ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں ،وہ ہمارے ہونے کی گواہی اور ہم اسی معاشرت کی شہادتیں ہیں، ہم اور ہماری سماجی روایات اس کائنات کے عالمگیری سچ کا حصہ ہیں اور سچ کبھی چھپا ہوا نہیں ہوتا، سب کے سامنے سانس لیتا ہے؛ کیونکہ اسے صدیوں زندہ رہنا ہوتا ہے اور جو چیز دنیا کے سامنے ترتیب پاتی ہے، اس میں تعمیری پہلو پھولوں کی طرح کھلے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کی خوشبوئیں دور دور تک محسوس ہوتی ہیں ،جیسا کہ دنیا بھر کے مختلف سماج، ملک، قبیلے اور گروہ،مگر کچھ معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہماری آنکھوں سے اوجھل رہ کر انتہائی خفیہ اندازمیں ہمارے آس پاس ہی اپنی جڑیں پکڑ رہے ہوتے ہیں اور ہم کسی نہ کسی درجے میں دانستہ یا نادانستہ اس کا حصہ بھی ہوتے ہیں ،مگر ہمارے ادراک کے پردے پر اس کی شبیہ تک نہیں ابھرتی اور خفیہ طور پر انجام پانے والے معاملات کا بنیادی مقصد عام طور پر سوائے تخریب کے اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا ،جیسا کہ دہشت گردانہ کارروائیاں اور ان سے بھی بڑھ کر ہے ایلومیناتی معاشرہ (شیطان کو مظلوم کہنے والا شیطان پرست خفیہ معاشرہ)۔
یہ تمہید میری نہیں؛ بلکہ رحمان عباس کے ناول روحزن سے برآمد ہوئی ہے، جس کے سامنے میں بھی بے بس ہو ں، اگر میں روحزن نہ پڑھتا ،تو مجھے ایلومیناتی نظام اور اس خفیہ شیطان پرست معاشرے کے منصوبوں کی بھنک تک نہ پڑتی ،جو دنیا کے سبھی معاشروں پر دسترس حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہوئے دنیا میں دہشت گردی اور جنگوں کی روایت کو بڑھاوا دینے میں مصروفِ عمل ہے۔
روحزن ایک ایسا ناول ہے ،جس میں جزئیات کا ایک گہرا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور اس کی سطح پر واقعات کی سر پٹختی ایسی تیز و تند لہریں ہیں، جو قاری کو اپنے ساتھ بہا کر نہ جانے کیسے کیسے حیران کن جزیروں کی طرف لے چلتی ہیں، مگر بنیادی طور پر ناول میں ایک تثلیث بنتی دکھائی دیتی ہے ،جس میں قاری خود کو قید محسوس کرتا ہے یعنی ہمارا سماج، ایلومیناتی معاشرہ اور جنسی معاملات۔ اس کے علاوہ کچھ علامتوں کے مینار بھی کہانی میں دکھائی دیتے ہیں، جو اپنے بطن میں دیو مالائی اور اساطیری رنگ رکھتے ہیں اور یہ علامتیں ناول میں الگ سی کیفیات بھر دیتی ہیں ،مگر ایک تثلیث واضح طور پر ناول کی بالائی سطح پر تیرتی نظر آتی ہے۔
رحمٰن عباس نے پوری کہانی کو تثلیثی سانچے میں ڈھال کراس کے تین بنیادی موضوعات یعنی ہمارا سماج، ایلومیناتی معاشرہ اور جنسی معاملات کو ڈسکس کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اتنے ڈھیر سارے ضمنی موضوعات بھر دیئے ہیں کہ کہیں کہیں تو کہانی اور واقعات کے سرے قاری کے ہاتھ سے ہی چھوٹ جاتے ہیں، مگر اس بکھراؤ کی کیفیت میں بھی واقعات کا بہاؤ اتنا تیزتر ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ بہہ جانے کے علاوہ قاری کے پاس اور کوئی راستہ بچتا ہی نہیں، ان موضوعات میں کیا کچھ نہیں ہے، سماجی رویے، نفسیاتی چلن، لین دین، محبت ،نفرت، دکھ ،سکھ، معاشرت، روح، جسم، رشتے ناطے، جنسی ملاپ، عشق، سیکس، مذہب، تصوف، ادب، شعرو شاعری، میوزک، تخریب کاری، کاروباری معاملات، دہشت گردی، ہیروں،عطر، مچھلی کی معلومات، پامسٹری، دنیا کے دیگر علوم و خطے اور ایلومیناتی خفیہ معاشرے کی ہوش ربائیاں؛ غرض کیا کچھ ہے، جو اس ناول میں نہیں سمو دیا گیا۔
مگر کہانی کا ایلومیناتی پہلو ناول پر ایسا غالب آتا ہے کہ قاری کی نفسیات اس میں پوری طرح سے جکڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے، یہاں تک کہ ناول کے اختتام تک بھی قاری اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل پاتا، معاملہ یہاں تک ہی ختم نہیں ہوتا ؛بلکہ کسی بھی موضوع اور علوم پر بات کرنے کے لیے ناول نگار کا مشاہدہ ایسا غضب کا ہے کہ حیرت قاری کا پیچھا نہیں چھوڑتی کہ اتنی جانکاری ان کے پاس کہاں سے آئی؟ خاص طور سے ایلومیناتی فلسفے کو ڈسکس کرتے ہوئے رحمان عباس کا مشاہداتی رویہ اتنا صاف شفاف نظر آتا ہے کہ وہ خود اس معاشرے میں کھڑے ہوئے دکھائی دینے لگتے ہیں اور ایک مقام پر آ کر قاری شکی مزاج بن جاتا ہے کہ کہیں خود ناول نگار بھی اسی شیطان پرست خفیہ معاشرے کا حصہ تو نہیں ؟ مگر ان ساری باتوں سے ہٹ کر انہیں داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے ایک
ایسے موضوع پر ہاتھ ڈالا ہے، جس پر شاید اردو ادب میں اتنی تفصیل کے ساتھ پہلے کبھی نہیں لکھا گیا، ناول کا یہ نقطہ بھی بڑا حیران کن ہے کہ ایلومیناتی معاشرے میں میل ملاقات کا نقطۂ عروج اور ہمارے معاشرے میں رائج محبت کی معراج جنسی ملاپ پر ہی منتج ہوتی ہے، یعنی کوئی بھی معاشرہ ہو، جب جسم ایک دوسرے سے بات کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، تو ان کی تکمیل کے راستے سیکس سے ہو کر ہی گزرتے ہیں۔
ممبئی کے ساحل سے شروع ہونے والی روحزن کی حیران کن کہانی میں ممبئی اور اس کے گردونواح کو جس طرح نقش کیا گیا ہے ،وہ ماحول ہندوستانی فلموں کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے، جیسے سب کچھ ناول نگار رحمان عباس کی آنکھوں کے سامنے ہی ترتیب پایا ہے اور وہ ناول کے سبھی واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

