عوامی شاعری کا جب بھی ذکر ہوتا ہے نظیر اکبر آبادی یاد کیے جاتے ہیں، لیکن اسی عوامی شاعری میں جب کثرت سے دیہی رنگ کا تذکرہ ہو تو عہد حاضر کے شاعر بیکل اتساہی کا کلام ذہنوں پر سوار ہونے لگتا ہے۔ بیکل اتساہی کا اپنا منفرد انداز ہے، خواہ وہ شاعری کا ہو یا مشاعروں میں کلام پیش کرنے کا۔ وہ اپنے آپ میں ایک تہذیبی انجمن ہیں۔ان کو دیکھ کر ان کو سن کو اور ان کے کلام کو پڑھ کر جو تصور ذہن میں قائم ہوتا ہے اس میں پوری طرح ہندوستانی فضا بالخصوص دیہی فضا اور اس کا رنگ شامل نظر آتا ہے۔ بیکل اتساہی دیہی فصیح الفاظ سے جس طرح سے اٹکھیلیاں کرتے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے کے سارے الفاظ ان کے سامنے شرارتی بچوں کی طرح ادھم مچا رہے ہیں۔ بیکل اتساہی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے کھیل میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ ہر لفظ اچھلتا کودتا ان کی شاعری کے کھیل کا حصہ بننے کے لیے بے قرار نظر آتا ہے۔ یہ شاعر کی بڑی کامیابی ہے کہ الفاظ قطار در قطار بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں شاعر کے رو بہ رو کھڑے ہوں۔ بیکل اتساہی کی غزلوں اور گیتوں نے مشاعروں میں خوب کہرام مچایا۔ یہ بات صرف مشاعروں تک محدود نہیں، بلکہ ان کے مطبوعہ کلام نے بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ لوگ ان کے کلام کو پڑھتے ہیں اور اس کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے کلام کی جادوبیانی صرف مشاعروں تک نہیں بلکہ صفحہ قرطاس پر چھپ جانے کے بعد بھی ان کا دم خم قائم ہے۔
بیکل اتساہی نے جہاں غزلیں نظمیں اور گیت لکھے، وہیں انھوںنے بچوں کی طرف بھی توجہ کی۔ گرچہ یہ التفات بہت کم ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی نظمیں لکھی ہیں، جواردو ادب اطفا ل کے ذخیرے میں ایک اضافہ ہیں۔ یہ زیادہ تو نہیں مگر جوبھی ہیں اپنی اسی آب و تاب کے ساتھ ہیں؛ جو خوبیاں اور خصوصیات ان کے دیگر کلام میں پائی جاتی ہیں۔ کلیات بیکل اتساہی مرتبہ فاروق ارگلی میں یہ تمام نظمیں شامل ہیں۔ یہ کل ۲۷ نظمیں ہیں۔ عمومی جائزہ لیں تو یہ تین خانوں میں منقسم نظر آتی ہیں۔ کچھ نظمیںایسی ہیں جن میں سائنسی موضوعات کو پیش کیا گیا ہے، یعنی بچوں کو نظموں کے ذریعے سائنس کے کچھ بنیادی موضوعات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چار نظمیں ایسی ہیں جو پہیلیوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ عام عنوانات اور نصیحت آموز نظمیں ہیں ۔گویا کہ بچوں کی ذہنی کیفیات اور ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کریہ نظمیں لکھی گئی ہیں۔ان نظموں کے مطالعہ سے یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان میں بھی بیکل اتساہی کی خاص خوبی پوری طرح ودیعت کی ہوئی ہے۔ ان کا خاص رنگ اچھی طرح ان نظموں میں نظر آتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شعر سودا کی داخلیت : ایک سوال – پروفیسر کوثر مظہری)
بیکل اتساہی کی ان نظموں میں شروع کی تین نظمیں وطنیت پر مبنی ہیں۔ ایک نظم کا عنوان ’’یقین کامل‘‘ ہے۔ اس میں انھوں نے ہندوستان کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ہندوستان کی مٹی ہیں، ہم یہیں چمکتے رہیں گے ،کوئی ہمیں یہاں سے بے دخل نہیں کرسکتا۔گویا کہ انھوں نے کھل کر وطنیت کا راگ گاپا ہے اور ہندوستانی قومیت کے تصور کو اپنی اس نظم میں جگہ دی ہے۔ پہلا بند ملاحظہ فرمائیں، جس میں ہندوستان میں ڈٹے رہنے کا عزم کس ولوے اور جذبے کے ساتھ نظر آتا ہے:
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں
جو چاہے زمانہ کچھ بھی کرے
ہم یوں ہی چمکتے جائیں گے
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں
طوفان ہو یا بھونچال کوئی
سازش نے بنا ہو جال کوئی
یا راج نیتی کی ہو چال کوئی
سب چند دنوں کے مہماں ہیں
یہ ہار کے تھک جائیں گے
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں
اس پوری نظم میں ہندوستانی قومیت کی روشنی پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہے۔ نغمگی کا حسن بھی ہے کہ بچے خوبصورت لے میں گنگناتے رہیں۔ اگر یہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ محفل میں گائی جائے تو سامعین کے رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس نظم میں قدیم ہندوستانی فضا بالخصوص گنگا، امرت اور کیلاش کا بھی خاص تذکرہ ہے۔
بیکل اتساہی نے ’’ترانہ وطن‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے۔ یہ بھی ہندوستانی قومیت پر مبنی ہے۔ یہ ترانہ علامہ اقبال کی زمین میں لکھا گیا ہے، البتہ اس کا قافیہ الگ ہے۔اس میں بھی ہمالیہ، ندیاں، جنگل اور بن، نیز گل و گلزار ہند کا ذکر ہے ۔ ایک طرح سے بیکل اتساہی نے اقبال کے ترانہ ملی کو اپنے طرز اور اپنی خاص وضع میں پیش کرنے کی کو کوشش کی ہے۔ مطلع اور آخری شعرپڑھ کر علامہ اقبال کی یاد آجاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
سنسار سے نرالا پیارا وطن ہمارا
یہ زندگی ہماری یہ تن بدن ہمارا
مذہب نہیں ہمارا نفرت حسد کسی سے
ہم بھارتی ہیں بیکل الفت چلن ہمارا
ہندوستان کی تعلیمی اسکیم ’’خواندگی مشن‘‘ کو سامنے رکھ کر بیکل اتساہی نے ’’’نعرہ خواندگی‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے۔ظاہر ہے یہ مشن بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہے، لہٰذا بیکل اتساہی بھی اس مشن کا حصہ بنتے ہوئے ایک نظم کہی، تاکہ بچے اس کو پڑھ کر اور گا کر اس خواندگی کے مشن کو دوسروں تک پہنچائیں۔ اس نظم میں بچوں کے ذریعے ایک عہد و پیمان لیا جارہا ہے کہ چل کر سب کو بتایا جائے کہ سب کو پڑھنا ہے، سب کو آگے بڑھنا ہے اور کسی کو ان پڑھ نہیں رہ جانا ہے۔ اس نظم میں تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔چند اشعار دیکھیں:
یہی وقت کا گیت گاکر سنادو
نہیں دیش کو رہنا ان پڑھ گوارا
چلو ساتھیو اب وطن کو سجاؤ
جو ان پڑھ ہیں ان کو پڑھاؤ لکھاؤ
ہی تعلیم افضل یہی گنگنانا
ڈگر علم و فن کی سنوارو سجاؤ
زمانے کا بگڑا مقدر بناد
نہیں دیش کو رہنا ان پڑھ گوارا
بیکل اتساہی کی ایک نظم ’’ منے کی پھلواری‘‘ گیت کی شکل میں ہے۔ جس میں انھوں نے بچوں کے کھلونوں اور ان کے کھیلنے کے طریقوں کو موضوع بنایا ہے۔ بچوں کے پاس کس کس قسم کے کھلونے ہوتے ہیں، کچھ ان کے اپنے بنائے ہوئے ہوتے ہیں کچھ خریدے ہوئے ،ان سب کا بیان ہے لیکن یہ منے کی پھلواری بھی کسی شہر کی نہیں، بلکہ گاؤں دیہات کی ہے۔بیکل اتساہی نے اسی لحاظ سے لفظوں کا انتخاب بھی کیاہے۔اس میں کھیت کھلیانوں اور پالتو جانوروں کا بطور خاص ذکر ہے۔
