فراقؔ گورکھ پوری کا شعری سفر تب شروع ہوا جب ان کی عمر تقریباً ۲۲ برس کو پہنچ چکی تھی۔ فراقؔ رات رات بھر طبع آزمائی کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے خود لکھا ہے کہ ایک غزل رات کے نو دس بجے شروع کی تو پو پھٹنے پر اس کا مقطع ہوا۔ یہ غزل انھوں نے فانیؔ کے اس شعر سے متاثر ہوکر کہی تھی:
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
فراق کا شعر فانی کے شعر کا محض چربہ بن کر رہ گیا ہے:
نہ سمجھنے کی یہ باتیں ہیں نہ سمجھانے کی
زندگی اچٹی ہوئی نیند ہے دیوانے کی
فراق دراصل غزل کے شاعر ہیں مگر انھوں نے گاہے گاہے نظمیں بھی کہی ہیں۔ ’روح کائنات‘ صرف نظموں کا مجموعہ ہے۔ ان میں نظمیں بھی غزل کا اثر رکھتی ہیں۔ گل نغمہ میں غزلیں، نظمیں اور رباعیات ہیں۔ ان کی زیادہ تر نظمیں محض تجربات کا نمونہ ہیں۔ مگر آدھی رات، جگنو، شام عیادت، پرچھائیاں اور ہنڈولہ اچھی اور پُراثر نظمیں ہیں۔ ہنڈولہ اور جگنو سوانحی خاکے ہیں مگر ان تمام نظموں میں ان کی جمالیات کا پر تو ہے اور فطرت سے لگاؤ نے ان میں سوز و گداز کی کیفیت بھی پیدا کردی ہے۔ وہ فلسفہ پیش نہیں کرتے اور نہ ہی مصلح و مبلغ کی طرح خطیبانہ شان سے قاری کو درس دیتے ہیں۔ احساس کا دریا ہے جو رواں دواں ہے۔ یہاں ان کی تین نظموں آدھی رات، پرچھائیاں اور جگنو کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ شعر کی قرأت اور اس کی تشریح و تعبیر ایک مشکل مرحلہ ہے۔نظم کی تفہیم اور تعیین قدر اس سے بھی بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔
آدھی رات:
یہ ایک نظم معرّا ہے اور اس کے نو حصے ہیں۔ منظر یہ شاعری کے خوبصورت عناصر اس میں موجود ہیں۔ نظم کی تعمیر میں نادر لفظی تراکیب خود بہ خود وضع ہوتی گئی ہیں:
سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیں
زمیں سے تامہ و انجم سکوت کے مینار
جدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگی
آدھی رات کا منظر ہے۔ شاعر مشاہدہ کائنات میں غرق ہے۔ اس عالم سکوت میں اس کے پردۂ ذہن پر مختلف النوع خیالات ابھرتے ہیں۔ چاند تارے آغوش خواب میں جانے کو جماہیاں لے رہے ہیں۔ فراق ان مناظر کا صرف بصری مشاہدہ ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے مشاہدہ اور احساس کی تجسیم کرتے ہیں اور شاید اسی لیے پروفیسر محمد حسن عسکری نے اپنے مضمون ’فراق کی نظمیں‘ میں لکھا ہے:
’’آدھی رات اور دھندلکا (پرچھائیں) اردو نظم میں بعض نئے عناصر کا اضافہ کرتی ہیں۔ کم سے کم یہ عناصر اتنی شدت سے پہلے کبھی دکھائی نہیں دیتے۔‘‘
پروفیسر عسکری کے اس نظریے کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فراق نے مطالعۂ کائنات کے لیے ایک نیا زاویۂ نگاہ اپنایا ہے۔ یہ زاویۂ نگاہ تب بنتا ہے جب نظم کی تعمیر کے وقت شاعر پر استغراق اور محویت طاری ہو اور اس محویت کی بے شمار جہتیں ہوں۔ فراق کی اس منظریہ شاعری کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ شاعری کے وقت اپنے وجود کو کائنات کا حصہ یا کائنات کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اب نظم کی طرف آتے ہیں۔
سواریاں چل رہی ہیں۔ ان کے گھنگروؤں کی جھنکاروں پر غنودگی چھائی ہوئی ہے۔ کہیں کہی تمولیوں کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ شبنم پڑرہی ہے اور بے چارہ ہر سنگھار کا پیڑ چپ چاپ کھڑا اوس کی بارش میں نہا رہا ہے۔ فراق اس منظرکشی کے بعد اس نظم کا عصری مسائل سے رشتہ جوڑتے ہیں: سپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سے۔ اس خوبصورت منظر میں روس اور برلن کا قصہ چھڑ جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ مصرع غیرمتعلق بھی معلوم ہو، جیسے پیوندکاری ہو۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس ایک مصرعے کا اثر پوری نظم کی فضا پر چھایا رہتا ہے۔ آگے چل کر اس ایک مصرعے سے کئی مصرعے جنم لیتے ہیں:
یہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمک
نظام ثانیہ کی موت کا پسینہ ہے
خود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئی
خود اپنے کوکھ سے یہ جگمگا کے اُبھرے گی
بدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے
نظام ثانیہ کی وضاحت فراق نے فٹ نوٹ میں کی ہے— ’’پہلا نظام جاگیرداری، دوسرا نظام سرمایہ داری، تیسرا نظام اشتراکیت۔‘‘
ایک مصرعے کی وضاحت کے لیے آئندہ کے کئی مصرعوں کا سہارا لینا پڑا۔ اس ایک مصرعے کے بعد وہ کہتے ہیں:
فضائے نیم شبی نرگس خمار آلود
کنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ
عکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۔ یہ مصرع محض لفظی بازی گری نہیں بلکہ معنیاتی جہتیں رکھتا ہے۔
نظم کے تیسرے حصے کا آغاز فراقؔ کے طرزِاحساس اور محاکاتی سوچ کی طرف بین اشارہ کرتا ہے:
یہ رس کا سیج، یہ سکمار یہ سکو مل گات
نین کمل کی جھپک کام روپ کا جادو
یہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیں
اس مصرعے کی تشریح و تعبیر کرتے ہوئے پروفیسرمحمد حسن عسکری لکھتے ہیں:
’’حرفوں کی آوازیں بالکل یہ ظاہر کررہی ہیں جیسے کوئی فن کار جیسا جاگتا بدن ڈھال رہا ہو۔‘‘ ۲۸؎
یہاں سے لسانی اور صوتی بحث شروع ہوسکتی ہے مگر نظم کی تشریح و تعبیر میرا موضوع ہے۔ البتہ اتنا عرض کرتا چلوں کہ فراق نے اس حصہ کی چھ سطروں میں ہندی زبان اور ہندی تہذیب اور ہندوستانی محبوب کی تصویر پیش کی ہے۔ لفظیات کا انتخاب انوکھا ہے۔ رس کا سیج، سکمار، سکومل گات، نین، کام روپ کا جادو، رسمسائی پلک وغیرہ تراکیب لفظی سے ایک خاص طرح کی فضا ہموار ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فطرت کی عکاسی کے لیے ان کے پاس ہندوستانی عناصر کا فقدان ہے۔ نظم کے آئندہ حصہ میں بھی ایسے ہی رنگ ہیں اور فراق کی منظریہ شاعری کی بوقلمونی ان کے جمالیاتی فکر کا رہین اثر ہے۔ چاندنی شب ہے۔ ندی کے پانی پر کمدنی کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ چاند کی کرنوں کو پیار آتا ہے اور وہ پھولوں کو چوم لیتی ہیں مگر اسی درمیان فراق کے پردۂ جمالیات پر مفلسی کاعکس اُبھرتا ہے۔ پوری فضا غم آلود ہوجاتی ہے جو سچائیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ مصرعے دیکھیں:
شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیا
ندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھِل اٹھے
نہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیا
فراق اس نظم میں رات کا منظر پیش کررہے ہیں مگر وہ سیلان فکر کی زد میں آجاتے ہیں اور جہاں ’شعاع مہ‘ ہونا چاہیے تھا وہ ’شعاع مہر‘ لکھ جاتے ہیں۔ رات میں سورج کی کرن کا کیا کام؟ البتہ شعاع مہ رکھنے سے پورے مصرعے کی ساخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر گستاخی معاف ہو تو مصرع یوں کہا جاسکتا ہے:
شعاع مہ نے انھیں ایسے چوم چوم لیا
فراق کی گھومتی آنکھیں کائنات اور انسانی وجود کی ایک ایک شے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔ انھیں اسی فضائے یاس میں ایک جھینگر کی جھائیں جھائیں سنائی دیتی ہے۔ فضا پر سکوت طاری ہے۔ فراق محسوس کرتے ہیں کہ اب تک تو کائنات ایک نیند لے بھی چکی ہوگی۔ اس خوابیدہ کائنات میں وہ جاگ رہے ہیں اور صحن کی حوض تک آجاتے ہیں۔ وہ یہاں بھی غنودگی کا پہرہ محسوس کرتے ہیں۔ مچھلیاں اپنی چشمکیں بھول کر محو خواب ہیں اور یہ پاس میں جو گڑ ہل کا پھول ہے وہ اپنی شاخ پر سرنگوں ہے جیسے آگ کے انگارے بغیر بجھے ہی سرد ہوگئے ہوں۔ اس بند کے آخری دو مصرعے ملاحظہ کریں:
یہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگر
اک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں
یہ دونوں مصرعے فراق کی اندرونی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف خوبصورت دودھیا چاندنی یوں چھٹکی ہوئی ہے جیسے رس ساگر امڈ آیا ہو اور وہیں دوسری طرف ایک آدمی تنہا اپنی زندگی کے کڑوے گھونٹ پی رہا ہے۔ کوئی انجانی غیرمرئی قوت ہے یا کوئی احساس کا بگولہ ہے جو فراق کے اردگرد رقص کررہا ہے۔ جناب وحید اختر نے ’پرچھائیاں‘ اور’آدھی رات‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’ان نظموں میں احساس تنہائی کی وہ خلاقانہ لہر بھی ہے جو غم ذات کو آفاقیت سے ہم آہنگ کرتی ہے۔‘‘ ۲۹؎
مذکورہ بالا دو مصرعوں کا مفہوم اس شعر میں بھی ملتا ہے:
آئے تھے ہنستے کھیلتے میخانے میں فراق
جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہوگئے
جب فطرت اور مزاج باہم ہم آہنگ ہوجاتے ہیں تو تنہائی اور کرب تنہائی کا مداوا مل جاتا ہے۔ فراق اپنے اضطراب اور کرب کی دنیا کو فطرت کے مناظر میں تحلیل کردینے کا فن جانتے ہیں۔ نظم آگے بڑھتی ہے۔ شاعر کی نظر سوئے فلک اٹھتی ہے۔ چاند کے قریب ایک چڑیا منڈلا رہی ہے۔ یہاں ایک چڑیا کا منڈلانا بھی شاعر کی تنہائی کا استعارہ ہے۔ فراق نے اس چڑیا کو ایک بھنور میں پھنسی ہوئی ناؤ سے تشبیہ دی ہے۔ یعنی نور کے بھنور میں کشتی (چڑیا) چل رہی ہے جیسے کسی شاعر کے سینے میں خواب پل رہا ہو۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جس کے سانچے میں زندگی ڈھلتی ہے اور جس کے دم سے پرانا نظام بدل جاتا ہے۔ فراق اسی تصور میں گم ہیں کہ کہیں سے مدمالتی لتا کی لپٹ محسوس ہوتی ہے جیسے پریاں گلاب رس کا چھڑکاؤ کررہی ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے جنگل میں بن دیویوں نے اپنے بال کھول دیے ہوں اور طشت فلک میں سجے ہوئے یہ ستارے ان پریوں کی آہٹ پر کان لگائے ہوئے ہوں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پس پردہ کہیں انقلاب کی تیاری چل رہی ہو جس کی کسی کو خبر ہی نہ ہو۔ کانوں میں کوئی آواز سی آرہی ہے یا ان ستاروں کے دل دھڑک رہے ہیں۔ بصری قوت نے شاعر کو صوتی آہنگ سے ہمکنار کیا ہے۔ ہوسکتا ہے قاری یا شارح نظم کا وہ مفہوم لے جو شاعر کا نہ مقصود رہا ہو اور نہ مطمح نظر۔ کیا تخلیق کا باطن اور شاعر کا باطن یکساں ہوتا ہے؟ اس بحث سے نکل کر نظم کے اگلے حصے کو دیکھتے ہیں۔ ماحول غم و الم میں ڈوبا ہوا ہے۔ رات پُرسکون ہے مگر پُراسرار اور اداس بھی۔ فضا کی اوٹ سے مردوں کی گنگناہٹ سنائی دے رہی ہے:
فضا کی اوٹ میں مُردوں کی گنگناہٹ ہے
یہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہے
تمام مناظر کی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں اور یہ ستارے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے دنیا والوں پر آنسوؤں کا کفن ڈال دیا گیا ہو ؎ ’ستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفن‘ پھر زندگی جب پردۂ شب میں پہلو بدلتی ہے تو منظر یوں ہوجاتا ہے:
کچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو
زمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگا
مرے خیال میں اب ایک بج گیا ہوگا
دراصل فراق کو انقلابات کی آہٹ محسوس ہورہی ہے اور یہ تمام فضا بندیاں اسی انقلاب کے لیے کی گئی ہیں ؎ ’فضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہے‘۔ آخر یہ کہاں کے مردے ہیں۔ شاید یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو اشتراکی نظام کی آمد کا پیش خیمہ بھی ہے۔ ’مردے کا گنگنانا‘ اپنے اندر معنیاتی تہہ داریاں رکھتا ہے۔ اس کے آگے کاحصہ بھی انقلاب کے لیے فضا ہموار کرتا ہے۔پھول کی پتیوں پر شبنم نے چادر ڈال دی ہے اور کلیوں کے لبوں پر مسکراہٹ سوچکی ہے۔ اس ’آدھی رات‘ کے سکوت کا سرا کہاں ہے، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ فراق یہ محسوس کرتے ہیں کہ انقلاب میں اب زیادہ دیر نہیں ہے کیوں کہ انھیں اس دھندلکے میں کئی ایک کارواں کے گزرنے کا احساس ہوتا ہے۔ یہ جو سکوت نیم شب ہے اسی انقلاب کی آہٹ ہے، اُسی کے پیروں کی چاپ ہے۔ آگے گفتگو کرنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس نظم میں مہ و انجم کو یا نجوم کو چار ساعتوں میں چار مختلف مفہوم میں پیش کیا گیا ہے اور ایسا وہی فنکار کرسکتا ہے جو فکر کی بے شمار جہتیں رکھتا ہو۔ نظم کے شروع میں مصرع یوں ہے:
زمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینار
تیسرے حصے میں یوں ہے:
فلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کی
چمکتی انگلیوں سے چھڑکے ساز فطرت کے
ترانے جاگنے والے ہیں، تم بھی جاگ اٹھو
چھٹے حصے میں ہے:
دل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں
ساتویں بند میں ہے:
ستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفن
اب انقلاب کی آمد آمد ہے۔ جب انسان نئی دنیا، نئے آسمان اور نئی زمین سے آشنا ہوگا اور پھر ستارے بھی نئے، گردشیں بھی نئی اور لمحات شب و روز بھی نئے ہوں گے۔ اب تو ہر چہارطرف انتظار کا عالم ہے اور زندگی میں موت کی طرح شکست و ریخت کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اب تو یہ رات اور اسے روشن کرنے والے ستارے بھی تھک چکے ہیں اور یہ چاند کی کرنیں بھی پھیکی ہوچلی ہیں اور یہ پھیکی چمک ؎ ’نظام ثانیہ کی موت کا پسینہ ہے‘ اب یہ کائنات اپنے اندر ڈوبتی جاتی ہے مگر فراق کی دور رس نگاہیں تابناک مستقبل دیکھ رہی ہیں:
خود اپنے کوکھ سے پھر جگمگا کے اُبھرے گی
بدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے
فراق کو فطرت کے عناصر سے جو قرب اور انس ہے، اس کی کرنیں اس نظم میں موجود ہے۔ اُن کی ظاہری آنکھ اور احساس کی آنکھ کائنات اور اندرون کائنات ہونے والی اتھل پتھل کو دیکھ لیتی ہے۔ اُن پر یہ راز کھل چکا ہے کہ جس طرح کیچلی بدل کر ناگ تازہ دم ہوکر لہراتا ہے ٹھیک اسی طرح یہ کائنات جو سوگئی ہے کل صبح نئی آب و تاب کے ساتھ پھر بیدار ہوگی۔ فراق نے ایک جگہ لکھا ہے:
’’محسوسات کو فکر (Thought) کا مرتبہ دے سکنا منظریہ جمالیاتی شاعری کی انتہائی منزل ہے۔ حواس خمسہ سے تفکر کا کام لینا بلند جمالیاتی اور منظریہ شاعری ہے۔‘‘ ۳۰؎
