Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

لاک ڈاؤن – ڈاکٹر یوسف رامپوری

by adbimiras اپریل 29, 2021
by adbimiras اپریل 29, 2021 0 comment

لاک ڈاؤن کا ایک ہفتہ تو کسی طرح بیت گیا تھا، لیکن اگلے دوہفتے کیسے گزریں گے ۔یہ سوچ سوچ کر ساجد کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔تنہائی اسے زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہی تھی۔جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا تھا۔نہ کوئی اس سے ملنے آیا تھا اور نہ ہی وہ کسی کے پاس جاسکاتھا۔یوں تو کمرے میں ساجد کے ساتھ رضوان بھی رہتا تھا مگر وہ لاک ڈاؤن سے پہلے اپنے چچا سے ملنے کیاگیا کہ وہیں رہ گیا۔

ساجدنے کئی بار اپنے کمرے سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تھا لیکن باہر پولس کا اتنا سخت پہرہ تھا کہ دور دورتک کوئی آدمی نظر نہ آتاتھا۔صرف سپاہیوں کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی تھی یا ان کی لاٹھیوں کی زدمیں آنے والے کسی راہ گیر کی چیخ وپکار ۔

ساجد کو اس سے بھی زیادہ یہ بات پریشان کررہی تھی کہ کمرے میں کھانے پینے کا جو کچھ سامان تھا، وہ ختم ہوگیا تھا۔ آٹا، دال، چینی، تیل کچھ بھی باقی نہ رہاتھا۔قریب ایک آدھ پاؤ چاول بچے تھے مگر انھیں پکانے کے لیے ایندھن نام کی کوئی چیز کمرے میں موجود نہ تھی، گیس تو دودن پہلے ہی ختم ہوگیاتھا۔کمرے میں جو اخبارات ، کاغذات، پرانے کپڑے تھے،انھیں جلاکروہ دو دن سے روکھاپھینکا کھانا پکارہا تھا۔لیکن اب وہ کیا کرے؟اس کے پاس صرف ایک آدھ پاؤ چاول تھے، وہ بھی کچے اور ابھی لاک ڈاؤن ختم ہونے میں دو ہفتوں کا لمبا وقت تھا۔

پچھلے دودن سے ساجد سو بھی نہیں پایاتھا۔حالانکہ اس کے پاس سونے کا بھرپور موقع اور وقت تھا۔ نیند اسے آتی ہی نہ تھی۔شاید اس لیے کہ اس نے ایک ہفتے کے دوران زیادہ وقت سو کر ہی گزارا تھا یا اس لیے کہ اس کے ذہن میں سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔کیا دوہفتوں کے بعد لاک ڈاؤن ختم ہوجائے گا یا پھر اس میں مزید توسیع کردی جائے گی؟ کیا وہ کسی طرح 8×8 فٹ کے کمرے سے باہر نکل کر اپنے گائوں واپس جاسکے گا؟ بچے اس کاانتظار کررہے ہوں گے ، بیوی راہ دیکھ رہی ہوگی اور ماں پریشان ہورہی ہوگی۔

لاک ڈاؤن کے بعد تین دن تک توساجد کی اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ سے بات ہوتی رہی تھی، لیکن پھر بات کا سلسلہ بند ہوگیا۔ہوایوں تھاکہ موبائل چارجنگ پر لگاہوا تھا کہ کسی کا فون آگیا، جلدی جلدی میں ساجد نے ہاتھ بڑھاکر چار جر سے موبائل کو جیسے ہی ہٹایا، موبائل ہاتھ سے پھسل کرفرش پر گرگیا۔ اس کے بعد موبائل ایسا بند ہوا کہ باربار کوشش کے باوجود آن نہ ہوسکا۔ماں باپ، بیوی بچوں، رشتہ داروں اوردوستوں سے بات کرنے اور اپنی تنہائی کو دور کرنے کا آخری سہارا بھی ختم ہوگیاتھا۔اب کمرے کی دیواریں تھیں ، چھت تھی، ایک چھوٹی سے کھڑکی تھی جس سے دو میٹر سے زیادہ فاصلے کانہ دیکھا جاسکتاتھا۔کیونکہ گلی کی دوسری سمت میں بنے ہوئے فلیٹوں نے سامنے کے مناظر کوڈھک دیا تھا۔ایسے میں سونے اور سوچنے کے علاوہ ساجدکے پاس کوئی دوسرا چارۂ کار نہ تھا۔ذہن میں  سوالات کے سلسلے نے اسے اتنا بے چین کردیاتھاکہ لمحہ بھر کو سکون میسر نہ آتاتھا۔پورا دن سوالات سے لڑتے لڑتے گزرگیا۔ شام بھی ڈھل گئی اور رات کا سفر شروع ہوگیا۔فضا کے سکوت کو چیرتے ہوئے دور مسجدکے میناروں سے ’اللہ اکبر‘ کی صدا بلند ہوئی۔

