امواج میں سیال چاندی کی تڑپ
طاق گل میں قطرۂ شبنم کا چھوٹا سا دیا
لرزش صہبا میں جھلکے جس طرح نشے کی روح
چاند ہے اس طرح قلب آب میں ڈوبا ہوا
’’ برسات کی چاندنی‘‘ کی مانند’’ بدلی کا چاند‘‘ بھی ایک خوبصورت نظم ہے جس میں جرزس مشاہدات کا اظہار موزوں تشبیہوں اور لفظی پیکروں کے ذریعہ ہوا ہے۔ ذیل کے مصرعوں کو دیکھیے :
وہ سانولے پن میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلی
بادل میں چھپا تو کھول دیے بادل میں دریچے ہیرے کے
سمٹی جو گھٹا، تاریکی میں چاندی کے سفینے لے کے چلا
اوپر جن نظموں کا ذکر ہوا ان کا انداز بیانیہ ہے۔ اس بیانیہ پر شاعرانہ صناع بندی کا رنگ کبھی گہرا ہے کبھی ہلکا۔ آرائش کلام کبھی بوجھل ہے کبھی سبک۔ لیکن یہ نظمیں صوتی حسن رکھنے کے باوجود مشکل ہی سے اس مقام کو پہنچتی ہیں جہاں حسن فطرت کے بیان میں مصوری اور موسیقی یکجا ہوتے ہیں۔ البتہ ’’گاتی ہوئی راہیں ‘‘میں جوش اس مقام کو چھولیتے ہیں :
چھاؤں میں تاروں کے ملتی ہیں مجھے گاتی ہوئی
راہیں، کھیتوں کے کنارے پیچ و خم کھاتی ہوئی
کوہ و صحرا کو سناتی ہیں حدیث رنگ و بو
پتلی پتلی ٹہنیوں پر قمریاں گاتی ہوئی
اوس میں ڈوبی ہوئی چلتی ہے متوالی ہوا
کنج میں چھپتی ہوئی غنچوں کو چٹکاتی ہوئی
پھوٹتی ہے یوں کرن جیسے کوئی کمسن عروس
آرہی ہو کھیلتی کنگن سے شرماتی ہوئی
لیکن اس نظم میں بھی فکر واحساس کی وہ گہرائی نہیں ہے جس کے بغیر حسن فطرت کی شاعری میں رفعت اور عظمت پیدا نہیں ہوتی۔ دراصل نظم میں کمسن عروس کا حسن ہے، نغمگی ہے، رنگینی ہے لیکن وہ جلال اور جمال نہیں جو فطرت کے نظرافروز اور بصیرت افروز عظیم مناظر پر شاعرانہ تفکر سے پیدا ہوتا ہے۔
حسن عسکری اور سلیم احمد اور بعض دوسرے نقادوں کے یہاں یہ اشارے ملتے ہیں کہ ہمار ا مزاج فطرت کی شاعری کے لیے سازگار نہیں ہے۔ فطرت کی شاعری انگریزی شاعری کے اثرات کی وجہ سے ہمارے یہاں پیدا ہوئی۔ ہماری قدیم شاعری میں قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ میں مناظر فطرت کا بیان تو ہے لیکن فطرت کے پراسرار حسن کی طرف وہ مذہبی پرستش اور جذباتی ربودگی کی کیفیت نہیں ہے جو رومانی شاعروں کے سبب انگریزی شاعری میں دیکھنے ملتی ہے۔ اسی لیے مناظر فطرت کا بیان ہمارے یہاں چاہے مثنوی میں ہو یا مرثیہ میں بیانیہ اسلوب ہی کا حسن رکھتا ہے اور غنائیہ نظم کی اس سطح کو نہیں پہنچتا جہاں اسلوب تفکر میں ڈوبا ہوا اور جذباتی کیفیات کا آئینہ ہو۔ جوش اپنی نظموں میں جذبات تو بہت بھرتے ہیں لیکن ان کے یہاں کوئی ایک نظم ایسی نظر نہیں آتی جس میں حسن فطرت کو شاعر نے ایک بے پناہ جذب کے عالم میں حیرت زدہ نظروں سے دیکھا ہو۔ مناظر فطرت کی شاعری جوش کے یہاں جذبات فطرت کی بیانیہ شاعری بنتی ہے اور بیانیہ شاعری کی حدود میں رہ کر اس سے جتنا جمالیاتی حظ اخذ کیا جاسکتا ہے اس کا ذکر اوپر کیا گیا۔
بیانیہ شاعری کے ذیل میں جوش کی نظم ’’ گرمی اور دیہاتی بازار‘‘ ایک بے مثال نظم ہے۔ جو ش کا بیانیہ انداز یہاں اپنے عروج پر ہے۔ ا س نظم میں شاعر نہ تو حسین فطرت سے نہ حسین شاعری سے دل کو موہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے نظم میں نہ تو شیریں بیانی ہے نہ مترنم آہنگ۔ دھوپ گرمی شور مکھیوں کی بھنبھناہٹ اور مرچوں کی دھانس میں دیہاتی بازار کا منظر شاعر کے لیے راحت بخش نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس منظر کو شاعرانہ حسن بیان کے ذریعہ ہمارے لیے جنت نگاہ بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ نظم میں نہ تو رنگین بیانی ہے نہ شیریں زبانی۔ نظم میںجو جذبات ہیں وہ بیزاری، تکلیف اور اذیت کے ہیں۔ بازار کا ہر منظر بدصورتی، افلاس، گندگی اور پھوہڑپن کا آئینہ دار ہے۔ نظم میں دھوپ اور لو کی وجہ سے جسمانی تکلیف بھی ہے، غربت اور افلاس کی وجہ سے روحانی اذیت بھی۔ گندگی اور بدصورتی کے سبب آنکھوں کو، دھانس اور بدبو کے سبب ناک کو، شوروغل کے سبب کانوں کو بھی ناگواری اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ گرمی میں دیہاتی بازار کا جو تجربہ جوش کو ہوا ہے اس تجربہ کو اسی شدت کے ساتھ وہ ہم تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کامیابی کا راز نظم کے حقیقت پسندانہ اسلوب میں ہے۔ یہ نظم نظیر کی روایت میں سہی لیکن نظیر سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اول تو یہ کہ نظم ہمارے تمام حواس کو بیدار کرتی ہے۔ دوئم یہ کہ ایجاز بیان کاعمدہ نمونہ ہے۔ پورے بازار کا بیان ہے لیکن کسی جگہ اطناب نہیں۔ سوئم یہ کہ غریبوں سے ہمدردی ہے لیکن اس ہمدردی میں جذباتیت نہیں۔ جوش نہ تو افلاس سے آنکھیں چراتے ہیں نہ اس پر آنسو بہاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دیہاتی بازار کو دیکھ کر ان کی شائستہ طبیعت کو گزند پہنچتی ہے۔ وہ انقلابی ہیں لیکن غربت کو دیکھ کر ان کی طبیعت انقلابی نغمہ سرائی یا خطابت کی طرف بھی مائل نہیں ہوتی۔ اس نظم میں جوش کی شاعرانہ نگاہ نے چیزوں کو دیکھنے کا سلیقہ پیدا کیا ہے۔ یہاں احساس اور بیان دونوں ایک حقیقت پسند فنکار کا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