اس نظم میں ان کے محسوسات کی تجسیم ہوگئی ہے۔ اس میں محض ذاتی احساسات ہی نہیں ہیں بلکہ عصری اور ہنگامی مسائل کا عکس بھی موجود ہے۔ سیاسی فکر نے اس نظم کو ترقی پسند تحریک کے قریب کردیا ہے جہاں وہ انقلاب نو کا خواب دیکھتے ہیں۔
آخری حصے میں ؎ ’خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیں‘ سے فضا بندی کرتے ہیں۔ آگے چل کر اپنے تصورات کی تجسیم کرتے ہیں۔ آدھی رات کی تنہائی میں کسی غیرمرئی وجود کا احساس ہوتا ہے جس سے وہ یوں مخاطب ہوتے ہیں:
اب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤ
یہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
پرچھائیاں
عسکری صاحب ’آدھی رات‘ اور ’پرچھائیاں‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’دونوں کی دونوں نظمیں استعجاب آمیز مانوسیت، ہم آہنگی اور اپنے پن کے احساس میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان نظموں کے انداز بیان کو دیکھیے تو ایک طرف تو مشاہدے کی گہرائی کے سبب الفاظ غیرمبہم اور جچے تلے ہیں دوسری طرف ان میں اشاریت اور معنی آفرینی غضب کی ہے۔‘‘ ۳۱؎
’پرچھائیاں‘ میں منظرکشی ہے۔ کائنات اور حیات کے درمیان زمینی رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندوستانی مٹی کی خوشبو اٹھ رہی ہے۔ شام کا وقت ہے اور فراق جیسے کائنات کو پڑھنے میں منہمک ہیں:
یہ منظروں کی جھلک، کھیت، باغ، دریا گاؤں
وہ کچھ سلگتے ہوئے، کچھ سلگنے والا الاؤ
سپاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزول
پرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیں
قریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیں
وقتِ شام ہے اور چراگاہوں سے مویشی لوٹ رہے ہیں جن کے چلنے سے دھول (گودھول) اڑ رہی ہے۔ اس دھول سے فضا میں گھٹا سی چھا رہی ہے۔ ایک پرانا برگد ہے جس کی شاخیں اداس ہیں۔ پرانا برگد صدیوں کی پرانی تہذیب اور قدروں کی علامت ہے۔ گاؤں کے کنارے دریا کا بہنا، کھیت اور باغ کا تصور— یہ سب محاکاتی عناصر ہیں جن کی مدد سے فراق نے نظم کا خوبصورت آغاز کیا ہے۔ پوری نظم پر یہی محاکاتی رنگ چھایا ہوا ہے۔
کائنات پر سکوت طاری ہے۔ ابھی فراق نے الاؤ کے سلگنے کی بات کی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موسم سرما کی عکاسی ہے۔ آگے چل کر ان کا ایک مصرع ہے ؎’یہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوت‘ فضا میں نیم تیرگی پھیل چکی ہے مگر ’روز گرم کا تابوت‘ کا سِرا نہیں ملتا۔
نظم کے دوسرے حصے میں ڈالیاں لچک رہی ہیں۔ ہوائیں چل رہی ہیں اور چاندنی کھل رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے ذرّہ ذرّہ بادہ نوش ہے اور فطرت کا ساز خموش سنائی دے رہا ہے۔ ایسے میں دل کے نازک اور شفاف آبگینوں میں ترے خیال کی کرن پڑتی ہے اور ایک کھنک سی ہوتی ہے۔ شاید یہاں حواس خمسہ کے علاوہ انسان کی وہ صلاحیت کام کررہی ہے، جسے ’وجدان‘ کہتے ہیں۔ وجدان اور فطرت کے ہم آہنگ ہونے سے غیرمرئی عوامل مرئی شکل میں بدل جاتے ہیں۔ اگر پہلے اور آخری مصرعے کو جوڑ دیں تو ایک مفرد اور مکمل شعر بن جاتا ہے اور درمیانی سطریں معاون سطریں بن کر رہ جاتی ہیں:
یہ چاندنی یہ ہوائیں، یہ شاخ گل کی لچک
ترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک
بقول پروفیسر شکیل الرحمن:
’’جب نظر اور نگاہ کا تجربہ حسیاتی اور وجدانی بن جاتا ہے تو وہ ہواؤں کی لہروں سے زیادہ خوشگوار اثر پیدا کرتا ہے۔ وہ رنگ اور وہ روشنی جو انسان کے لاشعور میں ہے یا اس دنیا سے باہر ہے وہ اس کے تجربے سے سامنے آتی ہے۔‘‘ ۳۲؎
یہاں بھی فراق کے ساتھ حسیاتی اور وجدانی کیفیت کا معاملہ ہے۔
ہندوستانی تہذیب اور زمینی تصور کو فراق نے شعری پیکر عطا کیا ہے۔ تیسرے حصے میں فراق کا تجربہ کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ کھیت، ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہک، رات رانی کی سگندھ، اجنتا کی فنکاری، دیولوک، سرسوتی، ستار کی گت وغیرہ ایسے عناصر ہیں، جو فراق کی فکری جمالیات کو ہندوستانی جمالیات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ اس سے داستانی فضا کا رس بھی پیدا ہوجاتا ہے:
یہ عارضوں کی دمک، یہ فسون چشم سیاہ
یہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہ
یہ سینہ پڑہی گئی دیولوک کی بھی نگاہ
یہ سرزمین ہے آکاش کی پرستش گاہ
اتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہ
اردو شاعری میں فطرت کی منظرکشی کے نمونے بہت ملتے ہیں۔ جوش، فیض، حفیظ جالندھری، احسان دانش، چکبست وغیرہ نے بھی اس طرف توجہ دی ہے مگر خالص ہندوستانی رنگ روپ میں ہندوستانی محبوب کی سرمستیوں اور جلوہ سامانیوں کو ہندوستانی منظر کے ساتھ فراق نے جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے وہ فراق کی شناخت کا ضامن بن گیا ہے۔ کئی طرح کے ’رس‘ کا لطف ان کی شاعری میں ملتا ہے:
یہ چھب، یہ روپ، یہ جوبن، یہ سج، یہ دھج، یہ لہک
چمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھوار
یہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھار
فضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہار
محبوب کے خیال کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔ فراق جنھیں غیرمجرد کرتے ہیں۔ احساس کو بصری قوت مل جاتی ہے اور جمالیاتی احساس کی تجسیم ہوتی ہے:
خجل ہو لعل یمن عضو عضو میں وہ ڈلک
نظم آگے بڑھتی ہے اور فراق کی جمالیاتی فکر کو عروج حاصل ہوتا ہے:
وہ حال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیں
سکوں نما خم ابر و یہ ادھ کھلی پلکیں
اڑا دیں ہوش وہ کانو ںکی سادہ سادہ لویں
گھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک
ان مصرعوں میں فراق نے جذباتی کائنات اور تجسیمی میلانات کو اپنی خلاقانہ قوتوں کے ساتھ پیش کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ’رسمساتے بدن‘ کا جواب نہیں۔ ’کانوں کی سادہ سادہ لویں‘ بھی فراق کی صحت مند جمالیات کا مظہر ہیں۔
فراق کے سامنے ایک ایسا نظارہ ہے جہاں بجلیاں لپک رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ کرشن سے رادھا اشارے کررہی ہے۔ ایسے شوخ اشارے جن سے فطرت کی آنکھ بھی جھپک جائے۔ جناب مجیب رضوی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس میں رادھا اور کرشن کے توسط سے سانکیہ فلسفے کے ناری اور پرش کے تلازمے کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ ۳۳؎
ایک ایسا حسن جو سرتاپا شعلہ ہے مگر ایک ایسا شعلہ جس سے آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہو۔ فراق نے جس خوبصورتی سے اپنی فکری جمالیات کو شعری جمالیات کا حصہ بنایا ہے، وہ بڑی بات ہے۔ یہاں پر بقول پروفیسر حسن عسکری فطرت اور محبوب کے دونوں تاثرات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ (فراق، شاعر اور شخص، مرتب: پروفیسر شمیم حنفی، ص: ۱۵۳)
فراق نے شام کی منظرکشی سے یہ نظم شروع کی تھی۔ رات کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نظم آگے بڑھتی گئی ہے۔ جہاں آغاز میں نشاط انگیز فکری جمالیات تھی اب رات کے ڈھلنے پر شاعر نیم شبی اداس منظر کی تصویر پیش کرتے ہیں:
یہ رات! نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپک
فضا میں بجھ گئے اڑاڑ کے جگنوؤں کے شرار
فسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غبار
یہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نور
مگر اس اداس پردے کے پیچھے ایک تصوراتی پیکر متبسم ہے:
خنک فضا میں ترا شبنمی تبسم ناز
جھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ ساز
ابھی ابھی فراق ڈھلتی رات کا قصہ بیان کررہے تھے ؎ یہ ڈھلتی رات! ستاروں کے قلب کا یہ گداز، پھر سکوت نیم شبی کا ذکر کیسے چھڑ گیا؟ شاید فکر کی بہتات نے تسلسل کو مجروح کردیا ہے۔ اس سے پہلے وہ ’رسمساتے بدن کا نکھار‘ باندھ چکے ہیں اور یہاں ’لہلہے بدن کا نکھار‘ باندھ رہے ہیں۔ یہ فراق کے متنوع جمالیاتی دھارے کا نتیجہ ہے:
سکوت نیم شبی، لہلہے بدن کا نکھار
کہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسار
نظم کا آخری حصہ سامنے ہے۔ چاندنی کسی خیال میں گم سم ہے۔ حیات و موت میں سرگوشیاں سی ہورہی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیند کے کھیتوں سے ہوائیں آرہی ہیں ؎ ’ہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوں‘ ’نیند کے کھیت‘ کا استعمال برجستہ نہیں ہے۔ ایسے بھی فراق صاحب پر انگریزی شعری وفور غالب تھا اور انھوں نے اپنی بہت سی نظموں کا مرکزی خیال انگریزی نظموں سے مستعار لیا ہے۔ یہ مصرع بھی ورڈزورتھ کے مصرع کا ترجمہ ہے:
The winds come to me from the fields of sleep. ۳۴؎
’گل نغمہ‘ کی نظموں میں فراق نے انگریزی نظموں سے مستعار خیالات کا ذکر فٹ نوٹس میں جابجا کردیا ہے مگر کہیں کہیں انھوں نے خموشی بھی اختیار کی ہے۔ یہ بھی کمال فن ہے کہ اپنے فکری دھارے سے انگریزی فکری دھارے کو اس طرح ہم آہنگ کردیا جائے کہ خط امتیاز کھینچنا کٹھن ہوجائے۔ اس نظم کے اختتام سے پہلے فراق کی یہ بات یہاں پیش کردی جائے کہ :