مؤذن روزانہ کے معمول کے مطابق عشاء کی اذان دے رہاتھا لیکن آج ساجد کو اذان میں غیر معمولی کشش محسوس ہورہی تھی۔وہ ایک ایک لفظ کو غور سے سن رہاتھا اور اذان کے الفاظ کے معانی میں کھوتا جارہا تھا۔’اللہ اکبر‘ واقعی اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔اس کے سامنے ساری طاقتیں ہیچ ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، ٹیکنالوجی اور وسائل وآلات سے لیس اقوام بے بس ولاچار ہیں۔’کورونا‘نام کے ایک وائرس نے اپنی طاقت پر ناز کرنے والے ملکوں اور حکمرانوں کوبری طرح تھکادیاہے۔سائنس اور میڈیکل کے میدانوں کے شہسواروں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔چین، امریکہ،اٹلی، فرانس ، اسپین، ایران سب اس وائرس سے پچھڑگئے۔ہر دن یہ وائرس ہزاروں انسانوں کو اپنا لقمہ بنالیتاہے اور دنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹر اورماہرین دیکھتے رہ جاتے ہیں۔کورونا وائرس کے آگے انسانوں کی بے بسی نے یہ ثابت کردیاہے کہ انسان اپنی ترقی اور مضبوطی کی کتنی ہی ڈینگیں مارے، مگر وہ حقیقت میں بہت کمزور ہے۔وہ ایک وائرس کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ہر چیز سے اوپر بس اللہ ہے، اسی کے اشارے پر کائنات کا نظام چل رہاہے۔وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کے احکامات کو بجالایاجائے۔لاالہ الااللہ (نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے)

اذان سننے کے بعد ساجد نے وضوکیااور خاموش کمرے میں نماز اداکی۔دعا کے لیے اس نے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔وہ اپنے رب سے آج بہت کچھ مانگنا چاہتا تھا مگر الفاظ اس کے گلے میں رندھ گئے،وہ بس روتا رہا۔پھر مصلّٰی سمیٹ کر وہ خاموش بیٹھ گیا۔نماز اور دعا کے بعد اسے کچھ سکون ملا تھا۔اس نے یہ راز جان لیاتھاکہ انسان تو مجبورِ محض ہے،سب کچھ فنا ہوجانا ہے ، باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔

ذہنی وقلبی طورپر قدرے سکون حاصل ہوا تو بھوک ساجد کو پریشان کرنے لگی۔پچھلے چوبیس گھنٹے میں اس نے کچھ نہ کھایا تھا۔کھاتا کیسے ؟کھانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔اور اگر ایک آدھ پاؤ چاول تھے بھی تو انھیں پکانے کے لیے گیس یا کسی بھی طرح کا ایندھن نہ تھا۔ رات کے گیارہ بجے تھے، ابھی پوری رات سامنے کھڑی تھی، ایک ایک پل ایک ایک سال کی طرح گزررہاتھا ۔بھوک کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔اس کا ذہن بار بار کچے چاولوں کی طرف جارہا تھا۔اس نے سوچا کہ کیوں نہ کچے چاول ہی کھالیے جائیں کہ پیٹ کی بھوک مٹ جائے ۔کہتے ہیں کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کافی ہوتا ہے۔ اس نے جلدی سے مٹھی بھر کے چاول نکالے اور منہ میں ڈال کر چبانے لگا۔اس طرح وہ تمام چاول کچے ہی کھاگیا۔پانی پی کر وہ بستر پر دراز ہوگیا۔اسے کچھ دیر کے لیے سکون حاصل ہوا لیکن ابھی ایک گھنٹہ نہ گزرا تھا کہ پیٹ میں درد اٹھنا شروع ہوگیا۔وہ کروٹیں بدلنے لگا ، مگر کسی طرح آرام نہ ملتا تھا ۔ وہ پہلے سے ہی پیٹ کا مریض تھا ، اس لیے کچے چاول ہضم کرنا اس کے لیے آسان بات نہ تھی۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ لاک ڈائون کے سبب ڈاکٹروں کی دوکانیں بند تھیں ۔ اب اسے موت نزدیک دکھائی دینے لگی ۔اس نے سوچا شایدیہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔ اسی دوران اسے لوزموشن ہوگئے ۔کئی بار اسے بیت الخلا جانا پڑا۔درد رک گیا مگر کمزوری بڑھ گئی ۔وہ اسی حال میں بستر پر لیٹ گیااور سوچنے لگا ۔

