اتوار کا دن تھا۔ عظمیٰ گھر پرتھی۔ عظمیٰ نے پیلے رنگ کی ڈریس پہنی تھی۔ دن بھرموسلادھار بارش ہوئی۔ شام کو جب آسمان صاف ہوا تو عظمیٰ نے امّی سے باغ میں کھیلنے کی اجازت مانگی۔
”باغ میں ہر جگہ پانی ہی پانی ہے۔ گیلی مٹی سے تمہارے کپڑے خراب ہوجائیں گے اور تم بیمار پڑجاؤ گی۔“ امّی نے جواب دیا۔
عظمیٰ اداس ہوگئی۔
امّی نے پھر کہا: ”میں تمہارے لئے ادرک کی چائے اور پکوڑے تیار کررہی ہوں۔“
یہ سنتے ہی دس سال کی عظمیٰ کا چہرہ کھل اٹھا۔ عظمیٰ کا گھر پہلی منزل پر تھا۔ اس کے دادا، دادی، چچا، چچی، چچا زاد بھائی امجد اور چچازاد بہن امیرین اسی مکان کی نچلی منزل میں رہتے تھے۔ مکان کا رنگ نیلا تھا۔ عظمیٰ کے گھر کے سامنے ایک چھوٹا باغ تھا جس میں عظمیٰ کے ابّو طرح طرح کی سبزیاں بوتے تھے۔ عظمیٰ کی امّی کو باغ سے ٹماٹر، گوبھی، بینگن اور سلاد کے پتے توڑ کر باورچی خانے میں لانے کی عادت تھی۔ امّی انہیں سبزیوں سے رات کا کھانا تیار کرتی تھیں۔ باغ میں گلاب اور چمیلی کے پھول بھی تھے۔ ابّو ہر روز پودوں کو پانی دیتے تھے۔ لیکن آج بارش کی وجہ سے پودوں کو پانی دینے کی ضرورت نہیں تھی۔
شام کے وقت دس سال کی عظمیٰ اپنی بالکنی پر کھڑی اپنے پسندیدہ مگ میں چائے پی رہی تھی۔ وہ مگ ہرے رنگ کا تھا۔ عظمیٰ کی نانی نے سالگرہ کے موقع پر عظمیٰ کو وہ مگ تحفہ میں دیا تھا۔ عظمیٰ روزانہ اسی مگ میں چائے پیتی تھی اور اپنی نانی کو یاد کرتے ہوئے خوش ہوتی تھی۔ اس کی نانی دوسرے شہر میں رہتی تھی۔ اگلے ہفتے سے اسکول کی چھٹیاں شروع ہونے والی تھیں۔ عظمیٰ پیاری نانی جان کے یہاں جانے کے لئے بہت اتاولی تھی۔ وہ اپنے ماموں زاد بھائی فیروز اور ماموں زاد بہن مینا کے ساتھ خوب کھیلے گی۔
یہ سوچتے ہوئے عظمیٰ مسکرائی۔ وہ سامنے باغ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ نیچے ایک چھوٹی گلہری ایک کونے میں پھدکتی ہوئی نظر آئی۔ وہ گلہری بھورے رنگ کی تھی۔ کونے میں ایک لمبی نالی رکھی ہوئی تھی۔ ابّواس نالی کی مدد سے باغ میں ایک خوبصورت فوّارہ بنانے والے تھے۔ وہ ننھی سی گلہری اس نالی کی طرف بڑھی۔ شاید وہ اس کے اندر جانے کی سوچ رہی تھی۔ اچانک ایک عقاب نیچے کی طرف حملہ کرتا ہوا گلہری کی طرف آیا۔ اس نے گلہری کو چونچ ماری۔
”اے جاؤ“ عظمیٰ بالکنی سے اپنا ہاتھ ہلاتی ہوئی چلائی۔
عظمیٰ کی آواز سن کرعقاب آسمان کی طرف اڑ گیا۔
وہ سہمی سی گلہری نالی کے اندر پناہ لینے گئی۔ عظمیٰ کا دل بھر آیا۔ عقاب نے اسے ضرور زخمی کیا ہوگا۔ چائے ختم کرنے کے بعد عظمیٰ باورچی خانے میں مگ واپس رکھنے کے لئے گئی۔ جب وہ بالکنی پر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ وہ عقاب دوبارہ آگیاتھا۔ گلہری اسی وقت نالی سے نکلی۔ عقاب نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ حملہ کیا اور اس بار گلہری اس کی پنجے میں تھی۔ عظمیٰ چلاتی رہی لیکن لاحاصل۔ عقاب گلہری کو لے کر دور بادلوں میں گم ہوگیا۔
عظمیٰ کے ننھے گال آنسوؤں سے تر ہوگئے۔ ہائے اس معصوم گلہری کا دل کس زور سے دھڑکا ہوگا۔ جب اس خونخوار عقاب نے اپنے پنجوں سے اس کے جسم کو جکڑا ہوگاتو بے چاری گلہری کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔ اس وقت گلہری کو یقینا اپنی موت یا دآئی ہوگی۔ عظمیٰ کو خوف ہوا اور وہ زور زور سے رونے لگی۔
عظمیٰ کی آہ وزادی سن کر امّی بالکنی پر آئی۔ امیّ نے عظمیٰ کو گلے لگایا۔ اسے سہلایا اور جب عظمیٰ چپ ہوگئی تواس نے امیّ کو سارا حال کہہ سنایا۔ امیّ نے عظمیٰ کی باتوں کو غور سے سنا اور پھر سمجھایا ”یہی قدرت کا قانون ہے بیٹی۔ جس کے نصیب میں جو لکھا ہے اسے وہی ملتا ہے۔ کوئی بھی اپنی قسمت سے نہیں بچ سکتا۔“
آبیناز جان علی
موریش