’’میں شاعری کا مقصد یہ بھی سمجھتا ہوں کہ زندگی کے خوشگوار اور ناخوشگوار حالات و تجربات کا ایک سچا جمالیاتی احساس حاصل کیا جائے۔‘‘ ۳۵؎
نظم ان دو مصرعوں پر ختم ہوتی ہے:
سیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہ
یہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
جگنو:
نظم شروع ہونے سے پہلے فراق کا یہ نوٹ ہے:
’’بیس برس کے اُس نوجوان کے جذبات جس کی ماں اُسی دن مرگئی جس دن وہ پیدا ہوا۔‘‘
اس مختصر نوٹ کو پڑھنے کے بعد قاری کی Curiosity فطری طور پر کم ہوجاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فراق کو اپنے قارئین کے فہم و ادراک پر اعتبار نہ رہا ہو۔ اس نوٹ سے نظم کی جہتیں اور معنیاتی پرتیں محدود ہوگئی ہیں۔ شاید اس نوٹ سے فکری کینوس سکڑتا محسوس ہوتا ہے۔
’جگنو‘ ایک اسطوری علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جگنو چوں کہ موسم برسات میں نکلتے اور چمکتے ہیں اس لیے شاعر نے موسم برسات کا سماں باندھا ہے جو دل کش اور پرکیف ہے:
یہ مست مست گھٹا یہ بھری بھری برسات
تمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماں
یہ مدبھری ہوئی پروائیاں سنکتی ہوئی
جھنجھوڑتی ہے ہری ڈالیوں کو سرد ہوا
وقتشام ہے اور سورج غروب ہورہا ہے۔ مگر یہ پرکیف شام بھی خاموش سوزدروں سے سلگ رہی ہے۔ نظم بیانیہ ہے اور اس کا ایک پلاٹ مرتب ہوا ہے۔ مکان کے آگے ایک وسیع و عریض صحن ہے جس میں ایک پیپل کا پیڑ ہے۔ بڑے بوڑھوں کے مطابق اس پیڑ کی عمر ۹۶ سال ہے۔ جب پہلی جنگ آزادی چھڑی تھی، اسی زمانے میں دادا نے ایک چھوٹا سا پودا لاکر یہاں لگایا تھا۔ بیچ کی چھ سطریں غیرضروری ہیں جنہیں ہٹا دینے سے بھی مرکزی خیال متاثر نہیں ہوتا مگر چوں کہ فراق مصرعوں کی بیجا تکرار اور طوالت کو عیب نہیں سمجھتے اس لیے یہاں بھی یہ عیب موجود ہے۔
صحن کا پودا نمو پاتا جاتا ہے۔ شاعر پھر موسم برسات کا ذکر چھیڑ دیتا ہے کیوں کہ اُسے پتہ ہے کہ بیانیہ قصہ یونہی سنایا گیا تو بارِ سماعت ہوگا اور قارئین بھی سرسری گزر جائیں گے۔ شام کچھ اور گہری ہوتی ہے۔ پیپل کے درخت پر قمقموں کی طرح چمکتے جگنوؤں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ نظم کا نوجوان کردار یہ منظر دیکھ کر مغموم ہوجاتا ہے۔ مصرعے دیکھیں:
سہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنو/ گھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سے
مثال چادر شب تاب جگمگانے لگے/بطونِ شام میں ان زندہ قمقموں کی دمک
کسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی ہے/ وہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی ہیں
شاعر کائنات کی دھڑکنیں سن رہا ہے۔ اس کی آنکھیں مشاہدہ کائنات میں مصروف ہیں۔ شاعر نے ڈرامائی عناصر کی مدد سے اس نظم کی فضا تیار کی ہے۔ اس نظم میں کئی کردار ہیں۔ خود شاعر بھی ایک کردار ہے۔ اس کے علاوہ جگنو، پیپل کا پیڑ، کھلائیاں اور دائیاں وغیرہ۔ بیس سالہ نوجوان کو بچپن میں دائیوں نے بتایا تھا کہ جگنو بھولے بھٹکے مسافروں کی رہ نمائی کرتے ہیں:
بوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنو
دیے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کو
کبھی کبھی نوجوان کے دل میں یہ خواہش ابھرتی ہے کہ کاش وہ بھی اپنی ماں کی روح کو ان جگنوؤں کی طرح راستہ دکھا سکتا۔ فراق نے ایک محاکاتی منظر سامنے رکھ دیا ہے:
یتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا
یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنو
تو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہ
کہاں کہاں وہ بے چاری بھٹک رہی ہوگی
اس خیال کے ساتھ ہی نوجوان کی پلکوں پر آنسوؤں کے قطرے جگنوؤں کی طرح چمکنے لگتے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی ماں مل جاتی تو وہ اُسے اپنی کتابیں اور ٹیڑھی میڑھی تحریریں دکھاتا۔ آنگن میں اس کے ہاتھوں کا لگایا گلاب اور اس کی بیلیں دکھاتا۔ فراق نے اس نظم میں جزیات نگاری سے کام لیا ہے۔
فراق پھر برسات کا سماں باندھتے ہیں اورچند سطروں کے بعد اپنے احساسات اور نوجوان کردار کے خیالات کی آرائش قوافی کی پابندی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تقریباً پانچ صفحات تک یہ سلسلہ قایم رہتا ہے۔ نظم اور بھی رواں ہوجاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک سیلِ غم ہے جو بہتا جاتا ہے۔ ماں اور بچے کے درمیان جو معصوم رشتہ ہوتا ہے اور جو کیفیتیں اور نشیب و فراز آتے ہیں، فراق نے ان کا بیان بہت ہی خوبصورتی سے کیا ہے۔ اتنی پیاری، پرخلوص اور شستہ زبان میں یہ احساسات ادا ہوئے ہیں کہ اگر اس حصے کو بغور پڑھا جائے تو دل پر رقت سی طاری ہوجائے۔ جزیات نگاری جس کا ذکر اوپر ہوا، ناول کی اہم ضرورت ہے۔ فراق نے اس تکنیک کے استعمال سے نظم کو بوجھل نہیں کیا بلکہ اس تکنیک اور کیف و حزن کے امتزاج سے ایک خوبصورت فن پارے کو جنم دیا ہے۔ چند مصرعے پیش کیے جاتے ہیں:
وہ ماں کہ بھینچ کے جس کو کبھی میں سو نہ سکا
میں جس کے آنچلوں میں منہ چھپا کے رو نہ سکا
وہ ماں میں جس سے شرارت کی داد پا نہ سکا
میں جس کے ہاتھوں محبت کی مار کھا نہ سکا
وہ ماں جو دودھ بھی اپنا مجھے پلا نہ سکی
وہ ماں جو ہاتھ سے اپنے مجھے کھلا نہ سکی
جو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکی
نہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکی
کبھی جو سن نہ سکی میری توتلی باتیں
جو دے سکی نہ کبھی تھپڑوں کی سوغاتیں
نظم کے اس حصے کا اختتام اس الم ناک شعر پر ہوتا ہے:
جو میرے ہاتھ سے اک دن دوا بھی پی نہ سکی
کہ مجھ کو زندگی دینے میں جان ہی دے دی
اس طرح ایک غم آگیں فضا کی تعمیر ہوتی ہے۔ نوجوان کے دل میں خیالات کا سلسلہ ہے۔ وہ اپنے بستر پر پڑا سبک سبک کر روتا ہے۔ اُسے اپنا وجود اور دوسری تمام چیزیں یتیم سی لگتی ہیں:
یتیم تھی مری دنیا یتیم میری حیات
یتیم میری مسرت تھی میرا غم بھی یتیم
یتیم شام و سحر تھے یتیم تھے شب و روز
یتیم آنسوؤں سے تکیہ بھیگ جاتا تھا
فراق نے نوجوان کردار کے ذریعہ کسی اَن دیکھے چہرے کو تکتے رہنے کا نقشہ بھی پراثر اور الم انگیز انداز میں کھینچا ہے:
ہر اک سے دور اکیلا اداس رہتا تھا
کسی شمائلِ نادیدہ کو میں تکتا تھا
میں ایک وحشتِ بے نام سے ہڑکتا تھا
فراقؔ نے نادر اور اچھوتی تشبیہوں اور استعاروں کی مدد سے نظم کو وقار بخشا ہے۔ یہاں ’شمائل نادیدہ‘ اور ’وحشت بے نام‘ جیسی ترکیبیں فراق کی شعری اور فکری جمالیات کو مقام بلند پر پہنچاتی ہیں۔ شاید نظم کا انتہائے عروج یہی ہے جہاں استعجاب اور حیرت کی فضا خلق ہوتی ہے۔
نظم کی گراف لائن اب نقطۂ عروج سے نیچے کی طرف آتی ہے۔ مگر اس سے پہلے کے آگے بڑھیں اس کی وضاحت ہوجائے کہ عہد طفلی کے بارے میں جو نقشہ انھوں نے یہاں پیش کیا ہے وہ انگریزی نظم سے مستعار ہے۔ فراق ایک بالیدہ نظر اور پختہ فنکار تھے۔ اس لیے انھوں نے خوبصورتی سے اس ٹکڑے کو نظم کا حصہ بنا دیا ہے۔ ولیم بلیک کی نظم کا ٹکڑا ہے:
To see a world in a grain of sand
And a heaven in a wild flower
Hold infinity in the palm of your hand
And eternity in an hour. ۳۶؎
فراقؔ نے اسے شعری پیکر یوں عطا کیا ہے:
سمجھ سکے کوئی اے کاش عہد طفلی کو
جہان دیکھنا مٹی کے ایک ریزے کو
نمود لالۂ خود رو میں دیکھنا جنت
کرے نظارۂ کونین اک گھروندے میں
اٹھا کے رکھ لے خدائی کو جو ہتھیلی پر
کرے دوام کو جو قید ایک لمحے میں
اب اس نوجوان کردار کا سن شعور ہے۔ بچپن میں دائیوں اور کھلائیوں نے اُسے بتایا تھا کہ جگنو بھٹکی ہوئی روحوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ نوجوان کو اب یہ باتیں محض فضول لگتی ہیں۔ اب بھی برسات میں پیپل پر جگنوؤں کی صفیں بنتی ہیں مگر نوجوان پرراز کھل چکا ہے کہ یہ روح کی رہنمائی نہیں کرسکتے:
کسی کی روح کو جگنو نہیں دکھاتے راہ
کہا گیا تھا جو بچپن میں مجھ سے جھوٹ تھا سب
مگر شاعر اس ’جھوٹ‘ سے نیا پہلو وضع کرتا ہے۔ نوجوان کف افسوس ملتا ہے کہ گرچہ وہ سب جھوٹ تھا مگر حسین جھوٹ تھا۔ یہ جھوٹ اس کے جینے کا آس تھا۔ عقل و شعور کی دنیا نے اس سے اس کا یہ معصوم جھوٹ بھی چھین لیا۔ عہدطفلی کا ہر خیال اور ہر سوچ دم توڑتی معلوم ہوتی ہے۔ یہاں ایک طرح کا ماضی سے متعلق Repentence ہے جو اپنے دامن میں بچپن کی حسین یادیں رکھتا ہے۔
نظم آگے بڑھتی ہے۔ نوجوان یہ محسوس کرتا ہے کہ اب بھی خیال میں تیری (ماں کی) تصویر ابھر آتی ہے۔ سکوت شب میں تیرے پائل کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ یہ جھنکار دل کو بیتاب کیے دیتی ہے۔ وہ اپنی ماں سے مخاطب ہے کہ جگنو بن کے اپنی ماں تک اُس کا پہنچنا مشکل ہے۔ اپنی تمنا کو بڑی عاجزانہ طور پر ماں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ تجھ تک میرا پہنچنا تو مشکل ہے مگر ممکن ہو تو کسی صورت سے تو ہی مجھ تک پہنچ جا۔ یہاں ایک نکتے کی طرف اشارہ کردیں کہ ماں کے لیے ’پائل کی جھنکار‘ کا استعمال درست نہیں۔ اس سے قاری کا جمالیاتی تصور محبوب کی طرف جاتا ہے جو سوئِ ادب ہے۔ فراق کے پاس لفظیات کا فقدان نہیں۔ لہٰذا وہ چاہتے تو کسی دوسری اصطلاح یا ترکیب کا استعمال کرسکتے تھے۔ ہوسکتا ہے مجھ سے اتفاق نہ کیا جائے مگر ’پائل کی جھنکار‘ کا Essence تو یہی کہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس حصے کے آخری دومصرعے بھی غور طلب ہیں:
تو جس کو پالے وہ کاغذ اچھال دوں کیسے
یہ نظم میں ترے قدموں میں ڈال دوں کیسے
یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کاغذ اچھالنے کا کام نوجوان کردار نہیں کررہا ہے بلکہ فراق خود اپنی نظم اچھال رہے ہیں۔ یہاں وہ خود کو نظم کے پلاٹ سے بچا نہیں پائے ہیں۔ فراق تو نوجوان کے جذبات پیش کررہے ہیں لہٰذا یہ کاغذ اچھالنے والی بات پلاٹ اور کردارسازی کو مجروح کرتی ہے۔
نظم کے اختتام پر نوجوان کردار بہت ہی پرسکون اور مطمئن نظر آتا ہے جیسے نوائے درد سے جی ہلکا ہوگیا ہو۔ لگتا ہے دل پہ جمی گردِ آلام آنسوؤں کے سیل سے دھل گئی ہے۔ مگر اب بھی جب اس بوڑھے پیپل پر موسم برسات میں جگنوؤں کی چمکتی صفیں اور قندیلیں نظر آتی ہیں تو اس نوجوان کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ یہ نظم مدوّر فکر کا شعری پیکر ہے۔ اس میں ۲۶۵ مصرعے ہیں جن میں کہیں کہیں ڈھیلاپن بھی ہے مگر پوری نظم پر ایک جذبات بھری غم ناک فضا چھائی ہوئی ہے۔
تینوں نظمیں فراق کی مشہور اور مقبول نظمیں ہیں۔ تینوں نظموں کی تعبیر و تشریح الگ الگ پیش کرنے سے فکری مماثلت اور شعوری بُعد کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ’پرچھائیاں‘ میں فراق نے یہ التزام رکھا ہے کہ ہر بند کا پہلا اور آخری مصرع ’ک‘ پر ختم ہو۔ ایسا کرنے سے درمیانی تاثرات اور منتشر خیالات ایک دوسرے سے باہم مل گئے ہیں۔ اس التزام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نظم خلق کرتے وقت فراق کا فنی اور تخلیقی شعور پوری طرح جاگ رہا ہے یعنی یہ نظم محض ایک الہامی کیفیت سے معرض وجود میں نہیں آگئی۔
’آدھی رات‘ میں فطرت کی منظرکشی میں کہیں کہیں تکرار کے سبب سپاٹ پن پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم پوری نظم بیانیہ اور منظریہ شاعری کا ایک اچھا نمونہ ہے جو عشقیہ اور منظریہ شاعری کا حسن امتزاج بھی ہے اور واضح معیار بھی۔ شاعری میں لفظوں اور خوبصورت تشبیہوں کے وضع کرنے اور انھیں برتنے میں فراق کو مہارت حاصل ہے۔ حالاں کہ قاموس کی سطح پر جوش ان سے بہت آگے ہیں اور اس حقیقت کو فراق خودبھی تسلیم کرتے ہیں:
’’استعاروں اور تشبیہوں اور تعبیروں کے بھی غالباً جوش کو چھوڑ کر میں زیادہ سے زیادہ اور نازک سے نازک نمونے پیش کرسکا ہوں۔‘‘ ۳۷؎
ساتھ ہی ہندی اور روزمرہ کو شاعری میں جس خوبصورتی سے فراق نے پیش کیا ہے، دوسروں کے یہاں اس کی مثال خال خال ہی نظر آتی ہے۔ انھیں اس کا دعوا بھی ہے:
’’گزشتہ چالیس پچاس سال کی اردو شاعری میں ٹھیٹ ہندی الفاظ، روزمرّہ ٹکسالی بولی اور محاوروں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پیش کرنے میں میری کوششیں نگاہ توجہ چاہتی ہیں۔‘‘ ۳۸؎
’جگنو‘ میں فراق نے جس طرح کرب و الم اور بچپن کی چھٹپٹاہٹ کو ہمدردی اور خلوص سے پیش کیا ہے اس کی مثال کم سے کم فراق کے ہم عصروں میں نہیں ملتی:
جو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکی
نہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکی
وہ ماں میں جس سے لڑائی کبھی نہ ٹھان سکا
وہ ماں میں جس پہ کبھی مٹھیاں نہ تان سکا
پوری نظم یاسیت زدہ ہے مگر اس کی زیریں تہوں میں پرخلوص جذبے کی ایک ندی سی بہتی ہے۔ جن محاکاتی اور جمالیاتی عناصر کا استعمال فراق نے اپنی نظموں میں کیا ہے وہ لائق توجہ ہیں۔ کہیں کہیں لفظوں کی بہتات کا احساس بھی ہوتا ہے مگر اس سے نفس مضمون پر اثر نہیں پڑتا۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’فراقؔ کی شاعری میں الفاظ محض پھول کی پتی پر شبنم کا کام دیتے ہیں۔ احساس کی لطافت اور نزاکت الفاظ کے پردوں کے پیچھے ہی نہیں رہ جاتی بلکہ ان سے چھن چھن کے آتی ہے۔‘‘ ۳۹؎
حوالہ:
۔ فراق، شخص اور شاعر: مرتب: پروفیسر شمیم حنفی، ۱۹۸۳ء، مکتبہ جامعہ، دہلی، ص: ۵۳
۲۹۔ شاہکار، فراقؔ نمبر، ص: ۱۹۱
۳۰۔ شاہکار، فراق نمبر، ص: ۱۹۱
۳۱۔ فراق، شخص اور شاعر، مرتب: شمیم حنفی، ۱۹۸۳ء، مکتبہ جامعہ، دہلی، ص: ۵۳
۳۲۔ اقبال کا فن، مرتب: گوپی چند نارنگ، ۱۹۸۳ء، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، ص: ۲۷۰
۳۳۔ فراق، شخص اور شاعر: مرتب: شمیم حنفی،۱۹۸۳ء، مکتبہ جامعہ، دہلی، ص: ۸۵
۳۴۔ بحوالہ:ایضاً، ص:۱۰۶
۳۵۔ شاہکار، فراق نمبر، ص: ۱۸۲
۳۶۔ بحوالہ: فراق، شخص اور شاعر: مرتب: شمیم حنفی، ۱۹۸۳ء، مکتبہ جامعہ، دہلی
۳۷۔ شاہکار، فراق نمبر، ص: ۱۵۶
۳۸۔ شاہکار، فراق نمبر، ص: ۱۵۶
۳۹۔ فراق گورکھ پوری: مرتب: کامل قریشی، ص: ۸۴
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