میرے اللہ یہ سب کیاہے، میں کہاں آگیا، میں تو یہاں اپنے گھر سے دور، بہت دور کچھ کمانے کے لیے آیا تھا، اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتا تھا۔ڈھیر ساری دولت حاصل کرکے یہاں سے اپنے گائوں لوٹنا چاہتا تھا۔تاکہ وہاں اپنے کچے مکان کو پکے مکان میں تبدیل کرسکوں ۔اپنے بچوںکو اچھا مستقبل دے سکوں۔انھیں عمدہ تعلیم دلاسکوں۔ماں باپ کو حج کراسکوں ،مگر۔۔۔۔مگر یہاں دس سال گزارنے کے باوجود بھی میں اپنے مقصد کو نہ پاسکا۔کچے مکان ابھی تک کچے ہی ہیں۔ماں باپ کو عمرہ وحج کیاکراتا ان کے علاج تک کا انتظام نہ کرسکا۔بچوںکو اچھے اسکولوںمیں داخلہ نہ دلاسکا۔دس سال کے بعد بھی خالی ہاتھ ۔اس شہر نے مجھے کیا دیاہے؟میری قیمتی زندگی کی ایک دہائی لے لی اور بدلے میں کچھ بھی نہیں اور آج نوبت یہاںتک آپہنچی ہے کہ میں ایک چھوٹے سے کمرے میں قید ہوکر رہ گیا ہوں اور کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ جیب میں صرف پانچ سو روپے کا نوٹ تھا۔

ایک بار پھر ساجد کے دماغ سے سوالات اور شکایات کا دریا بہہ نکلا۔پانچ سوروپے کاکچھ راشن ضرور خریداجاسکتاتھااور روکھا پھینکا کھاکر تین ہفتے گزارے جاسکتے تھے لیکن افسوس !سامان خریدنے کا وقت ہی نہ ملا۔ شام ڈھلنے کے بعدرات کے بارہ بجے سے لاک ڈائون کے نفاذ کا اعلان کردیاگیا ۔

اس اعلان کے ساتھ ملک بھر میں ہاہاکار مچ گئی جو راستوںمیں تھے، وہ اپنے گھروںکی طرف دوڑنے لگے۔جو گھروںمیں تھے وہ سامان خریدنے کے لیے بازاروںکا رخ کرنے لگے۔دیکھتے ہی دیکھتے دوکانوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ساجد اس وقت فیکٹری سے لوٹ رہا تھا۔مسافروں سے کھچا کھچ بھری بس میں لاک ڈائون کا پتہ چل گیا تھا۔اس لیے ہر ایک کو آندھی اور طوفان کی رفتار سے اپنے گھروں اور کمروںتک پہنچنے کی فکر ہورہی تھی لیکن بس تھی کہ چیونٹی کی طرح رینگ رہی تھی،جگہ جگہ جام مل رہا تھا۔مشکل سے ساجد گیارہ بجے اپنے کمرے پہنچا اور پانچ سو روپے کا نوٹ لے کر سامان خریدنے کے لیے دوکان پر قطارمیں کھڑا ہوگیا۔ایک ایک آدمی اتنا سامان لے رہا تھا گویا کہ پوری دوکان کو ہی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