بیکل اتساہی نے چند نظمیں نصیحت آموز کہی ہیں۔ ان کے عنوانات ’اچھی عادت، اچھی صحت، بنو مہان، اپنی حفاظت اور اچھا سبق وغیر ہیں۔ ان نظموں کے ذریعے انھوں نے بچوں کو نصیحتیں کی ہیں۔ ’’اچھی عات‘‘ میں انھوں نے کچھ اچھی عادتوں کا ذکر کیا ہے ،جنھیں بچوں کو اپنانی چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے ۔مثلاً صبح سویرے اٹھنا، ہاتھ منھ دھونا، اعضا و جوارح کی صفائی، کسرت، کھلی ہوا میں ٹہلنا وغیرہ نیز پڑھائی او رکھیل دونوں ضروری ہیں، مگر وقت پرہوں۔ اسی طرح ’’اچھی صحت‘‘ میں انھوں نے صحت مند رہنے کے راز سے بچوں کو آگاہ کیا ہے کہ کس طرح کھانے پینے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ اسی نظم میں بڑوں کا احترام اور ان کی باتوں کو ماننے کا بھی مشوہ دیا گیا ہے۔
’’بنو مہان‘‘ بھی ایسی ہی ایک نظم ہے، جس میں انسان کے کامیاب و کامران ہونے کے طریقے بچوں کو سکھائے گئے ہیں ۔ ’’اپنی حفاظت‘‘ اور ’’اچھا سبق‘‘ بھی اسی طرز کی نظمیں ہیں، جن میں بچوں کو آداب زندگی کے کچھ رموز و اسرار سے واقف کرایا گیا ہے اور انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ان پر عمل پیرا ہوکر کامیاب زندگی کی راہ پر چلیں۔کچھ اشعار ان نظموں سے ملاحظہ ہوں:
بدن ملو اور خوب نہاؤ
تھوڑی کسرت بھی کر آؤ
کھلی ہوا میں ٹہلو خوب
سب کے لیے بنو محبوب
دھیان لگا کر کرو پڑھائی
محنت کا پھل میٹھا بھائی
(اچھی عادت)
کرو آج کل پر نہ ٹالو
اپنی چیزیں خود ہے سنبھالو
صحت ہے اتّم گن وان
اچھے بچو ! بنو مہان
(بنو مہان)
بائیں طرف سڑک پر چلنا
راستہ اپنا دیکھا کرنا
چلتی بس پر کبھی نہ لٹکو
راہ سمجھ لو کبھی نہ بھٹکو
(اپنی حفاظت)
نشہ کرتا وقت خراب
عقل کا سوکھا کرے گلاب
نشے کا تھوڑی دیر مز
جیون بھر دے کڑی سزا
بچپن میں جو نشے سے بچتے
صحت مند ہمیشہ رہتے
(اچھا سبق)
بیکل اتساہی نے کچھ نظموں میںسائنسی موضوعات کو پیش کیا ہے۔ مثلاً ’’رات اور دن ‘‘ میں بچوں کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ رات اور دن کا کھیل کیا ہے، کس طرح سے رات اور دن بنتے ہیں۔ نظم ’’بھاپ‘‘ میں بھاپ اور اس کی طاقت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اس کی طاقت سے انجن بنا ،جو گاڑیوں کو کھینچ کر لے جا سکے۔ اسی طرح ایک نظم ’’خلا‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں خلا اور فلک کے بار میں بنیادی باتیں بچوں کو بتائی گئی ہیں۔ نظام شمسی کو اس نظم میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ موسم اور کشش ثقل پر بھی ایک ایک نظم بیکل اتساہی نے لکھی ہے۔ ’’کشش‘‘ نظم میں نیوٹن کی سیب والی کہانی کا ذکر ہے اور زمین کی کشش ثقل کی وضاحت آسان لفظوں میں کی گئی ہے۔ ’’موسم‘‘ نظم میں بچوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ کس طرح سال میں یہ چار موسم بنتے اور بگڑتے ہیں اور ان کا چکر کس طرح سورج کے گرد زمین کے چکر پورے کرنے پر موقوف ہے۔ ’’آلودگی‘‘ بیکل اتساہی کی ایک اچھی نظم ہے۔ اس میں آلودگی کے اسباب اور ان کا تدارک دونوں کو بیان کیا گیا ہے۔ آلودگی سے متعلق دو تین شعر دیکھیں:
تیز دھواں اور ہلہ شور
ہوا گندی چاروں اور
خالی جگہ پیڑ لگاؤ
گندی ہوا کا روگ مٹاؤ
سوچو سمجھو کرو وچار
صحت مند بنے سنسار
روگ گندگی سب مٹ جائے
پھر دنیا جنت بن جائے