اب بارہ بجنے میں صرف دس منٹ باقی تھے اور پانچ گراہک ابھی اور ساجد کے آگے کھڑے تھے۔ساجد نے چیخ کر کہا : جلدی کرو!جلدی کرو! بارہ بجنے والے ہیں۔گھڑی کی سوئی کی رفتار تیز ہوتی جارہی تھی مگر دوکاندارکی رفتار دھیمی ہوتی جارہی تھی۔اب ساجد کے آگے صرف دو گراہک تھے کہ بارہ بج گئے۔پولیس اہلکارفوراًوہاں پہنچ گئے اور دوکان بند کرنے کاحکم دیا۔دوکاندارنے نہ چاہتے ہوئے بھی دوکان کا شٹر گرادیا۔ساجد اور قطار میں لگے کئی لوگ چلّاتے رہ گئے تھے۔اگر لاک ڈائون سے پہلے کچھ اور وقت مل جاتا تو وہ سامان خریدنے میں کامیاب ہوجاتا اور آج بھوکوں مرنے کے لیے مجبور نہ ہوتا۔ساجد بڑبڑایا۔

سوالات اور خیالات سے لڑتے لڑتے رات کا اکثر حصہ اگرچہ گزرگیا تھا لیکن پھربھی ایک پہر رات ابھی باقی تھی جس کا گزرنا مشکل ہوا جارہا تھا۔رات کب پوری ہوگی؟اگلے دن کا سورج کب نکلے گا؟نکلے گا بھی یا نہیں؟ساجد نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ مگردن نکلنے کے بعد وہ کیا کرے گا ، کہاں سے کھانا لائے گا؟باہر اسے کون نکلنے دے گا؟ پولس کی بربریت کا وہ واقعہ اچانک اسے یاد آگیا جو دو دن پہلے اس نے کھڑکی سے دیکھا تھا کہ پڑوس کا ایک لڑکا اپنے گھر کے دروازے سے باہر جھانک رہا تھا کہ پولس والوں نے اسے دیکھ لیا،پھر کیا تھا ،وہ گھر کے اندر گھس گئے اور اسے بے رحمی سے کھینچ کر باہر نکالا اور اس پر بے دردی سے لاٹھیاں برسائیں کہ وہ دیر تک زخموں سے کراہتا رہ گیا۔

ایسے میں گھر سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ اسے نظرنہیں آرہاتھا،تو کیا وہ اسی کمرے میں ایڑیاں رگڑرگڑکر مرجائے گا؟

اس سوال کے ساتھ ساجد چونک پڑا اور اس کی زبان سے نکلا:نہیں! وہ اس کمرے میں دم نہیں توڑے گا، وہ باہر نکلے گا۔ مجبوراًاسے لاک ڈائون کی اپیل کو نظر انداز کرنا ہوگا۔وہ اپنے گائوں جائے گا۔800کلومیٹر کا فاصلہ اسی بھوک کی حالت میں طے کرے گا۔یا پھر چلتے چلتے راستے میں دم توڑدے گا۔کمرے میں بھوکے پیاسے مرنے سے تو ایسے ہی مرنا بہتر ہے۔

علی الصباح ساجد ایک بیگ اور پانی کی بوتل لے کر کمرے سے نکل پڑا،گلی میں دور دور تک خاموشی تھی۔وہ آگے بڑھتا گیا۔جیسے ہی پولس والے آتے دکھائی دیتے،ساجد آڑمیں چھپ جاتا اور جب وہ گزرجاتے تو آگے بڑھ جاتا۔لیکن لمبی گلی سے گزرکر جیسے ہی وہ دائیں جانب کی سڑک پر آیا۔کئی پولس والے وہاں موجود تھے،انھوں نے فوراً اسے دبوچ لیا۔

کیسے نکلا تو باہر؟ تیری ہمت کیسے ہوئی؟ ایک پولس والا دہاڑا۔

سر! میں پریشان ہوں ، بھوکاہوں۔

جھوٹ بولتاہے۔تونے لاک ڈائون کیسے توڑا؟ لانکال پانچ سو روپے جرمانے کے ،نہیں تو چل بیٹھ گاڑی میں۔

ساجد نے مجبوراً پانچ سو روپے کانوٹ پولس والے کو دے دیا اور خالی ہاتھ رہ گیا۔

اس کے بعد اس نے گلی کوچوںاور سڑکوں سے گزرکر چھپتے چھپاتے کئی کلو میٹرکا سفر پیدل طے کرلیا اور بس اسیٹنڈ تک پہنچ گیا۔وہاں اس کی طرح ہزاروں لوگ بس اڈے پرپہلے سے موجود تھے اور ان کی تعداد میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا جارہا تھا۔وہ سبھی اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے تھے لیکن بسیں وہاں نہیں تھیں،کافی دیر انتظار کرنے کے بعد ہزاروں لوگوں نے بسوں کاانتظار کیے بنا اپنے اپنے گاؤوں کی طرف پیدل ہی چلنا شروع کردیا۔ساجد بھی آگے بڑھ گیااور مسلسل چلتا رہا۔

قریب تیس کلومیٹر کا سفر اس نے جوش اور جذبے کی بنیادپر طے کرلیاتھا مگر اب اس کے جسم کے اعضا جواب دینے لگے تھے۔ بھوک کی شدت میں اضافہ ہونے لگاتھا۔وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگا کہ کہیں سے کھانے کا انتظام ہوجائے۔ اس کی طرح اور بھی لوگ سڑک پر پیدل ہی اپنی منزل کی طرف بڑھتے جارہے تھے۔بھوک کے آثار ان کے چہرے پر بھی نمایاں تھے۔ شاید وہ بھی ساجد کی طرح بھوکے پیاسے اپنے گھر پہنچنا چاہتے تھے۔شاید انھیں بھی یہ امید تھی کہ کہیں کوئی کھانا تقسیم کررہاہوگا۔ جگہ جگہ بھوکے پیاسے راہ گیروں کے لیے کسی نے کھانے کا بندوبست کیا ہوگا۔اسی امید پر ساجد نقاہت کے باجود آگے بڑھتا رہا مگر روٹی کااسے ایک ٹکڑا بھی نہ ملااور نہ ہی کوئی اور چیز۔ساجد تھک کر سڑک کے کنارے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ گیا تاکہ تازہ دم ہوکر اپنا سفر پھر شروع کرسکے۔

بیٹھتے ہی اس پر غنودگی طاری ہونے لگی۔کئی دن سے وہ سونہیں پایا تھا ، مسلسل پیدل چلنے کے سبب جسم کے اعضا بھی تھکاوٹ محسوس کررہے تھے۔اس لیے اسے نیند آنے لگی۔اتنے میں ایک گاڑی اس کے پاس آکر رکی۔یہ پولس کی گاڑی تھی۔کھڑکی کھول کر پولس کے جوان نکلے اور بنا کچھ پوچھے بھدی گالیوں کے ساتھ اس پر تابڑ توڑڈنڈے برسانے لگے۔

کون ہے تو؟ کہاں سے آیا ہے؟ کہاں جارہا ہے ؟ تجھے پتہ نہیں کہ لاک ڈاؤن ہے،کہیں آناجانا منع ہے۔پولس والوں نے ایک ساتھ کئی سوال کرڈالے۔

صاحب! میں بہت مجبور ہوں، کئی دن سے بھوکا ہوں، مجھے مت مارو۔اپنے گھر جانا چاہتاہوں۔ساجد نے لجاجت کے ساتھ کہا۔

گھر جائے گا تویاجیل۔چل گاڑی میں بیٹھ تجھے اکٹھا گھر پہنچادیتے ہیں۔ایک پولس والا اس پر گرجا۔

صاحب! مجھے چھوڑدیجئے۔میرے بچے میرا انتظار کررہے ہیں ۔ساجد کے گڑگڑانے کا پولس والوں پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اسے گھسیٹنے لگے۔ ساجدمیں اب اٹھنے یا چلنے کی سکت باقی نہ رہی تھی ۔گاڑی میں بیٹھا ایک اورپولس والا جو غور سے سارا منظر دیکھ رہا تھا۔باہر نکلا اور اپنے ساتھیوں سے بولا ۔