سائنسی موضوعات کی حامل ان کی ایک نظم ’’دھرتی‘‘ بھی ہے۔ یوں تو یہ وسیع موضوع ہے کہ زمین پر گفتگو کی جائے، لیکن بچوں کی مناسبت سے بیکل اتساہی نے چند بنیادی باتوں پر اکتفا کیا ہے۔ انھوں نے زمین سے متعلق لازمی اور ضروری باتوں کوپیش کیا ہے۔ زمین کی گولائی کا علم کیسے ہوا، پہاڑ اور آتش فشاں کیسے بنے، اس زمین پر بحر و بر کی کیا کیفیات ہیں۔ ان جیسے موضوعات کو سہل انداز پیش کیا گیا ہے۔اسی سے ملتی جلتی ان کی دوسری نظم مٹی ہے۔ آخر یہ مٹی ہے کیا، اس کی رنگت کیا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے، انھیں جیسی باتوں کو بیکل اتساہی نے بحسن وخوبی اپنے محضوص لہجے میں پیش کیا ہے۔ایک نظم ’’اڑتی چڑیا ‘‘ کے نام سے ہے ،جس میں چڑیا کی اڑان اور اس کی پھدک کا تذکرہ ہے۔ یہ ایسی نظمیں ہیں جن کو بچے یاد کرکے گنگناتے رہیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو سنا کر ان کے دل بہلائے جاسکتے ہیں۔ ادب اطفال کی یہی خوبی ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کی نفسیات کا پابند ہو۔
ہوا سے متعلق بیکل اتساہی نے ایک اچھی نظم کہی ہے ۔ ہوا کہاںکہاں کیا کیا گل کھلاتی ہے، بیکل نے بڑے اچھے اور دلفریب انداز میں بیان کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
انگنائی میں آتی ہوا
کمروں میں چھپ جاتی ہوا
پیڑ خوشی سے مہکا کرتے
باغوں میں لہراتی ہوا
یہی نہ ہو تو سانس نہ آئے
جیون کو بہلاتی ہوا
راکٹ اور ومان اڑاتی
دنیا کو چونکاتی ہوا
بیکل بھیا کو چپکے سے
آب حیات پلاتی ہوا
آب حیات کا ذکر نظم بالا میں ہوا ہے۔ اس کے بعد کی نظم پانی پر ہی مشتمل ہے۔ جس میں پانی کی کیفیات اور اس کے وسائل اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ پانی کے فائدے و نقصانات سے بھی بچوں کو آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ آگ، پانی اورہوا کا ذکر عموما ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا بیکل اتساہی نے پانی اور ہوا پر نظمیں لکھنے کے بعد آگ پر بھی ایک نظم لکھی۔ اس نظم میں آگ کے لوازمات کا ذکر ہے۔ آگ کی خوبیاں اور اس سے ہونے والے حادثات کو بھی بیان کیا گیا ہے، گویا کہ بیکل جانتے ہیں کہ زندگی میں ان تین عناصر یعنی آگ، پانی اورہوا کی کیا اہمیت و افادیت ہے۔ اسی لیے انھوں نے بچوں کے لیے ان تین موضوعات پر نظمیں لکھ کر بچوں کے ذہن میں ان کی اہمیت جاگزیں کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان تینوں کی اہمیت زندگی کے ہر موڑ پر ہے۔ لہٰذا بچو ںکے ذہن اس کے لیے تیار رہیں۔نظم ’’آگ ‘‘ میں نہ صرف حقیقی آگ کا تذکرہ ہے، بلکہ مجازی آگ کے نقصانات سے بھی باخبر کیا گیا ہے۔ دو شعر دیکھیں:
مانوتا بھی خاک ہو گئی
آپس میں جب بھڑکی آگ
دھرم کے نام پہ لگی ہوئی
کون بجھائے ضدکی آگ
بیکل اتساہی نے اس طرح بچوں کی ذہن سازی کرنے کا طریقہ اختیا ر کیا ہے۔ ہماری زندگی میں آگ پانی ہوا بہت ضروری ہیں، ان کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں۔ لیکن ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں، جن سے واقفیت ضروری ہے۔ تاکہ یہ عناصر جو زندگی کے وجود کا سبب ہیں، زندگی کے ختم ہونے کی وجہ نہ بن جائیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا تھا کہ بیکل اتساہی نے چار پہیلیاں بھی لکھی ہیں۔ پہیلیوں سے بچوں کو خاص رغبت ہوتی ہے۔ کیونکہ بچوں کا ذہن متجسس ہوتا ہے، انھیں نئی نئی باتوں کے جاننے کی حرص ہوتی ہے ۔ لہٰذا وہ پہیلیاں پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان میں قرائن اور اشاروں کی مدد سے کسی چیز کو پہچانا جاتا ہے۔ بیکل اتساہی نے چاروں پہیلیاں ’’بوجھو تو جانیں‘‘ کے عنوان سے لکھی ہیں۔پہلی پہیلی سورج پر ہے۔ بیکل نے صبح ،دوپہر اورشام کو بچپن، جوانی اوربڑھاپے سے ، جبکہ ڈوب جانے کو موت یا سو جانے سے تعبیر کیا ہے۔ اس طرح وہ آخر میں کہتے ہیں:
آنکھ کھلی
پھر صبح ہوئی
پھر بچپن آیا
پھر تپتے ٹیلے کے ماتھے
ٹکی دوپہر
کھلی جوانی
شام ہوئی
پھر بوڑھا ہوں
میں سورج ہوں
بیکل کی دوسری پہیلی بوڑھے برگد پر مبنی ہے۔ اس بوڑھے برگد کے زیر سایہ کیا کیا خرابات اور عہد و پیمان ہوتے ہیں، امن و صلح کی باتیں ہوتی ہے، قتل و غارت گری کی اسکیمیں بنتی ہیں، انصاف کا قتل ہوتا ہے، غرض بہت ساری باتیں ہوتی ہیںاور یہ بوڑھا برگد پل پل صدیاں دیکھتا ہے۔ تیسری پہیلی کا جواب ہندوستان ہے۔ بیکل اتساہی نے اس نظم میں ہندوستان کی زمینی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ،یہاںہو نے والے واقعات و حادثات کو بھی بیان کیا ہے۔چوتھی پہیلی کا جواب مچھر ہے۔ اس میں اس کی عادتوں کا ذکر اس طرح کیا گیاہے، جیسے کوئی شخص ہے جو دن میں سوتا اور رات میں جاگتا ہے۔ اس کے سارے کام راتے میں ہوتے ہیں۔ بیکل اتساہی نے یہ نظم بہت سہل اور عام فہم انداز میں لکھی ہیں ۔ بچوں کے لیے لکھی گئیں یہ پہیلیاں بہت ہی سادہ اسلوب کی حامل ہیں، تاکہ بچوں کے ذہن تک ان کی رسائی میں کوئی دشواری نہ ہو۔
بچوں کے لیے لکھی گئی بیکل اتساہی کی تمام نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے جن موضوعات کو قلم بند کیا ہے، وہ بچوں کے لیے بہت مناسب اور ان کے ذہن کے مطابق ہیں۔ اور پھر ان موضوعات کوجس سادگی سے برتا گیا ہے وہ بھی قابل داد ہے۔ بچوں کی نفسیات ان کا ذہنی معیار ان کے نتیجہ اخذ کرنے کی قوت کو سامنے رکھ کر لفظوں کو انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ان تمام نظموں میں بیکل اتساہی کی خاص ادا اوران کا خاص رنگ بھر پور نظر آتا ہے۔ وہ جن لفظیات سے غزلوں اور گیتوں میں کھیلتے ہیں، بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں بھی ان کو سلیقے سے برتا گیا ہے۔ کچھ مثالیں دیکھیے:
یہ دوڑتی لہو سی ند یاں ہمارا جیون
ہرلہلہاتا جنگل انمول دھن ہمارا
دھرتی سنہری اپنی جنت نشاں جہاں کی
کچھ بھی کرے زمانہ من ہے مگن ہمارا
(ترانہ وطن)
دور وہ دیکھو مل کی چمنی جس سے دھواں نکلتا
لوہا گل کے چاندی بنتا پانی روپ بدلتا
وہ کھیتوں میں ناج لہلہاتا روٹی بن کر ڈھلتا
چھم چھم ناچیں جیون پریاں کیاری کیاری ہے
منے کی پھلواری ہے
(منے کی پھلواری ہے)
گول جیسی اپنی دھرتی
اک دھری پر گھوما کرتی
پچھم سے پورب کی اور
دھرتی گھومے جیسے چور
(رات دن)
مجموعی طور پر بیکل اتساہی غزل اور گیت کے شاعر ہیں، لیکن انھوں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں وہ بہت منفرد ہیں۔ ظاہر ہے انھوں نے ان پر وہ توجہ نہیں صرف کی جو اپنی غزلوں اور گیتوں پر کرتے تھے اگر وہ اس میدان میں بھی دل جمعی سے نظمیں کہتے تو یہ میدان بھی بہت زرخیز ہوتا۔ بہر حال جو کچھ انھوں نے لکھا ہے وہ قابل داد ہے اور معنویت سے بھر پور ہے۔
٭٭٭٭٭
(صریرِ خامہ- سلمان فیصل)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