اسے چھوڑدو ۔اگر گاڑی میں ہی یہ مرگیا تو اچھی خاصی مصیبت آجائے گی۔

ساجد کی حالت واقعی اتنی نازک تھی کہ اس کے اندر زندگی کے آثار دکھائی نہ دیتے تھے۔یہ دیکھنے اور جاننے کے باجود پولس والے اسے اسپتال لے جانے کی بجائے وہیں چھوڑکر چلے گئے۔ساجد گھنٹوں تک بے سدھ وہیں پڑارہا۔اگرچہ اس کے ہاتھ پیروں میں درد ہورہا تھا، خاص طورسے اس جگہ جہاں پولیس والوں نے ڈنڈے مارے تھے لیکن اسے درد کی کوئی پرواہ نہ تھی۔اسے تکلیف تھی تو اس بات کی کہ اتنے بڑے ملک میں کوئی بھوکے کو کھانا کھلانے والا نہیں۔ تنظیمیں جو لمبے چوڑے دعوے کرتی ہیں،راہ گیروں کے لیے ان کی طرف سے ایک وقت کے کھانے کا انتظام بھی نہیں ۔ کیا اس دور میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں بچی؟ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کئی اور لوگ بھوکے پیاسے وہاں آگئے۔شاید وہ سستا نا چاہتے تھے، گھنے درخت کی ٹھنڈی چھائوں میں۔اسی دوران اچانک تیزی سے ایک ماروتی آ کررکی۔سب ڈرگئے کہ کہیں پولیں والے تونہیں آگئے۔لیکن یہ چلتی پھرتی دوکان تھی۔اس میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں ۔ ڈرائیور نے آوازلگائی :

کسی کو کچھ چاہئے؟

بیک وقت سب کے منہ سے نکلا: ہاں!

مگر جیسے ہی پتہ چلا کہ وہ مفت کوئی چیز نہیں بانٹ رہا ہے بلکہ ہر چیز کی کئی گنا قیمت وصول کررہا ہے تو بے انتہا بھوک کے باوجو د کوئی کچھ خرید نہ سکا ، وہ لوگ بھی ساجد کی طرح خالی ہاتھ تھے۔ دوسرے ہی لمحے گاڑی تیزی کے ساتھ آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔

ساجد تلملاکر رہ گیا۔کاش اس کے پاس وہ پانچ سو روپے کا نوٹ ہوتا جو پولس والے نے اس سے لے لیا تھا تو وہ آج اس سے کھانے کا اتنا سامان خریدلیتا کہ خود بھی کھاتا اور اپنے گردجمع لوگوں کو بھی کھلاتااور کچھ بچا بھی لیتا کہ آگے سفر میں کام آتا ۔

شام کے پانچ بج چکے تھے۔دھوپ کی تمازت ہلکی ہوگئی تھی۔اب ساجد مزید وقت گنوانا نہیں چاہتا تھا۔وہ اٹھا اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیرپھر سڑک پر چلنے لگا۔اس بار اس کی رفتار بہت دھیمی تھی۔سپاہیوں کے ذریعے ٹخنوںاور پنڈلیوں پر ڈنڈے مارنے کی وجہ سے وہ ایک پاؤں سے لنگڑا بھی رہا تھا۔ پھربھی اس حال میں اس نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا۔اس کے بعد وہ پھر بیٹھ گیا اور چند منٹ سانس لے کر جیسے ہی چلا ۔اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا، قدم لڑکھڑاگئے ، دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں اور وہ گرپڑا۔

تھوڑی دیر کے بعد پولیس وہاں پہنچ گئی۔ساجد بے ہوش تھا۔وقت کا تقاضہ تھا کہ اسے فوراً اسپتال لے جایاجاتا مگر پولیس والے اسے ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہ تھے، وہ کئی میٹر دور سے کھڑے ساجد کی سانسیں گن رہے تھے ۔ان میں سے ایک پولیس والے کو رحم آگیا۔اور وہ اسے اٹھانے کے لیے ا ٓگے بڑھنے لگا۔دوسرے پولیس والے نے اسے روک دیا۔

کیاکررہے ہو تم؟

اسے اٹھاکر اسپتال لے جانا ضروری ہے ۔آگے بڑھتے پولیس والے نے جواب دیا۔

نہیں ، تم اس کے پاس نہیں جاسکتے۔تم اسے چھونہیں سکتے۔ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ نہیں لگاسکتا۔ہمارے پاس PPE (حفاظتی سامان )نہیں ہے۔اگر یہ کورونا پوزیٹو ہوا، تو ہم سب بھی مارے جائیں گے۔یہ سن کر پولس والے کے بڑھتے قدم رک گئے۔ وہ سب تین میٹر دور کھڑے ہوکرPPEکا انتظار کرتے رہے اور ساجد کی نبض کی رفتار سست ہوتی گئی۔

٭٭٭

Md. Yusuf Rampuri,

MohallaTandolaTanda ,Distt Rampur, U.P

Mob: 9310068594

یوسف رامپوری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قیدی:کرب ناک المیوں کی داستان – ڈاکٹر جمیل حیات
اگلی پوسٹ
بے ضمیر – پرویز اشرفی

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں